قومی و بین الاقوامی ایشوز

بلوچستان :شاہرات کی تعمیر، ترقی و خوشحالی کی ضمانت

بلوچستان میں وفاقی حکومت، صوبائی حکومت اور پاک فوج کے تعاون سے وسیع پیمانے پر ترقیاتی منصوبے تشکیل دیئے گئے ہیں اور بلوچستان کی تعمیر و ترقی اورعوام کی خوشحالی، فلاح وبہبود اور انہیں زندگی کی جدید سہولیات سے آراستہ کرنے کے لئے دستیاب وسائل کے اندر رہتے ہوئے تمام تر اقدامات بروئے کار لائے جارہے ہیں۔ساؤتھ بلوچستان، نارتھ بلوچستان پیکجزکی فراہمی اور صوبہ بھر میں بڑی شاہراہوں کا نیٹ ورک قائم کئے جانے سے مستقبل میں بلوچستان ترقی کی نئی راہ پر گامزن ہوگا، لوگ خوشحال ہوںگے ۔ان منصوبوں سے صوبے کے چھوٹے بڑے شہرایک دوسرے سے لنک ہوںگے۔ دور افتادہ دشوار گزاراور پہاڑی علاقے اِن شاہراہوں سے منسلک ہوں گے اور وہاں کی آبادی کو نہ صرف سفری سہولت میسرآئے گی بلکہ ان کا بین الصوبائی اور ملک کے بڑے شہروں سے بھی زمینی رابطہ قائم ہوسکے گا۔ بلوچستان کی پیداواراور زرعی اجناس کو ملک کے بڑے شہروں کی منڈیوں تک پہنچانے میں مدد ملے گی اس طرح ترقی کا نیا سفراور نیا دور شروع ہوگا۔ ماضی میں بلوچستان میں روڈ نیٹ ورک کی کمی اور عوام کو آمد و رفت و تجارت کے حوالے سے کافی مسائل کا سامنا رہاہے۔ صوبے میں مین شاہراہوں کی کمی شدت کے ساتھ محسوس کی جاتی رہی ہے تاہم اب وفاقی حکومت اور پاک فوج کی مشترکہ کاوشوں سے یہ دیرینہ مسئلہ بتدریج حل کی جانب بڑھ رہاہے اور پورے صوبے میں شاہراہوں کا نیٹ ورک قائم کرکے صوبے کے شہر شہر، قریہ قریہ، دیہات اوروادیوں میں رہائش پذیر عوام کو بڑے شہروں تک  بہترین انداز میں رسائی فراہم کرنے کی سہولت سے ہمکنار کیاجارہا ہے۔نیشنل ہائی وے اتھارٹی بلوچستان میں روڈ نیٹ ورک کے نظام کومؤ ثر بنانے اور اسے ترقی اور وسعت دینے کے حکومتی منصوبوں پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کی جانب اہم پیش رفت  ہے۔ بلوچستان میں پہلی بار اتنے وسیع پیمانے پر روڈز نیٹ ورک قائم کیا جارہا ہے کہ جس سے صوبہ ترقی کی جانب گامزن اور یہاںکے عوام کو تجارتی رسد اور سفری سہولت میسر آئے گی۔ ان منصوبوں میں روڈز کے نئے اور پرانے درمیانے درجے کے اور بڑے پراجیکٹس شامل ہیں۔



شاہراہوں کے نئے اور پرانے منصوبے کراچی کوئٹہ چمن این 25 شاہراہ دو رویہ تعمیراتی منصوبہ:
بلوچستان میں سب سے زیادہ طویل اور ٹریفک کے لحاظ سے مصروف ہائی وے کراچی کوئٹہ چمن سنگل روڈ کو دو رویہ بنانے کا آغاز ہونے والا ہے۔کراچی کوئٹہ چمن این 25 شاہراہ جو کہ افغان بارڈر کو لنک کررہی ہے، طویل بھی ہے اور سنگل بھی۔ کاروباری طبقات اور عوام کی دیرینہ تمنا اور مطالبہ رہاہے کہ اس شاہراہ کو  ڈبل وے بنایا جائے تاکہ آمدو رفت کی سہولت اور تجارت کے وسیع مواقع میسر آئیں۔ موجودہ حکومت نے سنجیدگی کے ساتھ عوام کے اس مطالبے پر غور وخوض شروع کیاہے اور اب اس کو عملی جامعہ پہنانے کے لئے پہلا قدم بھی اٹھایا جارہاہے۔ سال 2021-2022 کے پی ایس ڈی پی میں این 25 شاہراہ کو بطور دو رویہ روڈ منصوبے میں شامل کیا ہے اور اس کے لئے خطیر رقم مختص بھی کردی گئی ہے۔ یہ منصوبہ اب ٹینڈر مراحل میں ہے۔ آئندہ چند ہفتوں میں باقاعدہ این 25 شاہراہ کو دو رویہ بنانے کی تعمیرکا آغاز ہوگا۔ این ایچ اے ذرائع کے مطابق ٹینڈر مراحل مکمل ہونے کے بعد پہلے سیکشن میں دو حصوں سے روڈ تعمیر کا آغازہوگا۔ خضدار سٹی اور کچلاک کوئٹہ دوحصوں سے روڈکا تعمیراتی منصوبہ شروع کیا جائے گا اور یہ منصوبہ بلوچستان کے عوام کے لئے بڑا سرپرائز ہوگا۔  
 ژوب تا کچلاک قومی شاہراہ تعمیراتی منصوبہ:
یہ شاہراہ سی پیک کے مغربی حصے میں ہے اور صوبے کی سطح پر بڑا پراجیکٹ ہے۔ژوب تا کچلاک منصوبہ بین الصوبائی شاہراہ کے طور پر متعارف ہوگا اس سے تجارتی اور سفری سہولت میسر آئے گی۔
جھل جاؤ تا آواران روڈ منصوبہ
جھل جاؤ  تا آواران 54.8 کلومیٹر روڈ کی اپ گریڈیشن اور بحالی کا کام ہونا ہے۔ضلع آواران بلوچستان کا انتہائی پسماندہ ضلع ہے اور ماضی میں یہاںسڑکوں  کی تعمیر پر عدم توجہی کے باعث عوام آج تک آمد و رفت کی سہولت سے یکسر محروم تھے ۔اب موجودہ وفاقی حکومت کی دلچسپی سے آواران میں ایک سے زائد منصوبوں پر کام جاری ہے جن میں آواران تا ہوشاب،آواران  تا جھاؤ ، خضدار مشکے روڈشامل ہیں اور اِن متعدد روڈ پراجیکٹس سے اس علاقے میں ترقی کا نیا دور شروع ہوگا ۔ 
کوئٹہ تا ڈھاڈرروڈ منصوبہ: 
کوئٹہ سے ڈھاڈر تک 118.32 کلومیٹر روڈ کی بحالی اور اپ گریڈیشن این ایچ اے کے منصوبوں میں شامل ہے۔ 
این 30 شاہراہ خضدار ٹو بیسیمہ( سی پیک کا حصہ):
 این 30 روڈ تعمیراتی منصوبہ سی پیک کا حصہ ہے یہ 106 کلومیٹر روڈ خضدار سے بیسیمہ تک تعمیر ہورہی ہے۔ روڈ پر تیز رفتاری کے ساتھ کام جاری ہے اور اب یہ تعمیر کے آخری مراحل میں پہنچ چکی ہے۔ اس شاہراہ کی تعمیر سے بہت بڑا علاقہ مستفید ہوگا۔ساؤ تھ بلوچستان میں شامل اضلاع خضدار، نال، بیسیمہ، ہوشاب، پنجگور، خاران، مشکے سے لے کرکیچ اور گوادر تک کے اضلاع کے عوام کو سفری اور تجارتی سہولت میسر آئے گی۔ یہ شاہراہ این 25 اور ایم 8 سے منسلک ہورہی ہے جس کی وجہ سے سفر کا وقتکم کرنے میں مدد ملے گی اور بلوچستان کے ایک بہت بڑے حصے کو تجارتی سہولت میسر آئے گی۔ 



جھل جاؤ تا بیلہ 82 کلومیٹر روڈ منصوبہ:
بلوچستان کے انتہائی پسماندہ و دور دراز علاقہ آواران کے علاقے جاؤسے بیلہ تک یہسڑک بننی ہے اور این 25 کوئٹہ کراچی شاہراہ سے لنک ہونا ہے۔ قبل ازیں یہاں پکی سڑک نہیں تھی اور 82 کلومیٹر سفر کے لئے کئی گھنٹے در کار ہوتے تھے۔ نا ہموار، دشوار گزار اور پہاڑی علاقہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کو کافی مشکلات کا سامنا رہتا تھا۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو کا گھر بھی اسی جھاؤ علاقے میں ہے۔ تاہم اب یہ روڈ جھاؤ آواران سے بیلہ تک بنے گی تو مسافت آدھے گھنٹے کی رہ جائے گی۔جھاؤ اجناس کی پیداوار میں بھی مشہور ہے، یہاں کی اجناس فوری طور پر کراچی کی منڈی تک پہنچائی جاسکیں گی۔
نوکنڈی تا ماشکیل تک سڑک تعمیر کا منصوبہ بھی سال 2021-2022 کے بجٹ میں شامل کرلیا گیا ہے۔ یہسڑک سی پیک کاحصہ ہے ۔یہ دو رویہسڑک ہوگی۔ نوکنڈی تا ماشکیل سڑک سے بہت سارے علاقے مستفید ہونگے۔ چونکہ ماشکیل پڑوسی ملک ایران کے سرحد ی علاقے کے قریب ہے اسسڑک کی تعمیر سے یہاں کے لوگوں کو فائدہ پہنچے گا۔انہیں نہ صرف سفری سہولت میسرآئے گی بلکہ اس سے تجارت سے وابستہ افراد کو بھی بے حد فائدہ ملے گا۔ این ایچ اے کے مطابق اس سڑک کے مکمل ہونے سے 880 گاڑیوں کی روزانہ آمد ورفت ممکن ہوگی۔ منصوبے سے مقامی تجارت بالخصوص کھجور کی تجارت میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ شاہراہ کے اطراف علاقوں کی ایران بارڈر سے رسائی کم وقت میں ممکن ہوگی اور ملحقہ علاقوں میں سماجی و معاشی ترقی کا نیا سفر شروع ہوگا۔ 
کوئٹہ ویسٹر ن بائی پاس منصوبہ:
 بلوچستان کے دارالحکومت اور کثیر آبادی والے شہر کے ساتھ بائی پاس منصوبہ بھی روڈ پراجیکٹ میں شامل ہے اور اس کو ویسٹرن بائی پاس کا نام دیا گیا ہے۔ این ایچ اے کے چیف ایگزیکٹو کا کہنا ہے کہ بائی پاس منصوبہ 24 ماہ میں مکمل کرلیا جائے گا اس منصوبے میں 16پولز، ایک اوور ہیڈ برج اور ایک انڈر پاس تعمیر کیا جائے گا ۔اس سڑک کی چوڑائی 7.3میٹر ہوگی۔اس دورویہ پراجیکٹ کا ڈیزائن نیس پاک کنسلٹنٹ نے تیار کیا ہے۔ بائی پاس روڈ سے تقریباً روزانہ سترہ ہزار سے زائد گاڑیاں گزرا کریں گی۔ اس پراجیکٹ سے سترہ سو سے زائد لوگوں کو بالواسطہ یا بلاواسطہ روزگار کے مواقع میسرآئیں گے۔ ویسٹرن بائی پاس منصوبے کی تکمیل سے سفر کا دورانیہ پہلے سے بہت کم رہ جائے گا۔بائی پاس روڈ منصوبہ سوناخان تھانے سے شروع ہو کر ائیرپورٹ کے قریب چمن روڈکے ابتداء میں ختم ہوگا ۔
یک مچ خاران یا دوستین وڈھ خرمگئی بلیک ٹاپ روڈ:
 اس روڈ کی تعمیرکے لئے سال 2021-2022کے بجٹ میں کثیر رقم مختص کی گئی ہے۔ خاران کا علاقہ بھی بلوچستان کے دور افتادہ علاقوں میں شمار ہوتا ہے جہاں سفری سہولت اور صوبہ و ملک کے دیگر حصوں سے ان علاقوں کو ملانے کے لئے کوئی خاص روڈ نہیں بنائی گئی تھی۔
ہوشاب ٹو آواران ایم 8: 
ساؤتھ بلوچستان میں یہ نیا روڈ منصوبہ ہے- اس شاہراہ کی تعمیرکی بے حد ضرور ت محسوس کی جارہی تھی تاہم موجودہ حکومت نے عوام کی ضرورت اور مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہوشاب سے آواران تک روڈ کی تعمیر کو این ایچ اے کے منصوبوں میں شامل کرلیا ہے۔ہوشاب تاآواران روڈ ایم 8 کا حصہ ہے اور 146 کلومیٹر تک تعمیر ہونا ہے۔ اس روڈ منصوبے کے لئے سال 2021-2022کے بجٹ میں 2000 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں اور683 ملین روپے اس پراجیکٹ پر خرچ ہوچکے ہیں۔ ہوشاب آواران ایم 8 منصوبے کا باقاعدہ افتتاح وزیرا عظم پاکستان عمران خان نے 13نومبر2021کوکردیا تھا۔ 
زیارت موڑ کچ ہرنائی روڈ 107.2کلومیٹر اور سنجاوی روڈ55.1کلومیٹر روڈکا منصوبہ بجٹ میں شامل ہے۔
نارتھ بلوچستان میں شاہراہوں کی تعمیر و مرمت منصوبے کو بھی این ایچ اے نے اپنے بجٹ میں شامل کرلیا ہے۔نیشنل ہائی وے ڈویلپمنٹ سیکٹر پراجیکٹ کے تحت روڈ کی بہتری، بحالی اور نظر ثانی شدہ تعمیرو مرمت شامل ہے۔ اس کے تحت قلعہ سیف اللہ لورالائی وائیگم روڈ این 70 اورژوب مغل کوٹ این 50 روڈ کے 81 کلومیٹر حدود کی تعمیر ومرمت اور بحالی شامل ہے۔
مجوزہ منصوبے 
بلوچستان میں این ایچ اے کے تحت جو منصوبے زیر غورہیں ان میں چند ایک کا تذکرہ کرنا لازمی ہے۔سندھ اور بلوچستان کو ملانے والی روڈ ایم 8 خضدار رتوڈیرو شاہراہ کا جو دشوار گزار اور مشکل سلسلہ ہے، وہ ہے ونگو ہل جہاں ڈیڑھ سے دو گھنٹے کی مسافت ہے۔یہاں 4.5کلومیٹر طویل ٹنل پروجیکٹ  زیرِ غورہے۔ اس منصوبے کے لئے گورنمنٹ آف بلوچستان کی جانب سے رقم مختص کی گئی تھی تاہم اس منصوبے کا آغاز نہیں ہوسکا۔ آنے والے  دنوں میں این ایچ اے کے منصوبوں میں سے ایک منصوبہ ونگو ہل ٹنل شامل ہوگا جس سے سفری سہولت میں آسانی اور ونگو ہل کی جو دشوار گزار پہاڑی ہے اس میں وقت ضائع ہونے کی بجائے کافی وقت بچ سکے گا۔
 ماشکیل تا چدگی پنجگور جس کا پی سی ون بن چکا ہے اور اس شاہراہ کو این ایچ اے مستقبل میں اپنے منصوبوں کا حصہ بنائے گا۔خاران بیسیمہ 114 کلومیٹر روڈ منصوبے کاپی سی ون منظور ہوچکا ہے اور اس کی فزیبلٹی کو بھی جلد مکمل کرلیا جائے گا۔ ایم 8 آواران نال سیکشن 168 کلومیٹر روڈ کی تعمیر کا منصوبہ بھی این ایچ اے کی لسٹ میں شامل ہے اور توقع کی جارہی ہے کہ 2022 میں اس پر باقاعدہ کام کا آغاز کیا جائے گا۔ خضدار تا شہداد کوٹ سیکشن ایم 8پیکج تھری کے تحت اس پر بھی کام شروع کئے جانے کا امکان ہے۔ 
ڈیرہ مراد جمالی بائی پاس حب سٹی بائی پاس روڈ پروجیکٹ 13.7کلومیٹر جو کہ این 25 کا حصہ ہے۔ اس کے پی سی ون کے لئے زمین حاصل کرنے کا عمل جاری ہے اور جیسے ہی زمین کا حصول ممکن ہو جاتا ہے تو اس منصوبے کی تعمیر پر بھی باقاعدہ کام شروع کردیا جائے گا۔
بلوچستان کے علاقے بند مرادسے دریجی تک 105کلومیٹر پی سی ون اور ٹو بن چکے ہیں اور یہ این ایچ اے کے ہاں جمع کرادیئے گئے ہیں۔ ان کی مجوزہ تعمیر بھی این ایچ اے کے منصوبوں میں شامل ہوگی۔
ماشکیل سے چدگی پنجگور جس کا پی سی ون بھی بن چکا ہے اور اس شاہراہ کو این ایچ اے مستقبل میں اپنے منصوبوں میں شامل کرے گا۔ 
بلوچستان ملک کے نصف رقبہ پر مشتمل صوبہ ہے اور اس کے اضلاع و علاقے وسیع و عریض ہیں جوسرحدی علاقے پڑوسی ممالک افغانستان اور ایران سے منسلک اور گوادرساحل سے جا ملتا ہے۔ دوسر ا حصہ ملک کے تینوں صوبوں سندھ، پنجاب اور خیبر پختونخوا سے ملتے ہیں۔ ماضی میں یہاں سڑکوں کی کمی اور صوبے کے عوام کو آمد و رفت اور تجارت کے حوالے سے مشکلات کا سامنارہا ہے تاہم اب سی پیک روڈ منصوبوں سمیت دیگر قومی شاہراہوں کا ایک نیٹ ورک قائم کیا جارہاہے جو صوبے کے دور دراز اور پہاڑی و سرحدی علاقوں تک بنائی جارہی ہیں ۔ان شاہراہوں میں بعض شاہراہیں مکمل اور بعض پر کام جاری ہے۔ روڈز پراجیکٹس کی تکمیل سے صوبہ مزید ترقی کی جانب گامزن ہوگا، لوگ خوشحال ہوںگے۔ آمد ورفت اور تجارت کے وسیع مواقع میسر آئیں گے اور بلوچستان کو دوسرے صوبوں کے برابر آنے کا موقع میسر آئے گا۔ ||


مضمون نگار کا تعلق بلوچستان کے ضلع خضدار سے ہے جو اخبارات اور قومی چینل سے وابستہ ہیں ۔
[email protected]
 

یہ تحریر 105مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP