قومی و بین الاقوامی ایشوز

بلوچستان میں تعمیر و ترقی 

خطے میں بلوچستان انتہائی اہمیت کا حامل ہے، پاکستان جنوبی ایشیا میں سرمایہ کاری کامرکز بننے جا رہا ہے، اس میں بلوچستان اپنی جغرافیائی اہمیت کے باعث تجارتی مرکز ہو گا۔بلوچستان میں بے شمار معدنیات پائی جاتی ہیں، جن میں سونا، کاپر، سنگ مر مر ، کوئلہ ، گیس ،جپسم، کرومائیٹ اورقیمتی پتھر شامل ہیں جبکہ بلوچستان کی لائیو سٹاک اور زراعت اتنی وسیع ہیں کہ اس کا کوئی ثانی نہیں۔ دنیا کی اعلیٰ کھجور بلوچستان کے علاقے کیچ میں پیداہوتی ہے،ہزاروں ٹن کھجور کی پیدا وار میں بلوچستان کا یہ جنوبی حصہ سرفہرست ہے۔فشریز کا بھی یہاں کی معیشت میں بڑا عمل دخل ہے۔ ایرانی سرحد نزدیک ہونے سے درآمد وبرآمد کی مد میں بھی کیچ مکران میں سرمایہ کاری کے بڑے بڑے مواقع موجود ہیں۔ بلوچستان اپنے منفرد جغرافیہ ، معدنیات ، گوادر، سی پیک، سرحدی گیٹ وے، طویل ساحلی پٹی، تجارتی حوالوں سے دوممالک کے بارڈرز سمیت سینٹرل ایشیائی ممالک اور یورپ تک رسائی کے حوالے سے بھی اہمیت کا حامل ہے۔ ماضی میں یہاں ترقی نہ ہونے کے برابر رہی ہے، ماضی میں اقتدار کے ایوانوں نے بلوچستان کے حوالے سے بلند وبانگ دعوے تو کئے مگر زمینی حقائق اس کے برعکس نکلے۔ حالانکہ بلوچستان وطن عزیز کا وہ خوبصورت ترین علاقہ ہے۔جسے اللہ تعالیٰ نے بہت سی نعمتوں سے نوازا ہے۔ پاکستان کے انتہائی جنوبی حصے میں واقع بلوچستان کا علاقہ مکران بھی گوادر اور سی پیک کے حوالے سے بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ اسی کے پیش نظربلوچستان کی ترقی اور عوامی فلاح وبہبود کے حوالے سے وزیراعظم عمران خان نے اپنے دورہ تربت کے موقع پر زمینی حقائق کی روشنی میں بلوچستان کی ترقی کے ملک کی مجموعی ترقی کے ساتھ براہِ راست تعلق کو بھی اجاگر کیا۔وزیر اعظم  نے بلوچستان کے عوام کے مسائل کے حل کرنے اور ترقی کے لئے خصوصی توجہ دیتے ہوئے تربت کا تاریخی دورہ کیا ۔



اپنے دورے کے موقع پر وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ماضی میں بلوچستان کو پسماندہ رکھا گیا ، اس کی ترقی پر کوئی خاص توجہ نہیں دی گئی،تاہم اب سب سے زیادہ زور بلوچستان کو اوپر اٹھانے پر لگائیں گے، سیاسی مفاد سے بالاتر ہوکر بلوچستان پر خصوصی توجہ اس لئے دی جارہی ہے کہ یہ ترقی میں پیچھے رہ گیا ہے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہماری حکومت، بلوچستان کی ہر طرح مدد کرے گی اور خاص طور پر تعلیم پر توجہ دی جائے گی۔پنجاب سب سے بڑا صوبہ ہے اور یہ بلوچستان میں سرمایہ کاری کر رہا ہے، سکالر شپس کو 135 سے بڑھا کر 360 کردیا گیا ہے اور اس پر میں پنجاب کے وزیر اعلیٰ کو داد دیتا ہوں۔ سب کو احساس ہونا چاہئے کہ بلوچستان ترقی کرے گا تو پاکستان ترقی کرے گا اور پاکستان ترقی کرے گا تو بلوچستان ترقی کرے گا، ہم سب اکٹھے ہیں۔ بلوچستان کی پسماندگی اورمحرومیوں کی فہرست طویل  ہے۔اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے مکران کے علاقوںکی پسماندگی کو دور کرنے اور وہاں ترقیاتی کاموں کی ضرورت پربھی زور دیا ۔
 یہ بات بڑی اہمیت کی حامل تھی کہ اس علاقے میںکسی وزیراعظم کا یہ پہلا دورہ تھا،گویا وزیر اعظم پاکستان عمران خان بلوچستان کی تعمیر و ترقی میں خصوصی دلچسپی لے رہے ہیں، سی پیک جیسا گیم چینجر منصوبہ خطے میں خوشحالی کی نوید ہے، سی پیک کے ان منصوبوں سے سب سے پہلے مکران ڈویژن کے عوام مستفید ہوں گے۔ سی پیک منصوبے میں گوادر کے علاوہ بوستان اور حب میں انڈسٹریل زون بنائے جارہے ہیںجبکہ مکران میں زراعت اور خصوصاً کجھور کی پیداوار کو بڑھانے کے لئے خصوصی منصوبے تشکیل دئیے گئے ہیں جن کی تکمیل سے اس بیلٹ میں معاشی و اقتصادی ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوگا اور لوگوں کا معیارِ زندگی بلند ہوگا۔ وزیر اعظم عمران خان بلوچستان کو دیگر صوبوں کے برابر ترقی کے مواقع فراہم کرکے بلوچستان کی پائیدار ترقی کے خواہاں ہیں۔اپنے حالیہ دورے کے موقع پر وزیراعظم عمران خان نے کثیر جہتی ترقیاتی منصوبہ جات کے حوالے سے کیچ مکران کے عوام کے لئے اعلانات کئے ، جن میں صحت عامہ کے فروغ کے لئے دو سو دس بنیادی صحت یونٹس کا قیام، تیئس لاکھ افراد کو بہتر طبی سہولیات تک رسائی، سالانہ ایک سو پچاس مقامی نرسز کا اضافہ، احساس نشوونما سے سات ہزار گھروں کی مائیںاور شیر خوار بچے مستفید ہوں گے۔ اسی طرح 320,000 اضافی گھروںکو بجلی فراہم کی جائے گی، 47,000آن گرڈ اور 273,000 آف گرڈ جس سے بجلی کی فراہمی موجودہ بارہ فیصد سے بڑھ کر ستاون فیصد تک چلی جائے گی۔گیس کی فراہمی کے حوالے سے سو فیصد گھروں کو گیس کی فراہمی ممکن بنائی جائے گی،جب کہ فی الوقت صرف چھ فیصد گھرانوں کے لئے گیس دستیاب ہے، احساس پروگرام سے مستفید ہونے والے پندرہ فیصد گھرانوں کو 33 فیصد لاگت پر سبسڈائزڈایل پی جی کی فراہمی میںسبسڈی 1.3 بلین روپے سالانہ ہو گی۔ تعلیمی منصوبے میں 640,000 بچوں کو فاصلاتی تعلیم فراہم کی جائے گی، جن میں 360,000سکول نہ جانے والے بچے اور 280,000طالب علم شامل ہیں۔ وسیلہ تعلیم ڈیجیٹل پروگرام سے اضافی 83,000 بچے سکول جا سکیں گے۔ ڈیجیٹل رسائی کے فروغ کے حوالے سے 35,000 نوجوانوں کو ڈیجیٹل خواندگی کی فراہمی جس سے وہ گھر بیٹھے روزگار حاصل کر سکیں گے۔ انٹر نیٹ کی سہولت سے پانچ لاکھ صارفین مستفید ہوسکیں گے۔ دیگر نمایاں اہداف میں سرحدوں پر چھ تجارتی منڈیوں کا قیام، 25,000 خاندانوں کو غیر مشروط امدادی رقم کی منتقلی ، ماربل او رمعدنی صنعت کے فروغ کے لئے تکنیکی مدد کی فراہمی، سولہ ڈیم ، پانچ لاکھ ملین ایکڑ فٹ آبی ذخائر کی گنجائش مہیا کی جائے گی، اسی طرح 150,000 ایکڑ اضافی اراضی پر کاشت کار ی، ایف ایم ڈی فری زون کے قیام سے لائیوسٹاک کی برآمد میں سہولت دو ہزار ماہی گیروں کوکشتی کی خریداری کے لئے قرض کی فراہمی بھی شامل ہے۔
یہ امر حقیقی ہے کہ جنوبی بلوچستان کے لئے پیکیج سے مذکورہ علاقوں کی بنیادی ڈھانچے میں بہتری آئے گی اور لوگ معاشی طور پر خوشحال ہوںگے بلکہ ان کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا ہوںگی ،منصوبے کے تحت ہوشاب تا آواران ،تربت وپنجگور تک سڑک، تربت یونیورسٹی کی توسیع ،گیشکور ڈیم، مکران میڈیکل کالج میں350بیڈز کے جدید ہسپتال سمیت دیگر سہولیات شامل ہیں۔ تربت میں بلوچستان کے پسماندہ علاقوں کی ترقی کے لئے ترقیاتی پیکیج کاجو اعلان کیاگیا،ا س سے بنیادی ڈھانچے میں بہتری اور معاشی خوش حالی آئے گی اور اس کے نتیجے میں لوگوں کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا کی جا سکیں گی۔ آواران کو پہلی مرتبہ پختہ سڑک کے ذریعے بلوچستان کے باقی شہروں سے جوڑنے کے لئے ہوشاب تا آواران روڈ، ایران سے ملحقہ سرحدی علاقوں مند، زعمران ، بالگتر اور پروم سے مرکزی شہر تربت اور پنجگور تک سڑک کے منصوبے پیکیج کا حصہ ہوں گے۔اسی طرح وزیراعظم کا تربت میں مختلف ترقیاتی منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھنا،یہاں کے عوام کی پسماندگی کے خاتمے اور ترقی میں معاون اور مددگار ثابت ہو گا۔اپنے دورے کے موقع پر وزیر اعظم نے تربت یونیورسٹی میں مختلف ترقیاتی منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھا۔
اس میں دورائے نہیں کہ بلوچستان ایک پسماندہ صوبہ ہے اور اس کے مسائل بے پناہ ہیں۔تاہم وفاق اور صوبائی حکومت مل کر دو حصوں پر مشتمل ایک پیکیج پر کام کررہے ہیں تاکہ بلوچستان کے ان پسماندہ علاقوں کو ملک کے دیگر علاقوں کے برابر لایا جاسکے اور یہاں کے لوگوں کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا کی جاسکیں۔ 
یہ حقیقت اپنی جگہ ہے کہبلوچستان سمیت ملک بھر میں سرمایہ کاری کے فروغ اور پسماندہ علاقوں کی ترقی وخوشحالی کے لئے حکومتی سطح پر مؤثر اور نتیجہ خیز اقدامات اٹھائے جائیں تو ان کی بدولت بلوچستان سمیت ملکی معیشت اور معاشرے پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے بلوچستان کی ترقی کے متعلق جو بات کی گئی ہے اس پر عمل ہو تو بلوچستان کی ترقی سے پورے علاقے پر مثبت اثرات پڑیں گے۔ کیونکہ ماضی میں عملاً بلوچستان کو کبھی ترجیح نہیں دی گئی، بلندو بانگ دعوے تو کئے گئے مگر عمل ندارد، اسی طرح جنوبی بلوچستان کے لئے ترقیاتی پیکیج اور پاک ایران اور پاک افغان سرحدی علاقوں کی ترقی کے منصوبے اور بارڈر مارکیٹوں کے قیام سے ترقی کے نئے دور کا آغاز ہو گا، جس کا فائدہ بلوچستان کے ساتھ ساتھ پورے ملک کوہو گا۔ بدقسمتی سے مستقل اور دیرپا منصوبہ بندی نہ ہونے کی وجہ سے بلوچستان مسلسل پسماندگی کا شکاررہاہے۔ اگر تھوڑی سی توجہ بلوچستان پر دی جائے تو بلوچستان ایک بڑا معاشی انقلاب ثابت ہو گا۔ ||

یہ تحریر 5مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP