قومی و بین الاقوامی ایشوز

بمقابلہ۔۔۔ بمقابلہ۔۔۔

جنگی جنون میں مبتلا بھارت، جس کا دفاعی بجٹ 52 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے بلکہ خطے میں ہتھیاروں کا سب سے بڑا خریدار بھی ہے ایک طرف تو 2008 سے 2015 تک اس نے ہتھیار خریدنے کے لئے 34ارب ڈالر کے معاہدے کئے جبکہ دوسری طرف اپنے فوجیوں کی فلاح و بہبود پر بہت کم خرچ کررہا ہے۔ بدانتظامی اور بے ایمانی اس قدر عروج پر ہے کہ بھارت کے فوجی بھوک، افلاس، تنگ دستی اور نامساعد حالات کی وجہ سے خودکشی پر مجبور ہوگئے ہیں ۔


بھارتی فوج اپنی حکومت اور اعلیٰ حکام کے ناروا رویے کے باعث بددلی کا شکار ہوتی جارہی ہے۔ مشکل حالات اور کم سہولیات میں ڈیوٹی بھارتی فوجیوں کے حوصلے پست کررہی ہے اور وہ خود کشیاں کرنے پر مجبور ہیں ۔جس وقت میں یہ سطور رقم کررہی تھی اس وقت بھی مقبوضہ کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے قریب 10 بھارتی فوج برفانی تودے تلے دب کر جاں بحق ہوگئے تھے۔کشمیر بھارتی فوجیوں کا قبرستان ثابت ہورہاہے ۔برہان وانی کی شہادت کے بعد سے بھارتی فوجی آزادی کے متوالوں کی وجہ سے مزید خوف کا شکار ہیں ۔


دہلی سرکار کے جنگی جنون اور پاکستان سے دشمنی پر سیاست چمکانے میں قربانی کا بکرا صرف بھارتی فوجی بنتے ہیں ۔جنہیں ناکافی تربیت اور کم ساز و سامان کے ساتھ بارڈر اور مختلف آپریشنز میں بھیج دیا جاتا ہے اور جہاں انہیں منہ کی کھانی پڑتی ہے۔ اکثر اوقات دہلی سرکار خود بھی ڈرامے کرکے اپنی ہی فوج پر حملے کرواتی ہے خود اپنے فوجی مار کر الزام پاکستان پر دھر دیتی ہے ۔یہ طریقہ واردات بھی بھارتی فوجیوں کو بزدل بنا رہا ہے۔

کم سہولتوں اور ناقص اسلحہ و ناکافی ساز و سامان کے باعث بھارتی فوجی نفسیاتی مسائل کا شکار ہورہے ہیں ۔خالی پیٹ جب وہ محاذوں پر ڈیوٹی سے اکتا جاتے ہیں تو چھٹی کی درخواست کرتے ہیں لیکن چھٹی نہیں ملتی ۔یہ وجہ بھارتی فوجیوں کو مزید چڑچڑا بنارہی ہے۔12 جنوری 2017 کو مشرقی بہار میں ایک سینئر اہلکار نے چھٹی نہ ملنے پر اپنے چار سینئر افسران پر گولیوں کی بوچھاڑ کردی۔ چاروں افسران اس واقعے میں جانبر نہیں ہوسکے۔یہ تمام سکیورٹی اہلکار سینٹرل انڈسٹریل سکیورٹی فورس سے تعلق رکھتے تھے ۔اس بھارتی فورس کا کام اٹیمی تنصیبات اور ائیر پورٹ کی سکیورٹی ہے۔اب آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ بھارتی اٹیمی تنصیبات کی سکیورٹی کیسے ہاتھوں میں ہے ۔یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں ہے۔ فروری 2014 میں بھی ایک بھارتی فوجی نے سری نگر میں قائم ملٹری کیمپ میں اپنے 5 ساتھیوں کو موت کے گھاٹ اتار کر خود کشی کر لی تھی ۔وجہ یہی تھی کہ سینئر نے چھٹی دینے سے انکار کیا ۔فوجی لمبی ڈیوٹی، کم خوارک، سخت سردی اورنا مناسب رہائش کی وجہ سے اندرونی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگیا تھا اور جب اس نے دیکھا کہ چھٹی تو نہیں مل رہی تو اس نے موت کو گلے لگایا لیکن اس سے پہلے اپنے پانچ ساتھیوں کو بدلے کی آگ کی نذر کر دیا ۔


لائن آف کنٹرول پر حالیہ کشیدگی کے دوران بھی بھارت کو بھاری جانی نقصان ہوا ۔لیکن عیار و مکار دہلی سرکار اپنے فوجیوں کی لاشیں چھپا لیتی ہے اور ان کے لواحقین کو مجبور کرتی ہے کہ چپ چاپ ان کا انتم سنسکار کردو کسی کو کانوں کان خبر نہ ہو ۔یہ رویہ بھی بھارتی فوجیوں میں بددلی پھیلا رہا ہے ۔کیونکہ جب وہ دیکھتے ہیں کہ بھارت کے لئے جان دینے والوں کو رات کی تاریکی میں آگ دی جاتی ہے اور ان کے گھر والے مہینوں مرنے والوں کی پینشن کے لئے دھکے کھاتے ہیں تو بھارتی فوجیوں کی لڑنے کی ہمت مزید شکستہ ہو جاتی ہے۔2 نومبر 2016 کو سابق بھارتی فوجی رام کشن گریوال نے پینشن کے معاملات حل نہ ہونے پر خودکشی کرلی تھی ۔


مقبوضہ کشمیر میں2014سے 2016تک 125 بھارتی فوجی ہلاک ہوئے جن میں سے18 اوڑی حملے میں مارے گئے تھے۔بھارت کے اپنے ہمسایوں پر حملے اور ریاستوں پر قابض رہنے کے لئے جنونیت نے اس کے اپنے فوجیوں کی کمر توڑ دی ہے۔جنگ میں مرنے والوں سے زیادہ تعداد خودکشی کرنے والے بھارتی فوجیوں کی ہے ۔2009 سے 2014تک 597بھارتی فوجیوں نے خودکشی کی۔2015میں 69فوجیوں نے خود کو موت کی نیند سلا لیا۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں کی بڑی تعداد پاگل پن کا شکار ہو رہی ہے۔ اسی وجہ سے وہ اپنے ساتھیوں پر حملہ آور ہوجاتے ہیں ۔مقبوضہ کشمیر میں ڈیوٹی دینے والے تقریبا 375 کے قریب بھارتی فوجی پاگل پن کا شکار ہو چکے ہیں اوران کا علاج نفسیاتی طبی مراکز میں جاری ہے۔


بھارتی فوج اور سرکار کی رہی سہی عزت کا جنازہ اس ویڈیو نے نکال دیا جس میں ایک بھارتی فوجی جوان تیج بہادر نے عام سپاہیوں کو ملنے والی سہولیات کا پول کھول دیا۔کہیں شنوائی نہیں ہوئی تو سپاہی نے ویڈیو فیس بک پر ڈال دی اور ویڈیو وائرل ہوگئی ۔ویڈیو میں سپاہی جلی ہوئی روٹیاں اور پانی والی دال دکھا رہا ہے۔اس ویڈیو میں تیج نے کہا میں بی ایس ایف کی 29 بٹالین کا جوان ہوں یاد رہے یہ وہ بٹالین ہے جوکہ جموں و کشمیر میں فرائض انجام دیتی ہے۔


وہ کہتا ہے ہم برف، ٹھنڈ، طوفان میں روز گیارہ گھنٹے کی ڈیوٹی دیتے ہیں ۔تیج کہتاہے کہ نہ میڈیا ہماری صورتحال دکھاتا ہے نہ کوئی منسٹر ان کی بات سنتا ہے۔وہ کہتا ہے ہمارے حالات بہت خراب ہیں، ہمارے ساتھ بہت نا انصافی ہورہی ہے۔ہمیں اکثر بھوکے پیٹ سونا پڑتا ہے۔اکثر صبح ڈیوٹی بھی خالی پیٹ دینا پڑتی ہے۔ہمیں ناشتے میں ایک جلا ہوا پراٹھا ملتا ہے وہ بھی صرف چائے کے ساتھ۔ دوپہر میں صرف ہلدی، نمک والی دال ملتی ہے اور روٹیاں بھی جلی ہوئی ہوتی ہیں ۔


اس نے اپنے سینئرز کے بارے میں کہا کہ وہ چیزیں بیچ دیتے ہیں اسی وجہ سے اشیاء ان تک نہیں پہنچتی ۔اس نے سوال کیا ایسی خوارک کھا کر کیا دس گیارہ گھنٹے ڈیوٹی کی جاسکتی ہے؟تیج نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا شاید اس ویڈیو کے بنانے کے بعد وہ غائب کردیا جائے کیونکہ اعلیٰ افسران کے ہاتھ بہت لمبے ہیں۔ باقی تین ویڈیوز میں اس نے پانی میں بنی دال دکھائی، جلی ہوئی روٹیاں دکھائیں۔ دہلی سرکار کی یہ ویڈیو دیکھ کر نیندیں اڑ گئیں۔کہاں 51 ارب ڈالر کا بجٹ اور کہاں بھوک سے بلبلاتے فوجی۔بی ایس ایف حکام یہ ویڈیو دیکھ کرسیخ پا ہوگئے اورالٹااس جوان کے خلاف انکوائری کاحکم دے دیا۔اس کے کیرئیر پر سوال اٹھا دیئے کہ اسکا کردار شروع سے ٹھیک نہیں، وہ نفسیاتی مسائل کا شکار ہے اور اسے شراب کی بھی لت ہے‘ اس کی بہت عرصہ کونسلنگ بھی کی گئی ہے ۔

پاکستانی سپاہی دنیا کا بہترین سپاہی ہے۔

میجر جنرل آصف غفور

افواجِ پاکستان میں ملازمت محض نوکری نہیں ہے بلکہ یہ ایک جذبہ ہے۔ یہ ایک طرز زندگی ہے۔ ہمارا ساتھ اوپر کی سطح سے لے کر بٹالین اور کمپنی کی سطح تک جاتا ہے۔ سال میں کوئی افسر اور جوان کتنی چھٹی جاتا ہے؟ ہم سال میں گیارہ ماہ تو اکٹھے رہتے ہیں۔ سو ہم سب آپس میں جڑی ہوئی ایک مربوط فیملی کی طرح سے ہیں۔ ہماری کمانڈ اور سپاہی کا رشتہ فوجی زندگی کے ساتھ ساتھ ان کے گھر والوں سے بھی ہے۔ ہم اپنے سولجرز کے بچوں کی شادیوں اور خوشی غمی میں ان کے ساتھ رہتے ہیں۔ ان کے بچوں کی تعلیم و تربیت کے لئے اکٹھا کام کرتے ہیں۔ پاک فوج میں افسر اور سپاہی کا رشتہ سگے رشتوں سے بھی بڑھ کر ہے۔ ہم ایک بہت ہی مضبوط اور منظم فوج ہیں اور جب ایک فوج مربوط ہوتی ہے تب ہی وہ کامیاب اور لمبی جنگ لڑ سکتی ہے۔جہاں تک سولجر کی ویلفیئر کا تعلق ہے تو افسر کی یہ ذمہ داریوں میں شامل ہے کہ وہ اپنے سپاہی کا خیال رکھے۔ اگر سپاہی کو اپنے افسر سے محبت نہیں ہے تو اس کے اندر اپنے ملک کے لئے جان دینے کا جذبہ پیدا ہی نہیں ہو سکتا اور باہمی محبت ہمارے جذبے، عزم اور حوصلے کا بنیادی حصہ ہے۔ ہمارا سپاہی دنیا کا بہترین سپاہی ہے۔


تیج نے میڈیا پر آکر کہا اگر بھارتی فوجی جوانوں کا خیال رکھا جاتا تو وہ ایسی ویڈیو کیوں پوسٹ کرتا۔اس نے کہا یہ مجھ پر الزام ہے کہ میرا کردار ٹھیک نہیں۔ یہ سب الزام تراشی میرے خلاف سچ کو سامنے لانے پر کی جارہی ہے۔تیج بہادر یادیو کی بیوی شرمیلا یادیو نے بھی کہا روٹی مانگنا کوئی جرم تو نہیں ۔جو سچائی ہے وہی ان کے شوہر سامنے لائے ۔شرمیلا نے مزید بتایا تیج کو سچ بولنے کی سزا ملی ہے۔ اس کو پلمبر بنا کر دوسری یونٹ میں بھیج دیا گیا ہے اور اس کا موبائل بھی چھین لیا گیا۔ باڈر پر بیٹھے فوجی اب بھی بھوکے بیٹھے ہیں ۔
بی ایس ایف کے جوان کے بعد سی آر پی ایف کے جوان جیت سنگھ نے بھی اپنی ویڈیو بنا کراَپ لوڈ کردی اور اپنی تنخواہ اور مراعات میں اضافے اور چھٹی کا مطالبہ کرڈالا۔سلسلہ یہاں نہیں رکا بھارتی فوجی لانس نائیک یگیا پرتاب سنگھ نے بھی ویڈیو اپ لوڈ کردی جس میں اس نے کہا میں ایک سپاہی ہوں لیکن ہم سے افسروں کے گھر کے کام کروائے جاتے ہیں، ہم ان کے جوتے صاف کرتے ہیں ، ان کے کتوں کو سنبھالتے ہیں‘ ان کے گھروں میں ملازموں کی طرح کام کرتے ہیں۔


اس طرح کے ایک اور واقعے میں 29 ستمبر 2016 کو مقبوضہ کشمیر میں تعینات بھارتی فوجی چندو لال اپنے کمانڈر کے رویے سے نالاں ہوکر سرحد پار کرکے پاکستانی فوج کے پاس پہنچ گیا۔وہ اتنا بددل تھا کہ اپنے ملک واپس جانے کو تیار نہیں تھا۔تاہم پاکستان نے جذبہ خیر سگالی کے تحت چندو کو بہت سے تحائف کے ساتھ واہگہ کے راستے واپس بھارت بھیج دیا ۔16 دسمبر2016 کو خاتون فوجی انیتا کماری نے مقبوضہ کشمیر میں خود کو گولی مار کر ہلاک کر ڈالا تھا۔اس طرح کے سیکڑوں واقعات ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارتی فوجی بھارتی سرکار کے جنگی جنون اور رویے سے اکتا گئے ہیں ۔


بھارتی سرکار اپنے جنگی جنون کی آگ میں اپنے فوجیوں کو جھونک رہی ہے۔فوجی چھٹی اور سہولیات نہ ملنے کے باعث مایوس ہوگئے ہیں نہ ان کی زندہ ہوتے ہوئے عزت ہے نہ ہی مر کر عزت و تکریم۔بھارتی فوج قطعی طور پر بھی جنگ کے لئے تیار نہیں ہے۔بھارتی سرکار کے جنگی جنون نے بھارتی فوجیوں کو چڑچڑا اور نفسیاتی مریض بناکررکھ دیاہے۔ بھارت کی تینوں فورسز میں کوآرڈینیشن بہت کم ہے اسلحے کی دیکھ بھال بھی مناسب طریقے سے نہیں ہو رہی۔ بھارتی فوج میں بدعنوانی عروج پر ہے۔ وزارت دفاع اور فوج میں خلیج حائل ہے جس کے باعث فوج کی کارکردگی متاثر ہورہی ہے۔ بھارتی فوجی خالی پیٹ اسلحہ اٹھا کر جنگ لڑنے سے قاصر ہیں ۔


اس کے برعکس پاکستان میں حالات بالکل مختلف ہیں ۔پاکستانی فوج انتظامی امور بہترین طریقے سے چلا رہی ہے اور پاک فوج کے سپاہیوں اور افسران کو بہترین سہولیات فراہم کی جاتی ہیں ۔گزشتہ تین برس میں پاکستانی فوج نے بدترین دشمن اور سخت موسم کا مقابلہ کرتے ہوئے شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان سمیت باقی علاقوں میں حکومتی رٹ قائم کی۔ اس دوران ان کے حوصلے بلند رہے اور کوئی بھی ایسا نا خوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا جس میں سپاہیوں کو انتظامی طور پر کسی مشکل سے واسطہ پڑا ہو۔ الحمدللہ پاکستانی فوج میں خود کشی کی شرح زیرو فیصد ہے۔ محاذوں پر موجود پاکستانی سپاہیوں اور افسران کی تمام تر ضروریات کا خیال رکھا جاتا ہے۔پاکستانی دفاعی بجٹ بھارت کے مقابلے میں بہت کم ہے جہاں بھارت 51 ارب ڈالر دفاع پر خرچ کرتا ہے تو وہیں پاکستان6سے 8 ارب ڈالر اپنے دفاع پر خرچ کررہا ہے جوکہ ملکی بجٹ کا صرف 16سے 18فیصد ہوتا۔پاکستان کی پانچ لاکھ پر مشتمل فوج کو ہر طرح کی ضروری سہولیات فراہم کی جارہی ہیں۔پاک فوج کے افسران ہمیشہ اپنے جوانوں کے انتظام و انصرام کو اولین ترجیح دیتے ہیں۔ انتہائی ناگزیر حالات کے علاوہ پاک فوج ہمیشہ اپنے فوجیوں کے کھانے، چھٹی اور آرام کا خاطرخواہ انتظام کرتی ہے اور اونچے مورال اور بہترین ڈسپلن کو پہلی ترجیح دیتی آئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مشکل حالات پڑنے پر پاکستانی فوجی اپنے پیٹ پر پتھر باندھ کر اور کئی کئی ماہ اپنے گھر والوں سے دُور رہنے کے باوجود اپنے حوصلے و عزم کو بلند رکھتا ہے۔ پاک فوج کے افسر اور سپاہی کا پکا یقین ہے کہ پاک فوج زندگی میں بھی اور مرنے کے بعد بھی اس کے خاندان اور گھر والوں کو بے یارومددگار نہیں چھوڑے گی۔ سیاچن گلیشیئر، کشمیر کے پہاڑ، تھر کے ریگستان، فاٹا اور بلوچستان کے سنگلاخ پہاڑ اور میدان ہوں، پاک فوج کے افسروں اور جوانوں نے ہمیشہ ثابت کیا ہے کہ ان کا مطمع نظر ذاتی یا دنیاوی منفعت نہیں ہے بلکہ پاکستان کا دفاع اور سلامتی باقی تمام فیکٹرز پر مقدم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان آرمی کے سپہ سالار جنرل قمرجاوید باجوہ نے پاکستان فوج کو دنیا کی بہترین فوج سے تعبیر کیا ہے۔


پاکستانی فوجی جس وقت محاذ پر ہوتے ہیں انہیں اس بات کی فکر نہیں ہوتی کہ ان کے بیوی بچے پیچھے کس حال میں ہوں گے ۔فوجیوں کے خاندانوں کے لئے بہترین تعلیمی، طبی اور رہائشی سہولیات موجود ہیں ۔افسران یا سپاہیوں کے درمیان کوئی تفریق نہیں کی جاتی ۔اگر دوران جنگ کوئی فوجی، چاہے وہ سپاہی ہو یا افسر، شہید ہو جائے تو آرمی چیف اور کور کمانڈر خود اس کے جنازے میں شرکت کرتے ہیں۔ شہید ہونے والے فوجی کو پورے فوجی اعزاز کے ساتھ دفنایا جاتا ہے۔ تدفین اور جنازے کے اخراجات بھی آرمی کے ذمہ ہوتے ہیں ۔ان کے لواحقین کی مکمل داد رسی کی جاتی ہے۔شہید کے خاندان کو پینشن ملتی ہے، انشورنس کی رقم، بچوں کے لئے الاؤنس،بارہ ماہ کی سیلری، پلاٹ، زرعی اراضی، بیوہ اور بچوں کے لئے مفت طبی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں ۔یہ چیزیں اس قربانی کا نعم البدل بالکل نہیں جوکہ ایک فوجی اپنی جان کو وطنِ عزیز پر قربان کرکے دیتا ہے تاہم یہ سہولیات اس کے خاندان کی گزر بسر میں آسانی پیدا کر دیتی ہیں۔اسی طرح اگر کوئی بھی فوجی زخمی ہوکر لوٹتا ہے تو اس کا علاج معالجہ آرمی کے ذمے ہے۔اگر وہ اپنی صحت یابی کے بعد فیلڈ میں نہیں جاسکتا تو اس کو آرمی کے دیگر محکموں میں پوسٹ کردیا جاتا ہے ۔اس کی تنخواہ اور مراعات میں اضافہ کردیا جاتا ہے۔


پاکستان کے عوام اپنی فوج سے بہت محبت اور عقیدت رکھتے ہیں۔پاکستانی فوجی اپنے ملک اور عوام سے پیار کرتے ہیں۔ اس کے دفاع کے لئے ہر ممکن قربانیاں دیتے ہیں ۔افسران اور سپاہیوں کے مابین اخوت کا رشتہ مثالی ہے۔ جب وہ اپنے ساتھ اپنے سینئرز کو شانہ بشانہ جنگ لڑتے دیکھتے ہیں تو یہ ان کے جذبے اور ہمت کو دیتا ہے۔جب سپاہی اپنے سینئرز کو وہ کھانا کھاتا دیکھتے ہیں جو وہ خود کھاتے ہیں اور اپنی طرح کا رہن سہن تو یہ طبقاتی فرق کو مکمل طور پر ختم کردیتا ہے یہی بھائی چارہ پاک فوج کا اتحاد قائم رکھتا ہے۔بھارت جتنے بھی ہتھیار خرید لے لیکن اس کے فوجی اپنے اندر وہ جذبہ نہیں پیدا کرسکتے جو اسلام کے سپاہیوں، پاک فوج، میں موجود ہے ۔


کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسہ 
مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی


جویریہ صدیق ممتاز صحافی اور مصنفہ ہیں ۔ ان کی کتاب ’سانحہ آرمی پبلک سکول‘ شہدا کی یادداشتیں حال ہی میں شائع ہوئی ہے۔
[email protected] Javerias

یہ تحریر 577مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP