متفرقات

بلوچستان سپورٹس فیسٹیول

رضیہ بتول

( سٹوڈنٹ)

میں تھرڈ ایئر کی سٹوڈنٹ ہوں ۔ بلوچستان سپورٹس فیسٹیول میں لڑکوں کی طرح لڑکیوں نے بھی بہت بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ کالج کی پرنسپل اور کوچ نے ہماری بہت رہنمائی کی جس کے باعث ہم نے کالج کی ہاکی ٹیم کو گولڈ میڈل دلایا۔ اس کے علاوہ ایتھلیٹکس(Atheletics) میں بھی گولڈ میڈل حاصل کیا ۔ اس سلسلے میں میرے والدین کی حوصلہ افزائی بھی شامل ہے۔ فیسٹول میں لڑکیوں کی حوصلہ افزائی کے باعث ان کا اعتماد بڑھا ہے ۔ دلوں سے خوف کم ہوا ہے اور لگتا ہے کہ بلوچستان کے حالات میں بہت زیادہ بہتری آئی ہے۔ کسی بھی کھلاڑی کے چہرے پہ دور دور تک خوف کا شائبہ تک نہیں تھا۔ ایک امنگ تھی‘ ایک امید تھی۔
سفینہ قدیر یٰسین زئی

(سٹوڈنٹ)

میرا تعلق گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج کوئٹہ سے ہے ۔ گزشتہ ماہ ہونے والے بلوچستان سپورٹس فیسٹیول میں کھیلوں کے بڑے خوبصورت مقابلے دیکھنے کو ملے۔ دو مقابلوں میں ، میں نے گولڈ میڈل حاصل کیا۔ اس طرح کی صحت مندانہ سرگرمیوں سے نوجوانوں کے ذہنوں پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ بلوچستان میں لڑکیوں کی کھیلوں میں شرکت کے مواقع بہت کم جبکہ ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں ہے۔ اس طرح کے کھیلوں کے مقابلے سال میں ایک بار کے بجائے وقتاً فوقتا ہونے چاہئے تاکہ نوجوانوں میں مثبت مقابلوں کا رجحان بڑھے۔کئی سالوں تک نا موافق حالات کی وجہ سے لڑکیاں کھیلوں کے مقابلے میں بھرپور حصہ نہیں لے پارہی تھیں ۔ لیکن اب حکومت کی حوصلہ افزائی اور تحفظ کے احساس کے بعد اس فیسٹیول میں لڑکیوں نے بھی خوب بڑھ چڑھ کر اپنے ٹیلنٹ کا اظہار کیا ہے۔
سرگنج لانگو

(سٹوڈنٹ)

میں بی ایس سی فائنل کی سٹوڈنٹ ہوں ۔ پہلے سائنس گروپ کی لڑکیاں کھیلوں میں بہت کم حصہ لیتی تھیں۔ لیکن پچھلے ماہ ہونے والے بلوچستان سپورٹس فیسٹیول میں سائنس گروپ سے تعلق رکھنے والی لڑکیوں میں کھیلوں میں شرکت کرنے کا رجحان دیکھنے میں آیا۔ میں نے بھی بھرپور شرکت کرکے کئی میڈل حاصل کئے ۔ میرا تعلق بلوچستان کے شہر قلات سے ہے جہاں لڑکیوں کے لئے کھیل کی سہولیات برائے نام ہیں۔ کوئٹہ کے کالجز میں کوچ اوردیگر سہولیات ہیں۔ جس کی وجہ سے ہم نے ایک سال پریکٹس کی اور اتیھلیٹکس کے کئی ایونٹس میں نمایاں پوزیشن حاصل کی۔ بلوچستان میں لڑکیوں کے لئے کھیلوں کی سطح پر زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ زیادہ سے زیادہ لڑکیاں ان صحت مندانہ سرگرمیوں میں حصہ لے سکیں کیونکہ صحت مند معاشرہ ہی ترقی کی ضمانت ہوتا ہے۔
عارفہ ہدایت اللہ

(سٹوڈنٹ)

میرا تعلق مسلم باغ سے ہے میں نے اتیھلیٹکس (Atheletics) میں گولڈ میڈل حاصل کیا۔ بلوچستان سپورٹس فیسٹیول میں شرکت کر کے مجھے بہت خوشی بھی ہوئی اور تحفظ کا احساس بھی۔ امیدہے بلوچستان میں آئندہ بھی سپورٹس فیسٹیول ہوتے رہیں گے۔ اس شاندار سپورٹس فیسٹیول کے دوران کھیلوں کے مقابلے کے علاوہ فنکاروں کی حوصلہ افزائی کے لئے آرٹسٹ ڈے ، شہدائے صحافت کی یاد میں میڈیا ڈے ، نوجوانوں کی صلاحیت جانچنے کے لئے ٹیلنٹ ڈے ، ٹیچرز کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لئے ٹیچرز ڈے ، شہداء کے خاندانوں کے احساس کے لئے کہ ہم انہیں نہیں بھولے‘ شہدائے بلوچستان ڈے ، خصوصی بچوں کے لئے اسپیشل ڈے بھی منعقد کئے گئے تاکہ ہر مکتبۂ فکر کے لوگ بھرپور انداز سے فیسٹیول ویک مناسکیں۔ تزئین وآرائش سے بھرپور ایک پروقار اختتامی تقریب بھی بلوچستان کے باسیوں کو ایک عرصے تک یاد رہے گی جس میں گورنر بلوچستان محمد خان اچکزئی اورکمانڈر سدرن کمانڈلیفٹیننٹ جنرل ناصر خان جنجوعہ نے شرکت کرکے نوجوان کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کی۔ یقیناًیہ فیسٹیول پورے صوبے کے ماحول میں مثبت تبدیلی کا پیشہ خیمہ ثابت ہوگا۔ اس دوران بلوچستان کے لوگوں میں عدم تحفظ کے احساس میں واضح کمی محسوس ہوئی۔ایسی صحت مندانہ اور مثبت سرگرمیاںیقیناًامن کی راہ میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہیں جس کے لئے منتظمین مبارکباد کے مستحق ہیں۔ اس وادی بولان کی امید امن ہے


[email protected]

یہ تحریر 25مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP