خصوصی فوکس

بلوچستان ۔شاہراہِ محبت اور سمندر کا ساتھ

کس کو سنائیں حالِ دلِ زار  اے ادا !
آوارگی میں ہم نے زمانے کی سیر کی!
نیشنل ہائی وے پہ محوِ سفر۔۔۔ماڑی پورانٹرچینج سے نکلتے ہوئے جب حب کی جانب رواں ہوں تو N-25 پہ کچھ فاصلہ طے کرتے ہی ہجوم چھٹنے لگتا ہے۔۔۔مکان چھدرے ہونے لگتے ہیں۔۔۔ٹریفک بھی کم ہونے لگتی ہے۔۔۔سڑک کشادہ لگنے لگتی ہے۔۔۔اور اطراف میں صحرائی خطہ جھلک دکھلانے لگتا ہے۔۔۔ حب کو حب چوکی بھی کہا جاتا ہے اور اس کی وجہ کسی زمانے میں یہاں پولیس اور کسٹم کی چیک پوسٹ کا ہونا ہے جسے مقامی زبان میں نکاہی کہا جاتا تھا۔۔۔لیکن گزرتے وقت کے ساتھ یہ شہر صنعتوں اور فیکٹریوں کا مرکز بن کے حب چوکی سے حب ہو کے رہ گیا۔۔۔حب کو اگر بلوچستان کا کراچی کہا جائے تو غلط نہ ہو گا۔۔۔وہی ہجوم۔۔۔بے ترتیبی ۔۔۔اور اک انبوہ۔۔۔شہرِ قائد سے کلومیٹرز کی ففٹی پہ سندھ اور بلوچستان کی سرحد پہ۔۔۔چونتیس ہزار تین سو ایکڑ رقبے پہ محیط حب ڈیم ہے۔۔۔جو پاکستان کا تیسرا بڑا ڈیم ہے۔۔۔اور حب دریا، جسے عرف عام میں شورنگ نلہ کہتے ہیں، پر واقع ہے۔۔۔جو کراچی اور حب کے مکینوں کی آبی ضروریات کے علاوہ تفریحی ضروریات بھی پوری کرتا ہے۔۔۔کراچی سے فقط آدھے گھنٹے کی مسافت پر واقع حب جھیل تیراکی، کشتی رانی اور مچھلی کے شکاریوں کی جنت ہے!



حب ٹول پلازہ سے قدرے پہلے سڑک دو لخت ہوتی ہے۔۔۔دائیں ہاتھ والی سپر ہائی وے کی جانب نکلتی ہے جبکہ دوسری ٹول پلازہ کراس کر کے کوئٹہ اور گوادر کی جانب جاتی ہے۔۔۔اسےN-10  اور مکران کوسٹل ہائی وے بھی کہتے ہیں۔۔۔ایک ہزار کلومیٹر کی یہ ساحلی پٹی پاکستان سے ایران تک پھیلی ہوئی ہے۔۔۔ اس میں سے سات سو اٹھہترکلومیٹر پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں ہے۔۔۔ جس میں سے ایک سو اٹھہترکلومیٹر لسبیلہ میں اور چھ سو کلومیٹر گوادر میں ہے۔۔۔اس کی تعمیر 2002میں شروع ہوئی اور فرنٹئیر ورکس آرگنائزیشن کی انتھک محنت سے تین سال سیبھی کم مدت میں 14 دسمبر 2004 کو مکمل ہوئی۔۔۔کوسٹل ہائی وے پر سفر شروع کرتے وقت اشیائے خورونوش لے کر چلیں۔۔۔تیل پانی کا ذخیرہ مکمل لے کر نکلیں کیونکہ راستے میں پانی اور پیٹرول نایاب ہے۔
حب سے قریباً آدھے گھنٹے کی مسافت پہ آر سی ڈی اے ہائی وے کے مغرب میں گڈانی ہے۔۔۔گڈانی موڑ سے سات کلو میٹر اندر چھوٹا سا ساحلی قصبہ ہے۔۔۔اک حسین ساحل ہے۔۔۔کچھ ہٹس بنے ہیں۔۔۔اک پہاڑی ہے پھکارہ یا پھنکارہ۔۔۔جو سمندرکے کنارے اس طرح واقع ہے کہ اس کے نیچے بڑے بڑے غار ہیں۔۔۔جب لہر اٹھتی ہے تو پانی پوری روانی سے اندر جاتا ہے۔۔۔اور پھر اندر کی ہواسے پھوار کی صورت میں ایک خوفناک گونج کے ساتھ وہ پانی چنگھاڑتا ہوا باہر نکلتا ہے۔۔۔چھُٹی کے دن ان پہاڑیوں اور اس ساحل پہ خوب رونق ہوتی ہے۔۔۔اس سے آگے جائیں تو گڈانی شپ بریکنگ یارڈ آتا ہے جس کے سبب گڈانی کو جہازوں کا قبرستان کہا جاتا ہے۔۔۔اور اس سے آگے ماہی گیروں کی مچھیرا بستی چھپرا آتی ہے۔۔۔ایک وقت تھا جب گڈانی شپ یارڈ دنیا کا سب سے بڑا شپ بریکنگ یارڈ تھا۔۔۔پھر یاروں کی مہربانی اور وقت کی ستم ظریفی سے یہ پہلے سے تیسرے نمبر پہ آگیا اور اب حالات یہ ہیں کہ۔۔۔
میں تھرڈ ڈویژن ہوں مجھے مار ڈالئے____
کراچی والے خوش قسمت ہیں جو صبح صبح بال بچوں سمیت گاڑیاں بھر کے نکلتے ہیں یا دوست احباب کے سنگ چلتے ہیں۔۔۔اور اک بھرپور دن گڈانی کے ساحلوں پہ گزار کے رات ڈھلنے سے پہلے واپس اپنے گھروں کو پہنچ جاتے ہیں۔۔۔اس ساحل پہ سب کچھ ہے جو کراچی جیسے شہر میں بسنے والوں کے ذہن و دل کو سکون ہی سکون دے سکتا ہے۔۔۔ حدِ نظر تک پھیلا نیلگوں سمندر۔۔۔لمبا ریتلا ساحل۔۔۔پہاڑی ٹیلے۔۔۔سمندر میں چلتی کشتیاں۔۔۔کشتی رانی۔۔۔اونٹ ۔۔۔ گھوڑے۔۔۔اور تا حدِ نگاہ پھیلی ردائے سکوں۔۔۔جس میں بیٹھ کے لہروں کے ساتھ ساتھ گھر سے بنا کے لائے کھانے کا لطف دوبالا کیا جا سکتا ہے۔۔۔یہاں ضلعی انتظامیہ کا ایک گیسٹ ہائوس بھی ہے جس سے استفادہ کیا جا سکتا ہے!
گڈانی سے قریبا پینتالیس کلومیٹرز پہ وندر آتا ہے۔۔۔یہ کاروبار کے لئے مشہور ہے۔۔۔یہاں زیادہ تر مچھلی کا کاروبار ہوتا ہے۔۔۔سمندر نزدیک ہونے کی وجہ سے یہاں کے باسیوں کا ذریعہ معاش و زیست سمندر اور سمندری مخلوق ہے۔۔۔اگر آپ مع اہل و عیال جا رہے ہیں یا دوستوں کے ساتھ خیموں میں شب بسری کے ارادے سے نکلے ہیں اور کھانا پکانا خودکرنا چاہ رہے ہیں تو وندر بازار آخری مقام ہے جہاں سے آپ خریداری کر سکتے ہیں۔۔۔یہاں سے آپ کو ضرورت کی تقریباً ہر چیز آسانی سے اور وافرمقدار میں مل جائے گی۔۔۔لیکن اس کے بعد گوادر سے پہلے آپ کو ایسی کوئی سہولت میسر نہیں ہو گی۔۔۔لہٰذا اپنے ساز و سامان کی، اپنے قیام کے مطابق، تسلی کر کے نکلیں!
وندر سے کچھ آگے کنراج ہے۔۔۔کٹی پھٹی چٹانوں کا اک سلسلہ ہے۔۔۔اور جہاں یہ چٹانیں ختم ہوتی ہیں وہیں نیلگوں سمندر ان کی آغوش میں ٹھاٹھیں مارتا ہے۔۔۔آپ اپنی گاڑی پہ نہ جانا چاہیں تو کراچی سے پبلک ٹرانسپورٹ پر بھی یہاں آ سکتے ہیں۔۔۔جو آپ کو ماہی گیروں کی بستی کے پاس اتارے گی اس سے آگے آپ پرائیویٹ جیپ کرائے پہ لے لیں۔۔۔اور کنراج کے جنگل اور ساحلوں کا لطف اٹھائیں۔۔۔جھینگے اور مچھلیاں پکڑیں یا تیتر اور خرگوش کا شکار کھیلیں۔ 
کراچی سے قریباً ایک سو دس کلو میٹرز کی مسافت پہ زیرو پوائنٹ آتا ہے۔۔۔یہاں سے سڑک دو لخت ہوتی ہے۔۔۔ایک راستہ کوئٹہ جاتا ہے اور دوسرا گوادر۔۔۔چوک پہ دائیں ہاتھ پرنسس آف ہوپ کامصنوعی مجسمہ نصب ہے (اصل مجسمہ آگے آئے گا اس کے لئے ساتھ سفر کرتے رہئے) اور پاکستان کوسٹ گارڈ کا نشان بھی۔۔۔
یہاں سے کچھ آگے بائیں ہاتھ سڑک کنارے سفید سنگ میل پہ سیاہ روشنائی سے رقم ہو گا۔۔۔اتھل۔۔۔یہ لسبیلہ کا ضلعی صدر مقام ہے۔۔۔یہاں میدان ہیں۔۔۔فصلیں ہیں۔۔۔ہریالی ہے۔۔۔کیلے اور چیکو کے باغات ہیں۔۔۔اور یہاں سے ساٹھ کلومیٹرز کی مسافت پہ تاریخی شہر بیلہ ہے۔۔۔ لسبیلہ دو الفاظ کا مجموعہ ہے۔۔۔لس یعنی میدان اور بیلہ کا مفہوم ہے جنگل۔۔۔اور یہ ضلع پہاڑوں اور میدانوں پر مشتمل ہے۔۔۔قیام پاکستان سے پہلے لسبیلہ ایک الگ ریاست تھی۔۔۔لیکن قیام پاکستان کے بعد 1948  میں والیَٔ بیلہ جام غلام قادر نے اس کا الحاق پاکستان سے کیا۔۔۔اور یوں یہ تاریخی علاقہ پاکستان کا حصہ بنا۔۔۔کہتے ہیں کہ محمد بن قاسم لسبیلہ سے سندھ میں داخل ہوئے تھے اور ان کے رفیق جنرل ہارون کا مقبرہ آج بھی اس تاریخی شہر میں موجود ہے۔۔۔ایک روایت کے مطابق سکندر اعظم یہیں سے واپس گیا تھا۔۔۔
بیلہ شہر سے ایک سڑک غاروں کے شہر تک جاتی ہے۔۔۔کراچی سے ایک سو پچھتر کلو میٹرز جبکہ لسبیلہ سے فقط بیس کلومیٹرز کی مسافت پہ موجود اس شہرِروغاں کو بدھ مت کے پیروکاروں نے آباد کیا تھا اور یہاں عبادت کیا کرتے تھے۔۔۔ایک اندازے کے مطابق یہاں پندرہ سو کے قریب غاروں کے گھر تھے جن میں سے اب محض پانچ سو ہی باقی ہیں۔۔۔یہیں قریب ہی مائی گندرانی کا مزار بھی ہے۔۔۔شہرِ روغاں سے چند کلو میٹرز کی مسافت پہ دنیا کے واحد مَڈوولکینوآتے ہیں۔۔۔ مٹی کے آتش فشاں۔۔۔چندرا گپ۔۔۔گار فشاں۔۔۔جہاں ہر سال اپریل کے مہینے میں ہندو یاتری ہنگلاج ماتا کے مندر سے پا پیادہ اکیس کلومیٹرز کی مسافت طے کر کے یاترا کرنے آتے ہیں۔۔۔اور ان گار فشاں کے دہانوں پہ ناریل اور دیگر اشیائے خورو نوش رکھ کے پوجا پاٹ کرتے ہیں۔۔۔بیلہ سے آواران روڈ پہ قریباً تیس کلومیٹر کی مسافت طے کر کے بائیں ہاتھ شیریں فرہاد کا مزار واقع ہے۔۔۔اسی شہر میں محبت کی ایک اور عظیم لوک داستان کے لازوال کرداروں سسی پنوں کے مزارمحبت کی موجودگی بھی ہے۔۔۔ اندازاً پینسٹھ کلو میٹر کی مسافت پہ سسی پنوں کا مزار ہے۔۔۔
یہاں سے آگے اگور کا علاقہ آتا ہے۔۔۔جہاں سے ایک کچا راستہ سپٹ بیچ تک جاتا ہے۔۔۔یہ جادوئی ساحل ہے۔۔۔کبھی موقع ملے تو یہاں رات ضرور گزاریں۔۔۔اور یہ سارا علاقہ ہنگول نیشنل پارک کی حدود میں آتا ہے۔۔۔بائیں ہاتھ پہ سڑک کنارے ایک چھوٹی اور قدرے ہموار پہاڑی کے ساتھ ایک بورڈ آویزاں ہے جس میں انگریزی اور اردو زبان میں تحریر ہے۔۔۔فاتحِ سندھ محمد بن قاسم کے سپاہیوں کی قبریں۔ 712 ہنگول نیشنل پارک ، اگور۔۔۔یہ مقبرے تیرہ سو سال بعد بھی موجود ہیں۔۔۔اور ان پہ کی گئی کندہ کاری آج بھی دلکشی میں اپنی مثال آپ ہے۔۔۔ دائیں ہاتھ ایک ذیلی سڑک اندر پہاڑوں میں جاتی ہے۔۔۔جو ہنگول دریا سے ہوتے ہوئے ہنگلاج مندر تک جاتی ہے۔۔۔ہنگلاج مندر پاکستان کا قدیم ترین مندر ہے۔۔۔اور یہاں دربار اکبری کے ٹوڈرمل اور شاہ عبداللطیف بھٹائی سمیت بے شمار شخصیات آ چکی ہیں۔۔۔ہندو عاملوں اور جادوگروں کا علم یہاں کی یاترا کئے بنا مکمل نہیں ہوتا۔
شہرِ قائد سے کلومیٹرز کی ڈبل سینچری سے دس رنز کم پہ۔۔۔ایک ہزار چھ سو پچاس مربع کلو میٹر پہ پھیلا ہوا ہنگول نیشنل پارک پاکستان کا سب سے بڑا پارک ہے۔۔۔جو بلوچستان کے تین اضلاع لسبیلہ ، گوادر اور آواران تک پھیلا ہوا ہے۔۔۔جس میں سمندر، دریا، جنگل، پہاڑ، صحرا، طبی نباتات، معدنی ذخائر، چیتے، آئی بیکس، کوبرا سانپ، مگرمچھ، کچھوے، نایاب پرندے اور لاتعداد جنگلی حیات و نباتات ہیں۔۔۔چھ سو ترپن کلومیٹر طویل شاہکار یہ کوسٹل ہائی وے جنرل پرویز مشرف کے دور میں بنائی گئی۔۔۔جس کا اک بڑا حصہ اس ہنگول نیشنل پارک کے ان بولتے پہاڑوں کو کاٹ کے بنایا گیا ہے۔۔۔جس کے ایک طرف لق و دق ریگستان ہے۔۔۔دوسری جانب گہرے اور گرم پانیوں کا بپھرا ہوا سمندر۔۔۔اور تیسری طرف پہاڑ ہیں۔۔۔قدرت کا اس سے بڑھ کر بھی حسین امتزاج ہو سکتا ہے بھلا کہیں!
ہنگلاج مندر سے قریباً دس منٹ کی مسافت پہ بائیں ہاتھ کنڈ ملیر کا ایک سو نو کلو میٹر طویل ساحل ہے۔۔۔تراشی ہوئی مورتیوں جیسے پہاڑوں کے قلعے میں سڑک گم ہوتی جاتی ہے۔۔۔کہ یک لخت اک موڑ مڑتے ہی بائیں ہاتھ کنڈ ملیر کا نیلگوں سمندر جھلک دکھلانے لگتا ہے۔۔۔سیاہ، سرمئی، سفید اور مٹیالے پہاڑوں کے حصار میں۔۔۔چاندی جیسی ریت کی گود میں۔۔۔نیلا سمندر۔۔۔ اور کراچی والوں کے لئے یہ بہترین تفریح گاہ ہے۔۔۔چھٹی کے دن یہاں کافی ہجوم ہوتا ہے۔۔۔یہاں کیمپنگ کے علاوہ ہوٹلوں کی سہولت بھی دستیاب ہے۔
کنڈ ملیر سے آگے ایک موڑ مڑتے ہی بائیں ہاتھ گولڈن بیچ ہے۔۔۔سنہرا ساحل۔۔۔اور سنہرے ساحل کے نیلگوں پانیوں کی سطح پہ ڈولفن مچھلیوں کا رقص جاری رہتا ہے۔۔۔آپ سکون سے فیملی کے ساتھ یہاں جا سکتے ہیں۔۔۔کنڈ ملیر اور گولڈن بیچ کے ساحل محفوظ ساحلوں میں شمار ہوتے ہیں۔۔۔یعنی یہاں کے ساحلوں پہ کم پانی ہے۔۔۔کافی دوور تک سمندر میں چہل قدمی کی جا سکتی ہے۔۔۔بچے بھی پانی سے لطف اٹھا سکتے ہیں کیونکہ گہرے پانی کافی دُور جا کے آتے ہیں۔۔۔



اس علاقے میں آپ کو قدم قدم پہ پہاڑوں کے ساتھ قدرت کی فنکاری نظر آئے گی۔۔۔کہیں اطراف میں سربفلق پہاڑ ۔۔۔کہیں تکونی پہاڑ ۔۔۔کچھ مٹی کے ۔۔۔اور کچھ ایسے نظر آئیں گے جیسے سیمنٹ سے بنے ہوں۔۔۔ہلکے سرمئی۔۔۔کہیں سرمئی رنگ کی تراشی ہوئی قلموں جیسے پہاڑ ۔۔۔کہیں برگدکی جڑوں کی مانند۔۔۔گھنے برگد جیسے پہاڑ۔۔۔کہیں زمین پہ لیٹے ہوئے محوِ استراحت پہاڑ۔۔۔کہیں آسمان سے سرگوشیاں کرتے تکونی چوٹیوں والی تراشی ہوئی قلموں جیسے پہاڑ۔۔۔کہیں غار نما پہاڑ جیسے مٹی کے بڑے سے پہاڑ میں لاتعداد چھوٹے بڑے سوراخ بنے ہوں۔۔۔سرنگ نما۔۔۔اور کہیں یوں ہو جاتے جیسے کسی نے بہت سی کنکریٹ کی قلمیں تراشی ہوں اور پھر انہیں ایک ساتھ باندھ کے گلدستہ بنا دیا ہو۔۔۔اور اس گلدستے کے پیچھے قلعہ نما پہاڑ۔۔۔جس کی بیرونی دیوار کے پہاڑ یوں نظر آتے ہیں جیسے تراشے ہوئے بت ہوں۔۔۔مورتیوں جیسے پہاڑ۔۔۔کچھ کہتے ہوئے۔۔۔ بولتے ہوئے۔۔۔کچھ پیغام دیتے ہوئے پہاڑ۔۔۔ یہاں پہاڑوں کے سو روپ ہیں۔۔۔پہاڑوں کے ہزار رنگ ہیں یہاں۔۔۔ مٹیالے۔۔۔ سفید۔۔۔ سرمئی۔۔۔ سیاہ۔۔۔اور ان پہاڑوں کے بیچ بل کھاتی سڑک ۔۔۔ ہر موڑ ایک گورکھ دھندہ ہے۔۔۔ہر گام اک سِم سِم!
اور آپ اس وقت کوہِ مکران میں ہیں۔۔۔ایک ہزار کلومیٹر طویل یہ پہاڑی سلسلہ بلوچستان کے جنوب میں واقع نیم صحرا سے شروع ہو کے ایران اور بحیرئہ عرب تک جاتا ہے۔۔۔اس کا قریباً سات سو اٹھترکلومیٹر کا بڑا حصہ پاکستان میں ہے۔۔۔اور جب بوزی پاس کے پہاڑوں میں سے گزریں تو عجیب سا احساس ہوتا ہے۔۔۔یہ پہاڑ عجب جادوئی پہاڑہیں۔۔۔جادوئی پہاڑ۔۔۔تراشے ہوئے پہاڑ۔۔۔بولتے ہوئے۔۔۔کچھ کہتے ہوئے۔۔۔ پیغام دیتے ہوئے پہاڑ۔۔۔مصور کا شاہکار۔۔۔جیسے تراشے ہوئے بت۔۔۔  تراشے ہوئے مجسمے۔۔۔تراشی ہوئی مورتیاں!
اور پہاڑوں کے اس دیس میں۔۔۔دائیں ہاتھ پہاڑوں کے بیچ۔۔۔عین وسط میں دست قدرت سے تراشی ہوئی ایک مورتی ہے۔۔۔جسے امریکی اداکارہ انجلینا جولی نے اپنے 2002 کے دورہ پاکستان کے دوران یہاں سے گزرتے ہوئے اس گمنام شہزادی کو نام دیا۔۔۔پرنسسز آف ہوپ۔۔۔امید کی شہزادی۔۔۔جو چغہ پہنے کھڑی ہے۔۔۔اور اس کے ساتھ اک چبوترے پہ۔۔۔ابو الہول ہے۔۔۔شیرِ بلوچستان۔۔۔جس کا دھڑ شیر کی مانند ہے لیکن سر انسانی شکل کا ہے۔۔۔اور وہ پہاڑوں کے چھوٹے قلعے پہ پوری شان سے بیٹھا ہے۔۔۔چوکس و چوکنا۔۔۔پہرے داری پہ مامور۔۔۔ہشیار باش۔۔۔اور تب سے ساری دنیا امید کی اس دیوی کو دیکھنے۔۔۔اس شہزادی سے ملنے۔۔۔دیوانہ وار یہاں چلی آ رہی ہے۔۔۔سمندری ہوائوں نے صدیوں میں ان پہاڑوں کو تراشا ہے۔۔۔تب جا کے یہ حسن مجسم ہوا ہے۔۔۔تب کہیں یہ روپ لا وجود سے عالمِ وجود میں آیا ہے۔۔۔یہ جادو نگری صدیوں کی کاری گری ہے۔۔۔دستِ قدرت کا کمال۔۔۔مجسم معجزہ!
اوربوزی پاس سے قریباً گھنٹہ بھر کی نان سٹاپ مسافت پہ کوسٹل یارڈ نیوی کی چیک پوسٹ ہے۔۔۔پاکستان کوسٹ گارڈ۔۔۔زیرو پوائنٹ اورماڑا ۔۔۔ چیک پوسٹ سے پہلے سڑک دو لخت ہوتی ہے۔۔۔دائیں ہاتھ والی گوادر جاتی ہے جبکہ بائیں ہاتھ کو ایک سڑک اورماڑا گائوں کی جانب نکلتی ہے۔۔۔جہاں ساحل کنارے بسے چند سو گھروں پہ مشتمل چھوٹے سے گائوں کے علاوہ پاک بحریہ کی بیس ہے اور۔۔۔جہاں سمندر کے بیچ ایک جزیرہ ہے۔۔۔جزیرہ ہفت تالار۔۔۔سات پہاڑیوں کا جزیرہ۔۔۔ استولا۔۔۔ جہاں دو ساحل ملتے ہیں۔۔۔راکی ساحل اور سینڈی ساحل۔۔۔جہاں سات پتھریلی چوٹیاں ایک قطار میں ہیں۔۔۔جہاں ساحل کنارے پر اسرار غاریں ہیں جن میں نہ جانے کون کون سے راز دفن ہیں۔۔۔اور جس جزیرے پہ درخت نہیں ہیں بلکہ نایاب جھاڑیاں اور بیل بوٹے ہیں۔۔۔گوادر والی شاہراہ پہ سفر جاری رکھیں تو چیک پوسٹ کراس کرتے ہی دائیں ہاتھ اورماڑہ کا حسین ساحل آتا ہے۔۔۔شفاف نیلگوں سمندر۔۔۔ساحل پہ پھیلی سفید ریت۔۔۔ اور صاف ستھرا طویل جادوئی ساحل۔۔۔اس ساحل پہ پہلا خیال یہی آتا ہے جیسے آپ آسٹریلیا کے کسی ساحل پہ آ گئے ہوں۔۔۔
اس شاہراہ کی بہت سی جہتیں ہیں۔۔۔ایک جہت سیاحت ہے۔۔۔لیکن بہ حیثیت سیاح ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم ان ساحلوں کی صفائی کا خاص خیال رکھیں بصورتِ دیگر ان کا حال بھی کراچی کے ساحلوں جیسا ہی ہو جائے گا اور ہماری آنے والی نسلیں ہمیں اس مجرمانہ غفلت کے لئے کبھی معاف نہیں کر پائیں گی۔
اورماڑہ سے نکل کر دشت سے گزرتے ہوئے پسنی کا بے مثال ساحل آتا ہے۔۔۔پسنی کا ساحل جبل جڈی اور جبل زرین کے پہاڑوں کے گرد بنا ہوا ہے اسی لئے اسے ساحلِ جڈی اور ساحلِ زرین بھی کہا جاتا ہے۔۔۔یہاں کی مٹی اتنی چکنی ہے کہ اس کی سینڈ آرٹ سے بنے قابلِ دید مجسمے دنیا بھر میں مقبول ہیں۔۔۔ایسے ایسے شاہکار مجسمے کہ گونگے بھی بول اٹھیں۔۔۔مجسمہ ساز کی ہنر مندی کی گواہی دینے کو پتھر بھی زباں رکھنے لگیں۔۔۔سونے اور چاندی جیسی ریت کی ملاوٹ والا یہ ساحل اور ساحل پہ جا بجا پھیلے شاہکار مجسمے جہاں گردوں کے دلوں سے دھڑکنیں تک چھین لینے پہ قادر ہیں۔۔۔پسنی کے مغرب میں دیغان نامی اک تاریخی قبرستان واقع ہے جو کہ شہر کا قدیم ترین قبرستان ہے۔۔۔اور یہاں فش ہاربر بھی ہے۔۔۔چونکہ ان تمام علاقوں کا ذریعہ معاش ماہی گیری ہے۔۔۔کوسٹل ہائی وے کی تعمیر سے پہلے ان سارے علاقوں کی زیادہ تر مچھلی ضائع ہو جاتی تھی۔۔۔کیونکہ تب یہاں سے کراچی پہنچنے کے لئے ایک ٹوٹا پھوٹا کچا راستہ تھا جس کے ذریعے کراچی پہنچنے میں دو سے تین دن لگتے تھے۔۔۔اور اتنے وقت میں زیادہ تر مچھلی خراب ہو جاتی تھی۔۔۔لیکن اب کوسٹل ہائی وے کی بدولت یہ مسافت محض چھ سے سات گھنٹے کی ہو گئی ہے۔۔۔اوریہ ایک شاہراہ ان تمام لوگوں کی معاشی خوشخالی کی امید بن کر اُبھری ہے۔
پسنی سے قریباً ایک سو تیس کلومیٹرکی مسافت پہ گوادر ہے۔۔۔گوادر دو بلوچی الفاظ گوات اور در کا مجموعہ ہے۔۔۔گوات کا مطلب ہے تازہ ہوا اور در کا مفہوم ہے دروازہ یعنی۔۔۔تازہ ہوا کا دروازہ۔۔۔کھلی ہوا کا دروازہ۔۔۔اور پھر گزرتے وقت کے ساتھ۔۔۔ بدلتے لب و لہجے سے یہ گوات در سے گوادر ہوتا گیا۔۔۔اور آنے والے وقت میں اس تازہ ہوا کے دروازے سے وطنِ عزیز میں روشن اجلا سویرا پھیلے گا۔۔۔قربانی کا موسم بیت گیا۔۔۔اب خون کے رنگ لانے کا موسم ہے!
استاد عبد المجید گوادر روڈ سے۔۔۔ایشیا کے سب سے بڑے رائونڈ ابائوٹ۔۔۔نیو ٹان مونومنٹ۔۔۔سے ہو کے میرین روڈ کی طرف آئیں تودائیں ہاتھ پاک ایران بارڈر ہے جبکہ۔۔۔بائیں ہاتھ گوادر پورٹ ہے۔۔۔یعنی میرین ڈرائیو روڈ پہ چلیں تو نظر کے سامنے گوادر پورٹ ہوتی ہے اور پیچھے پاک ایران بارڈر۔۔۔ وطن عزیز ان چند خوش نصیب ممالک میں سے ایک ہے جہاں دو ٹھہرے ہوئے سمندر بغل گیر ہوتے ہیں۔۔۔اک ہاتھ پہ ایسٹ بے ہے ۔۔۔جس میں گوادر کی عظیم بندرگاہ ہے۔۔۔اور دوسرے ہاتھ ویسٹ بے ہے۔۔۔اور دیوان جاہ کی مٹیالی پہاڑیاں نیلگوں سمندر کے بیچ بنی ہیں۔۔۔جہاں بادل، پہاڑ،اور سمندرگلے ملتے ہیں۔۔۔خلیج گوادر بحیرہ عرب میں پاک ایران سمندری سرحد پہ خلیج عمان میں واقع ہے۔۔۔ یہ بحیرہ عرب کا قریباً تیس کلومیٹر لمبا اور سولہ کلو میٹر چوڑا راستہ ہے جو پاک ایران سرحد پر سینڈی مکران کے ساحل پر داخل ہوتا ہے۔۔۔ اس کے شمال مغرب میں دریائے دشتیاری بہتا ہے اور شمال مشرق میں دریائے دشت۔۔۔ اس کے مشرقی سرے پہ جیوانی کا قصبہ واقع ہے جو پاکستان کاآخری علاقہ بھی کہلاتا ہے۔۔۔ مشرق میں کلومیٹرز کی ففٹی پہ گوادر شہر ہے جب کہ مغرب میں کلومیٹر ز کی سینچری پہ ایران کی چابہار بندر گاہ ہے جسے گوادر بندر گاہ کے مقابلے پہ لانے کے لئے دشمن ممالک نے پیسہ پانی کی طرح بہایا لیکن بے سود!
گوادر سے قریباً پچھتر کلومیٹر کی مسافت پہ پاکستان کی آخری آبادی ہے۔۔۔جیوانی۔۔۔یہاں ایک عجائب گھر ہے جس میں پچاس فٹ طویل دیوہیکل وہیل مچھلی کا ڈھانچہ محفوظ ہے۔۔۔جیوانی سے آگے باسٹھ کلومیٹر کی مسافت پہ پاک ایران بارڈر ہے۔۔۔بارڈر تک کا تمام راستہ ویران ہے۔۔۔محض چیک پوسٹوں پہ تعینات محافظوں کے سوا تمام راستے میں کوئی ذی روح دکھائی نہیں دیتا۔۔۔پسنی سے جیوانی تک مسلسل ریت کے طوفان آتے ہیں۔۔۔کبھی کبھی تو یہ طوفان ہفتوں چلتے ہیں۔۔۔اس لئے اشیائے خورو نوش کا انتظام مکمل رکھیں۔
گوادر بندرگاہ اورپاک چائنہ اقتصادی راہداری کی حفاظت پاک آرمی اورپاک بحریہ کو سونپی گئی ہے۔۔۔اور پاک بحریہ نے اس مقصد کے لئے جدید ترین آلات سے لیس خصوصی ٹاسک فورس TF-88 تشکیل دی ہے جو پاک آرمی کے سپیشل سکیورٹی ڈویژن کے ساتھ مل کر فرائض سر انجام دے رہی ہے۔۔۔دنیا کی بحری تاریخ میں شاندار ماضی کی حامل پاک بحریہ کی صلاحیتوں کی دنیا معترف ہے۔۔۔آپریشن دوارکا آج بھی پاک بحریہ کے ماتھے پہ جھومر کی طرح سجا ہے جب ستمبر 1965 کی پاک بھارت جنگ میں پاک بحریہ نے حملہ کرکے دشمن کو ان کے ہی سمندروں تک محدود کردیاتھا۔۔۔آج دشمن گوادر پہ ایسے ہی عزائم لئے بیٹھا ہے لیکن کوئی بھی چال چلنے سے پہلے پینسٹھ کی جنگ کو مت بھولے۔۔۔افواجِ پاکستان پہلے سے زیادہ بیدار اور جدید ترین آلات سے لیس ہر پل چوکس ہیں۔
یہ شاہراہ محض ایک سڑک نہیں ہے۔۔۔یہ شاہراہِ محبت ہے۔۔۔جو دلوں کو جوڑتی ہے۔۔۔روحوں کو ملاتی ہے۔۔۔سندھی، بلوچی، پنجابی، پٹھان کے سارے فرق مٹا کر فقط پاکستانی بناتی ہے۔۔۔ایک ہوئے تھے تو یہ ملک بنا تھا۔۔۔ایک رہیں گے تو ہی یہ ملک بچے گا۔۔۔اور جب بات پاکستان کی ہو تو پھر ہم نہ سندھی ہوتے ہیں نہ بلوچی نہ پنجابی نہ پٹھان۔۔۔تب ہم صرف پاکستانی ہوتے ہیں۔۔۔بات وطن کی ہو تو پھر فقط سات لاکھ فوج نہیں ہوتی ہم بائیس کروڑ عوام فوجی بن جاتے ہیں۔۔۔پھر قوم کا ہر فرد سپاہی ہوتا ہے اور اپنی افواج کے کاندھے سے کاندھا ملا کر کھڑا ہوتا ہے۔۔۔ہمیں کل بھی اپنی افواج پر مکمل بھروسہ تھا اور آج بھی یقین ہے کہ یہ کٹ تو جائیں گے لیکن وطن پہ آنچ نہیں آنے دیں گے۔۔۔
    سو جا ئوعزیزو کہ فصیلوں پہ ہر اک سمت
    ہم لوگ ابھی زندہ و بیدار کھڑے ہیں! ||


[email protected] 


 

یہ تحریر 83مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP