سانحہ مشرقی پاکستان

بنگلہ دیش بنانے میں بھارت کا گھنائونا کردار

پاکستان جغرافیائی اعتبار سے بھارت جیسے بدطینت اور بے اصول دشمن سے گِھرا ملک ہے۔ اس کا مشرقی حصہ آبادی کے لحاظ سے بڑا مگر زمین کم تھی۔ 1947 میں جب ہندوستان تقسیم ہوا دنیا کے نقشے پر پاکستان اور بھارت نمودار ہوئے تو مشرقی بنگال کا صوبہ جو لارڈ کرزن کی تقسیم بنگال کی صورت میں معرضِ وجود میں آیا اور سلہٹ کا ضلع جو پہلے آسام کا حصہ تھا، مشرقی پاکستان بن گیا۔ انگریزی مؤرخ چارلس پیٹرا ڈونیل اپنی کتاب''بنگلہ دیش بائیو گرافی آف اے مسلم نیشن''میں لکھتے ہیں کہ مشرقی پاکستان کا تمام علاقہ تقریباً ہر طرف سے بھارتی علاقے میں گھرا ہوا ہے، مغربی بنگال اور بہار اس کی مغربی سرحدوں پر واقع ہیں، آسام اس کے شمال اور مشرق پر ہے جبکہ اس کے جنوب میں خلیج بنگال اس کے ساحل سے ٹکراتا ہوا گزرتا ہے اور سلہٹ کا پہاڑی سلسلہ مشترکہ سرحدیں ہیں۔1947 میں ہند کی تقسیم کے وقت مشرقی پاکستان کی آبادی قریب قریب چار کروڑ تھی اور یہ مغربی پاکستان سے تقریباً1600 کلومیٹر کی دوری پر تھا، پاکستان کا وہ مشرقی بازو دشمنوں میں گھرا ہونے کے باوجود مسلم اکثریت کے پیش نظر وہ حد بندی صرف نظریہ پاکستان پر کامل یقین اور قوتِ ایمانی کے تحت ہوئی تھی، مشرقی بنگال کے مسلمانوں نے قیامِ پاکستان کی تحریک میں ہراول دستے کا کردار ادا کیا تھا، مگر وہاں تک پہنچنے کے لئے صرف فضائی پروازیں تھیں جو بھارتی علاقے سے گزر کر جاتی تھیں۔ یا پھر تین ہزار میل لمبا بحری سفر تھا اور وہ بھی بھارتی ساحل سے متصل تھا، چاروں طرف بھارت یا سمندر یا پھر برما کے خوفناک پہاڑ، ایسی سرحدوں کے اندر مشرقی پاکستان دریائوں کا دہانا تھا اور جب دریائے گنگا اور برہم پترا میں سیلاب آتا تو سارا صوبہ سیلاب زدہ ہو جاتا اور پھر ایک منصوبے کے تحت بھارت اور بھی زیادہ پانی چھوڑ دیتا۔ مقصد مشرقی پاکستانیوں کی زندگی اجیرن کرنا تھا۔ 
مشرقی بنگال کے باشندوں میں حقوق کے حصول کی جنگ لڑنے اور آزادی کی تحریکوں میں بھرپور حصہ لینے کا جذبہ فراواں تھا، اس لئے انگریز بنگالیوں کو ناپسند کرتے تھے۔ یہی وجہ تھی بنگالی علمی ، معاشی اورسماجی اعتبار سے مغربی پاکستان کے لوگوں سے کمزور تھے پھر قیامِ پاکستان کے موقع پر بھارت سے ہجرت کرکے مغربی پاکستان آنے والے تعلیمی اعتبار سے مضبوط تھے۔ سرکاری نوکریوں میں پڑھے لکھے لوگوں کی وجہ سے مغربی پاکستان میں نوکریاں بھی زیادہ دی گئیں۔ بھارت نے اس بات کو بھی بنگالیوں میں پروپیگنڈے کے طور عام کیا کہ مغربی پاکستان ، مشرقی پاکستان کی حق تلفی کررہا ہے۔ تین بنگالی وزراء اعظموں کو اقتدار کی مدت پوری نہ کرنے دی گئی تو بھارت نے اسے بھی پنجابی بنگالی نفرت کا رنگ دے کر خوب اچھالا۔اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ مغربی پاکستان اور مشرقی پاکستان کے علاقائی خدوخال میں بہت بُعد ہے یوں مختلف المزاج کے یہ دونوں حصے اپنے اپنے مزاج اور تشخص کی بھینٹ چڑھ گئے، دشمنوں نے خوب بھڑکایا۔ ملک دشمن عناصر اور بھارتی جاسوسوں نے عوامی سطح پر جا کر پروپیگنڈہ کیا، عوام الناس میں یہ تاثر پھیلانا شروع کیا کہ مغربی پاکستان اُن کو لوٹ کر کھا رہا ہے، یوں ایک تنائو  روز بروز بڑھتا چلا گیا۔ بھائی بھائی آپس میں اجنبیت محسوس کرنے لگ گئے، شکایات کے انبار لگنے لگ گئے حتیٰ کہ یہاں تک باتیں ہونے لگ گئیں کہ مغربی پاکستان بھی بنگالیوں سے وہی سلوک کرنے جارہا تھا جو قیامِ پاکستان سے پہلے ہندویا انگریز روا رکھے ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ تقسیمِ ہند کے وقت مشرقی بنگال میں8 سے نوفیصد ہندو آباد تھے۔ مغربی پاکستان کے ہندو تو ہجرت کرکے بھارت چلے گئے تھے مگر مشرقی بنگال کے ہندوئوں نے مشرقی پاکستان میں ہی رہنے پر اکتفا کیا ۔ یہ بھی کانگریس کی دور رس سازش کا حصہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ قیامِ پاکستان کے فوری بعد مشرقی پاکستان میںدو قومی نظریے کے خلاف مہم شروع کردی گئی تھی۔ کہا جانے لگ گیا تھا کہ دوقومی نظریہ نئے تناظر میں درست نہیں ہے۔ یہ باتیں بہت ہوشیاری سے کی جارہی تھی۔
ایماڈنکن نے Breaking The Curfew میں لکھا کہ قیامِ پاکستان سے قبل مغربی پاکستان میں اُردو بولنے والے بہت کم تھے، پنجابی، پشتو، سندھی، بلوچی، بروہی بولنے والوں کی اکثریت تھی مگر 14 اگست1947 کے بعد بہت بڑے اُردو دان طبقے نے بھارت سے پاکستان ہجرت کی تو بھارت کو لسانی بدمزگی پیدا کرنے کا موقع مل گیا، لوگوں نے اُردو کے نفاذ کی باتیں شروع کردیں جب کہ مشرقی پاکستان میں بنگالی زبان کے پیش نظر مطالبے شروع کرا دیئے گئے حتیٰ کہ ڈھاکہ یونیورسٹی میں ہنگامہ ہوا، فائرنگ بھی ہوئی۔ مشرقی پاکستان کے ممتاز بنگالی سیاست دان جناب محمود علی کا ایک چشم کشا مضمون 8 دسمبر1983 کے روز نامہ مشرق کے خصوصی شمارے میں شائع ہوا تھا جس میں انہوں نے اگرتلہ سازش کے بارے میں حیرت انگیز انکشاف کرتے ہوئے لکھا تھا کہ 1962 میں جب پاکستان میںمارشل لاء تھا اور سیاسی سرگرمیوں پر پابندی تھی تو میرے پلٹن میدان ڈھاکہ والے گھر میں ایک اعلیٰ عہدیدار جسے میںخوب جانتا تھا وہ بھارتی وزیرِاعظم جواہر لعل نہرو کا پیغام لے کر آیا تھا اور کہا تھا کہ پاکستان میں لگائی جانے والی سیاسی پابندیوں کے سلسلے میں اگر یہاں کوئی سیاسی شخصیت آگے آئے تو بھارتی حکومت ہر طرح کی سرپرستی اور مدد کے لئے تیار ہے۔ جواہر لعل نہرو سے ملاقات کے سارے انتظامات مکمل ہیں۔ اگر تلہ لے جانے اور بحفاظت واپس لانے کی ذمہ داری ہماری ہے ، وہ دو تین دن تک مجھے سبز باغ دکھاتا رہا ۔ راز دارانہ انداز میں اس نے بتایا کہ مولوی تمیزالدین خان اور شیخ مجیب الرحمن سے بھی رابطہ ہے، اس شخص کا جب اصرار بڑھا تو میںنے کہا کہ نہرو کو آخر تکلیف کیا ہے؟  وہ ہماری مدد کے لئے اتنا بے چین کیوں ہے؟ ہم نے جن اصولوں کی خاطر بھارت میں نہ رہنے کا فیصلہ کرکے علیٰحدہ مملکت حاصل کی تھی اُس کی مخالفت میں تو پنڈت جواہر لعل نہرو اور اس کے رفقاء ایڑی چوٹی کا زور لگاتے رہے ہیں، جس کے جواب میں درمیان کے آدمی نے کہا کہ پنڈت نہرو کو بنگال سے گہری محبت ہے، اس لئے وہ بنگال کو مغربی پاکستان کے چنگل سے نکالناچاہتا ہے۔  اس سلسلے میںدرمیانے کردار  کے بندے نے جناب محمود علی کو پیشکش کی تھی کہ اگر آپ ہمارے مطابق کام کریں تو کامیابی کی صورت میں نہرو کا کہنا ہے کہ آپ کو مشرقی بنگال کا صدر بنادیا جائے گا۔ جس کے جواب میں جناب محمود علی نے کہا تھا کہ ہم نے قائداعظم کی قیادت میں جس پاکستان کے حصول کے لئے جدوجہد کی تھی، اس پاکستان کے خادم بن کر رہنے میں بھی ہم فخر محسوس کرتے ہیں۔ ہمیں کسی قسم کا فضول عہدہ نہیں چاہئے۔ جناب محمود علی کا خیال تھا کہ یقینامولوی تمیزالدین نے بھی ان جیسا ہی جواب دیا ہوگا مگر کچھ دنوں بعد اطلاعات ملی تھیں کہ شیخ مجیب الرحمن اگرتلہ میں انڈین قیادت سے ملا تھا ۔ شیخ مجیب الرحمن اور ان کے حواریوںکے بعد میں اندرا گاندھی کے ساتھ تو سازشی تعلقات اور بھی مضبوط ہوگئے تھے، یہی وجہ تھی کہ اندرا گاندھی جون1971 میں مشرقی پاکستان پر حملہ کرنا چاہتی تھی مگر موسمی حالات کے پیش نظر بات 3 دسمبر1971 تک ٹل گئی تھی۔بہر طور یہ بات طے ہے کہ مشرقی پاکستان میں خود مختاری کی تحریک یا بغاوت کا بلوا آگے چل کر بنگالیوں نے اپنی جنگِ آزادی میں بدل لیا، بھارت نے بنگالی فوج کے ایک میجر کو آزادی کا جھانسہ دے کر بنگالیوں کو آزادی کے حصول کے لئے متحد ہونے کا پیغام دیا۔ ایمبیسڈر لیفٹیننٹ کرنل شریف الحق دالِم نے اپنی کتاب ''پاکستان سے بنگلہ دیش'' میں اَن کہی کہانی میں لکھا کہ مسلح افواج ، پولیس، ای پی آر'انصار اور مجاہد کور' کے بنگالی ارکان ، طلبائ، کسانوں، پیشہ ور افراد، نوجوانوں اور بیورو کریٹس، سب نے مغربی پاکستان کے خلاف متحد ہ طور سے بغاوت کا حتمی اعلان کیا۔ جب کہ منیر احمدنے بھٹو خاندان کا قتل نامی کتاب میں1970 کے انتخابات کے حوالے سے لکھا ہے کہ جب 7 دسمبر1970 کو انتخابات ہوئے تو مشرقی پاکستان میں شیخ مجیب الرحمن اور مغربی پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو نے اکثریت حاصل کی۔ جنرل  یحیٰ خان کی خواہش تھی کہ وہ متفقہ صدررہیں۔ اس سلسلے میں جنرل یحیٰ خان نے بھٹو کو شیخ مجیب الرحمن سے مذاکرات کا آپشن دیا۔ ذوالفقار علی بھٹونے اپنے خصوصی نمائندے غلام مصطفیٰ کھر کے ذریعے شیخ مجیب سے رابطہ قائم کیا۔ کھر،مجیب مذاکرات  2جنوری1971 کو ڈھاکہ میں ہوئے جس میں طے پایا کہ انتقالِ اقتدار کا مرحلہ بھٹو مجیب مذاکرات کے بعد طے پائے گا۔ اس سلسلے میںذوالفقار علی بھٹو اور شیخ مجیب الرحمن کے درمیان 27 سے 29 جنوری1971کے درمیان مذاکرات ہوئے جو نتیجہ خیز ثابت نہ ہوئے۔ وجہ یہ تھی کہ شیخ مجیب الرحمن وزیراعظم بننے کا خواہش مند تھا۔ایک اور راستہ بھی تھا۔ دونوں میں سے ایک وزیرِاعظم اور دوسرا صدر ہوسکتا تھا مگر پھر اس صورت میں یحیٰ خان کہاں جاتے، وہ بھی تو صدر ہی رہنا چاہتے تھے۔
'وردی کا سفر' نامی سوانح میں کرنل سید افتخار حسین شاہ جو سقوطِ ڈھاکہ کے چشم دید گواہ ہیں، آج بھی وہ راولپنڈی کینٹ میں مقیم ہیں، وہ لکھتے ہیں کہ 2جنوری 1971 کو کھر مجیب مذاکرات کے اگلے روز3 جنوری1971 کو ڈھاکہ میں عوامی لیگ کے منتخب ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے شیخ مجیب کے 6 نکاتی پروگرام کے تحت حلفِ وفاداری اٹھایا تھا۔ عوامی لیگ کے جنرل سیکرٹری تاج الدین نے اعلان کیا تھا کہ عوامی لیگ خود آئین بنا سکتی ہے اور انہیںکسی اور کے اشتراک اور تعاون کی ضرورت نہیں ہے، ادھر مغربی پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو نے اعلان کردیا کہ'' پیپلز پارٹی کے بغیر نہ حکومت بننے دیں گے نہ ہی آئین۔''
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے جب 3 جنوری کو عوامی لیگ کے نو منتخب عہدیداروں نے شیخ مجیب کے چھ نکات کے تحت حلف اٹھالیا تھا تو پھر27 سے29 جنوری1971 کو بھٹو مجیب مذاکرات چہ معنی دادر؟ اگر الیکشن 1970 کے انتخابی نتائج کا جائزہ لیں تو مشرقی پاکستان میں162میں سے 160 سیٹیں عوامی لیگ نے حاصل کرلی تھیں مغربی پاکستان میں عوامی لیگ کو ایک سیٹ بھی نہ ملی اور مغربی پاکستان میں پیپلز پارٹی کی صورت حال بہتر تھی جو کہ138 میںسے81 سیٹیں جیت چکی تھی۔ بھٹو نے مشرقی پاکستان میں اپنا کوئی اُمیدوار کھڑا نہ کیا تھا۔ شیخ مجیب الرحمن  کے چھ نکات جس پر میجر جنرل راحت لطیف جو سقوطِ ڈھاکہ سے لے کر بھٹو کے عدمِ سدھار نے تک دونوں مقام پر موجود تھے، نے اپنی سوانح ''راحت بیتی''  میں تفصیل سے لکھتے ہوئے کہا ہے کہ شیخ مجیب کے چھ نکات میں ایک نکتہ یہ بھی تھاکہ مرکز کا ٹیکس میں کوئی حصہ نہیں ہوگا۔ مشرقی اور مغربی پاکستان کی علیحدہ علیحدہ کرنسی ہونی چاہئے جو بآسانی تبدیل ہوسکے۔ مزید یہ کہ مشرقی پاکستان کے لئے ایک خصوصی پیرا ملٹری فوج کا قیام یعنی جیسے بعد میں مغربی پاکستان میں ایف ایس ایف وجود میں آئی تھی، مجیب کے چھ نکات میں ایک نکتہ یہ بھی تھاکہ فیڈرل گورنمنٹ کے پاس صرف فوج اور امورِ خارجہ ہونے چاہئیں ۔ ان سب کے باوجودشاید کچھ باتوں پر اتفاق ممکن تھا۔صورت حال کو قابو کرنے کے لئے مغربی پاکستان کی طرف سے حتی المقدور دستِ تعاون دراز ہو رہا تھا۔17 جنوری1971ء کو سرحد اور پنجاب کی صوبائی اسمبلیوں کے انتخاب میں بھی صورت حال وہی رہی جو قومی اسمبلی میں تھی۔ اسی روز جنرل یحیٰ خان نے لاڑکانہ میں بھٹو سے طویل ملاقات کی۔ گفتگو اور سیاسی حالات کے سنوارنے کے لئے مشرقی اور مغربی پاکستان کی سیاسی اور فوجی قیادت مسئلے کے حل کے لئے پیش رفت کررہی تھی کہ30 جنوری1971 کو بھارت کا گنگا نامی مسافر طیارہ  جو سری نگر سے جموں جارہا تھا، اشرف قریشی اور محمدہاشم اسے ہائی جیک کرکے لاہور لے آئے اور ذوالفقار علی بھٹو نے دونوں اغواء کنندہ سے مذاکرات کئے۔ انہیں پاکستان میں سیاسی پناہ دی، مسافروں کو اتار کے طیارہ بم سے اڑا دیاگیا۔ بھارت نے احتجاجاً پاکستان سے فضائی معاہدہ ختم کردیا، یہ سارا کچھ بھارت ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کررہا تھا۔ بھارت کی فضائی حدود کے استعمال پر پابندی سے مغربی پاکستان اور مشرقی پاکستان سے براہِ راست رابطہ ختم ہوگیا تھا۔ مغربی پاکستان سے ڈھاکہ جانے والی پروازیں کولمبو کے طویل راستے سے جانے کے لئے مجبور ہوگئیں۔ ادھر جسٹس نورالعارفین کی سربراہی میں گنگا طیارہ اغوا کی تحقیقات کے لئے ٹربیونل تشکیل دیاگیا جس نے 15 اپریل 1971 کی اپنی رپورٹ میں لکھا کہ ہائی جیکر محمدہاشم بھارت کی خفیہ ایجنسی 'را ' کا ملازم تھا۔
 بریگیڈیئر محمد جاوید نے اپنی یادداشتوں 'لفٹینی سے جرنیلی۔  پریذیڈنسی تک '   میں ان دنوں کی کسمپرسی کے عکاسی کرتے ہوئے لکھا ہے کہ '' مکتی باہنی جسے بھارت کی مکمل اشیرباد حاصل تھی، اب کھل کر سامنے آچکی تھی اور پورا ایسٹ پاکستان میدانِ کارزار بن چکا تھا، مکتی باہنی گوریلا وار فیئر کے طریقے بروئے کار لارہی تھی، بدقسمتی سے مقامی آبادی کی مدد اُن کے لئے بڑھتی گئی، مغربی پاکستان سے برّی ترسیل تو کسی صورت ممکن نہ تھی اور پھر جب بھارتی نیوی کی 'بلاکیڈ'  زیادہ مؤثر ہوگئی تو ہوائی ترسیل واحد ذریعہ تھا مگر گنگا ہائی جیکنگ کا ڈرامہ رچا کر بھارت نے پاکستانی جہازوں کو اپنے ملک پر سے پروازوں کو روک دیاتھا۔ جس کی وجہ سے ہوائی سفر بھی طویل تر ہوگیا تھا' ویسے بھی پاکستانی پروازوں کا بھارت کی فضائی حدود کو استعمال کرنا خطرے سے خالی نہ تھا۔ لہٰذا ہمیں کھٹمنڈو سے ہو کر ڈھاکہ جانا پڑتا تھا، مشرقی پاکستان کی ایمرجنسی کا اثر مغربی پاکستان میں بہت نمایاں تھا، انفرادی، اجتماعی اور عوامی بے چینی بڑھتی جارہی تھی۔ سیاسی پولرائزیشن عروج پر تھی۔ بدقسمتی سے تمام عوامل اس دھارے پر چل نکلے تھے جہاں سے واپسی کے راستے بند ہوتے رہے تھے۔ جب بھی کوئی ساتھی اُن دنوں مشرقی پاکستان سے واپس آتا تو ہم سب اُس کے گرد جمع ہو جاتے، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ حالات بد سے بدتر ہوتے چلے گئے۔ پاک فوج اپنے ہی ملک کے ایک حصے میں محصور ہو کر رہ گئی تھی، ہر جھاڑی کے پیچھے اور دیوار کی اوٹ سے گولیوں کی بوچھاڑ،  ہر انچ پر مکتی باہنی کی بچھائی ہوئی مائنز پھٹ رہی تھیں۔ پھر وہ وقت بھی آیا جب بھارتی فوج نے بنگالی مہاجرین کے بہانے مشرقی پاکستان پر پاکستان کی عمل داری ختم کرنے کے لئے بین الاقوامی سرحدیں عبور کرنا شروع کردیں اور پھر جے پور سے سلہٹ راج شاہی سے نارائیں گنج تک ہزاروں کلو میٹر میں پھیلے دریائوں، ڈیلٹائوں، گھنے جنگلات اوربھرپور آبادی والے شہروں، قصبوں، دیہاتوں اور گائوں میں جو کل تک اپنی سر زمین تھی،وہی زمین اب خود پر تنگ ہوتی چلی گئی۔''
لیفٹیننٹ جنرل خالد لطیف مغل نے تصدیق کی کہ مشرقی پاکستان میں بھارت کے ساتھ باقاعدہ جنگ شروع ہونے سے پہلے نومبر1971ء تک پاکستانی فوج کے 237 افسر،136 جے سی اوز اور3559 سپاہی اور این سی او شہید ہو چکے تھے،  ہر چند کہ ایسٹ بنگال رجمنٹ کی باغیانہ اور تخریبی سرگرمیوں کی وجہ سے ان سے ہتھیار جمع کرلئے گئے تھے مگر وہ بھارتی علاقوں کی طرف بآسانی نکل گئے اور بھارت سے بہت زیادہ اسلحہ حاصل کرکے پاکستانی فوج کے خلاف صف آرا ہوگئے۔ سفاکی کا یہ عالم تھا کہ 16 مارچ 1971 کو پاکسی برج کے پاس 57 بریگیڈ کے افسروں کو دریا کے کنارے 400 سے زائد عورتوں اور بچوں کی لاشیں ملیں، جن میں زیادہ تر عورتیں بے لباس تھیں۔ بعض کے نازک اعضاء کٹے ہوئے تھے، ریلوے سٹیشن پر بہاریوں کی لاشوں سے بھرا ایک ٹرالا کھڑا ملا جو سارے کے سارے مشرقی پاکستان میں ریلوے ملازم تھے۔ 15 مارچ کو جب جنرل یحیٰ خان ڈھاکہ گئے تو شیخ مجیب نے ملنے سے انکار کردیا۔  بہت اصرار کے بعدجب شیخ مجیب یحیٰ خان سے ملنے آیا تو اُس کی کار پر بنگلہ دیش کا جھنڈا لگا ہوا تھا۔ اس واقعے سے پانچ دن پہلے یعنی10 مارچ1971 کو ذوالفقار علی بھٹو نے شیخ مجیب کو ایک ٹیلی گرام کے ذریعے درخواست کی تھی کہ اگر وفاق کو بچانا ہے تو باہمی رضا مندی سے حالات کو سنبھالنا ہوگا! مگر شیخ مجیب ، ذوالفقار علی بھٹو کو بھی جنرل یحیٰ کا ساتھی اور ہم نوا سمجھتا تھا۔ حالانکہ اصل بات شیخ مجیب کی بھارت سے کمٹمنٹ تھی۔23 مارچ1971 کو مشرقی پاکستان میں بنگالیوں اور مکتی باہنیوں نے یومِ سیاہ منایا، مجیب کی بڑی بڑی تصاویر بنگلہ دیشی جھنڈے کے ساتھ اخبارات میں چھاپیں۔ اُسی روز ڈھاکہ، چٹاگانگ، جیسور، راج شاہی، کھلنا اور دیگر شہروں میں پاکستانی پرچم جلائے گئے۔ قائداعظم کی تصاویر پھاڑی گئیں، بنگالی جاگو، پنجابی بھاگو، بھٹو یحیٰ بھائی بھائی کے نعرے مشرقی پاکستان کے گلی کوچوں میں گونج رہے تھے۔ بنگالی قوم پرست اخبار ''پیپلز'' کا ایڈیٹر عبیدالرحمن نت نئے نعرے ایجاد کرنے اور اپنے اخبار میں شائع کرنے میں پیش پیش تھا۔ ڈھاکہ یونیورسٹی کے دو پروفیسروں نے ایک ایسا زہر تیار کرلیا تھا جو مغربی پاکستانی فوجیوں اور دیگر شعبہ ہائے زندگی میں خدمات انجام دینے والے مغربی پاکستانیوں کے رہائشی علاقوں کو سپلائی ہونے والے پانی میں ملا یا جانا تھا مگر وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہوسکے۔ مغربی پاکستانی فوجیوں کو گالیاں دینا معمول بن چکا تھا، سیکنڈ ایسٹ بنگال رجمنٹ  کے تمام مغربی  پاکستانی افسروں اور جوانوں کو شہید کردیا گیا تھا۔ پاکستان نیوی کے ایک سابقہ چیف ایڈمرل طارق کمال خان کے بھائی میجر کاظم کمال کے بارے میں سید ضمیر جعفری اور بریگیڈیر شمس الحق قاضی نے اپنی یادداشتوں میںلکھا کہ میجر کاظم کمال کا کوئی پتہ نہ چل سکا کہ وہ مشرقی پاکستان میں زندہ ہے یا شہید کردیا گیا تھا۔ کوئی اطلاع نہ مل سکی، مگر برسوں بعد کرنل سید افتخار حسین شاہ نے بتایا کہ میجر کاظم کمال کو مکتی باہنی نے آرا مشین پر لے جاکر جسم کے دو ٹکڑے کرکے آدھا دھڑ آرا مشین پر پڑا رہا اور آدھا اُن کے بستر میں لا کے رکھ دیا تھا۔ الغرض مشرقی پاکستان کے بارے میں جوں جوں عینی شاہدین کی سوانح حیات پڑھتے جائیں حالات آشکار اور طبیعت مکدر ہوتی جاتی ہے۔
 شیخ مجیب دراصل بھارت کا مہرہ تھا اگر3 مارچ کا اسمبلی سیشن منسوخ ہوا تھا تو27مارچ کون سا دُور تھا مگر ایک منصوبے کے تحت  شیخ مجیب مغربی پاکستان سے دور اور بھارت کے قریب  جاتا رہا بلکہ وہ روزِ اول ہی سے بھارت کا کاسہ لیس تھا،  بھارت کی طرح ہٹ دھرم اور سفاک تھا۔ ہر چند کہ مشرقی پاکستان میں ہونے والے مکتی باہنیوں کے مظالم اور بھارتی خباثت بہت حد تک سارے عالم کو پتہ چل چکی ہے، لوگ جانتے ہیں کہ بھارت کے سابقہ فوجیوں اور بھارتی قلم کاروں نے بھی لکھا کہ بھارتی فوجی پاکستانی فوجیوں کی وردیاں پہن کر بنگالی خواتین کی بے حرمتی کرتے تھے جس سے پاکستانی فوج کے بارے میں نفرت کی لہر بڑھتی رہی۔ مکتی باہنی کے افراد بھی بھارتیوں کے اشاروں پر پاکستانی فوجیوں کی وردیاں پہن کر بعض دیہات میں جا کر بنگالی عورتوں اور بچوں کو بے رحمی سے قتل کردیتے تھے تاکہ قریہ قریہ گائوں گائوںپاکستانی فوج بدنام ہو۔ یہی وجہ تھی کہ جب پاکستانی فوجی بھارت کے تعاقب میں جاتا تو مکتی باہنی فوجیوں کے گھروں پر حملے کرتے تھے اور جب وہ اپنے گھروں کو لوٹتے تو بھارتی فوجی تعاقب میں چلے آتے تھے، اکثر یہ پروپیگنڈا بھی ہوتا آیا ہے کہ 90 ہزار قیدی تھے جن میں بچے بوڑھے، خواتین ، پولیس والے، بیوروکریٹ اور دیگر سول مین عملہ بھی شامل تھا ان 90 ہزار قیدیوں میں قریب قریب 44 ہزار فوجی تھے جن میں ڈاکٹر ، نرسیں، ڈرائیور، کک، ملٹری پولیس اور سگنل کا عملہ تھا۔ لڑاکا فوج تو بمشکل 32 ہزار کے قریب تھی۔ جنہیں کسی قسم کی کمک میسر نہ تھی۔ جن کے بحری اور فضائی راستے مسدود تھے۔ مقابلے میں ڈیڑھ لاکھ مکتی باہنی ٹرسٹ بنگالی باغی فورس تھی۔ ساڑھے پانچ لاکھ بھارتی فوجی بھی تھے۔ دو بھارتی گوریلا بریگیڈ اگرتلہ میں سٹینڈبائی تھے۔ بنگالی ڈاکٹرز، پروفیسرز، سکول ٹیچرز، وکلاء قریب قریب سب نے مکتی باہنی ٹریننگ لی ہوئی تھی۔ بات کرنے کا مقصد یہ ہے کہ مغربی پاکستان کی مشرقی پاکستان میں متعین انتہائی کم فوج کہاں تک مشرقی پاکستان یا بھارت کی مفافقانہ فوج سے لڑتی، بہر طور اس ساری جنگ کی تفصیلی روداد میری کتاب ۔ قائداعظم اور افواج پاکستان میں موجود ہے۔16 دسمبر1971 جس روز سقوطِ ڈھاکہ ہوا اس روز سارے بھارت میں سرکاری طور سے چراغاں کیاگیا تھا۔ اندرا گاندھی نے واشگاف الفاظ میں کہا تھا کہ آج ہم نے اس خطے میں مسلمانوں کے اقتدار کے ہزار سال کا بدلہ لے لیا ہے۔ اندرا نے مزید ترنگ میں یہ بھی کہا تھا کہ کہاں گیااقبال کا تصور، قائداعظم کی جدوجہد۔ آج ہم نے دو قومی نظریہ خلیج فارس میں غرق کردیا ہے حالانکہ دو قومی نظریہ باطل ہوتا تو آج بنگلہ دیش بھارت کا حصہ ہوتا مگر وہ دنیا کے نقشے پر آج بھی آزاد مسلمان ملک کے طور پر موجود ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ علامہ اقبال کا خواب سچا تھا۔ قائداعظم کی محنت رائیگاں نہیں گئی۔ البتہ پاکستان کو دو لخت کرنے میں گھنائونا کردار ادا کرنے والے ایک ایک کرکے جنہم واصل ہوچکے ہیں۔ ||


مضمون نگارایک معروف صحافی اور مصنف ہیں۔ ایک قومی اخبار کے لئے کالم بھی لکھتے ہیں۔
[email protected]
 

یہ تحریر 56مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP