قومی و بین الاقوامی ایشوز

بلوچستان خوشحالی اور تر قی کی جانب گا مزن ۔۔ پرامن بلوچستان کا عزم 

بلوچستان کو عام طور پر ایک پسماندہ اور محروم صوبہ کہا جاتا ہے اور بلاشبہ اس صوبے نے ماضی میں گوادر سے لے کر ژوب تک  بہت سی محرومیاں دیکھی ہیں۔ مگر آج کا بلوچستان ماضی کی طرح نہیں ہے اس بلوچستان نے اب خوشحالی کی جانب تیزی سے سفر کا آغاز کیا ہے اور گزشتہ کئی سالوں سے حکومت بلوچستان، افواج پاکستان اور خود صوبے کے عوام نے ایک پیج پر آکر پر امن اور خوشحال بلوچستان کی بنیا رکھ دی ہے آج ہم بدلتے، جاگتے اورابھر تے ہوئے بلوچستان پر نظرڈالیں تو پتہ چلتا ہے کہ واقعی برسوں کا یہ پسماندہ بلوچستان تر قی کی جانب تیز ی سے گامز ن ہے ۔



عوام میں پاکستان اور ریاست کے اداروں سے محبت کی سوچ پر وان چڑھ رہی ہے ، یہ جاننا ضروری ہے کہ کل کا یہ پسماندہ بلوچستان کیسے بدلا ۔ اس بدلتے اور خوشحال بلوچستان کے لئے حکومت بلوچستان اور عوام نے مل کر گراں قدر خدمات انجام دی ہیں تاہم یہاں پر سکیورٹی فورسز کی لازوال قربانیوں کو خراج تحسین پیشں کر نا بھی ضروری ہے جنہوں نے امن کے لئے شاندار خدمات انجام دیں۔ حکومت بلوچستان کی کاوشوں میں پاک فوج نے بھی اپنا حصہ ڈالااور اس طرح گزشتہ کئی سالوں سے بلوچستان کی ترقی، خوشحالی اور امن میں جوکردار ادا کیا ہے اس کی بدولت آج ہم بڑے وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ بلوچستان کا مستقبل نہایت شاندار اور تابنا ک ہے۔ یہاں پر ترقی اور خوشحالی ڈیر ے ڈال چکی ہے اور پسماندگی و محرومیاں خاتمے کے قریب ہیں ایک عام آدمی بھی محسوس کر رہا ہے کہ زندگی کے مختلف شعبوں میں جو ترقی ہورہی ہے اس سے لوگوں کا معیا ر زندگی بدل رہا ہے۔ سب سے اہم اور خوشی کی بات یہ ہے کہ حکومت بلوچستان اور افواج پاکستان کی مشترکہ کوششوں اور اللہ کے فضل و کرم سے اب عوام میں انتہائی مثبت سوچ پروان چڑھ رہی ہے۔ وہ لوگ جو ریاست کی مخالفت میں پہاڑوں پرچلے گئے تھے۔ حقا ئق جان کر پہاڑوں سے نیچے آئے اور قومی دھارے میں شامل ہو گئے۔  بلوچستان کاپانچ سالہ خوشحال بلوچستان پروگرام واقعی اس صوبے کے لئے تر قی کا ر استہ کھول چکا ہے اور یہاں پر اب ذہنی تبدیلی بھی آنی شروع ہوگئی ہے۔ بلوچستان میں اس خوشگوار تبدیلی کا سب سے بڑا ثبو ت پاکستان کے قومی ایام یعنی یوم پاکستان، جشن آزادی ، دفاع پاکستان اور یوم اظہار یکجہتی کشمیر پرگوادر سے لے کر ژوب تک عوام اور بالخصوص نوجوانوں کا ولولہ اورجوش خروش بے مثال ہے۔ جشن آزادی پر تو بلوچستان میں یکم اگست سے آزادی اور ریاست سے محبت کا جشن شروع ہوجاتا ہے ۔ یہی خوشحال بلوچستان پروگرام کے مثبت و خوشگوار اثرات ہیں جنہوں نے بلوچستان کو تبدیل کیا۔ ہم آج خوشحال بلوچستان پروگرام کا ایک جائزہ بھی لیتے ہیں کہ اس منصوبے میں بلوچستان کے طول و عر ض کے لئے کیا خدمات انجام دی گئی ہیں۔ اس عظیم منصوبے کا مقصد بلوچستان کو درپیش اصل مسائل کا جائز ہ اوراُن سے نمٹنے کے لئے مختلف نوعیت کے منصوبوں کی تشکیل تھی۔ ان منصوبوں میں صوبے کے مسائل کی اصل و جو ہات بیان کی گئی ہیںاور یہ بات بھی سامنے آئی کہ بلوچستان کا اصل مسئلہ صرف امن و امان کی صورتحال نہیں ہے، دیگر ایسے مسائل بھی ہیں جو کہ نہ صر ف حل طلب بلکہ فوری توجہ بھی چاہتے ہیں۔ بلوچستان میں گورننس اور معاشی و اقتصادی تر قی بھی ایک بنیادی ضرورت تھی اور اس کے ساتھ ساتھ سماجی تر قی بھی اہمیت کی حامل تھی۔ صوبے کی تمام صورتحال اور مسائل کا بغور جائز ہ لینے کے بعداہم اقدامات اُٹھا نے کا فیصلہ کیا گیا صوبے میں قانون کا بول بالا کر نے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی صلاحیتوں کو بہتر بنانے میں بی ایریا کو اے ایریا  میں تبدیل کیا گیا ہے ۔ اور پولیس کے نظام کو مؤثر بنانے کے لئے اقدامات کئے گئے بلوچستان میں اہم قومی شاہر اہوں کو محفوظ بنانے اور ٹر یفک کی صورتحال میں بہتری لانے کے لئے مو ٹروے پولیس کی تعیناتی عمل میں لائی جارہی ہے اور اس سلسلے میں مزید اقدامات بھی کئے جا رہے ہیں۔ سیکڑوں مقامی لوگوں کو موٹروے پویس میں بھر تی کیا گیا منصوبے کے تحت گوادر اورکوئٹہ کوسکیورٹی کے لحاظ سے محفوظ بنانے کے لئے کا م کیا گیا۔ تاکہ ان علاقوں کو اکنا مک زون کے طور پر آگے لایا جاسکے اور انہیں سمارٹ سٹیز بنا یا جائے۔ بلوچستان ہمسایہ ممالک کے ساتھ طویل تر ین سرحدی پٹی رکھتا ہے اور یہاں سے سمگلنگ اور دہشت گردی کے لئے راستے کھلے تھے اور امن وامان کی صورتحال کو خطرہ درپیش تھا۔ 2433کلو میٹر طویل ترین سر حدی پٹی کو محفوظ بنا نے کے لئے باڑ لگانے کا کام شروع کیا گیا ۔پاک فوج اور ایف سی بلوچستان اس عمل کی کامیابی اور سمگلنگ و دہشت گردی کی روک تھام کے لئے مربو ط حکمت عملی اپنارہی ہے۔ بلوچستان میں گورننس کی صورتحال کو درست کرنے کے لئے قانون سازی بھی کی گئی ۔بلوچستان اسمبلی نے دس نئے قوانین پاس کئے ،جن میں لینڈ ریونیو ایکٹ 2018،سیلز ٹیکس آن سروسزبل 2018،لوکل گورنمنٹ بل 2018، مینٹل ہیلتھ بل 2019، انفراڈویلپمنٹ بل 2019، فیکٹر یز بل 2019، شاپس اسٹیبلشمنٹ بل 2019،ڈیجی ٹائز یشن آف لینڈ ، یونیورسٹی آف گوادر 2018اور گورنمنٹ سرونٹ بنیوولنٹ فنڈ ایکٹ 2018پاس کئے گئے۔ اس کے علاوہ صوبے میں اہم اور بنیادی ادارے قائم کئے گئے جن میں ریسکیو 1122، ہیلتھ کئیر کمیشن ، بلوچستان فوڈ اتھارٹی ، چائلڈ پروٹیکشن بیورو ، فائن مینجمنٹ ریفارمز یونٹ ،بلوچستان ٹو راز م اتھارٹی اور اپر وول آف لینڈ لیز پالیسی شامل ہیں۔ مواصلاتی نظام کی بہتر ی کے لئے سڑکوں کی تعمیر پر خصوصی توجہ دی گئی ژوب کوئٹہ روڈ ، دالبندین سنگ سیلہ روڈ ، چمن کوئٹہ کراچی روڈ، نوکنڈی ماشکیل تربت روڈ ، تر بت بلیدہ روڈ،تربت ، پسنی، سوئی کشمور ، بسیمہ اور بیلہ اہم مواصلاتی منصوبے ہیں۔ چمن میں ٹر انز ٹ ٹریڈ مینجمنٹ سسٹم لگا دیا گیاہے۔ صوبے میں پانی کی صورتحال پر قابو پانے کے لئے کچی کینا ل تو سیع کے علاوہ ایک سو چھوٹے اور درمیانے ڈیمز بنانے کے منصوبوں پر عمل جاری ہے۔ خوشحال بلوچستان پر وگرام کے تحت کلسٹر بیسڈ فوری اثرات والے منصوبے بھی مکمل کرلئے گئے ہیں۔ منصوبے کے تحت ماڈل گاؤں تعمیر کئے گئے ہیں اور پسماندہ علاقوں میں تعمیر و مر مت کے منصوبے بھی مکمل کئے گئے ہیں ۔ پینے کے صاف پانی کی فراہمی، سولر انر جی کے تحت ٹیوب ویلز اور سکولوں کو سہولیات فراہم کی گئیں۔ لوگوں کو معاشی خوشحالی اور روز گار کے مو اقع فراہم کرنے کے لئے دکانیں اور دیگر ضرورتیں دی گئی ہیں ۔ خوشحال بلوچستان پر وگرام کا ایک بنیادی مقصد صوبے کے نوجوانوں کے مسائل پر خصوصی اور فوری توجہ دینا بھی مقصود ہے۔ اس سلسلے میں مطالعاتی دورے کرائے گئے مختلف نوعیت کی سرگرمیوں کا مر حلہ وار انعقاد کیا گیا ، ملک کے اہم شہروں کے تعلیمی اداروں کے نوجوانوں کو یہاں پر لایا گیا اور تبادلہ خیال ہوا۔ نوجوانوں کے لئے گوادر سے ژوب تک کھیل کے ویران میدانوں کو کھیلوں اور ثقافتی میلوں سے سجایا گیا۔ نوجوانوں نے یہ ثابت کیا کہ اگر مواقع ملے تو وہ خداداد صلاحیتوں سے بلوچستا ن کی ترقی میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں ۔ خوشحال بلوچستان پر وگرام کے تحت بلوچستان کے تمام اضلاع میں مختلف تر قیاتی منصوبوں پر کام کیا گیا ہے اور عوام کو بنیادی سہولتیں مہیا کی گئیں ۔منصوبے کے تحت صحت کے شعبے میں 96سکیمیں، ایجوکیشن سیکٹر میں 173،پینے کے صاف پانی کی فراہمی کی مد میں 58،زرعی تر قی کے 4،سپورٹس کے شعبے میں 19اور مقامی طور پر لوگوں کو روز گار کی فراہمی کی105سکیمیں مکمل کی گئیں۔ بلوچستان کے عوام نے حکومت بلوچستان اور افواج ِپاکستان کی جانب سے ان کی تر قی اور خوشحالی پُر امن ماحول کی فراہمی اور پسماند گی کے خاتمے کے لئے شروع کئے گئے منصوبوں پر مسرت اور اطمینان کا اظہار کیا ہے ۔ اُمید واثق ہے کہ ترقی کا یہ سفر بلوچستان کی پسماندگی دور کرنے میں انتہائی مددگار ثابت ہوگا۔ ان شاء اللہ  !! ||

یہ تحریر 66مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP