متفرقات

بلوچستان قدرتی حسن و قدرتی حیات

صوبہ بلوچستا ن ملک کے تقریباً43فیصد حصے پر محیط ہے۔ وطن عزیز کے دیگر صوبوں کے لوگوں میں ایک تاثر یہ ہے کہ بلوچستان صرف سنگلاخ چٹانوں اورچٹیل پہاڑوں کا علاقہ ہے جبکہ امر واقع یہ ہے کہ یہ صوبہ بلند وبالا پہاڑوں کے ساتھ ساتھ پھلوں کے باغات، خوبصورت جنگلات، جھرنوں، آبشاروں، منفرد ساحل سمند ر، ندی نالوں اورجھیلوں کی سرزمین ہے۔ 
بین الاقوامی سازش کی بنا پریہ صوبہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بدامنی کاشکاررہا جس سے نہ صرف شہر بلکہ جنگلات اورجنگلی حیات بھی متاثرہوئے۔جنگلات میں درختوں کو بے دردی سے کاٹاگیااورجنگلی حیات کابے دریغ شکار کیاگیاجس کی ایک مثال تلور ہے جو کہ سائبریا سے ہجرت کرکے پہلے بلوچستان پہنچتاہے اوراپنی افزائش نسل کرتاہے لیکن غیرقانونی شکاری ایک ایک دن میں سیکڑوں تلور شکارکرلیتے ہیں۔


اسی سلسلے میں صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں جنگلات اورجنگلی حیات کے تحفظ کے لئے صوبائی حکومت اورہیڈکوارٹرسدرن کمانڈکے باہمی اشتراک سے ایک اہم سیمینارمنعقد کیاگیا۔تقریب کے مہمان خصوصی وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ زہری تھے اوراُن کے ہمراہ میجر جنرل سید عدنان احمد، آئی جی ایف سی میجر جنرل شیرافگن، میجرجنرل عابدلطیف ، صوبائی وزراء ، اراکین صوبائی اسمبلی ، ماہرین جنگلات وجنگلی حیات ،طلباء وطالبات اورسول سوسائٹی کے بہت سے افرادنے شرکت کی۔ماہرین کے مطابق بلوچستان میں تقریباً 57لاکھ ایکڑپرجنگلات موجودہیں جن میں سرکاری سطح پر قائم کردہ ہنگول نیشنل پارک ، چلتن نیشنل پارک جوکہ ایک بڑے رقبے پر محیط ہیں، زیارت کے علاقے میں جونیپر (صنوبر)کا جنگل ہے جوکہ ایشیاکاسب سے بڑااورقدیم جنگل ماناجاتاہے۔جہاں آج بھی تقریباً پانچ ہزار سال سے زائد عمر کے درخت موجود ہیں ۔ حال ہی میں حکومت بلوچستان نے زیارت نیشنل پارک بھی قائم کردیا ہے۔ اسی طرح چلغوزہ اورزیتون کے قیمتی جنگلات بھی بلوچستان کے مختلف اضلاع میں پھیلے ہوئے ہیں۔ گوادراورلسبیلہ کے ساحل سمندرپر مینگرو کے وسیع جنگلات واقع ہیں اوران تمام جنگلات میں بہت ہی قیمتی اورنایاب جنگلی حیات موجود ہے جن میں قابل ذکر چوپائے مارخور، اُڑیال، غزالے، چلتن وائلڈ گوٹ، چیتے، بھیڑئیے، سرخ لومڑیاں جبکہ پرندوں میں نایاب چکور،قیمتی باز، سیسی، تلوراور دیگررینگنے والے جانداروں میں سبزکچھوے، کوبراسانپ اور خارپشت وغیرہ پائے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ قیمتی نباتات کاخزانہ بھی موجودہے۔جنگلی حیات ایک فطر ی حسن ہے جس سے انسان کی ماحولیاتی ،ثقافتی ،تفریحی اورجمالیاتی حِس اجاگرہوتی ہے۔ 
سیمینار میں سوالات وجوابات کے سیشن میں ماہرین نے تفصیلی جوابات دئیے اورموضوع کے بنیادی مقاصد سے شرکاء کو آگاہ کیا۔ شرکاء نے کہا کہ جنگل اورجنگلی حیات کے نقصانات کو کم کیاجائے اورآئندہ نایاب چرند ،پرند اوررینگنے والے جانداروں جیسے قیمتی اثاثے کے تحفظ کے لئے مقامی لوگوں کی شراکت سے موثراقدامات کئے جائیں اورعوامی سطح پر مؤثر طریقے سے آگاہی مہم چلائی جائے مزیدیہ کہ حکومتی سطح پر مربوط پالیسیاں اورقانونی سفارشات مرتب کی جائیں اوراُس پر یقینی طورپر عمل درآمدکرایاجائے تاکہ مطلوبہ نتائج حاصل ہوسکیں۔


اس موقع پر تکتوپہاڑی سلسلے کے مقامی نوجوانوں کی ایک تنظیم نے اپنی مددآپ کے تحت جنگلی حیات کے تحفظ کے لئے متاثر کن اقدامات کاذکرکیا جس پر وزیراعلیٰ بلوچستان نہ صرف تعریف کی بلکہ سرکاری سطح پر مکمل تعاون کایقین دلایا۔ سیمینارمیں مقامی یونیورسٹی کے نوجوان طلباء کی جانب سے پیش کی جانے والی ڈاکومینٹری کو بھی شرکاء نے بہت سراہا۔وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ زہری نے اپنے خطاب کے دوران ماہرین کی آراء کی روشنی میں حکومتی پالیسیوں کاذکرکرتے ہوئے بلوچستان کے کئی دیگرعلاقوں مثلاً زہری، انجیرہ، خضدار، تکتو میں نیشنل پارک کے قیام کااعلان کیااوربلوچستان میں تقریباً ایک کروڑپودے لگانے کی نوید بھی سنائی۔
امیدکی جاسکتی ہے کہ یہ شجرکاری محض رسمی مہم نہ ہو گی بلکہ ان پودوں کودرخت بننے تک تحفظ کے اقدامات کے لئے حکومتی اداروں کے ساتھ ساتھ مقامی افرادکو بھی شامل حال رکھاجائے گا تاکہ لوگ خود بھی ان پودوں کی آبیاری کریں تاوقتیکہ یہ پودے تناوردرخت نہ بن جائیں۔


آخرمیں جنگلات اورجنگلی حیات کے تحفظ کے لئے نمایاں کارکردگی پر ماہرین اورطلباء کو شیلڈز دی گئیں اورسیمینار کا اختتامی اعلامیہ بھی جاری کیاگیا جس میں جنگلات اورجنگلی حیات کے تحفظ کے لئے اہم اقدامات اُٹھانے کاذکر کیاگیاہے۔
آج صوبہ بلوچستان میں سول وعسکری ادارے ایک صفحے پر موجودہیں اور صوبے اور عوام کے تحفظ کے لئے دن رات کوشاں نظرآرہے ہیں۔ عوام کی سماجی سرگرمیوں میں بھرپورشرکت اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ وہ وقت دورنہیں جب بلوچستان خوشحالی اورامن وامان کے حوالے سے ایک قابل تقلید اورمثالی صوبہ ثابت ہوگا جو وطن عزیز کی ترقی میں اپنا ایک نمایاں کردار ادا کرے گا۔


[email protected]

یہ تحریر 74مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP