قومی و بین الاقوامی ایشوز

بھارت امریکہ بڑھتے تعلقات اور پاکستان

ایشیا کے جس مستقبل کے بارے میں عرصہ دراز سے جو پیشن گوئیاں ہو رہی تھیں وہ اب حال بننا شروع ہو چکا ہے۔افغانستان میں امریکہ کی پندرہ برسوں کی کارِ لاحاصل،چین کی تیزی سے عالمی طاقت کے طور پر ابھرنے ،ایران پر سے عائد عالمی پابندیوں کے خاتمے کے بعد اس کی عالمی سیاست میں بڑھتی ہوئی اہمیّت، پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے اور پاکستان کے دہشت گردی کے خلاف کامیابی سے جاری آپریشن ضرب عضب کے باعث بھارت کی بڑھتی ہوئی بے چینی کے نتیجے میں خطّے کا نیا سیاسی منظر نامہ تشکیل پارہا ہے۔ نئے حالات میں پرانے مقاصد کے حصول کے لئے جاری پالیسیاں تبدیل ہورہی ہیں اور نئے مقاصد پورے کرنے کے لئے نئی پالیسیاں بننے کا آغاز ہورہا ہے جو خطّے کے ممالک کے درمیان باہمی تعلقات میں تبدیلی کا باعث بن رہا ہے۔اس میں سب سے اہم پاک امریکہ تعلقات میں پیدا ہونے والی کشیدگی اور امریکہ کے بھارت کے ساتھ تعلقات میں اضافہ ہے۔ جب تک امریکہ افغانستان میں جنگ لڑنے میں مصروف تھاتب تک اسے اس جنگ میں سب سے زیادہ ضرورت پاکستان کی تھی اور پاکستان اس کا اتحادی اور بہترین دوست تھا لیکن اب جبکہ امریکی افواج اس ملک سے تقریباً نکل چکی ہیں اور وہ براہ راست اس جنگ میں زیادہ عرصے کے لئے شامل نہیں رہے گا اس لئے امریکہ کے لئے پاکستان کی افادیت کم ہوگئی ہے اور اس کے رویّے میں پیدا ہونے والی سرد مہری رفتہ رفتہ تعلقات کی کشیدگی کا باعث بن گئی اورآخرکار دونوں ممالک کے درمیان تعلقات انتہائی نیچے کی سطح تک آگئے ہیں۔

شہادت زندگی ہے


کیپٹن اسفند یاربخاری شہید کی یاد میں


فنا کا خوف لاحق تھا
زیاں کا خوف لاحق تھا
خزاں کا خوف لاحق تھا
دسمبر کی بہت تاریک راتوں میں 
درختوں کی بہت ویران شاخوں سے
جھڑے سب زرد پتوں میں فنا کا استعارہ تھا
فنا کا حکم سب مخلوق پر یکساں سا‘ لاگو تھا
سنا تھا موت آتی ہے رگوں میں خون رکتا ہے
سنا تھا خون کا بہنا فقط اس زندگی کے ساتھ ہی مشروط ہوتا ہے
سو ہم خوں کو بہا آئے 
رگِ جاں کو کٹا آئے
سو اب یہ دائمی، ابدی حیات جاوداں اپنی
سبھی تاریخ کے صفحوں میں زندہ داستاں اپنی
رگوں میں خون بہتا ہے
قبر میں روشنی ہے، رزق ملتا ہے
فنا سے، ہم خزاں سے اور قضا سے خوف کھاتے تھے
مگر سب خوشبوئیں دامن میں باندھے
خوشنما پھولوں کے گلدستے
یوں اپنے ہاتھ میں لے کر 
بہار اپنے تعاقب میں چلی آئی
بہار اپنے تعاقب میں چلی آئی


میجر حسان طاہر

*****

 

خطّے کے ان تبدیل ہوتے حالات نے حالیہ برسوں میں امریکہ اور بھارت کے تعلقات کو ایک نیا رخ دیا ہے،جب سابق امریکی صدر بل کلنٹن نے اپنی حکومت کے آخری برسوں میں یہ اعلان کیا کہ 21ویں صدی میں امریکہ کے عالمی مفادات بھارت کے ساتھ بہترین تعلقات کے ساتھ وابستہ ہیں تو سمجھنے والے اسی وقت ہی سمجھ گئے تھے کہ امریکہ کی مستقبل قریب میں ایشیا کی پالیسی کیا ہوگی کیونکہ اس سے قبل دونوں ممالک کے تعلقات کبھی مثالی نہیں رہے تھے بلکہ بھارت کی قربتیں سرد جنگ کے زمانے میں غیر وابستہ تحریک کا حصّہ ہونے کے باوجود امریکہ کے حریف ملک روس کے ساتھ تھیں۔یہ اعلان یقیناً دونوں ملکوں کے تعلقات میں ایک بڑا قدم ٹھہرا۔ اس کے بعد2008میں دونوں ممالک کے درمیان سول نیوکلےئر معاہدے کی صورت میں ایک اور پیش رفت دیکھنے میں آئی۔لیکن امریکی صدر باراک اوبامہ نے اقتدار میں آنے کے بعد جب پیوٹ ایشیا پالیسی کا آغاز کیا تو ان تعلقات میں انتہائی تیزی دیکھنے میں آئی۔ امریکہ نے اقوام متحدہ کے اہم ادارے سلامتی کونسل میں بھارت کو مستقل رکنیت فراہم کرنے کی بھرپور کوششیں کیں، اس کو نان نیٹو اتحادی ملک کا درجہ دیااور اب اوبامہ انتظامیہ بھارت کو 
Nuclear Suppliers Group
کی رکنیت دینے کے لئے بھی کوشاں ہے جو کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے حالیہ دورہ امریکہ کا ایک اہم ایشو تھا۔


امریکہ کی بھارت پر اتنی نوازشوں اور مہربانیوں کی کئی وجوہات ہیں،دراصل امریکہ کے لئے آنے والے کئی عشروں تک اس خطّے میں اپنے مختلف النّوع مفادات کے حصول کے لئے بھارت کی اہمیّت بہت زیادہ ہوگئی ہے، امریکی پالیسی سازوں کو بھارت کی خطّے میں بالادستی حاصل کرنے کی خواہش کا خوب احساس ہے اور وہ اس بات کا فائدہ اٹھا کر خطّے میں اپنے مفادات کا تحفظ کرنا چاہتا ہے۔ مثال کے طور پر سرد جنگ کے خاتمے کے بعد امریکہ جس طرح واحد عالمی طاقت کی حیثیّت سے پوری دنیا میں اکیلے ہی اپنے مفادات حاصل کر رہا تھاوہ اب دنیا کے مختلف خطّوں میں نئی طاقتوں کے ابھرنے سے مستقبل میں ممکن نہیں رہے گا۔ یہی معاملہ ایشیا میں بھی ہے جہاں عالمی سیاسی منظرنامے پر ابھرتا ہوا چین امریکہ کے مقابلے میں تیزی سے اثر ورسوخ بنا رہا ہے۔چین کی کئی پالیسیاں اور منصوبے خطّے میں امریکہ کی روایتی حیثیت کے لئے خطرے کا باعث بن رہی ہیں۔مثلاً چین کی جانب سے
Asian Infrastructure Investment Bank (AIIB)
کے قیام کے بعد ورلڈ بنک اور آئی ایم ایف جیسے اداروں‘ جو کہ امریکہ کے کنٹرول میں ہیں‘کی اہمیت اس خطے میں نسبتاً کم ہوگئی ہے۔یہ بنک خطّے میں کئی منصوبوں کی تکمیل کے لئے رقوم فراہم کرے گا جس سے چین کے سیاسی معاملات میں بھی اہمیّت مزید بڑھ جائے گی،چین کے ون بلٹ ون روڈ جیسے منصوبوں کے ساتھ یہ ملک عالمی معیشت کا بھی مرکز بننے جا رہا ہے۔ تیسری وجہ چین اور روس کے تعلقات میں ہونے والا اضافہ ہے۔ امریکہ اور روس سرد جنگ کے خاتمے کے بعد بھی دنیا کے کئی خطّوں میں پراکسی جنگیں لڑ رہے ہیں جس کی مثال شام ، یوکرائن اور کئی دیگر ممالک میں جاری تنازعات ہیں۔ دوسری جانب نیٹو اتحاد کا بڑھتا ہوا اثر ورسوخ بھی روس کے لئے پریشانی کا باعث ہے، ان حالات میں جب روس نے اپنے پڑوسی ملک کریمیا پر قبضہ کیا تو مغربی دنیا نے امریکہ کی سرکردگی میں روس کی تیل و گیس کمپنیوں پر پابندیاں لگا کر اس کی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا اور وہ شدید مشکلات کا شکار ہوگیا،اس مشکل وقت میں چین نے حالات کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے روس کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھایا اور دونوں ممالک کے درمیان 400بلین ڈالر مالیّت کا گیس معاہدہ ہوا جس نے امریکی پالیسی سازوں کو ششدر کر کے رکھ دیا۔یہاں سے عالمی سیاست میں ایک بار پھر بلاک سسٹم وجود میں آنے کے آثار نمودار ہونا شروع ہوگئے جو مستقبل میں کئی جنگوں کا باعث بن سکتا ہے۔امریکہ کو اس اتحاد سے بھی خطرے کی بو آنے لگی اور اس نے اس خطرے کے تدارک کے لئے بھارت کو علاقائی معاملات میں کھلم کھلا طور پر سپورٹ کرنا شروع کردیا ۔اب امریکہ کی کوشش ہے کہ بھارت کے ساتھ مل کر مختلف سیاسی، معاشی اور سٹریٹجک پالیسیوں کے ذریعے چین کے بڑھتے ہوئے اثرو رسوخ کو مسدود کیا جائے جس کے لئے اس نے بھارت ، چین اور پاکستان کے درمیان نئے تنازعات کا مرکز بننے والے بحر ھند میں بھارت کو شہہ دینا شروع کر دی۔آبنائے ملاکا، آبنائے ہورمز، لومبوک اور آبنائے سندا کی حامل جیوسٹریٹجک اہمیّت کے حامل بحرہند میں بھارت مسلسل اپنا اثرورسوخ بڑھا رہا ہے جو کہ چین اور پاکستان کے لئے انتہائی خطرے کا باعث ہو سکتا ہے۔یہاں اپنی مشترکہ پالیسیوں کے ذریعے امریکہ چین پر اور بھارت چین اورپاکستان دونوں پر غلبہ پانا چاہتا ہے۔اس گٹھ جوڑ کے ذریعے بھارت افغانستان میں بھی اپنا اثر ورسوخ بڑھا کر پاکستان کے خلاف گھیرا تنگ کرنے کی کوشش کر رہا ہے،جہاں امریکہ نے مبینہ طور پر ایران سے پاکستان میں داخل ہونے والے افغان طالبان راہنما ملّا اختر منصور کو پاکستان کے صوبے بلوچستان میں ڈرون حملے میں نشانہ بناکر افغان مسئلے پر چار فریقی مذاکرات کو سبوتاژ کرکے وقتی طور پر افغانستان میں پاکستان کی اہمیّت کم کرنے کی کوشش کی اوربھارت نے افغانستان کے ساتھ مل کر ایران کے ساتھ چابہار بندرگاہ معاہدے پر دستخط کرکے پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے اور گوادر بندرگاہ کے خلاف عملی طور پر اپنی مہم کو مہمیز دی ۔نیز بھارت امریکہ کے تعاون سے اہم بین الاقوامی اداروں کی رکنیتیں حاصل کر کے عالمی سیاست میں اپنا اثرورسوخ بھی قائم کرنا چاہتا ہے۔خطّے کے تیزی سے بدلتے ہوئے یہ حالات پاکستان کے لئے نہایت مشکلات پیدا کر رہے ہیں ،وہ کچھ اپنی غلطیوں اور کچھ عالمی سازشوں کا شکار ہے اور بھارت ان حالات سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان کو سفارتی سطح پر تنہا کرنے کی کوششیں کر رہا ہے جس کا اظہار بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے خطّے کے مختلف ممالک کے حالیہ دوروں کے دوران اپنی تقریروں میں پاکستان مخالف اسلوب اختیار کرنے سے مسلسل ہو رہا ہے۔


پاکستان کی خارجہ پالیسی میں ڈائینامک شفٹ لینے کا وقت آگیا ہے،عالمی سیاست کا یہ نیا دور پاکستان کے لئے نئے چیلنجز لا رہا ہے جس سے نمٹنے کے لئے حقیقت پسندانہ اور انتہائی فعال خارجہ پالیسی کی ضرورت ہے۔بے شک یہ ایک مشکل وقت ہے لیکن اس صورتحال سے نکلنے کے لئے کئی آپشنز موجود ہیں۔بھارت چابہار کے بعد اب بنگلہ دیش کے ساتھ بھی اس کی پائرہ بندرگاہ کو ترقی یافتہ بنانے کے لئے معاہدہ کرنا چاہتا ہے، اس صورتحال میں پاکستان کو اپنی بندرگاہوں اورمارا،گڈانی اور پسنی کو بھی جدید خطوط پر استوار کرنا چاہئے۔ہمارے پالیسی سازوں کو اسلامی دنیا میں نہایت متحرک سفارتکاری کرنی چاہئے اور اسلامی ممالک کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانا چاہئے۔ اس کے علاوہ یورپ پاکستانی ڈپلومیسی کے لئے ایک نہایت مفید میدان ثابت ہوسکتا ہے جہاں بین الاقوامی سیاست کے کئی بڑے بڑے فیصلے ہوتے ہیں، چین کے ساتھ تعلقات مزید مضبوط کرنے اور روس کے ساتھ تعلقات کے ایک نئے اور خوشگوار دور کے آغازکو دوام دینا چاہئے لیکن یہ تعلقات امریکہ کی قیمت پر نہیں ہونے چاہئیں ، امریکہ کے ساتھ تعلقات دوبارہ معمول پر لانے کے لئے ہر ممکن لیکن باوقار طریقہ اختیارکرنا ہی بہترین پالیسی ہوگی۔


مضمون نگار ایک معروف صحافتی ادارے کے ساتھ وابستہ ہیں۔

[email protected]

یہ تحریر 84مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP