خصوصی فوکس

بلوچستان۔ ! عسکری، معاشی اور معاشرتی اعتبار سے پاکستان کا نہایت اہم صوبہ

 ویسے تو وطنِ عزیز کا چپہ چپہ ہمیں جان سے پیارا ہے لیکن معروضی حالات میں بلوچستان خصوصی اہمیت حاصل کر گیا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ ہمارے ازلی دشمن ہندوستان کی تخریب کاریاں ہیں۔ بلوچستان کی Geo-political اہمیت ہے۔ جو اس کی نظروں سے پوشیدہ نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ روزِاول سے ہی ہندوستان نے پاکستان کے قیام کو تسلیم نہیں کیا۔ وہ اس کی سالمیت کے درپے ہے۔



ہندوستان کے مسلمانوں کی بدقسمتی یہ تھی کہ اُن کا پالا دو قوتوں سے پڑا تھا۔ ایک وہ جو اپنی ایمپائر کے ڈوبتے ہوئے سورج کو بڑی حیرت و حسرت سے دیکھ رہا تھا اور دوسرا ہزار سال کی غلامی کا بدلہ چکانے کے لئے سنہری سازشوں کے جال بن رہا تھا۔ انگریز ہندو گٹھ جوڑ منطقی تھا۔ ان کی کوئی سازش کامیاب نہ ہوسکی کیونکہ مسلم قوم ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح اپنے قائد کے پیچھے کھڑی ہوگئی۔ پاکستان تو بن گیا لیکن ہندوئوں کی سازشیں ختم نہ ہوئیں۔ بلوچستان میں جو تخریب کاری کی لہر اُٹھی ہے، اسے بھی اسی تناظر میں دیکھا جاسکتا ہے۔ پیشتر اس کے کہ اس سازش کو بے نقاب کیا جائے، بلوچستان کی تاریخ کا اجمالاً ذکر ضروری ہے۔ اس خطۂ زمین پر جسے آج بلوچستان کے نام سے پکارا جاتا ہے انسانی زندگی کے آثار تین ہزار سال قبل مسیح میں بھی پائے گئے ہیں۔ تاریخی شواہد اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اُس وقت یہاں کثرت سے بارشیں ہوا کرتی تھیں اور آب و ہوا خوشگوار تھی۔ جو سٹوپے (MOUNDS) برآمد ہوئے ہیں ان سے پتہ چلتا ہے کہ زمانہ قبل از تاریخ بھی یہاں لوگ  بستے تھے۔ 
S. Pigget کے مطابق۔ بولان پاس۔ نالی ویلی کولواہ اور ژوب میں چار مختلف طبقات کے لوگ بستے تھے۔ اس بات کا بھی ثبوت ملتا ہے کہ اسماری(Sumerians)  مکران اور جنوبی بلوچستان کے ساتھ تجارت کرتے تھے۔
 پہلا تاریخ دان ہیرو ڈوٹس (Herodotus)لکھتا ہے کہ Mykonos ایرانی سلطنت کے چودھویں صوبے میں شامل تھے جس کی بنیاد Darius نے چھٹی صدی قبل میسح میں رکھی۔ مکران اور اُس سے ملحق ایرانی علاقے کو سرزمین ماکا کہاجاتا تھا۔ یہ علاقہ اس قدر دشوار گزار تھا کہ ایک روایت کے مطابق  سائرس اعظم کیخسوو  کی فوجیں اس علاقے میں گزرتے ہوئے نیست و نابود ہوگئیں۔ لیکن پہلی دفعہ بلوچستان صفحہ تاریخ پر اس وقت ابھرتا ہے جب 326۔ق۔م میں سکندر اعظم یہاں سے گزرا۔ سکندر اعظم نے لاعلمی میں یہ سفر اختیار نہیں کیا تھا۔ اسے سائرس کے انجام سے خبردار کردیا گیا تھا۔ اس وقت اس علاقے کو گڈ روسیہ بولتے تھے۔ سکندر کو جلد ہی اندازہ ہوگیا کہ اس نے موت کی وادی میں قدم رکھ دیا ہے۔ اس کی آدھی فوج لقمۂ اجل بن گئی۔ نامور موَّرخ Arrian لکھتا ہے:
 اتنی سپاہ یونان سے لے کر ہندوستان تک کی لڑائیوں میں نہیں مری تھی جتنی یہاں ضائع ہوگئی۔ بھوک، پیاس، آگ برساتا ہوا سورج، دلدل کی طرح نرم ریت جس میں سوار مع گھوڑے کے دھنس جاتا تھا۔ سپاہیوں نے گھوڑے مار کر بھوک مٹانے کا بندوبست کیا۔ فوج میں ڈسپلن ختم ہوگیا۔سکندر نے گھوڑے سے اتر کر فوج کے ساتھ پیدل چلنا شروع کردیا۔ ایک موقع پر پانی ختم ہوگیا۔ سپاہیوں کی زبانیں باہر نکل آئیں۔ بڑی مشکل سے انہوں نے تھوڑا سا پانی تلاش کیا اور ہیلمٹ میں ڈال کر سکندر کو پیش کیا سکندر نے پانی لانے والوں کا شکریہ ادا کیا اور اسے یہ کہہ کر زمین پر انڈیل دیا۔ '' جس جرنیل کی سپاہ پیاسی ہو اسے پانی پینے کا کوئی حق نہیں ہے۔'' سکندر سفر کی صعوبتیں برداشت نہ کرسکا اور بابل کے مقام پر فوت ہوگیاپھر اس کے جانشین Seleucus Nicator کا پوتا اس علاقے پر قابض ہوگیا۔ 135-140 ق۔ م میں منگولوں کا جو ٹڈی دَل اٹھا وہ وادی ہلمند سے ہوتا ہوا اس علاقے میں پہنچا اور ہر چیز کو تباہ کردیا۔ ساسانی خاندان کے دورِ اقتدار میں بلوچستان ایک مرتبہ پھر پردہ تاریخ میں چھپ جاتا ہے، پانچویں صدی میں بہرام گور اس علاقے پر قابض ہوگیا۔ دو سوسال تک ساسانیوں نے اس علاقے پر حکومت کی۔ چھٹی صدی عیسوی میں خسرو پرویز نے قبضہ کرلیا۔ جب ساتویں صدی عیسوی میں عربوں نے ایرانیوں کو شکست دی تو وہ اس خطے پر قابض ہوگئے۔ 707 میں محمد بن قاسم نے کئی اور مقامات پر قبضہ کرلیا ۔مسلمانوں نے خضدار کو صوبائی ہیڈکوارٹر بنا کر تین سو سال تک حکمرانی کی۔ جب خلافت کمزور ہوئی تو ایرانی ایک مرتبہ پھر اس علاقے پر قابض ہوگئے۔ 1595ء سے لے کر 1636 تک بلوچستان مغل سلطنت کا حصہ رہا۔ بلوچ جن کی وجہ سے اس علاقے کو بلوچستان کہا جاتا ہے، بہت دیر بعد یہاں آئے۔آریہ نسل سے تعلق رکھنے والے بلوچ ایک قبیلے کی شکل میں گیارھویں اور بارھویں صدی میں یہاں حملہ آور ہوئے۔
 بعض مورخین انہیں عربی النسل کہتے ہیں۔ کچھ ایرانی سمجھتے ہیں۔ ایک روایت یہ بھی ہے کہ ان کا تعلق عرب قبیلے بلوص سے تھا۔
نادر شاہ نے ہندوستان پر حملے سے قبل اس علاقے پر تسلط ضروری جانا اور مقامی حاکم عبداﷲ خان کو شکست دے کر اُس کے دو لڑکوں میرنصیر خان اور حاجی محمود (محبت) کو بطور یرغمال ساتھ لے گیا۔ عبداﷲ خان کی وفات کے بعد یکے بعد دیگرے دونوں بھائی خان آف قلات رہے۔ میر نصیر خان بیدار مغز حکمران تھا۔ لہٰذااس نے سارے بلوچستان پر حکومت کی۔ اسے خان اعظم کہا جاتا تھا۔ ایک طویل عرصے تک حکومت کرنے کے بعد وہ 1795 میں فوت ہوا۔
 برطانوی تسلط۔ 1810 میں برطانوی سیاح ہنری پوٹنگر اس علاقے سے گزرا، پہلی جنگِ افغانستان نے قلات کی اہمیت کو نمایاں کردیا۔ بریگیڈیئر جان جیکب نے جو سندھ کانسٹیلبری کا کمانڈر تھا، خان آف قلات سے معاہدہ کیا اور 1857 میں قلات میں ایک مستقل آفیسر تعینات کردیا۔ اندرونی خلفشار کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے انگریزوں نے 1875ء میں رابرٹ سنڈیمن کو بھیجا۔ اس نے 1876ء میں خان اور سرداروں کے درمیان ایک معاہدہ کرا دیا۔ معاہدے کی رو سے سردار خود مختار ہوگئے۔ ان کی خان کے ساتھ وفاداریاں محض Lip service تک محدود ہوگئیں۔ سنڈیمن کی دوررس نگاہیں بولان پاس کی فوجی اہمیت سے واقف تھیں۔ چنانچہ 1876 میں معاہدہ گندمک کی رو سے بولان پاس، کوئٹہ اور اس کے مضافات برطانوی تسلط میں آگئے۔ 1891 میں پشین اور سبی بھی انگریزوں نے ہتھیا لئے۔ اس طرح سارا بلوچستان برطانوی تسلط میں آگیا پہلی جنگ عظیم میں آزادی کی کئی تحریکیں اٹھیں لیکن انہیں بریگیڈیئر جنرل سرپرسی سائیکس اور میجر ٹی۔ ایچ۔ کنیئر نے کچل دیا۔
جب 1947ء میں پاکستان کا قیام عمل میں آیا تو اس وقت میر احمد یار خان، خان آف قلات تھا۔ قدرے دیر کے بعد ہی سہی، اس نے 1948ء میں ریاست کا پاکستان کے ساتھ الحاق کردیا۔ اس ایک سال کے عرصے میں ہندوستان نے بھرپور کوشش کی کہ ریاست اس کا حصہ بن جائے مگر اس کو کامیابی نصیب نہ ہوئی۔ اس وقت سے لے کر آج تک ہندوستان کسی نہ کسی رنگ میں بلوچستان میں تخریب کاری کروا رہا ہے۔
جو بات سمجھنے کی ہے، وہ یہ ہے کہ سوائے میر نصیر خان کے دور کے، بلوچستان کبھی بھی ایک ریاست نہ رہا۔ مکران پر بلیدیوں اور بعد میں گچکیوں نے حکومت کی اسی طرح خاران کی ریاست بھی خود مختار تھی۔ لسبیلہ کے حاکم کو جام کہا جاتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ میر احمد یار خان کے الحاق کرنے سے پہلے ہی جام صاحب نے پاکستان کے ساتھ الحاق کا اعلان کردیا۔ حکومت پاکستان نے بھی انہیں بطور نوابِ مکران اور نوابِ خاران، لسبیلا تسلیم کرلیا۔اس کے فوری بعد ہی خان آف قلات نے اپنی مکمل مرضی اور سیاسی سوجھ بوجھ کا مظاہرہ کرتے ہوئے مملکتِ پاکستان سے الحاق کیا۔ تاہم پاکستان کے دشمن اور بالخصوص ہندوستان کے گماشتے اِس حوالے سے نہ صرف تاریخی اور فکری مغالطے پیدا کرتے آئے ہیں بلکہ پاکستان کے خلاف باقاعدہ تخریب کاری میں بھی ملوث رہے ہیں۔ ماضی کے علاوہ حال ہی میں ایک ہندوستانی جاسوس۔ حاضر سروس فوجی کلبھوشن- حال ہی میں پکڑا گیا ہے۔ اس قسم کے کئی کلبھوشن، اپنے مذموم ارادوں کی تکمیل میں اب بھی مصروف عمل ہیں۔
اب ہم اصل موضوع کی طرف آتے ہیں، بلوچستان کا مسئلہ ہے کیا اور اس کا حل کیا ہے؟ ہمارے کئی Pseudo Intellectuals تین دن کے لئے کوئٹہ جاتے ہیں۔ وہاں ٹھنڈی ہوائیں کھا کر واپس آکر کتاب یا مقالے کی شکل میں ایک ''جاندار'' تبصرہ کرتے ہیں۔Balochistan Yesterday, Today and Tomorrow  انہوں نے کبھی اندر جانے کی زحمت نہیں فرمائی، جابھی نہیں سکتے! غضب کی گرمی میں، منوں خاک پھانکنا بھلا کہاں کی شرافت ہے! اتفاق سے مجھے بھی بلوچستان جانے کا اتفاق ہوا ہے۔ تین دن کے لئے نہیں تین سال کے لئے۔ یہ 1967ء کا قصہ ہے۔ صرف کوئٹہ سے تربت پہنچنے میں سات یوم لگ گئے۔ ان دنوں ہفتے میں ایک دن تڑی مڑی بس کوئٹہ سے پنجگور جاتی تھی۔ کچی سڑکیں، ناہموار پہاڑی راستے، کنوائی، زمین سوختی اور بے آب و گیاہ پہاڑ۔دُردان سیاہ کار اور بندوق بردار ڈاکو، آوارہ ہرنوں کی طرح چوکڑیاں بھرتے ہوئے! میرا پہلا تقرر مکران ہوگیا تھا۔ صوبائی سول سروس۔ ون یونٹ تھی اور اس کے ''فیوض و برکات'' کے ہم چشم دیدگواہ تھے۔ اب اسے خدا لگتی کہئے کہ ہم مکران کو بلازری کے حوالے سے جانتے تھے۔ صاحب فتوح البلدان، لکھتا ہے۔ مکران کی فتح سے قبل حضرت عثمان نے حکم بن جبلتلعوی کو وہاں کے حالات جاننے کے لئے بھیجا۔ اس نے واپس آکر دلچسپ رپورٹ دی۔ ''پانی بہت کم ہے، پھل بہت کڑوا ہے اور چور بہت بے باک ہیں۔ لشکر کم ہوا تو ضائع ہوجائے گا۔ زیادہ ہوا تو بھوک سے مرجائے گا۔'' حضرت عثمان کے لبوں پر مسکراہٹ نمودار ہوئی۔ بولے '' حکم تم تو شاعری کرنے لگے ہو''۔ باایں ہمہ جانا تو تھا ہی حکم حاکم مرگ مفاجات ہوا کرتا ہے۔
وہاں پہنچ کر اندازہ ہوا کہ لوگ کس قسم کی زندگی بسر کررہے ہیں۔ گرمی اتنی شدت کی جس کا ذکر میر انیس نے اپنے شعر میں کیا ہے 
وہ پانی تھا آگ، گرمیٔ روز حساب تھی 
ماہی جو سیخِ موج تک آئی کباب تھی
 وہاں کسی اخبار کی آمد کا کوئی ذریعہ نہ تھا۔ بجلی شاید تخیل میں چمکتی تھی۔ برف صرف احساس پر پڑتی تھی۔ پھل محض صبر کا دستیاب تھا۔ دودھ صرف شادی بیاہ کے موقع پر استعمال کیا جاتا اور ٹھنڈا پانی پینے کی بشارت مولوی صاحب اکثر جمعے کے وعظ میں دیتے تھے۔ ضلع مکران رقبے کے لحاظ سے ہالینڈ سے دوگنا بڑا تھا لیکن آبادی ڈیڑھ لاکھ تھی۔ سفر کے دوران سو میل تک پانی نہ ملتا۔ یہاں بھی تمام سڑکیں کچی اور ناہموار تھیں۔ سارے شہر میں صرف دوگائیں تھیں۔ ایک ڈی سی صاحب کے پاس اور دوسری کا چیئرمین بلدیہ حاجی عبدالسلام بلاشرکتِ غیرے مالک تھا۔ عوام اکثرسلیمانی چائے (بغیر دودھ کے)  یا بکری کا دودھ استعمال کرتے ۔ سول سیکرٹریٹ والوں کی عدمِ واقفیت کا یہ عالم تھا کہ ایک مرتبہ  انہوںنے Query بھیجی جو How far Turbat is from, Makran ڈی سی کی رگِ ظرافت پھڑکی۔ اس نے جواباً لکھا  It is as far away as Lahore is from Punjabاربابِ بست و کشاد کو ایک دور دراز قلعے کے سربراہ کی جرأتِ رندانہ پسند نہ آئی اور انہوں نے مکران کی فائل کو اس جگہ رکھ دیا جسے دریافت کرنے کے لئے ایک اور کولمبس درکار تھا۔
لوگ صدیوں سے اسی قسم کی زندگی بسر کررہے تھے ۔ معیشت دم توڑتی ہوئی، غربت ہاتھ جوڑتی ہوئی، ہمت سنگ توڑتی ہوئی، غیرت نقش چھوڑتی ہوئی، کاروانِحیات تنگنائوں اور مہیب گھاٹیوں سے گزرتاہوا اور صدائے جرسِ کارواں کانوں میں زہر گھولتی ہوئی نہ منزل کا پتہ نہ نشانِ منزل۔ باایںہمہ ایک عام بلوچ سادہ دل، نیک اور راست گو ملے۔ اگر دل میں غبار ہے تو ہاتھ میں ہتھیار ہے۔ یہ نہیں کہ بغل میں چھُری اور منہ میں رام رام۔ سچا مسلمان، محبِ وطن، پابندِ صوم و صلوٰة، بدقسمتی سے ان لوگوں کو ورغلایاگیا۔ یہ کام ہندوستانی ایجنٹ اور اُن کے گماشتے کررہے ہیں۔ 
مکران میں بلوچی بولی جاتی ہے جو فارسی کے قریب ہے۔ کھجور، مچھلی اور گرمی کا اثر اخلاقیات پر بھی پڑتا ہے۔ یہاںسخت گرمی پڑتی ہے۔ ساحلی علاقے گرم مرطوب ہیں۔ پنجگور ریجن قدرے معتدل ہے۔ مکران قلعے سے اب تین اضلاع بنائے گئے ہیں۔ سابقہ سب ڈویژن ضلعے بن گئے ہیں۔ پنجگور، تربت اور گوادر ۔ گوادر کسی زمانے میں مچھیروں کی بستی تھی۔ چند ہزار کی آبادی، جب میں وہاں تعینات تھاتو سرکاری اہلکاروں کے لئے پانی کراچی سے آتا تھا۔ مقامی پانی نمکین تھا۔ عیسیٰ جعفر نے '' پرانز''  کو Tin کرنے کا کارخانہ لگا رکھا تھا۔اُس کی موٹر لانچیں روازانہ اشیائے خورد و نوش اور میٹھا پانی لاتیں۔ گوادر کی تاریخ بھی خاصی دلچسپ ہے جب مسقط کا سلطان بوسعید معزول ہو کر یہاں پناہ گزین ہوا تو میرنصیر خان اول نے یہ علاقہ اُسے دان کردیاتھا۔ بلوچوں کا اصرار ہے کہ گزارے کے لئے دیاگیا تھا۔ شاہی فرمان واضح طور پر لکھا گیا تھا'' رابہ آریت امانتی داد'' میر نصیر خان فوت ہوگیا۔ بو سعید جلاوطنی کاٹ کے ایک مرتبہ پھر تخت نشین ہوگیا۔ لیکن اس نے قبضہ نہ چھوڑا۔ بلوچوں نے دو دفعہ مہم جوئی کی مگر کامیابی نہ ہوئی۔ ایک مرتبہ میر دوستین نے لشکر کشی کی لیکن ہزیمت اُٹھا کر واپس چلا گیا۔ دوسری مرتبہ خان آف قلات نے لشکر بھیجا جسے تحفے دے کر رام کرلیاگیا۔ پاکستان بننے کے بعد فیروزخان نون کے زمانے میں حکومت نے اسے مسقط سے خریدا۔ چاہتے تو زبردستی قبضہ کرسکتے تھے۔ جس طرح ہندوستان نے گوا پر کیا ہے۔ مرکزی حکومت اسے فیڈرل ٹیریٹری '' بھی ڈیکلیئر کرسکتی تھی۔ مگر ایسا نہ کیاگیا اور اُسے بلوچستان صوبہ کا حصہ بنادیاگیا۔
جن لوگوں نے اُس وقت کا گوادر دیکھا ہے، اُنہیں یقین نہیں آتا کہ کسی شہر کی قسمت اس قدر بدل سکتی ہے۔ بہت سوں کو روزگار مل گیا ہے۔ سڑکیں پختہ ہوگئی ہیں۔ میٹھا پانی وافر مقدار میں دستیاب ہے۔ بجلی چوبیس گھنٹے میسرہے۔ خوشحالی اور خوش بختی نے مستقل ڈیرے ڈال دیئے ہیں۔ بندر گاہ کو وسیع اور کشادہ کردیاگیا ہے۔ ہوائی اڈے پر ہر قسم کے جہاز اُتر سکتے ہیں۔ جو لوگ اب بھی تنقید کرتے ہیں۔ اُن کی عقل پر ماتم کرنے کوجی چاہتا ہے۔
1968 میں مجھے اسسٹنٹ کمشنر قلات تعینات کردیاگیا۔ اُس سب ڈویژن کا ہیڈکوارٹر مستونگ تھا۔ یہاں پر مختلف سرداروں سے ملاقات ہوئی اور مجھے سرداری نظام سمجھنے اور سرداروں کی عادات و اطوار اور روش کو جانچنے کا موقع ملا۔بلوچستان کی سیاست میں مستونگ کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ کوئٹہ اور مستونگ کا درمیانی فاصلہ صرف تیس میل ہے اور لک پاس پہاڑ حدِ فاصل ہے۔ یہاں پر جن قابلِ ذکر سرداروں سے ملاقات ہوئی اُن میں عطاء اﷲ مینگل ، خیربخش مری، دورا خان اورکزئی، نواب غوث بخش رئیسانی، غوث بخش بزنجو، نواب عبدالقادر شہوانی، سردار بہرام خان بٹری، بہادر خان بنگلزئی، سردارمحمدزمان محمدشاہی۔ سردار فقیرعمر، اﷲیار رستم زئی، دینار خان کبرو، پرنس کریم، میر احمد یار خان ، خان آف قلات اور اس کے علاوہ کافی سرداروں سے ملاقاتیں ہوئیں۔
اکثر کہا جاتا ہے کہ بلوچستان کو اس کے ''جائز حقوق'' نہیں دیئے گئے۔ یہ جائز حقوق ہیں کیااور اُن کو دینے والاکون ہے؟  یہ بات بھی محل نظر ہونی چاہئے کہ کیا دیگر صوبوں کو وہ حقوق مل گئے ہیں جن کا بلوچستان متمنی اورمتلاشی ہے۔ یہ بات بھی ذہن نشین ہونی چاہئے کہ ان کا داعی کون ہے۔ مطالبات ہیں کیا؟ روز گار کے مواقع کم ہیں، لوگوں کی اکثریت خطِ غربت سے نیچے زندگی بسر کررہی ہے۔ صوبائی حکومت کو کام نہیں کرنے دیا جاتا۔ مرکز مداخلت کرتا ہے۔ بلوچستان کے وسائل کا فائدہ دیگر صوبے اُٹھا رہے ہیں۔ اس سلسلے میں قدرتی گیس کی مثال دی جاتی ہے۔سونے کی کانیں ہیں لیکن لوگوں کا مقدر سورہا ہے۔ اعلیٰ نوکریوں میں بلوچستان کا حصہ بہت کم ہے۔ فارن سکالر شپس کی مئے ناب صرف خواص میں بٹتی ہے۔ایک بلوچ نوجوان تک اس کی تلچھٹ تک بھی نہیں پہنچتی۔آیئے ان کا سب کا ایک نمایاں مقصدیت کے ساتھ جائزہ لیتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیںکہ دیگر صوبوں کی نسبت بلوچستان میں غربت بہت زیادہ ۔ اس کا یہ ہر گز مطلب نہیں کہ دیگر پاکستانی عیش و عشرت کی زندگی بسر کررہے ہیں۔ پاکستان کا شمار ان ممالک میںہوتا ہے جہاں فی کس آمدن بہت کم ہے۔ جہاں تک نوکریوں کا تعلق ہے، اس میں کچھ دوش بلوچوں کا بھی ہے۔ بلوچستان کی کوئلے کی کانوں میں ہزار ہا مزدور کام کرتے ہیں ۔ حیران کن بات یہ ہے کہ ان میں کوئی بلوچ نہیں۔ گنتی کے ہزارے ہیں۔ باقی سارے مزدور سوات، ہنگو، ٹل، کوہاٹ وغیرہ سے آتے ہیں۔ کیونکہ مقامی لوگ یہ کام کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ اسی طرح ایک طویل عرصے تک لوگ فوج میںجانے سے کتراتے تھے۔ مقامی سائیکی ایسی ہے کہ یہ لوگ اپنے علاقے سے باہر کام کرنے سے کتراتے ہیں۔ مرکزی حکومت بھرپور کوشش کررہی ہے کہ بلوچ نوجوان افواج میں بھرتی ہوں۔اس سلسلے میں مختلف علاقوں میں کئی کیڈٹ کالج بھی کھول دیئے گئے ہیں۔ مرکزی ملازمتوں میں بلوچستان کا کوٹہ الگ سے ہے۔ یہ دیکھ کر خوشگوار حیرت ہوتی ہے کہ پنجاب اورKP میں بلوچ ڈپٹی کمشنر اور ایس پی کام کررہے ہیں۔ سی پیک کی وجہ سے روزگار کے اتنے مواقع میسر آنے والے ہیں کہ نوکریاں زیادہ ہوں گی، ان کو لینے والے کم پڑ جائیں گے۔
امر واقع یہ ہے کہ ''اب''  اور ''تب''  میں بڑا فرق ہے۔ کدورت، مخاصمت، غیریت اور اجنبیت کی برف بڑی تیزی سے پگھل رہی ہے۔ اب چار سُو بھائی چارے کی فضا قائم ہو رہی ہے۔ ماضی کے حالات مختلف تھے۔ کہتے ہیں'تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے' کچھ قصور بلوچ سرداروں کا تھا اور کچھ الزام نوکرشاہی پر بھی دھرا جاسکتا ہے جس کی پالیسیاں Myopic تھیں۔ کافی حد تک قصور اس معاہدے کا تھا جو1876 میں Sir Robert Groves Sandeman نے خان آف قلات اور بلوچ سرداروں کے درمیان کروایا تھا۔ معاہدے کی رُو سے سرداروں کو اپنے اپنے قبیلے میں سیاہ و سفید کا مالک بنادیاگیا تھا۔ اُن کی زبان سے نکلا ہوا ہر لفظ قانون تھا۔ لوگوںکو سزائیں یہ دیتے تھے۔ ٹیکس (بجاڑ) یہ وصول کرتے تھے۔ ان تمام مسائل کے ساتھ ساتھ نوکر شاہی نے جلتی پر تیل ڈالا۔ سرداروں کی اشک شوئی کے بجائے انہیں اشتعال دلایا Customary law کی جگہ Crpc اور قانون ِ شہادت نافذ کردیا۔ سرداروں کو بلوچ روایات سے ہٹ کر بدلنے کا تجربہ کیا گیا۔ عطا ء اﷲ مینگل کے بجائے جب اُس کے چچا سردار کرم خان کو مینگل قبیلے کا سردار بنایاگیا اور اُسے مستونگ دربار میں خلعت پہنائی گئی تو ہر طرف مبارک مبارک کا شور اٹھا۔ ایک بوڑھے سردار بہرام خان نے کہا 'کرم خان یہ کفن مبارک ہو!' اسی رات عطاء اﷲ کے دستِ راست علی محمدمینگل نے کرم خان کو قتل کردیا سرداروں نے جب اپنے آپ کو ضابطہ و تعزیر کے شکنجوں میں جکڑا ہوا پایا تو وہ مشتعل ہوگئے۔ انہوںنے قبیلے کے لوگوں کو ورغلانا شروع کردیا۔ اگر سڑکیں بن رہی ہیںتو انہوں کہا تمہیں غلام بنانے کے لئے یہ راستے ہموار کئے جارہے ہیں۔اگر سکول کھل رہے ہیںتو ''تمہارے بچوں کو لادینی تعلیم دینے کے لئے مدارس بنائے جارہے ہیں۔''
 اب بفضل اﷲ تعالیٰ حالات یکسر بدل گئے ہیں تعلیم کی وجہ سے اور دیگر ذرائع ابلاغ کی وجہ سے لوگوں نے خود ہی سوچنا شروع کردیا ہے کہ جب سب انسان برابر ہیں تو پھر اس قدر تفاوت اور فاصلے کیوں ہیں۔ بلوچستان میں نمائندہ صوبائی حکومت ہے۔ مرکز کسی قسم کی مداخلت نہیں کررہا بلکہ ممد و معاون ثابت ہورہا ہے۔ حکومت بلوچستان کو اس کے کوٹے سے بڑھ کر فنڈز فراہم کررہی ہے۔ سی پیک کی وجہ سے شاہراہوں کا جال بچھ گیا ہے کارخانے لگ رہے ہیں۔ کاروبار چمک رہا ہے۔ خوشحالی اور خوش بختی نے بلوچستان کا راستہ دیکھ لیا ہے۔ گوادر پورٹ صوبے کی شناخت بن گیا ہے۔ دنوں کے فاصلے گھنٹوں میں طے کئے جارہے ہیں۔ لوگوں کے گلے شکوے دور ہو رہے ہیں۔
باایں ہمہ ہندوستان ہنوز تخریب کاری سے باز نہیں آیا۔ اُس کے گماشتے اب بھی کہیں نہ کہیں شرارت کرتے رہتے ہیں۔ لیکن ہماری قانون نافذ کرنے والی فورسز نے ہر سازش کو ناکام بنادیا ہے۔ وہ ہمہ وقت چوکس ہیں۔ اگر قومی تناظر میں دیکھا جائے تو ان واقعات کو Minor irritants ہی کہا جاسکتا ہے۔ چونکہ پاکستان ہندوستان کے دل میں کانٹے کی طرح کھٹکتا ہے اس لئے اس سے شرافت کی توقع عبث ہے۔ 
تو رنگ گردوں کا ذرا دیکھ عنابی ہے
یہ نکلتے ہوئے سورج کی اُفق تابی ہے ||


مضمون نگار متعدد کتابوں کے مصنف، کالم نویس اور سابق بیورو کریٹ ہیں۔ 
 

یہ تحریر 62مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP