قومی و بین الاقوامی ایشوز

بھارت۔۔۔ ایک چہرہ یہ بھی ہے

بھارتی ٹی وی کا ایک ٹاک شو مجھے نہیں بھولتا۔ نئی دہلی کے ایک ماڈرن تعلیمی ادارے کے نوجوان لڑکے لڑکیاں اس میں مدعو تھے۔ تمام لڑکیوں کا لباس جدید ترین فیشن کا تھا۔

ان میں سے شائد ہی کوئی مسلمان ہو اور اگر تھی بھی تو کسی نے حجاب نہیں اوڑھا ہوا تھا۔ لڑکے بھی مغربی رنگ میں رنگے ہوئے تھے اور پروگرام کا میزبان بھی بظاہر ایک ماڈرن‘ لبرل اور سیکولر سو چ کا حامل تھا۔ جس بات نے مجھے اس پروگرام میں دلچسپی لینے پر مجبور کیا وہ اس کا موضوع تھا۔ میزبان نے بی جے پی کی لیڈر سشماسوراج کو مدعو کر رکھا تھا۔ جس نے پاکستان اور دہشت گردی کے حوالے سے اُن نوجوانوں کے سوالات کے جوابات دینے تھے۔

جوں جوں میں وہ پروگرام دیکھتا گیا‘ میری آنکھیں حیرت سے پھیلتی گئیں۔ دہلی کے ان الٹرا ماڈرن طلباء نےسشماسوراج سے جس قسم کے سوال کئے ان کا لب لباب یہ تھا کہ بھارت ایک ہی دفعہ پاکستان پر ایٹم بم پھینک کر اسے ملیا میٹ کیوں نہیں کر دیتا۔ اگر پاکستان دہشت گردی میں ملوث ہے تو بھارت کیوں پاکستان پر فوج کشی کر کے اسے سبق نہیں سکھاتا۔ پاکستانیوں پر جب تک بھارتی ٹینک نہیں چڑھائے جائیں گے‘ تب تک یہ دہشت گردی ختم نہیں ہو گی۔ یہ بات آخر بھارت سرکار کو سمجھ کیوں نہیں آتی وغیرہ وغیرہ۔ سشماسوراج ایک گھاگ سیاستدان ہے۔ اس نے ان سوالات کے جوابات بہت نپے تلے انداز میں دیئے۔ مس سوراج نے اپنے راج دلاروں کے جذبات کی قدر کی اور ساتھ ہی یہ خیا ل بھی رکھا کہ اس کے منہ سے کوئی ایسی بات نہ نکل جائے جو غیرملکی میڈیا کے لئے بریکنگ نیوز بن جائے۔ تاہم سشماسوراج یا اس کی سیاست فی الوقت ہمارا موضوع نہیں۔ ہمارا مسئلہ دہلی کے وہ نوجوان ہیں جن کے خیالات نے مجھے ہلا کر رکھ دیا۔ بظاہر فیشن ایبل اور ماڈرن نظر آنے والے ان طلباء نے جس جنگی جنون کا مظاہرہ اس پروگرام میں کیا‘ کم از کم مجھ جیسے شخص کے لئے وہ چشم کشا تھا۔ اس کے مقابلے میں اگر ایسا کوئی ٹاک شو لاہور‘ کراچی یا اسلام آباد کے کسی جدید ترین اور انگریزی سے لتھڑے ہوئے کسی تعلیمی ادارے میں کیا جاتا تو میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ وہاں ایسے خیالات کا اظہار نہ ہوتا۔ لاہور میں ایک ادارے کی ایسی ہی تقریب کا میں عینی شاہد ہوں جہاں میں مدعو تھا‘ مجال ہے کسی لڑکے یا لڑکی نے بھارت کے خلاف ایسی نفرت کا اظہار کیا ہو۔

 

خدا کی شان ہے کہ سیکولر بھارت میں نریندر مودی کی حکمرانی ہو گئی‘ وہی مودی جس کے دست راست پر فسادات کا الزام ثابت ہوا اور بعد میں انعام کے طور پر مودی صاحب نے اسے جونیئر منسٹر بنا دیا۔

بھارتی انتخابات سے ایک بات ثابت ہوئی کہ بھارت کے برعکس پاکستانی عوام کہیں زیادہ باشعور اور بالغ نظر ہیں۔ پاکستان میں گزشتہ الیکشن بھارت دشمنی کی بنا پر نہیں لڑا گیا۔

 

سیکولر بھارت کا یہ وہ چہرہ ہے جو عام طور پر ہمیں دکھائی نہیں دیتا اور اس کی دو وجوہات ہیں۔ پہلی ہمارے ہاں بھارتی نیوز چینلز پر پابندی ہے جس وجہ سے ہم بھارتی میڈیا میں پاکستان کے خلاف پھیلائی جانے

والی شرانگیزی دیکھ ہی نہیں پاتے۔ اس کے برعکس ہم بھارتی ٹی وی کے وہ پروگرام پاکستان میں دکھاتے ہیں جو سیکولر بھارت کی تصویر کشی کرتے ہیں۔ جیسے کون بنے گا کروڑ پتی‘ یا کچھ ایسے مزاحیہ شو یا گلوکاری اور ناچ گانے کے پروگرام جن میں اکثر پاکستانی فنکار شرکت کرتے ہیں اور بھارتی میزبانوں سے داد پاتے ہیں۔ ان پروگراموں میں وہی گھسے پٹے فقرے سننے کو ملتے ہیں کہ’’ دونوں دیشوں کی جنتا میں بہت پیار ہے۔ ہمارے بیچ لکیر کھینچ گئی ہے‘ لیکن ہمارا من ایک ہے۔ آپ اور ہم تو ایک ہی جیسے ہیں۔‘‘ اینڈ آل دیٹ ربش۔ سو ہمیں یہ اندازہ ہی نہیں ہو پاتا کہ اصل میں بھارت کے عوام ہم سے کتنا پیار کرتے ہیں؟ اگر دہلی جیسے شہر کے الٹرا ماڈرن تعلیمی ادارے کے نونہالوں کا یہ حال ہے تو کٹر متعصب بھارتی ہمارے بارے میں کیا رائے رکھتا ہے۔ یہ جاننے کے لئے کسی جوتشی کی ضرورت نہیں۔ دوسری بھارتی فلمیں ہیں۔ پوری دنیا میں بھارت کا چہرہ اس کی بالی وڈ انڈسٹری ہے‘ جس کی پہنچ اب امریکہ اور یورپ میں اردو سمجھنے والوں کے علاوہ ان ممالک میں بھی ہے‘ جن سے اردو یا ہندی کا دور تک کا بھی تعلق نہیں۔ سب ٹائٹلز کے ساتھ بھارتی فلمیں اب پوری دنیا میں ریلیز ہوتی ہیں۔ ان کے فلم سٹارز کو روس سے لے کر جنوبی امریکہ تک پہچانا جاتا ہے اور جب دنیا ان کی فلمیں دیکھتی ہے تو بھارت کو ایک لبرل سیکولر ملک کے طور پر لیتی ہے۔ جہاں ہم جنس پرستی جیسے بولڈ ترین موضوع پر فلم بنائی جا سکتی ہے۔ ہم لاکھ سر پٹختے رہیں کہ اصل بھارت میں پوری دنیا سے زیادہ جنونی بستے ہیں‘ دنیا ہماری بات کو اہمیت نہیں دیتی۔

 

سشماسوراج یا اس کی سیاست فی الوقت ہمارا موضوع نہیں۔ ہمارا مسئلہ دہلی کے وہ نوجوان ہیں جن کے خیالات نے مجھے ہلا کر رکھ دیا۔ بظاہر فیشن ایبل اور ماڈرن نظر آنے والے ان طلباء نے جس جنگی جنون کا مظاہرہ اس پروگرام میں کیا‘ کم از کم مجھ جیسے شخص کے لئے وہ چشم کشا تھا۔ اس کے مقابلے میں اگر ایسا کوئی ٹاک شو لاہور‘ کراچی یا اسلام آباد کے کسی جدید ترین اور انگریزی سے لتھڑے ہوئے کسی تعلیمی ادارے میں کیا جاتا تو میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ وہاں ایسے خیالات کا اظہار نہ ہوتا۔ لاہور میں ایک ادارے کی ایسی ہی تقریب کا میں عینی شاہد ہوں جہاں میں مدعو تھا‘ مجال ہے کسی لڑکے یا لڑکی نے بھارت کے خلاف ایسی نفرت کا اظہار کیا ہو۔

 

خدا کی شان ہے کہ سیکولر بھارت میں نریندر مودی کی حکمرانی ہو گئی‘ وہی مودی جس کے دست راست پر فسادات کا الزام ثابت ہوا اور بعد میں انعام کے طور پر مودی صاحب نے اسے جونیئر منسٹر بنا دیا۔ بھارتی انتخابات سے ایک بات ثابت ہوئی کہ بھارت کے برعکس پاکستانی عوام کہیں زیادہ باشعور اور بالغ نظر ہیں۔ پاکستان میں گزشتہ الیکشن بھارت دشمنی کی بنا پر نہیں لڑا گیا۔ جبکہ بی جے پی کے رہنماؤں نے انتخابی مہم میں اگر پاکستان کا ذکر کیا تو دشمن کے طور پر ہی کیا۔ پاکستان میں مذہبی انتہا پسند جماعتوں کو عوام میں کبھی پذیرائی نہیں ملی۔ ہمارے ہاں نریندر مودی جیسے متعصب شخص کا وزیراعظم تو کیا کونسلر بننا بھی مشکل ہے۔ جبکہ بھارت میں نریندرمودی ایک مقبول بھارتی لیڈر کے طور پر ابھر کر سامنے آیا۔ لیڈر میں لوگ اپنا پرتو دیکھتے ہیں۔ بھارتی عوام کو اگر مودی میں اپنا آپ نظر آیا تو اس کی وجہ یہی تھی کہ بھارت کا متوسط طبقہ بھی مودی ہی کی طرح متعصب ہے۔ مودی نے اسی متوسط اور متعصب ہندوکلاس کو ٹارگٹ کیا اور پندرہ فیصد مسلمان ووٹرز اور مٹھی بھر سیکولر اشرافیہ کی پروا نہیں کی۔ مودی کی یہ حکمت عملی کامیاب رہی۔ سیکولر بھارت کی 543رکنی لوک سبھا کے لئے بی جے پی نے فقط دو مسلم امیدواروں کو ٹکٹ دیا۔ بھارتی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ مسلم آبادی والے خطے اترپردیش میں سے ایک بھی مسلمان رکن منتخب ہو کر اسمبلی میں نہیں پہنچا اور بھارت کی تاریخ میں پہلی مرتبہ سب سے کم مسلمان منتخب ہو کر ایوان میں پہنچے ہیں۔ میں بھارتی مسلمانوں کی قسمت کا نوحہ نہیںلکھ رہا بلکہ 47ء میں ہندو اکثریت کے دباؤ سے مجبور ہو کر ایک مسلمان ریاست کے قیام کے فیصلے کو تاریخ کے تناظر میں دیکھنے کی کوشش کر رہا ہوں۔

 

سیکولر بھارت کی 543 رکنی لوک سبھا کے لئے بی جے پی نے فقط دو مسلم امیدواروں کو ٹکٹ دیا۔ بھارتی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ مسلم آبادی والے خطے اترپردیش میں سے ایک بھی مسلمان رکن منتخب ہو کر اسمبلی میں نہیں پہنچا اور بھارت کی تاریخ میں پہلی مرتبہ سب سے کم مسلمان منتخب ہو کر ایوان میں پہنچے ہیں۔ میں بھارتی مسلمانوں کی قسمت کا نوحہ نہیں لکھ رہا بلکہ 47ء میں ہندو اکثریت کے دباؤ سے مجبور ہو کر ایک مسلمان ریاست کے قیام کے فیصلے کو تاریخ کے تناظر میں دیکھنے کی کوشش کر رہا ہوں۔

 

بھارت میں نریندرمودی ایک اہم مقبول بھارتی لیڈر کے طور پر ابھر کر سامنے آیا۔ لیڈر میں لوگ اپنا پرتو دیکھتے ہیں۔ بھارتی عوام کو اگر مودی میں اپنا آپ نظر آیا تو اس کی وجہ یہی تھی کہ بھارت کا متوسط طبقہ بھی مودی ہی کی طرح متعصب ہے۔

 

بھارتی انتخابات کو شفاف مانا گیا ہے۔ (اور پاکستان کو شرم دلائی گئی ہے) مگر یہ بھی سچ ہے کہ نومنتخب ایوان کے 34 فیصد اراکین پر فوجداری مقدمات ہیں جن میں سے 21فیصد سنگین نوعیت کے ہیں جن میں قتل‘ اغوا اور زنا کے کیس شامل ہیں۔ اس کے علاوہ نریندر مودی اور ایل کے ایڈوانی سمیت بی جے پی کے دس نومنتخب اراکین اسمبلی کو بھی فوجداری مقدمات کا سامنا ہے۔ جو لوگ بھارتی جمہوریت کو اس وجہ سے ر شک کی نظر سے دیکھ رہے ہیں کہ وہاں ایک چائے والا وزیراعظم بن سکتا ہے تو انہیں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ بھارت کی یہ لوک سبھا تاریخ کی امیرترین پارلیمنٹ ہے۔ جس میں 82 فیصد اراکین اسمبلی کروڑ پتی ہیں۔ دوسری طرف پاکستان میں بھی پارلیمنٹ میں امراء ہی غالب نظر آتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ پاکستانی ممبران میں درجنوں ایسے ہیں جن کا تعلق متوسط طبقے سے ہے۔ پاکستان میں اپنی کلاس سے ترقی کرتے ہوئے اپرکلاس میں شامل ہونا دنیا کے بیشتر ممالک خصوصاً بھارت سے کہیں زیادہ آسان ہے۔ بھارت سے سیکھنے کی بات اگر کوئی ہے تو وہ یہ کہ سیاست دانوں کی تمام تر کرپشن اور نااہلی کے باوجود وہاں جمہوریت پھلتی پھولتی جا رہی ہے۔

[email protected]

یہ تحریر 79مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP