قومی و بین الاقوامی ایشوز

بلوچستان۔ پرچم جلانے سے پرچم لہرانے تک

کوئی پانچ چھ سال بعد کوئٹہ جانے کا اتفاق ہوا۔ اس بار کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل ناصر خان جنجوعہ کی طرف سے یومِ دفاع کے موقع پر خصوصی دعوت تھی کہ آئیں اور بذات خود غیرجانبدار اور آزاد آنکھ سے دیکھیں کہ بلوچستان کس طرح تبدیل ہو رہا ہے۔ کوئٹہ روانگی کے دوران پانچ چھ سال پہلے والا بلوچستان بھی نگاہ میں تھا۔ اس دورے کے دوران کوئٹہ شہر میں شام ڈھلے تو ہم ہوٹل میں ہی بند ہو جاتےتھے۔ لیکن دن کے اوقات میں بھی کڑی سکیورٹی کے ساتھ آمدورفت کرنی پڑتی تھی۔ اس بار جو کوئٹہ اترے تو

صرف ایک پی آر او کو دیکھ کر حیرانگی ہوئی کہ گزشتہ بار تو اچھی خاصی سکیورٹی حفاظت کے لئے بھیجی گئی تھی۔ اﷲ کا نام لے کر منزل مقصود گیسٹ ہاؤس کی طرف سفر شروع کیا تو کوئٹہ کی سڑکوں پر

غیرمعمولی چہل پہل نظر آئی، وہ بھی یوم دفاع کے موقع پر۔ خوشگوار حیرت ہوئی۔ ذرا آگے بڑھے تو کہیں کہیں عمارتوں پر پاکستانی پرچم لہراتے نظر آئے۔ اندازہ ہوا کہ ابھی حیرانیوں کا سفر شاید مزید بھی باقی ہے۔ صحافیانہ تجسس اور شوق بڑھنے لگا۔ ماحول کا مزید غور سے اندازہ لگایا تو محسوس ہوا کہ بلوچستان کی فضا میں ایک غیرمحسوس سی تازگی اور کھلے پن کا احساس ہے۔ اسی احساس کو اپنے سنگ لئے گیسٹ ہاؤس پہنچے۔ ذرا آرام کیا اور پھر کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل ناصر خان جنجوعہ سے ملاقات کے لئے روانہ ہوئے۔ میری اُن سے یہ پہلی بالمشافہ ملاقات تھی۔ ٹی وی کے ذریعے تعارف میں جنرل جنجوعہ سے میرا تعارف ایک پیشہ ورانہ افسر، ایک دوراندیش اور محنتی انسان کا تو تھا ہی لیکن براہ راست ملاقات سے پہلے جو نہیں معلوم تھا کہ وہ یہ کہ جنرل جنجوعہ ایک نارمل فوجی افسر کی طرح بظاہر سخت گیر نہیں بلکہ ایک انتہائی مخلص‘ ملنسار اور بذلہ سنج شخص ہیں۔ ’’نارملی‘‘ ایسے لوگ اب ہمارے معاشرے میں کم کم ہی پائے جاتے ہیں۔ دیکھتے ہی ایسی گرمجوشی سے استقبالیہ کلمات کہے اور ایسی وسیع و عریض مسکراہٹ سے کہ ایک لمحے کو اندیشہ ہوا کہ کیا واقعی یہی کمانڈر سدرن کمانڈ ہیں؟ یہ حیرت صرف اس لئے ہوئی کہ وہ سول لباس میں ملبوس تھے۔ ابتدائی علیک سلیک کے بعد جنرل جنجوعہ نے کچھ لمحات کی رخصت طلب کی او رپھر اس کے بعد باقاعدہ اور باضابطہ بریفنگ شروع ہوئی۔ بریفنگ ہال میں بھی جنرل جنجوعہ پر ایک فوجی سے پہلے ایک ملنسار‘ خوش طبیعت انسان کا غلبہ رہا۔ ہمارے درمیان کی نشست پر ہی براجمان ہوئے اور ملٹی میڈیا بریفنگ شروع کی۔ کوئٹہ اترتے ہی حیرتوں کے جس سفر کا آغاز ہوا تھا، اس کا ایک نیا باب کھلا۔ بریفنگ کیا تھی؟ بلوچستان کے ماضی‘ حال اور مستقبل کی ایک کھلی کتاب تھی۔ ایک فوجی کی نظر سے نہیں بلکہ ایک محب وطن عام پاکستانی کی نظر سے۔ بلوچستان کے حالات‘ مسائل اور وسائل کا ایسا کڑا، کھرا، بے لاگ اور سچ پر مبنی تجزیہ شاید ہی کسی فوجی یا غیرفوجی شخص کی زبان سے سنا ہو۔ چونکہ بریفنگ کا بیشتر حصہ آف دی ریکارڈ اور شخصی آگہی کے لئے تھا، اس لئے اس تحریر میں تو ذکر ممکن نہیں ہو سکے گا لیکن خلاصہ یہ کہ بلوچستان کے مسائل کے جتنے بھی لوگ ذمہ دار تھے اور ہیں سب کا ذکر ہوا اور ان مسائل کا خاتمہ موجودہ حالات کے تقاضوں کے تحت کیسے ہو سکتا ہے۔ اس کا ایک سادہ سا فارمولا جنرل جنجوعہ نے تشکیل دیا ہے، جسے میں ’’ناصری فارمولے‘‘ کا نام دینا چاہوں گی اور وہ ہے ’’محبت اور پاکستانیت‘‘۔ جنرل ناصر جنجوعہ نے بلوچستان کے لوگوں کو اپنا بنانے کے لئے ان میں محبت بانٹی ہے۔ انہیں پیار سے گلے لگایا ہے، ان سے اپنائیت کی زبان میں بات کی ہے۔ یہی محبت کا جذبہ ہے جو بلوچ عوام کو ایک دوسرے کی طرف کھینچ لایا ہے۔ اسی محبت کے جذبے نے ان کے اندر پاکستانیت کے جذبے کو ایک بار پھر زندہ کر دیا ہے۔ محبت نے ان کے اندر پاکستانیت کو اجاگر کیا اور پاکستانیت ان کے درمیان محبت کو مزید بڑھاتی ہے۔ اس طرح یہ ایک ایسا دونکاتی فارمولہ ہے جس نے برسوں سے بلوچستان میں مجرم تصور کئے جانے والے عناصر کو محرم بنا دیا ہے۔ لیکن اگر کچھ عناصر ابھی بھی اس نکتے کے فرق پرقائم رہنے پر اصرار کریں تو پھر یہ دونکاتی فارمولہ ان کے لئے دو دھاری تلوار بن جاتا ہے جس سے ایسے عناصر کا قلع قمع ضروری ہے۔

 

سب سے زیادہ تعداد نوجوانوں کی تھی جو وقتاً فوقتاً پاکستان زندہ باد کے نعرے بھی لگا رہے تھے۔ ایک خوبصورت ماحول تھا جس میں آزادی کا احساس تھا، تازگی کا احساس تھا، تحفظ تھا، محبت تھی، اپنائیت تھی۔ خوشگوار حیرانیوں کا سلسلہ بھی جاری تھا اور میں سوچ رہی تھی کہ بلوچستان بدل رہا ہے‘ پاکستان بدل رہا ہے۔

 

حالیہ دورے کے دوران حکومتی لوگوں سے بھی ملاقات رہی۔ بلوچستان کے حالات بہتر کرنے میں حکومت، خاص طور پر وزیراعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ، کا کردار انتہائی اہم ہے اور سب سے اہم یہ کہ حکومت‘ فوج اور قانون نافذ کرنے والے تمام اداروں کے درمیان جو ہم آہنگی او رمحبت دیکھنے میں آئی وہ ایک بار پھر حیران کن اور خوشگوار تھی۔ بلوچ عوام سے بھی کھل کر بات کرنے کا موقع ملا۔ وہ حکومت سے بھی مطمئن تھے اور فوج سے بھی۔ نوجوانوں کو البتہ کچھ شکوے ابھی بھی باقی تھے اور وہ تھے تعلیم اور روزگار کے۔ لیکن امن و امان اور بہتری کی مجموعی صورت حال سے بلوچ عوام مطمئن نظر آئے جو میرے لئے بھی اطمینان کا باعث تھا۔ کوئٹہ کے ایوب سٹیڈیم میں تو یوم دفاع کے موقع پر ماحول ہی تبدیل ہو چکا تھا۔ ہر طرف پاکستانی پرچم لہرا رہے تھے۔ ملی ترانے بجائے جا رہے تھے۔ بلوچ عوام کی بڑی تعداد بچے‘ مرد‘ خواتین‘ بوڑھے سبھی ایوب سٹیڈیم میں موجود تھے اور مزید بھی آ رہے تھے۔ سب سے زیادہ تعداد نوجوانوں کی تھی جو وقتاً فوقتاً پاکستان زندہ باد کے نعرے بھی لگا رہے تھے۔ ایک خوبصورت ماحول تھا جس میں آزادی کا احساس تھا، تازگی کا احساس تھا، تحفظ تھا، محبت تھی، اپنائیت تھی۔ خوشگوار حیرانیوں کا سلسلہ بھی جاری تھا اور میں سوچ رہی تھی کہ بلوچستان بدل رہا ہے‘ پاکستان بدل رہا ہے۔ پاکستان کی تبدیلی کا آغاز بلوچستان سے ہی ہو گا۔ نیا پاکستان اگر بنے گا تو پہلے نیا بلوچستان بنانا ہو گا۔ بلوچستان ہے تو پاکستان ہے۔ اور پاکستان ہے تو بلوچستان ہے!

 

یہی وہ تبدیلی ہے‘ یہی وہ محبت ہے جو دشمن کو کھٹکتی ہے اور اسی لئے گاہے بگاہے بلوچستان میں لگائے گئے نفرت اور دشمنی کے وہ مردار پودے جو اب مرجھا چکے ہیں، دشمن کبھی کبھی انہیں پانی فراہم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ تمام کا تمام بلوچستان ٹھیک ہو چکا ہے تو ایسا نہیں ہے۔ لیکن بلوچستان کا بڑا حصہ ٹھیک کیا جا چکا ہے۔ مزید کام کرنے کی ضرورت جنوبی بلوچستان میں ہے اور وفاقی حکومت کو بلوچستان پر دگنی تگنی محنت اور محبت کی ضرورت ہے۔ تعلیم اور روزگار کے وسائل بڑھانے کی ضرورت ہے تاکہ وہ بلوچستان جہاں کبھی جھنڈے جلائے جاتے تھے اور اب لہرائے جاتے ہیں، وہاں بلوچ نوجوان پاکستان کا پرچم مزید سے مزید سربلند کریں اور جنرل ناصر جنجوعہ کا دیا ہوا پیغام : ’’جیوے جیوے بلوچستان۔۔۔ جیوے جیوے پاکستان‘‘

تاقیامت آنے والی نسلیں اپنے دلوں میں بسائے اور زبانوں پر جگمگائے رکھیں۔

[email protected]

یہ تحریر 14مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP