قومی و بین الاقوامی ایشوز

بلوچستان کی معاشرتی و معاشی ترقی اور ترجیحات

بلوچستان کا صوبہ اپنے محلِ وقوع ، رقبے اوروسائل کے اعتبار سے پاکستان کے باقی صوبوں کی طرح انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ بلوچستان کی ترقی میں پاکستان کی ترقی پوشیدہ ہے۔ ماضی قریب میں حکومتِ پاکستان اور خصوصی طور پر پاک افواج نے صوبہ بلوچستان کے تمام اضلاع اور قومیتوں کی ترقی اور فلاح و بہبود کے لئے بہت خدمات سرانجام دی ہیں۔ تاہم اِس تحریر میں بلوچستان کے تین جنوبی اضلاع پر فوکس کیا گیا ہے۔ اگلے شماروں میں بلوچستان کے باقی اضلاع کی ترقی کا احوال بھی درج کیا جائے گا۔



بلوچستان کے تین اضلاع خضدار ،قلات اور آواران پورے ملک کے لئے اہمیت کے حامل اور تاریخ کے اعتبار سے منفر د مقام رکھتے ہیں ۔ان اضلاع میں سکونت پذیر لوگ، جغرافیائی حدود ،محل و وقوع، قدرتی و معدنی وسائل ، بناوٹ ، قدیم ثقافتی طرزِ عمل کی وجہ سے ہمیشہ توجہ کا مرکز رہے ۔یہاں کی قدرتی جھیل ، فلک بوس وسنگلاخ پہاڑ جہاں خوبصورت ہیں وہیں معدنی وسائل سے لبریزبھی ہیں۔خوبصورت وادیوں کا نظارہ ،دلکش و دلفریب سیاحتی مقامات، کھائیاں ، غار، درے اور صاف پانی،بہتی آبشاریں یہاں کی خوبصورتی کو پوری دنیا میں اعلیٰ و ارفع بنادیتی ہیں۔
ان اضلاع کے تاریخی پس منظر اور قدرتی لینڈ سکیپ کی اپنی الگ پہچان ہے، خضدار کو 1974میں ضلع کادرجہ ملا۔، قبل ازیں یہ قلات ضلع میں شامل تھا۔ خضدار کی آبادی آٹھ لاکھ دو ہزار دو سو سات اور رقبہ پینتیس ہزار تین سو اسی مربع کلومیٹرزپرمشتمل ہے ۔ وڈھ ، نال ، کرخ ،زہری اس کی تحصیلیں اور خضدار صدر مقام ہے۔یہاں کی اکثریت براہوی زبان بولنے والوں کی ہے اردو عام فہم اور رابطے کی زبان ہے ۔ خضدار شہر نیشنل ہائی وے این 25پر واقع ہے جسے عرف عام میں آرسی ڈی ہائی وے یعنی ریجنل کوآپریشن فار ڈویلپمنٹ ہائی وے کانام دیا جاتا ہے۔ جو کہ علاقائی تعاون برائے ترقی تنظیم کے نام سے منسوب ہے۔ یہ پاکستان ،ایران اور ترکی کو ملانے کے لئے ایک معاہدے کے تحت بنائی گئی تھی ۔اب این ایچ اے کے نمبر شمار میں اسے این 25کہا جاتا ہے۔ خضد ار سندھ کے دارالحکومت کراچی سے 300جب کہ رتوڈیرو سے 259 کلومیٹرکی دوری پر واقع ہے۔ ایم 8شاہراہ خضدار کو رتوڈیرو سندھ سے لنک کرتی ہے جس کی تعمیر تین سال قبل مکمل ہوچکی ہے اور آمدورفت اور تجارت کے لئے استعمال ہورہی ہے ۔ این 30خضدار بیسیمہ شاہراہ کی تعمیر کا آغاز ہوچکا ہے جس کومکمل کرنے کا ہدف آئندہ سال مقرر کیا گیا ہے ، ایم 8اوراین 30دونوں شاہراہیں سی پیک کاحصہ ہیں۔یہ سینٹرل روٹ کہلاتا ہے۔ یہ شاہراہیں خضدار سے لنک ہو کر گزرتی ہیں۔ ان شاہراہوں کے نیٹ ورک کے باعث خضدار گوادر کے بعد سی پیک کے لئے دوسرا مرکز اور گیٹ وے ثابت ہونے والا ہے ۔خضدار ضلع منفرد تاریخی حیثیت اس لئے بھی رکھتا ہے کہ یہاں حضرت عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور میں صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین تشریف لائے۔ ان صحابہ کرام میں سے ایک صحابی سنان بن سلمہ رضی اللہ تعالیٰ  خضدار میں دفن ہیں۔ خضدار کی تاریخ میں فارسی کی پہلی خاتون شاعرہ رابعہ کانام بھی آتا ہے وہ رابعہ خضداری کے نام سے مشہور ہیں۔ 



قلات کوقیامِ پاکستان سے محض چھ سال بعد یعنی 1954میں ضلع کی حیثیت ملی۔قلات کا پرانا نام قیقان تھا ضلع قلات کی آبادی چار لاکھ اُنہترہزار اوررقبہ چھ ہزار چھ سو اکیس مربع کلومیٹر ز ہے ۔اس ضلع کی قلات اور منگچر دو تحصیلیں ہیں، یہاں اکثریت براہوی زبان بولنے والوں کی ہے۔ چند خاندان بلوچی اور فارسی زبان بھی بولتے ہیںجب کہ رابطے کے لئے قومی زبان اردو کا استعمال عمل میں لایا جاتا ہے۔ قلات ضلع بھی نیشنل ہائی وے این 25پر واقع اور بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے 142کلومیٹر کی دوری پر ہے۔ سی پیک کا مشرقی روٹ ہوشاب، سوراب سے ہوتا ہواضلع قلات کو لنک کر رہا ہے۔ قلات ضلع کو اس لئے بھی اہمیت حاصل ہے کہ قیام پاکستان کے فوراً بعد اسی مقام پر پاکستان سے بلوچستان کا الحاق ہوا تھا اور یہاں بانی  پاکستان قائد اعظم رحمہ اللہ کومہمانی کا شرف دے کر انہیں سونے میں تولا گیا تھا ۔
آواران کو 1992میں ضلع کا درجہ ملا اس سے قبل یہ ضلع خضدار کی سب ڈویژن تحصیل تھی اوراس کاپرانا نام کولواہ تھا ، ضلع آوران کی آبادی ایک لاکھ اکیس ہزار چھ سو اسی اور رقبہ انتیس ہزار پانچ سو دس مربع کلومیٹرز ہے انتطامی طور پر یہ ضلع جھائو ، آواران ، مشکے ، یعنی تین تحصیلوںپر مشتمل ہے،یہاں اکثریت بلوچی زبان بولنے والوں کی ہے۔شیرین اور فرہاد دو ایسے نام ہیں جو برصغیر میں تاریخ بن گئے تھے جن پر پاکستان اور بھارت میں اردو اورکئی زبانوں میںشہرت یافتہ فلمیں بن چکی ہیں ۔انہیںدنیا کے افسانوی کردار کہیں یا پیار و محبت کی حقیقی داستان، شیرین اور فرہادکا مزار ضلع آواران کے علاقے جھائو میں واقعہ ہے ا س لئے یہ مزار بھی آواران کے لئے تاریخ بن چکا ہے ۔
خضدار ، قلات ، آواران کے پہاڑوں میںقدرت کے انمول خزانے چھپے ہوئے ہیں۔ ، خضدار میں ماربل ، کرومائیٹ ، بیرائیٹ، لڈاینڈ زنک سمیت دیگر قیمتی دھاتیں موجود ہیں ۔خضدار کی زمین پیداوار کے لحاظ سے بھی زرخیز ہے یہاں تمام اقسام کی اجناس، پھلوں اور سبزیوںکی پیداوار ہوتی ہے ،جب کہ یہاں کی زمین کاٹن کی کاشت کے لئے موزوں ہے اور یہاں کے لوگ کاٹن کاشت کرکے اچھی خاصی آمدنی حاصل کرتے ہیں۔ خضدا ر میں زیتون ، مورنگا، شہتوت، انار، انگور، بادام،کھجور، کے درخت لگائے جاتے ہیں ۔ خضدار گلہ بانی کے لئے مشہور ہے۔ یہاں زراعت کے بعد لوگوں کا انحصار زیادہ تر گلہ بانی پر ہے ۔ گلہ بانی سے وابستہ لوگ پہاڑی اور دیہی علاقوں میں رہائش پذیر ہیں جہاں وہ اپنی بھیڑ بکریوں سے دودھ، مکھن ، پنیر ، اور گوشت حاصل کرتے ہیں ،خضدار میںمتعدد تفریحی مقامات اور آبشاریں ہیںجن میں قابل ذکر مولہ چٹوک کا تفریحی مقام ہے جہاں ملک کے مختلف حصوں سے سیاح یہا ںتفریح کے لئے آتے ہیں۔ خضدار میں یونیورسٹیز اور کالجز قائم ہیں ، بلوچستان یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنا لوجی ،سردار بہادر خان وومن یونیورسٹی خضدار کیمپس، زیر تعمیر سکندرزہری یونیورسٹی ، ایگریکلچرواٹراینڈمیرین یونیورسٹی وڈھ کیمپس، میڈیکل کالج خضدار،بلوچستان ریذیڈینشل کالج، گرلزو بوائز ڈگری کالجز ، ایلیمینٹری کالج خضدار،سپیشل ایجوکیشن سکول خضدار،جھالاوان لاء کالج خضدارجیسے معروف تعلیمی مراکز قائم ہیں ۔
قلات ضلع میں خوبانی ، سیب اور چیری کے باغات ہیں اور یہ ضلع ان پھلوں کے لئے مشہور ہے ، قلات میں تیل و گیس کی تلاش بھی جاری ہے حالیہ دنوں میں یہاں گیس کے ذخائر دریافت ہونے کی خبریں سامنے آرہی ہیں،یہاں ہربوئی کا تفریحی مقام کافی خوبصورت ہے جہاں ملک بھر سے لوگ تفریح کے لئے آتے ہیں ،قلات میں ڈگری کالج اور ایلیمینٹری کالج قائم ہیں۔
آواران ضلع کھجوروں کی پیداوار کے لئے مشہور ہے یہاں ہرقسم کی کھجور ہوتی ہے ۔ یہاں کے لوگ بڑی تعداد میں پیاز کی کاشتکاری کرتے ہیں ۔
چند سال قبل یہ اضلاع شورش زدہ تھے اور قیام امن ان علاقوں کے عوام کے لئے خواب بن چکا تھا،بیشتر آبادی کراچی اور مضافاتی علاقوں میں نقل مکانی کرچکی تھی ،بے گناہ افراد کوٹارگٹ کرکے شہید کیا جارہا تھا ، تاہم سکیورٹی فورسز کی وجہ سے وہاں اب کافی حد تک امن قائم ہوچکا ہے ،حالات معمول پر آچکے ہیں ، نقل مکانی کرنے والے افراد واپس اپنے گھروں کو آرہے ہیں ۔ سکیورٹی فورسز قیامِ امن کے خواب کو حقیقت بنا کر دیر پا امن قائم کرنے میں کامیاب ہوئیں ، آج خضدار ، قلات ، آواران میں امن آچکا ہے ، لوگ بلاخوف وخطر اپنے روز مرہ کے معاملات نمٹارہے ہیں ، زندگی پُرسکون انداز سے رواں دواں ہے ، تجارت و کاروبار عروج پر ہے ۔
 پاک آرمی کے زیرِ اہتمام اقدامات
اِ ن اضلاع میں پاک آرمی نہ صرف قیام امن کے لئے نتیجہ خیز کوششیں عمل میں لائی ہے بلکہ انہوںنے فلاح و خوشحالی کی بیش بہا خدمات سرانجام دینے میں بھی صف اوّل کا کردار نبھایا ہے، پاک آرمی کا ان اضلاع کے عوام کے سروں پر دست شفقت رکھنا اور ان کی دلجوئی کرناناقابل فراموش اور سنہرے الفاظ سے لکھنے کے قابل ہے۔ یقینا پاک آرمی کی ان خدمات اور فلاحی منصوبوں سے بلوچستان میں احساسِ محرومی میں کمی اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں کافی حد تک مدد مل رہی ہے،پاک آرمی کی جانب سے خضدار، قلات اور آواران میں ایجوکیشن ،صحت سمیت دیگر مختلف و متعدد شعبوں میںکام کئے گئے ہیں ۔
پاک آرمی کی جانب سے خضدار قلات آواران میں شعبہ تعلیم ،صحت و دیگر متعدد شعبوں میں مسائل حل کرنے کے لئے جو منصوبے بنائے گئے اور پھر ان کو عملی جامہ پہنایا گیا ہے ان کی تفصیل کچھ اس طرح ہے ۔



تعلیم
 ان تین اضلاع میں دو سو کے قریب سکولوں کی تعمیرو مرمت پر رقم خرچ کرکے ان کے حالات بہتربنائے گئے ہیں۔ ای لرننگ لیبارٹریزکے چار منصوبے دیئے گئے جن میں سے ایک خضداراور تین آواران میں قائم ہیں۔   بوائز ہاسٹل خضدار کی اپ گریڈیشن کی گئی ہے ۔ آواران کی بچیوں کے لئے تعلیم اور ہاسٹل کی سہولت بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں دی گئی ہے۔ اس مقصد کے لئے کوئٹہ میں فاطمہ گرلز ہاسٹل قائم کیا گیا ہے جہاں بچیاں مفت تعلیم حاصل کررہی ہیں اورانہیں وہاں مفت رہائش کی سہولت میں بھی دی جارہی ہے۔  آواران میں کیڈٹ کالج کی تعمیر ہورہی ہے ،جو تکمیل کے آخری مراحل میں ہے، اس تعلیمی ادارے کے قیام سے آواران و بلوچستان کے دیگر حصوں کے طلباء کو تعلیم کے وسیع مواقع میسرآئیں گے ۔
صحت
پاک آرمی کی جانب سے 160ملین روپے کی لاگت سے خضدار اور آوارن کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرہاسپٹلز کی تعمیر و مرمت کی گئی ہے اور انہیں مختلف سہولیات سے آراستہ کیاگیا ہے اورنئے شعبوں کا قیام عمل میں لایا گیاہے ۔ خضدار،  قلات، آوران میں ٹیلی میڈیسن سینٹربنائے گئے ہیں جن کی تعداد 11ہے ۔ خضدار ضلع کی تحصیل وڈھ میں قائم رورل ہیلتھ سینٹر (آر ایچ سی)اور 15سے زائد بیسک ہیلتھ یونٹس (بی ایچ یوز)کی تعمیر و مرمت کی گئی اورانہیں سہولیات سے آراستہ کیا گیا ۔ خضدار اور آواران میں دس فری آئی کیمپس کا انعقاد عمل میں لایاگیا، جہاں دو ہزار سے زائد مریضوں کا مفت علاج کیا گیا ۔ خضدار آواران اور قلات میں 60کے قریب فری میڈیکل کیمپ لگائے گئے،جن میں ہزاروں مریضوںکا مفت علاج کیا گیا اور انہیں مفت ادویات فراہم کی گئی ۔ ان اضلاع میں عوام کی سہولیات کی خاطر موبائل لیبز کی سہولیات بھی فراہم کی گئی ہیں۔ آواران ضلع اور اس کی تحصیل مشکے میں دو ایمبولینسز کی سہولت دی گئی جو کہ مریضوں کو ایک شہر سے دوسرے شہر تک منتقلی کی سروس مہیاکرتی ہیں۔



 خضدار آواران اور قلات میں تعلیم اور صحت کے علاوہ دیگر مختلف شعبوں میں عوام کے مسائل اور ان کے حل اور ان کی استعدادکار اور صلاحیتوں میں اضافے کے لئے اقدامات عمل میں لائے گئے ہیں، ضلع آواران میں فٹ بال سٹیچنگ یونٹ قائم کیا گیا ہے جہاں بچے اور نوجوان فٹ بال بناکر مناسب آمدنی حاصل کررہے ہیں ۔ آواران اور مشکے میں کارپٹ اینڈرگ انڈسٹریزکا قیام عمل میں لایا گیا ہے ۔ ضلع آواران اور اس کی تحصیل مشکے میں کھجوروں کے 6ہزار درختوں کی نرسری لگائی گئی ہے ، جن سے 24ہزار کھجور کے درختوں کی پیداوار ہوگی اور مقامی لوگوں کو مفت کھجور کے درخت دیئے جائیں گے۔  آواران میں ڈرپ ایریگیشن کو بھی ترقی دی جارہی ہے، جس سے عوام کو کاشتکاری میں سہولت میسرآئے گی ۔ آواران ، خضدار ، اور مشکے میں بے روزگاری کم کرنے کے لئے 100دکانیں بناکربمع سامان کے مقامی لوگوں کوفراہم کی گئی ہیں تاکہ وہ کاروبار سے وابستہ رہ کر باعزت روزگار کما سکیں ان دکانوں میں اب کاروبار تسلسل کے ساتھ جاری ہے ۔ آواران میں بس سٹینڈ کا قیام عمل میں لایا گیا ہے جہاں انتظار گاہ میں مناسب سہولیات موجود ہیں۔ دور دراز علاقوں سے آنے والے مسافروں کو کسی قسم کی دقت کا سامنا نہیں کرنا پڑتا ہے ۔ آواران ضلع کے ایسے علاقوں میں جہاں عوام کو پانی کے حصول میں مشکلات کا سامنا تھا وہاں24 واٹر سپلائی سکیمیں قائم کی گئی ہے ،جن سے سیکڑوںافراد پینے کا صاف پانی حاصل کررہے ہیں۔ آواران میں500 گھرانوں کو شمسی توانائی کی سہولت دی گئی ہے ، جن سے لوگ روشنی حاصل کررہے ہیں۔ پاک آرمی نے پی پی ایل کے تعاون سے آواران ضلع میں ایک ایل پی جی پلانٹ  لگایا گیا، قدرتی گیس کی صورت میں لوگوں کو سہولت مل رہی ہے ۔ سعودی فنڈنگ کے تحت آوران ضلع میں زلزلہ سے متاثرہ علاقوں میں ہائوس ری کنسٹرکشن آواران پراجیکٹ کے دوسرے مرحلے کا آغاز کردیاگیا ہے ، جس کے تحت 16ہزار سے 24ہزار مکانوں کی تعمیر و مرمت کی جائے گی، اس پراجیکٹ کے تحت متعلقہ علاقوں میں واٹر سپلائی سکیمیں، میڈیکل سہولیات، سکول و مدارس کی تعمیر و فراہمی بھی شامل ہے۔  آوران ضلع میں20کاریزوں کی صفائی کی گئی ہے ان صفائی شدہ کاریزوں میں نوکجو اور پروار کے کاریز بھی شامل ہیں۔  آواران کے علاقہ جیبری کو ماڈل ولیج کا درجہ دے کر وہاں پر پینے کا صاف پانی فراہم کیا گیا ہے ،شمسی توانائی کی سہولت دی گئی ہے، چلڈرن پارک ،سکولز اور دکانوں کا قیام عمل میں لایا گیاہے۔ آواران میں وومن ووکیشنل سینٹر بنا یا گیا ہے جہاں عورتوں کو کڑھائی، سلائی کا ہنر سکھانے کی سہولت دی گئی ہے۔  زراعت کے شعبے کو مدِ نظر رکھتے ہوئے آوران اور اس کے دیگر علاقوں جھائو اور مشکے میں کاشت کاروں کو مفت ٹریکٹر بھی فراہم کیا جاچکے ہیں ۔ جھائو میں ریسٹ ایر یا بنایا گیا ہے ، پاک آر می نے او جی ڈی سی ایل کے تعاون سے آواران کے مختلف علاقوں میں متعدد منصوبوں پر کام کیا ہے ، جن میں واٹر سپلائی سکیموں کاقیام ،آراو پلانٹس کی تنصیب اور تعمیر و مرمت کے منصوبے شامل ہیں۔ پاک آرمی بلوچستان کے عوام کے شانہ بشانہ رہی ہے،چاہے وہ بلوچ ثقافتی دن ہو،23مارچ، 14اگست، 6ستمبر یا دیگر قومی تقریبات ہوں، پاک فوج عوام کی حوصلہ افزائی کے لئے ان کے درمیان رہی اور جوش و جذبے کے تحت ان تقریبات ، ثقافتی و خوشیوں کے دن کو منایا اور ان تقریبات کے انعقاد کے لئے بھر پورانداز میں مالی سپورٹ بھی دی۔ پاک آرمی کی جانب سے ان اضلاع میں کھلاڑیوں اورطلباء و طالبات کی حوصلہ افزائی کے لئے سپورٹس گالا ایونٹس اور کوئز مقابلوں کاانعقاد وقتاً فوقتاً ہوتا رہاہے ۔
چیلنجز
 خضدار، آواران، قلات میں وہ کیا مسائل ہیںجوا ن علاقوں کو درپیش ہیں ان کی تفصیل کچھ اس طرح ہے ۔ 
 ان تینوں اضلاع میں بہت سارے مسائل وچیلنجز قدرے مشترک ہیں ، تعلیم ، صحت ، پانی ، مواصلات کا فقدان اور روزگار و خوراک کی کمی، بڑھتی ہوئی غربت اہم مسائل اور حل طلب ہیں ،یہ اضلاع زیادہ تر پہاڑی اور دشوار گزار علاقوں پر مشتمل ہیں جہاں دیہات سے شہر تک اور شہرسے ملک کے دیگر صوبوں تک زمینی رابطے کی کمی ہے، خضدار اور قلات کی نسبت ضلع آواران روڈ نیٹ ورک کے دائرہ کار سے باہر ہے، خضداراور قلات سے گزر نے والی این 25شاہراہ سنگل جب کہ ٹریفک کا حجم کافی زیادہ ہے ، حادثات کی شرح اس روڈپر آئے روز بڑھ رہی ہے ، خضدار ٹو رتوڈیرو شاہراہ بنائی گئی ہے تاہم دشوار گزارپہاڑی علاقہ ونگوہل پر لینڈ سلائیڈنگ سے ٹریفک کی روانی میں مسلسل خلل پیدا ہورہاہے ۔ان تینوں اضلاع خاص کر خضدار میں معدنی وسائل کی کوئی کمی نہیں ہے ،ماربل ،کرومائیٹ، بیرائیٹ سمیت دیگر کئی اقسام ہیں، تاہم ماربل سٹی نہ ہونے کی وجہ سے یہاں مائننگ کے کاروبارکو زیادہ ترقی نہیں مل سکی ہے اور نہ ہی اسے ملکی معیشت کو بہتر بنانے اور مقامی طور پر غربت کے خاتمے کا ذریعہ بنایا جاسکا ہے ، آوران میں کھجورکے باغات، اوربڑے پیمانے پر پیاز کی فصلیں، خضدار میں کاٹن ،زیتون، انگور ، قلات میں خوبانی ، چیری،سیب کے باغات اور فصلات موجود ہیں تاہم انہیں اچھی مارکیٹ نہ ملنے کے باعث وہ اہداف حاصل نہیں ہوسکے جس کی ضرورت ہے۔خضدار قلات آواران میں کوئی ایسی صنعت بھی نہیں ہے کہ جس سے لوگ وابستہ رہ کر باروزگار ہوں ۔
تجاویز و اہداف
 خضدار آواران اور قلات میں سڑکوں کا ایک مربوط ومضبوط نظام قائم کیاجائے تاکہ ان اضلاع کی ملک کے بڑے شہروں تک سفری اور تجارتی رسائی آسان انداز میں ہوسکے ، تاہم خوش آئندہ امر یہ ہے کہ حالیہ دنوں میں آواران ہوشاب اور خضدار روڈ کا ٹینڈ ر ہوچکا ہے اور اس پر بہت جلد کام شروع ہوگا، اس روڈ کی کمی کافی عرصے سے شدت کے ساتھ محسوس کی جارہی تھی تاہم اب اس کی جانب پیش رفت کسی بھی خوشخبری سے کم نہیں ہے اس روڈ منصوبے کا تمام ترسہرا پاک آرمی کے سرہے کہ جنہوںنے اس روڈ کی تجویزاور اس کو بنانے کی خواہش ظاہر کی تھی اور اب اسے عملی جامہ پہنایاجارہاہے، جس سے آوران کا قومی شاہراہ سے رابطہ بحال ہوجائے گا ۔روڈنیٹ ورک کا بننا اہم ترجیحات ہونی چاہئے اور اس صورت میں ان علاقوں کو کافی ترقی دی جاسکتی ہے۔  خضدار میں مائننگ سمیت دیگر وسائل کے وسیع تر ذخائر موجود ہیں، یہاں ماربل سٹی کا قیام عمل لایا جائے ، ماربل سٹی بننے سے یہاں نہ صرف روزگار کے مواقع پیدا ہوںگے بلکہ اس سے معیشت کوبھی سہارا مل سکے گا ۔ تعلیم اور صحت کے شعبوں کو ترقی دی جائے ،دیہی اور شہری علاقوں میںتعلیمی ادارے اور صحت کے مراکز قائم کئے جائیں، مقامی ڈاکٹرز ، ہیلتھ ورکز کی تعیناتی عمل میں لائی جائے۔ ان اضلاع میں لائیو اسٹاک بڑی اہمیت کا حامل ہے ،مالداروں کی فلاح و بہبودکے لئے خصوصی پیکیج دیاجائے اورمختلف بین الاقوامی نسل کے بھیڑ بکری، گائے پالنے کے لئے انہیں فراہم کی جائیں اور مزید مختلف علاقوں میں ان جانوروں کے فارمز بنائے جائیں تاکہ لائیو سٹاک کا شعبہ مزید ترقی کرے۔ آوران کی کھجور اور پیاز کی پیداوار کو ملکی مارکیٹ تک آسانی سے رسائی دینے کے لئے اقدامات کئے جائیں ، اسی طرح خضدار میںکاٹن کی کاشت اورزیتون کے درخت لگانے کے لئے مقامی کاشتکاروں کو شعور وآگاہی دی جائے ، محکمہ زراعت و توسیع زراعت کے محکمے پہلے سے قائم ہیں ان کو واضح پالیسی اور پروگرام دیا جائے تاکہ وہ زیتون کے درخت لگانے کے عمل کو پورے ڈسٹرکٹ میں وسعت دیں اور اسے کمائی کا ذریعہ بنائیں ۔  خضدار آوران اور قلات میں ڈیمز کی کمی ہے ،جس کے باعث بارشوں کا پانی ندی نالوں میں بہہ کر ضائع ہوجاتا ہے ، یہاں  ڈیمز بنائے جائیںجن کے ذریعے پانی کو محفوظ بنا کر  کاشت کاری کو وسیع پیمانے پر فروغ دیا جائے ۔خضدار بلوچستان کا تیسرا بڑا ضلع ہے جہاں کافی سردی پڑتی ہے قدرتی گیس کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے عوام کو کافی مشکلات کاسامنا ہے ، جب کہ ایندھن کے لئے وہ درختوں کو کاٹ کر استعمال کررہے ہیں ، خضدار میں قدرتی گیس کی سہولت دے کر یہاں کے عوام کی دیرینہ خواہش پوری کی جائے ، خضدار رتوڈیرو شاہراہ کے ونگوہل پر لینڈ سلائڈنگ کی وجہ سے ٹریفک معطل ہو کر رہ جاتی ہے ، یہاں ٹنل بنانے کو ترجیحات میں شامل کیا جانا چاہئے ، تاکہ اس راستے پر سفر میں مزید آسانی پیدا ہو۔خضدارمیں ائیر پورٹ قائم ہے تاہم وہ فلائٹس کے لئے بند ہے ، خضدار ائیر پورٹ کو فعال بنایاجائے اور اندرونِ ملک کے لئے یہاں سے فلائٹ سروس کا آغاز کیا جائے ، خضدار ضلع کے چاروں طرف پہاڑی علاقوں میں آبشاریں اور تفریحی مقامات ہیں، ان کو ٹورازم کا مقام دے کر وہاں ملکی وبین الاقوامی سیاحوں سے متعارف کرایا جائے۔خضدار اور قلات کی حدود میں این 25موٹروے پولیس تعینات کیاجائے ،خضدار قلات اور آواران کے اسٹوڈنٹس کے لئے ملک بھر کی جامعات و کالجز میں سکالرشپس میں اضافہ کیا جائے ،مقامی اضلاع کی بے روزگاری ختم کرنے کے لئے یہاں مختلف صنعتی یونٹس کھولے جائیں ۔



خلاصہ تحریر ہے کہ پہلامرحلہ ان اضلاع میں قیامِ امن کا تھا قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اپنی جان پر کھیل کر یہاں کے عوام کو پُرسکون ماحول اور امن دیا ،خضدار، قلات اور آواران میں مکمل امن آچکا ہے ، اب وقت ہے یہاں ترقی خوشحالی دینے اور عوام کو زندگی کی بنیادی سہولیات کی فراہمی کا ، پاک آرمی سرحدوں کی حفاظت کے ساتھ ساتھ ان پسماندہ علاقوں کی فلاح وبہبود کے پروگرامز کے امور کو بھی احسن انداز میں نبھاکر تعلیم ،صحت، پینے کے صاف پانی ، روزگار سمیت تمام شعبوں میں قابل ستائش انداز میں کام کررہی ہے اور اب پاک آرمی کی تجاویز کی روشنی میں آواران ہوشاب خضدار روڈ بننے جارہی ہے ،پاک آرمی کی عوام دوستی سے عوام خوشی اور اطمینان کا اظہار کررہے ہیں۔قیام ا من کے بعد اب تعمیرو ترقی کا وژن آگے بڑھ رہاہے جو پسماندگی کے خاتمے تک سفر جاری رہے گا ، ضرورت اس امرکی ہے کہ عوام کی ان ترجیحات او ر ضرورتوں کو پورا کرنے اور اہداف حاصل کرنے پر بتدریج کام کیا جائے تو یہاں بے روز گاری غربت و احساس محرومی میں کافی حدتک کمی لائی جاسکتی ہے۔ ||


مضمون نگار بلوچستان سے قومی روزنامہ  اور نیوز چینل سے وابستہ  ہیں، آن لائن ویب سائٹ کے ایڈیٹر اور کالم نویس بھی  ہیں۔ 
 [email protected]

یہ تحریر 51مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP