قومی و بین الاقوامی ایشوز

بھارتی سرکارکے مقبوضہ جموں و کشمیر کے لئے استحصالی اقدام  

 بھارت اپنے آپ کودنیا کی سب سے بڑی سیکولر مملکت سمجھتاہے اُس کے مطابق بھارت میں بے شمار مذاہب اورمختلف زبانیں بولنے والی قومیں آباد ہیں۔ جن کے بارے میں بھارتی حکمرانوں کا دعویٰ ہے کہ بھارت ماتا کے آنگن میں رہنے والے ہر فرد کو مکمل مذہبی ، روایتی اور ثقافتی آزادی حاصل ہے۔ 1947 میں متحدہ ہندوستان کی تقسیم بھی دو قوموں اوردو نظریوں کی بنیاد پر ہوئی۔ اُن دو نظریوں میں ایک اسلامی اور ایک ہندو نظریہ تھا جس کی واضح مثال قائد اعظم محمد علی جناح  نے اِن الفاظ میں دی تھی کہ ہم مسلمان ہندوؤں سے یکسر مختلف قوم ہیں ہمارا مذہب، رہن سہن، زبان سب ایک دوسرے سے جُدا ہیں۔  یہی وجہ ہے کہ برصغیر کے مسلمان ایک الگ ریاست کا مطالبہ کرتے ہیں جہاں وہ آزادی سے اپنی مذہبی رسومات ،روایات اور ثقافت کونبھا سکیں۔اِسی دو قومی نظریے پر نامکمل تقسیم ہند ہو گئی۔نامکمل اِس لئے کہ شمال مشرق میں واقع ریاست جموں و کشمیر کے مسئلے کا حل اقوامِ متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق ہونا ابھی باقی ہے۔
 1953 میں آرٹیکل  370 کے ذریعے مقبوضہ جموں و کشمیر کے لئے ایک ایسا قانون لاگوکیا گیا تھا جس میں مقبوضہ ریاست کے معاملات کو بھارت کی دوسری ریاستوں پر لاگو نہیں کیا جا سکتا تھاااور وہ دفعات صرف مقبوضہ جموں و کشمیر پر لاگو کی گئی تھیں۔جن کے تحت ریاست کی الگ سے قانون ساز اسمبلی ہو گی جو ریاست کے معاملات اور قانون سازی کرے گی ۔ اور معاشی اور خارجہ امور کے معاملات کا جائزہ لے گی غیر کشمیری افراد کو مقبوضہ ریاست میں کسی قسم کی جائیداد کی خرید و فروخت کی اجازت نہ ہو گی ۔ آرٹیکل 370 کے تحت مرکزی حکومت مقبوضہ ریاست میں کسی قسم کی ہنگامی ایمرجنسی نہیں لگا سکتی  اور ایمرجنسی اُسی صورت لگائی جا سکتی ہے کہ مقبوضہ ریاست کو کسی بیرونی جارحیت کا سامنا ہو وغیرہ۔   
5 اگست 2019 کو بی جے پی یعنی مودی سرکار کی کابینہ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی وہ خصوصی حیثیت مکمل طور پر ختم کر دی جو 1953 میں بھارت کی جانب سے آرٹیکل370کے تحت دی گئی تھی اور آرٹیکل 370 کے خاتمے کے ساتھ جب مقبوضہ جموں و کشمیر میںکشمیری مسلمانوں کا احتجاج شروع ہوا تو بھارتی حکومت کی جانب سے مقبوضہ ریاست جموں و کشمیرمیں کرفیو لگا دیا اور مکمل لاک ڈاؤن اور اِس کے ساتھ ہی مواصلات( ٹیلی فون ،انٹرنیٹ،موبائل سروس اور ٹی وی چینلز) پر پابندی لگا دی گئی۔ مقبوضہ ریاست کا باہر کی دنیا سے رابطہ مکمل طورپر منقطع کر دیا گیا۔ ایک سال سے زائد عرصہ ہونے کو آیا ہے مگر بھارتی حکمرانوں کی ہٹ دھرمی اپنی جگہ قائم ہے لیکن بی جے پی کے حکمرانوں نے مقبوضہ ریاست کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے علاوہ اور بھی کئی ا یسے نئے  قوانین مقبوضہ ریاست کے محکوم عوام پر لاگو کئے ہیں جو ریاست کے عوام کو کسی صورت قبول نہیں کیونکہ اُن قوانین کے ذریعے بھارت اپنے تسلط کو بہت مضبوط کرنا چاہتا ہے۔لیکن جو قوانین بھی مقبوضہ ریاست کے عوام کے لئے بنائے جاتے ہیں کشمیری عوام کسی صورت ماننے کو تیار نہیں کیونکہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کا مطالبہ 73 سال پہلے بھی آزادی تھا اور آج بھی آزادی ہے۔
ایک سال پہلے بی جے پی حکومت نے آرٹیکل370 کے خاتمے کے بعد  مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام پر ظلم کے پہاڑ توڑر ہی ہے ہیں اب مودی سرکار کی کابینہ کے وزیرِ اطلاعات و نشریات پرکاش مانگے نے ماہِ ستمبر 2020 کے مہینے کے آغاز میں ہی ایک نیا قانون لانے کی تجویز دی ہے ۔ اس کے مطابق مقبوضہ ریاست جموں و کشمیر میں سرکاری زبانوں کے ایکٹ کے نئے قانون 2020 کی تجویز ہے اور اِس قانون کو پارلیمنٹ کے مون سون سیشن 2020 میں پیش کرنے کا ارادہ ہے جس کے منظور ہو جانے کی بہت حد تک اُمید کی جا رہی ہے۔ اِس تجویز میں انگریزی، اُردو اور ہندی کے علاوہ کشمیری اور ڈوگرہ زبانوں کو سرکاری حیثیت دینے کی تجویز ہے۔جبکہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں سکھ آبادی کی اکثریت ہونے کے باوجود پنجابی زبان کو یکسر نظر اندازکر دیا گیا ہے۔
تقسیمِ ہند سے پہلے ریاست جموں و کشمیر میں بولی جانے والی زبانوں میں کشمیری،اُردو،پنجابی، ہندی اور ڈوگرہ تھیں ۔اِن میں سے بھی کشمیری اور پنجابی زبانیں عام بولی اور سمجھی جاتیں تھیں ۔ اُردو زبان تعلیمی اداروں سے لے کر سرکاری دفاتر میں استعمال ہونے والی عام زبان تھی اور اب بھی ہے ۔پنجابی زبان مقبوضہ ریاست کے سکھ خاندانوں میں بولی جانے والی زبان ہے جبکہ کشمیر کی اکثر آبادی کی مادری زبانKoshur یعنی کشمیری زبان ہے، ڈوگرہ زبان پر ہندوستان کی آریائی ثقافت کا اثر ہے۔ یہ زبان جموں کے علاوہ پنجاب کے کچھ علاقوں اور ہریانہ میں بولی جاتی تھی مگر وقت کے ساتھ ساتھ یہ زبان  ماضی کا حصہ ہو چکی ہے۔آج کی نوجوان نسل اِس زبان سے ناآشنا ہے ۔ جبکہ انگریزی زبان بوقتِ ضرورت بولی جانے والی زبان تھی اور وہی لوگ بول سکتے تھے جو سرکاری ملازمت کرتے تھے یا جو لوگ انگلستان سے تعلیم حاصل کرکے آتے تھے۔اُردو کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ریاست جموں و کشمیر کے ڈوگرہ حکمران پرتاب سنگھ نے1889 میں ریاست میں فارسی زبان کے بدلے اُردو کو سرکاری زبان کے طور پر رائج کیا۔اِسے 131 سال مقبوضہ ریاست میں سرکاری زبان کی حیثیت حاصل رہی ہے مگر اب موجودہ دور میں بھارتی حکومت اُردو کو ہی نشانہ بنا کر دوسری علاقائی زبانوں کی آڑ میں ہندی زبان کا نفاذچاہتی ہے۔ 
مسودۂ قانون کو نافذ کرنے کے اعلان کی بازگشت اچانک نہیں ہے بلکہ بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ نے بھی حال ہی میں مقبوضہ ریاست میں ہندی زبان کوباقاعدہ رائج کرکے اِس کی اہمیت بڑھانے کا اعلان کیا تھااور مزید کہا تھاکہ شمال مشرق میں قائم ریاست میں بھی ہندی زبان کو فروغ دیا جائے گا۔ وزیر داخلہ امیت شاہ کے مطابق ہندی زبان کے نفاذکا مطالبہ عوام کی طرف سے کیا گیا ہے جو کہ سراسر جھوٹ پر مبنی ہے کیونکہ بی جے پی سرکار کی جانب سے کوئی لاگو کیا گیا قانون یا حکم کشمیری عوام کے لئے قابلِ قبول نہیں ہے۔
 مقبوضہ جموں و کشمیر میں سرکاری زبانوں کے نفاذ کا معاملہ شاید اتنا سنگین نہ سمجھا جاتا اگر بی جے پی کی اِس تجویز میں اِس بات پر زورنہ دیا گیا ہوتا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں انگریزی زبان کے علاوہ جو بھی سرکاری زبان ہو گی اُس کا رسم الخط دیونا گری(ہندی سکرپٹ)میں ہو گا کیونکہ ہندی رسم الخط بھارت کے طول وعرض میں لکھا اور سمجھا جاتا ہے جبکہ دوسری طرف اُردو اور دیگر جو زبانیں مقبوضہ ریاست میں رائج کرنے کی سفارش کی گئی ہیںاُن کو محدود کرنا ہے۔ بھارت کے آئین کے مطابق بھارت میں بولی جانے والی 19500 سے زائد علاقائی زبانوں کا ذکر ہے لیکن شیڈول زبانیں صرف 22 ہیں جبکہ قومی زبان کے طور پربھارت کے طول و عرض میں سمجھی اور بولی جانے والی سب سے بڑی زبان ہندی ہی ہے ۔اِسی کو آڑ بنا کر بی جے پی سرکار نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں ہندی زبان اور ہندی رسم الخط کو فروغ دینے کی اپیل کی ہے۔بظا ہر مقبوضہ ریاست میں پانچ سرکاری زبانیں رائج کرنے کا معاملہ اچانک ہوا ہے لیکن اِس کی منصوبہ بندی کا آغاز بہت پہلے سے ہو چکا تھا کیونکہ بھارتی حکومت اور فوج کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام پر ظلم وستم اور وہاں کی زندگی کو درندگی کی حد تک پُرتشدد بنا دیا گیا ہے کہ وہاں کے محکوم عوام بھارتی حکومت کی جانب سے کئے گئے کسی فیصلے کوماننے کے لئے تیار نہیں ہیں۔اِن حالات میں اب وہاں کی نوجوان نسل ہندی زبان اپنانے کو تیار نہیں ۔ کیونکہ جن نوجوانوں نے اپنی اعلیٰ تعلیم کے لئے بھارت کی یونیورسٹیوں میں داخلہ لینا ہوتا تھا وہ ہائر سکول میں ہندی زبان کا انتخاب کرتے تھے لیکن  چند سالوں سے یہ رحجان بہت حد تک کم ہو چکا ہے کہ کشمیری طلبہ اپنی ہائر کلاسوں میں ہندی زبان کو منتخب کریں اِس کے علاوہ سکولوں میں آٹھویں جماعت تک ہندی اور اُردو دونوں زبانیں لازمی مضامین کے طورپر پڑھائی جاتیں ہیں اور ہائر سکول میں اُردو اور ہندی بطور لازمی مضامین کی کوئی پابندی نہیں ہے۔ طلبہ پر منحصر ہوتا ہے کہ وہ لازمی مضمون کے طور پر اُردوپڑھیں یا ہندی۔بھارتیہ جنتا پارٹی کی یہ تجویز کہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں انگریزی ، اردو،ہندی، ڈوگرہ اور کشمیری زبانوں کو سرکاری زبانوں کی حیثیت دینے کا مقصد یہ نہیں کہ مقبوضہ ریاست میں اِن زبانوں کی کوئی ملکی یا علاقائی اہمیت تھی بلکہ درپردہ مودی سرکار مقبوضہ ریاست میں اُردو کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور کشمیری مسلمانوں کی مادری زبان کشمیری کے علاوہ اُردو سے اپنائیت بھارتی حکومت کو ایک آنکھ نہیں بھا رہی تھی جس وجہ سے یہ سب اقدامات مودی سرکار کو کرنے پڑ رہے ہیں۔
ابھی آرٹیکل370  اورمقبوضہ جموں و کشمیر کے مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے ظلم و ستم پر پاکستان کا احتجاج ختم بھی نہیں ہوا تھاکہ مودی سرکارکی کابینہ نے مقبوضہ ریاست میں اپنی علاقائی زبانوں کی آڑ میں اُردو کی اہمیت کو ختم کرنے کی منصوبہ بندی شروع کردی۔ کشمیریوں نے سرکاری زبانوں کے قانون نافذ کرنے کی تجویز پر حسب ِ معمول اپنا بھرپوراحتجاج ریکارڈ کروایا ہے۔
 بی جے پی حکومت بھارت میں بسنے والے مسلمانوں کے لئے کی جانے والی کسی قانون سازی میں کسی سے مشورہ کرنا پسند نہیں کرتی اور خاص کر مقبوضہ جموں و کشمیر کے مسئلے کو انگاروں سے اُٹھا کر بھڑکتی ہوئی آگ میں جھونک دیا ہے ۔ خدا جانے مقبوضہ جموں وکشمیر کے مسئلے کو یہ سمجھ کر کیوں کھیلا جارہا ہے کہ گیند بھارت کے کورٹ میں ہے اور اُس کو اپنی مرضی سے کھیلے گا جبکہ یہ بھارت کی سب سے بڑی بھول ہے کہ کشمیریوں کی زندگی تنگ کر کے اُن کو دنیا کی سب سے بڑی جیل میں دھکیل کر اپنی مرضی مسلط کر لے گا تو یہ دنیا کی تاریخ کی بھی سب سے بڑی بھول ہو گی۔ اِس ایک سال کے دوران بھارت کے حکمرانوں اور فوج نے کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے ظلم کی انتہا کر دی ہے کہ جہاں زندگی کی سانسوں کی کوئی ضمانت نہیں وہاں اُن کی زندگی بھی سسکیوں پر کھڑی ہے۔کوئی دن ایسا نہیں جاتا جب مودی سرکار کی جانب سے ظلم کے قانون کے نام کا کوئی پروانہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی عوام کے لئے جاری نہ کیا جاتا ہو۔بی جے پی کی حکومت اندھا دُھند اپنی سفاکیت پر اُتری ہوئی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ ظلم سے کبھی کسی کی آزادی کی خواہش کو دبایا نہیں جاسکا۔ ظلم کے بادلوں کو چھٹنا ہی ہوتا ہے اور وہ چھٹ کر ہی رہتے ہیں ۔زبان ہی جذبوں کے اظہار کا سب سے بڑا ذریعہ ہے جس کو بھارتیہ جنتا پارٹی سرکار اپنے نام نہاد قوانین کے نام پر دبانا چاہتی ہے۔ ||
          
 

یہ تحریر 67مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP