قومی و بین الاقوامی ایشوز

بھارتی آبی جارحیت

دنیاآج پانی کا قطرہ قطرہ سوچی سمجھی سکیم کے تحت خرچ کررہی ہے جبکہ ہم ہر برس 36ملین ایکڑفٹ پانی کو اپنی ہنستی بستی آبادیوں اورکھڑی فصلوں کو تباہ کرنے کی اجازت دے دیتے ہیں اورپھروہ ہمیں منہ چڑاتاہوا بحیرہ عرب میں جا گرتا ہے۔ سترکھرب کایہ پانی سندھی ‘بلوچی ‘پٹھان ‘پنجابی وسرائیکی کی تمیزکئے بغیرسب کو چکمہ دے جاتاہے کیونکہ ہمارے عاقبت نااندیش رہنمادشمن کی بچھائی ہوئی شطرنج کی چال سمجھنے سے قاصرہیں ۔کاش! کسی کوتوفیق ہوکہ کالاباغ ڈیم کے خلاف چارج شیٹ پیش کرنے والی پہلی فائل کی تحقیق کرے کہ وہ کہاں سے بن کے آئی ؟کون سی ریاست ہے جو انسانوں سمیت آبی جانوروں اورتھر کے موروں کوبھی نہیں بخش رہی ؟کون سا ضمیر ہے جو چند میگاواٹ بجلی کی خاطرکراچی میں بسنے والے انسانوں کی حبس بے جاسے ہونے والی اموات کا ذمہ دار ہے ؟کون ہے جسے ’’تاراسنگھ‘‘ بسترمرگ پر بھی مکار قراردیتے ہوئے بے چینی سے پہلو بدلتے رہے؟کون ہے جو بنگلہ دیش کو بھی پاکستان دشمنی میں ڈبوکراس کے حصے کہ
Teesta
اور
Feni
دریاؤں کے پانی پرقبضہ جمائے بیٹھاہے؟ کون ہے جو
Barrage Farakkha 
سے بنگلہ دیش کو پانچ سوملین ڈالرکے سالانہ نقصان سمیت سیلابوں اورخشک سالی کابھی نظارہ کرارہاہے؟
افسوس! صدافسوس! کہ ایسا بے ضمیروبے حس ملک ہماری ہمسائیگی میں آبادہے ۔جس نے ہمارے وجودمیں آنے کے پہلے برس ہی پانی کا بہاؤ کاٹ دیا۔ پھر 4مئی 1948کو
Inter-Dominion
معاہدے کے تحت بھارت‘ پاکستان کو اس کی ضرورت کے مطابق پانی دینے کا پابند ہواجس کی پاکستان نے قیمت اداکی۔اس ساری کہانی کا اصل محرک وہ ملک ہے جس نے پاکستان میں بہنے والے دریاؤں راوی اورستلج کے ہیڈورکس ‘مادھوپوراورستلج بھارت کی جھولی میں ڈال دیئے کیونکہ عیاردشمن نے
Miss Edwina 
کواپنے اثرورسوخ کے لئے استعمال کیا اور باؤنڈری کمیشن کے انچارج ریڈکلف پر اثراندازہوا۔اس کے بعد گورداسپورکامسلم اکثریت کاعلاقہ بھارت کی ملکیت قراردینا بھی اسی سازش کی کڑی تھا کہ اس طرح بھارت کو کشمیر تک زمینی رسائی حاصل ہوگی ‘جس سے اسے پاکستان میں بہنے والے مغربی دریاؤں سندھ ‘چناب اورجہلم پر بھی مکمل کنٹرول حاصل ہوجائے گااوردونوں ممالک الجھے رہیں گے۔

 

بھارت نے آبی جارحیت کا دوسراپرزوردوربگلیہارڈیم سے شروع کیاجس میں 19ستمبر 1960کوعالمی ورلڈبینک کی سربراہی میں کراچی میں ہونے والے معاہدے سندھ طاس کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے بڑاواٹرسٹوریج قائم کیا گیا۔جس سے وہ پاکستان کے حصے کا 34لاکھ کیوسک پانی ہڑپ کرگیا۔اس ڈیم کی ورکنگ کے پہلے ہی برس پاکستانی زراعت کو ایک کھرب سے زائد نقصان ہوا۔ پاکستان دریائے چناب سے 92لاکھ ایکڑاراضی کوسیراب کرتاہے جبکہ ڈیم کی تعمیرکے پہلے ہی برس پاکستان دریائے چناب سے محض 25لاکھ ایکڑاراضی کوسیراب کرسکا کیونکہ 35ہزارکیوسک کی جگہ ان دنوں تیرہ ہزارکیوسک آنے لگا۔جھوٹے سرجیکل سٹرائیکس کے دعوے کے ساتھ ساتھ ستمبر 2016میں بھارت نے بگلیہارڈیم پر دوسری مرتبہ چناب کاپانی روک دیا اور ہیڈمرالہ پرپانی کی آمدانتیس ہزار‘تین سوبیاسی کیوسک رہ گئی۔صرف دریائے چناب کا پانی اکیس ہزارآٹھ سوانیس کیوسک ہے لیکن اس وقت آنے والے انتیس ہزار میں دریائے مناورتوی کادوہزارنوسوسترکیوسک اوردریائے جموں توی کا 4,804کیوسک بھی شامل ہے۔


بگلیہارڈیم کی تاریخ کامطالعہ کیاجائے تو اس کی تعمیر کاآغاز انڈیانے 1999میں کیا۔پاکستان کاموقف تھاکہ یہ سندھ طاس کی خلاف ورزی ہے اورانڈیااس کے ذریعے جنگ یا تناؤ کی کیفیت میں پاکستان کا پانی روک سکتاہے (جوکہ آج سچ ثابت ہوا)۔ اس تنازعے پر 1999سے 2004تک پاک بھارت مذاکرات کے کئی دورہوئے جوبھارت کی روایتی ہٹ دھرمی کی وجہ سے بغیرکسی نتیجے کے ختم ہوگئے۔18اپریل 2005کوناکام مذاکرات کے نتیجے میں پاکستان نے ورلڈبینک کے سامنے چھ اعتراضات اٹھائے۔پھر اپریل 2005 میں پاکستان نے اس معاملے کے حل کے لئے سندھ طاس معاہدے کے آرٹیکل ixکی شق 2 کے تحت ورلڈبینک سے نیوٹرل ایکسپرٹ کی راہنمائی میں معاملہ سلجھانے کی گزارش کی۔مئی 2005میں ورلڈبینک نے
Lafitte Raymond
کی سربراہی میں اس مسئلے کے حل کے لئے ٹیم تشکیل دی جس نے فروری 2007کو اپنافیصلہ سناتے ہوئے بھارتی موقف کو تسلیم کیا اور بگلیہارڈیم پر معمولی اعتراضات اٹھاتے ہوئے اسکی تعمیر کی اجازت دے دی۔ اگرسندھ طاس معاہدے سے لے کر بگلیہارڈیم تک دیکھاجائے تو جہاں پاکستان کوناانصافیوں کا سامنا کرنا پڑا وہیں اس کی متعلقہ ٹیم کی کمزوریاں بھی ابھر کر سامنے آتی ہیں۔
پاکستان میں پانی کوسٹورکرنے کی قوت تیس دن ہے جبکہ اس وقت انڈیا کے پاس پانی کومحفوظ کرنے کی قوت ایک سوبیس سے لے کر دوسودنوں تک ہے۔


سکھ نوجوانوں کوچاند ماری کے لئے استعمال کرنے والے بھارت نے 2007 میں ’’کشن گنگاڈیم‘‘ کا 330 میگاواٹ کامنصوبہ شروع کیا جس سے پاکستان میں قائم ہونے والے 969میگاواٹ کے ’’ نیلم جہلم پراجیکٹ ‘‘ سمیت پاکستان کے حصے کے پانی کو زبردست نقصان پہنچااوریہ سندھ طاس معاہدے کے آرٹیکل 4کی شق 3 کے کلاز تھری ‘پیراگراف نمبرپانچ اورآرٹیکل سیون ‘ون ‘بی کی کھلم کھلاخلاف ورزی ہے۔دریائے نیلم ‘جہلم ریورکامعاون ہے۔۔ہیگ کی عالمی عدالت نے کشن گنگاپرفیصلہ سناتے ہوئے فروری 2013میں بھارت کو کہاتھا کہ وہ پانی کے ماحولیاتی بہاؤ کوبرقراررکھنے کے لئے نوکیوبک میٹرفی سیکنڈ پانی چھوڑنے کا پابندہوگامگر بھارت اپنی راویتی روش کے مطابق عالمی قوانین کی دھجیاں اُڑاتے ہوئے محض 4.25کیوبک میٹرفی سیکنڈ کے حساب سے پانی چھوڑ رہاہے ۔انڈیانے انیس سوسترمیں کشمیری دریاؤں پر تینتیس ڈیم بنانے کااعلان کیاتھا جس میں سے بہت سے تکمیل کے مراحل میں ہیں۔
اسی طرح پاکستان کے حصے کے مغربی دریا‘ دریائے چناب کے پانی پر ریٹل پاورپراجیکٹ کے ذریعے ایک بڑی قدغن لگائی جارہی ہے ۔ آبی ماہرین کی رائے کے مطابق ریٹل پاورپراجیکٹ اگر بھارت کی خواہش کے مطابق پایہ تکمیل تک پہنچتاہے تو اس سے دریائے چناب کے قدرتی بہاؤ میں اکیس سے چالیس فیصد تک کمی متوقع ہے۔ جو پاکستانی پنجاب سمیت سندھ کی زمینوں کو بنجرکرنے کا ایک خطرناک منصوبہ ہے۔کشن گنگاکاپانی چوبیس کلومیٹرطویل ایک پاورپروڈکشن کینال کے ذریعے موڑاجائے گا جبکہ بقیہ پانی وولرجھیل سے جاملے گا‘اوردوسوتیرہ کلومیٹرطویل دریائے نیلم کونقصان پہنچائے گا۔۔انرجی کے ضمن میں 141ملین ڈالرسالانہ اورعلاقے میں زراعت کو 420 ملین ڈالرتک نقصان ہو سکتاہے۔ اس کے علاوہ 
Nimoo-Bazgo
پراجیکٹ میں کاربن کریڈٹیس بھی بھارت کی مکارانہ صلاحیت اورپاکستانی آفیشلزکے غیرذمہ دارانہ رویہ کی عکاسی کرتے ہیں۔
انڈیا 2012سے 2017تک 72ڈیمز کی تعمیر کاعندیہ دے چکاہے جس کے ذریعے وہ 15208میگاواٹ بجلی حاصل کرنے کا خواہش مندہے۔ان میں
Bursar Hydroetectric Project
میں پانی کوسٹورکرنے کی
2.2 MAF (Million Acre Feet)
قوت ہے جبکہ معاہدہ کے تحت دریائے چناب کے پانی کو بھارت 1.7 
MAF
سے زیادہ سٹورکرنے کاحق دار نہیں۔ سندھ طاس معاہدے کے آرٹیکلvi کے تحت بھارت اس بات کا پابند ہے کہ منصوبوں کے متعلق ڈیٹااورمعلومات پاکستان کے ساتھ شیئرکرے لیکن وہ ہمیشہ ہی بادشاہوں کی اولادکی طرح اپنے آپ کو کسی قانون کاپابند تصورنہیں کرتا۔
(International Commission on Large Dams) ICOLD 
کے ممبرہونے کی وجہ سے بھارت پر لازم ہے کہ بڑے ڈیمز کی معلومات پاکستان کے ساتھ شیئرکرے لیکن بھارت ایساکرنااپنی توہین سمجھتاہے۔
ICOLD
کے تحت 15میٹرسے اوپرکاہرڈیم‘ بڑا ڈیم ہی تصورہوگا ۔بھارت نے تفصیلی طورپر کسی بھی انجینئر پراجیکٹ کی مکمل معلومات کاتبادلہ نہیں کیا جبکہ بالخصوص
Pakal Dul 1000mw‘Ratle 780mw‘Kirthal 990 mw‘Seli 715
اور 
Sawalkot
کے 1020 میگاواٹ جیسے بڑے ڈیمز کی مکمل معلومات چھپانے کے جرم کابھی مرتکب ٹھہرا ہے۔
2012کی ایک رپورٹ کے مطابق بھارت میں نوڈیمزتباہی کاشکار ہوئے۔ یہ تمام منصوبے ایسے ہیں کہ ان کونقصان پہنچنے کی صورت میں پاکستان کے ڈاؤن سٹریم کے علاقے میں انفراسٹریکچرکوشدید نقصان پہنچنے کاخدشہ ہے‘ خصوصاً کشمیری دریاؤں پربننے والے ڈیمززیادہ خطرناک صورتحال کی غمازی کر رہے ہیں۔
مقبوضہ کشمیرمیں بھارت کی کٹھ پتلی حکومت نے بھی 1055 میگاواٹ کی قوت کے حامل سات ڈیمزکی تعمیر کاعندیہ 2012میں دیاتھاجس میں سے پانچ دریائے سندھ پرجبکہ ایک دریائے سرواوردوسرادراس پر۔انڈیاکااپنے دوسرے ہمسایہ ممالک سے بھی یہی رویہ ہے جواس کے استعماری عزائم کی بھرپورعکاسی کر رہا ہے۔ 
Farakka Barrage
کی تعمیرنے جہاں بنگلہ دیش کے زمینی پانی کو سترفیصدسے زیادہ آلودہ کرکے اسے پانچ سوملین ڈالرسالانہ کانقصان پہنچایاوہیں مون سون میں سیلاب کی آمداورخشک موسم میں خشک سالی بھی بنگلہ دیشیوں کامقدرٹھہری مگربنگلہ دیش ہے کہ بھارت کے ساتھ پیارکی پینگیں بڑھاتا ہی جارہاہے۔حسینہ واجدکی آنکھوں پرتوپاکستان دشمنی کے ایسے دبیز پردے ہیں کہ اسے اپنے ملک کی عوام کا خیال تک نہیں آتا۔2015میں جب مودی ‘بنگال کی وزیراعلیٰ ممتازبینرجی کو استعمال کرتے ہوئے ٹریفک اورسڑکوں کی تعمیرکے منصوبوں پردستخط کرواچکے تو حسینہ واجد نے ممتاز بینرجی کے ساتھ دریائے
Fani
اور 
Teesta
کامعاملہ اُٹھایاتو انھوں نے محض چانکیانہ مسکراہٹ اچھال کرحسینہ واجد کے لبوں پرمہرلگادی ۔


بھارت دریائے جہلم پر مقبوضہ کشمیرمیں بارہ مولاکے مقام پر سری نگرسے سات کلومیٹر دورشمال میں وولربیراج بنارہاہے ۔اس پر بھی بھارت نے پہلے مذاکرات باربار بے نتیجہ ختم کئے اوراب وولربیراج پربات کرنے کے لئے ہی تیار نہیں۔ بھارت یہ ڈیم وولرجھیل کے دہانے پربنارہاہے۔ جہاں وہ مقبوضہ وادی میں نیلم جہلم دریامیں گرتی ہے۔اس کی سٹوریج قوت تین لاکھ ایکڑفیٹ ہے جوکہ سندھ طاس کے ضمیمہ ڈی کی کھلم کھلاخلاف ورزی ہے ۔شنید ہے کے دریائے جہلم پرمزید 54ڈیم زیرتعمیرہیں۔بھارت ‘دریائے سندھ کاپانی کارگل کے مقام پر دریائے برہم پترمیں ڈال رہاہے لیکن جب خطے کے اس بے مروت ملک کاپانی چین نے روکاتو اسے دن میں تارے نظرآگئے۔حالیہ پاک بھارت کشیدگی کے دوران چین نے تبت میں ایک ڈیم کے لئے برہم پترسے نکلنے والے ایک معاون دریاکاپانی بند کردیا۔چینی نیوزایجنسی کے مطابق تبت سے نکلنے والے دریائے یارلنگ زینگبو سے نکلنے والے معاون دریا ‘شیبوقوکاپانی لالہوڈڈیم کی تعمیرکی وجہ سے بندکیاگیا۔چین سے نکل کر یہ دریا بھارت کی شمال مشرقی ریاستوں اروناچل پردیش اورآسام سے ہوتاہوا بنگلہ دیش تک جاتاہے۔یہ ڈیم295ملین کیوبک پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت رکھتاہے۔ پانی کی حالیہ بندش سے برہم پترمیں 36 فیصد پانی کی کمی کاسامنادیکھنے میں آیا۔جس سے بھارت کی پانچ ریاستیں متاثر ہوئیں۔ چین کاکہناہے کہ اس کے بھارت سے پانی پر کوئی معاہدے نہیں ہیں اس لئے وہ اپنے فیصلے کرنے میں آزادہے جبکہ اس سے قبل 2015 میں جب چین نے ایک پرانے ڈیم کو بحال کیاتودوسروں کاپانی ہڑپ کرنے والابھارت بلبلااُٹھا‘ اس کے ساتھ ساتھ چینی حکومت برہم پتر یعنی یارلنگ زینگبو پر مزید تین ڈیم کی تعمیرکاارادہ بھی رکھتی ہے۔بھارتی میڈیاکے ماہرین نے چین کے اس عمل کو ایک سفارتی اشارہ قراردیتے ہوئے کہاکہ یہ بھارت کے اس عمل کاردعمل ہے جواس نے سندھ طاس کی خلاف ورزی کرکے انجام دیاہے۔چین کوپانی کے حقوق سمجھانے والے بھارت پروہی مثال صادق آتی ہے کہ ’’اوروں کونصیحت خودمیاں فضیحت‘‘۔
بھارت کی ریاست راجستھان میں موجودکوئلے سے چلنے والے پاورپلانٹس تھرکے موروں سمیت گزشتہ برس کراچی میں ہونے والی اموات کے ذمہ دارہیں کیونکہ چمنیوں کارخ سندھ کی جانب کیا گیاہے۔ایسے حالات میں پاکستان کو چاہئے کہ اپنے حقوق کی جنگ عالمی فورم پرلڑے۔بھارت جوکہ کسی کو خاطرمیں نہیں لاتا‘ اور ورلڈبینک کی سربراہی میں ہونے والے معاہدے سے بھی بے نیازی کااظہارکررہاہے ۔اس کی اصل صورت ہمیں دنیاکے سامنے رکھناہوگی۔ 
اٹھارہ ستمبر کوہونے والے اُڑی حملے کے بعد بھارت نے انڈس واٹر کمشنرزکے ششماہی مذاکرات معطل کردیئے ۔جبکہ سندھ طاس معاہدے کے تحت ہرچھ ماہ بعد مذاکرات ضروری قراردیئے گئے ہیں۔ اس سے بڑھ کر بھارتی وزیراعظم نے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے اپنی کابینہ کے ساتھ مل کر فیصلہ کیا کہ ’’پانی‘‘کوخارجہ پالیسی کے ہتھیارکے طورپراستعمال کیاجائے گا۔اس قبیح حرکت پر پاکستان نے بھارت کویاددہانی کروائی کہ ’’ویاناکنونشن‘‘سمیت تمام عالمی قوانین بھارت کے اس اقدام کی حمایت نہیں کرتے کہ وہ نچلے علاقوں کی جانب پانی کا بہاؤ روک دے۔بھارت کی اسی مذموم کاوش پر امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان جان کربی نے کہا ہے کہ پاکستان اوربھارت کو چاہئے کہ 50برس سے قائم پرامن شراکت داری کے معاہدے پرسختی سے کاربندرہتے ہوئے باہمی تنازعات مذاکرات کے ذریعے حل کریں۔


سمجھوتہ ایکسپریس سے لے کرپٹھان کوٹ تک ‘ کلبھوشن سے لے کراڑی حملے تک، بھارت کی نیکوکاری کے جتنے بھی ثبوت ہیں، ببانگ دہل اقوام عالم کودکھاناہوں گے ۔ایسابھی دیکھنے میں آیاہے کہ کشمیرسمیت پانی کے مسئلہ پرپاکستان سے انصاف نہیں برتاگیاتاہم پاکستانی سفارت کاری کوبھی بھارتی آبی جارحیت کے خلاف اُٹھناہوگا۔ماہرین کے مطابق مستقبل میں دنیامیں ہونے والی جنگوں کی بنیادپانی ہوگا اوراس جنگ میں پاک بھارت نہیں بلکہ عالمی امن کو بھی خطرہ ہو گا۔ لہٰذا اقوام عالم کے ذمہ دارممالک کا فرض ہے کہ بھارت کوخطے میں بدکرداری سے روک کر اس خطے کی بدقسمتی کی لکیر کومزیدگہراہونے سے بچائے۔ اس حقیقت میں کوئی دو رائے نہیں کہ بھارت کی جانب سے پاکستان کاپانی بندکرناایک ’’حملہ ‘‘ ہی ہے جو پاکستان کوزراعت‘صنعت‘انرجی سمیت متعدد شعبوں میں کمزورترکرنے کی سازش کاحصہ ہے۔آبی ماہرین کے مطابق اگر بھارت اسی تواترسے ڈیم بناتارہاجن کا مقصد توانائی حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ کروڑوں انسانوں کامعاشی قتل بھی ہے تو آنے والے پانچ برس میں ممکن ہے کہ پاکستان کوپانی کی دستیابی آٹھ سوکیوبک میٹرتک گر جائے۔ یہ ہیں بھارت کے وہ مکروہ اورگھٹیاعزائم جن کے ساتھ وہ پاکستان کے خلاف زہربھی اگلتاہے۔شایداستعمارکی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے اس کے پاس ایک بہت بڑی مارکیٹ ہے جس کی وجہ سے کھلی آنکھیں بھی کشمیرسے بے اعتنائی برت رہی ہیں۔ حیرت ہے کہ مسلمانوں کاقاتل دبئی میں کھڑے ہوکرپاکستان کوللکارتاہے اورپھر متحدہ عرب عمارات سے 75ارب ڈالرکی سرمایہ کاری بھی لے اُڑتاہے ۔یہ ہے وہ عالمی منظرنامہ جس میں پاکستان کو اپنی جنگ سفارت کاری کے میدان میں لڑنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ بھارت کی آبی جارحیت کے ساتھ ساتھ اس کے مکروہ پراپیگنڈے کابھی پوری قوت کے ساتھ جواب دیاجاسکے۔


مضمون نگار لاہور سے شائع ہونے والے ایک قومی اخبار کے ساتھ وابستہ ہیں۔

[email protected]

یہ تحریر 94مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP