متفرقات

بلند پہاڑوں کا عظیم بیٹا

پہاڑ منصفانہ یا غیر منصفانہ نہیں صرف خطرناک ہیں
(رین ہولڈ میسنر) 

پہاڑ عظیم ہوتے ہیں اور عظمتوں کے امین بھی۔۔۔اور جو سارے کشٹ کاٹ کر ان عظیم پہاڑوں کی بلند چوٹیوں تک پہنچنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔۔۔بدلے میں یہ پہاڑ اس عظیم فاتح کو عظمتوں کی امانت پوری دیانت داری سے سونپ دیتے ہیں!
دنیا کی کل چودہ، آٹھ ہزار میٹر سے بلند، چوٹیوں میں سے پانچ پاکستان میں ہیں۔۔۔جبکہ سات ہزار میٹر سے بلند 184 چوٹیاں صرف وطن عزیز میں ہیں۔۔۔اس کے علاوہ  4555چھ ہزار میٹر سے بلند جبکہ پانچ ہزاری اور چار ہزاری چوٹیوں کی ان گنت تعداد کی موجودگی نے پاکستان کو پہاڑوں کے دیس کا اعزاز بخشا ہے۔۔۔

پاکستان کی بیشتر بلند ترین چوٹیاں قراقرم، ہمالیہ اور ہندوکش سلسلہ کوہ میں پائی جاتی ہیں۔۔۔جن میں 8611 میٹر بلند دنیا کی دوسری جبکہ پاکستان کی پہلی بلند ترین چوٹی کے ٹو۔۔۔ہمالیہ سلسلہ کوہ میں واقع 8126 میٹر بلند دنیا کی نویں اور پاکستان کی دوسری بلند ترین چوٹی نانگا پربت۔۔۔8080 میٹر بلند دنیا کی گیارہویں جبکہ پاکستان کی تیسری بلند ترین چوٹی گیشربروم ون (کے چار)۔۔۔8051 میٹر بلند دنیا کی بارہویں اور پاکستان کی چوتھی بلند ترین چوٹی براڈ پیک۔۔۔8035 میٹر بلند دنیا کی تیرہویں اور پاکستان کی پانچویں بلند ترین چوٹی گیشربروم ٹو (کے پانچ)۔۔۔قراقرم کا تاج محل 7788 میٹر بلند دنیا کی ستائیسویں جبکہ پاکستان کی بارہویں بلند ترین چوٹی راکا پوشی۔۔۔اور ہندوکش سلسلہ کوہ میں واقع 7708 میٹر بلند دنیا کی تینتیس ویں  جب کہ پاکستان کی تیرہویں بلند ترین چوٹی ترچ میر شامل ہیں۔۔۔
دنیا کی بلند ترین چوٹی مائونٹ ایورسٹ 8848 میٹر بلند ہے لیکن دنیا کی خطرناک ترین چوٹی کا اعزاز کے ٹو کو حاصل ہے۔۔۔29مئی1953 میں دو کوہ پیماؤں کے پہلی بار مائونٹ ایورسٹ سر کرنے سے لے کر اب تک سات ہزار سے زائد کوہ پیما اسے سر کر چکے ہیں جبکہ ایورسٹ پر مرنے والے کوہ پیماؤں کی تعداد 223 ہے۔۔۔ایورسٹ پر موت کی شرح محض تین فیصد ہے جبکہ کے ٹو ایورسٹ سے کم بلند ہونے کے باوجود مشکل ترین چوٹی ہے۔۔۔اسی لئے 31 جولائی 1954 میں دو اطالوی کوہ پیماؤں کے پہلی بار کے ٹو سر کرنے سے لے کر2018تک صرف367 کوہ پیما اسے سر کر سکے ہیں۔۔۔اور چھیاسی کوہ پیما کے ٹو پر ہلاک ہو چکے ہیں جو کسی بھی چوٹی پر موت کی بلند ترین شرح ہے۔۔۔کے ٹو سر کرنے والے ہر چار میں سے ایک کوہ پیما جان کی بازی ہار جاتا ہے۔۔۔کے ٹو کے بہت سے نام ہیں گڈون آسٹن، چھو گوری، شاہ گوری، کنگ ماؤنٹین، شمال کا بادشاہ۔۔۔ اس پر موت کی شرح چھبیس اعشاریہ پانچ فیصد ہے جو دنیا کی بلند ترین شرح ہے۔۔۔اسی لئے اسے وحشی پہاڑ بھی کہتے ہیں!
کوہ پیمائی ایک فن ہے۔۔۔ایک جنون ہے۔۔۔کوہ پیمائی کے بارے میں جو عمومی تاثر ہے وہ یہ ہے کہ یہ امراء کا کھیل ہے۔۔۔لیکن ہم جیسے تیسری دنیا میں بسنے والے لوگوں کے لئے یہ کھیل نہیں ہے زندگی کی گاڑی کو دھکیلنے کا ایندھن ہے۔۔۔ہمارے ملک کی اکثریت اس کھیل سے نام کمانے کے لئے نہیں بلکہ روزی روٹی کمانے کے لئے وابستہ ہے۔۔۔گلگت بلتستان کے بے پناہ صلاحیتوں کے حامل قابل ترین کوہ پیما بھی پہلی دنیا میں بسنے والے امیر کوہ پیماؤں کے پورٹر اور گائیڈ بن کر ان بلند پہاڑوں پر جاتے ہیں۔۔۔گنتی کے چند کوہ پیما ہیں جو ضرورت کے بجائے شوق سے اس فن سے وابستہ ہیں۔۔۔اور ان گنتی کے چند دیوانوں میں ایک نام محمد علی سدپارا کا ہے جو واحد پاکستانی ہیں جن کے پاس دنیا کی بلند ترین چودہ آٹھ ہزاری چوٹیوں میں سے آٹھ کو سر کرنے کا اعزاز ہے۔۔۔یہ نام کوہ پیمائی کے افق پر قیامت تک جھلملاتا رہے گا۔۔۔
سکردو کی جانب سے دنیا کے دوسرے بلند ترین میدان دیوسائی کی طرف سفر کریں تو جو آخری انسانی آبادی، آخری گائوں آتا ہے وہ سدپارا ہے۔۔۔ بلند پہاڑوں کی آغوش میں سبز پانیوں کی رنگ بدلتی جھیل کنارے چار ہزار نفوس پر مشتمل یہ گاؤں حسن سدپارا اور محمد علی سدپارا جیسے انمول  ہیرے اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔۔۔آٹھ ہزار سے اونچی چوٹیاں سر کرنے والے پاکستانی کوہ پیماؤں میں سے بیس کا تعلق اسی سدپارا گاؤں سے ہے۔۔۔اس گاؤں کی ہر گلی میں ہائی آلٹیٹیوڈ پورٹر، گائیڈ اور عظیم کوہ پیما بستے ہیں۔۔۔
مجھ سے جب جب کسی نے میرے آئیڈیل کا پوچھا تو میں نے بس ایک ہی جواب دیا۔۔۔محمد علی جناح۔۔۔یہ ایک نام نہیں ہے۔۔۔یہ تین عظیم شخصیات ہیں۔۔۔رحمة للعالمین حضرت محمدۖ۔۔۔فاتح خیبر حضرت علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ'۔۔۔بانی پاکستان محمد علی جناح!
دنیا کے عظیم فلاسفر نیطشے (Nietzsche)نے کہا تھا کہ موسیقی کی زبردست تھاپ پر جو چند لوگ بے خودی میں رقص کر رہے تھے انہیں دور کھڑے وہ لوگ پاگل سمجھ رہے تھے۔۔۔جو خود کانوں سے مکمل بہرے تھے۔۔۔اور جو موسیقی کی وہ خوبصورت دھن سن ہی نہیں سکتے تھے جسے سن کر وہ چند بے خودی میں رقص کر رہے تھے۔۔۔یہ محمد علی نام کا کمال ہے، اس نام کے حامل افراد کا ذوق یقین ہے یا کچھ اور کہ تاریخ میں جتنے بھی اس نام کے حامل افراد آئے وہ روشن ستارا بن کے ابھرے۔۔۔ چاہے وہ بانی پاکستان محمد علی جناح ہوں۔۔۔باکسنگ کے بے مثال کھلاڑی محمد علی ہوں۔۔۔یا پہاڑوں کا بے تاج بادشاہ محمد علی سدپارا۔۔۔یہ سب ذوق و یقین رکھنے والے باعمل لوگ تھے۔۔۔۔
آئے عشاق ، گئے وعدہ فردا لے کر
اب انھیں ڈھونڈ چراغ رخ زیبا لے کر
محمد علی سدپارا نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ ان کے لئے کوہ پیمائی زریعہ معاش سے زیادہ نہیں تھی۔۔۔وہ پورٹر بن کر پہاڑ پر چڑھتے اور اپنے گھر کا خرچ چلاتے۔۔۔پھر ایک بار کے ٹو بیس کیمپ پر ایک برطانوی کوہ پیما خاتون سے ان کی ملاقات ہوئی۔۔۔تو انہوں نے اس خاتون سے پوچھا کہ وہ پہاڑ کیوں سر کرنا چاہتی ہے۔۔۔اس خاتون کے جواب نے محمد علی سدپارا کی زندگی بدل کے رکھ دی۔۔۔اس ایک لمحے نے محمد علی سدپارا کو ضرورت سے جنون تک کا سفر طے کروا دیا۔۔۔اس خاتون نے اپنے بیگ میں سے اپنا قومی پرچم نکالا اور بولی کہ میرے چوٹی تک پہنچنے کے امکانات بیس فیصد بھی نہیں لیکن میری خواہش ہے کہ میں چوٹی تک جاؤں اور اپنے وطن برطانیہ کا جھنڈا کے ٹو کی چوٹی پر لہرائوں۔۔۔اور یہی لمحہ امر تھا۔۔۔اس ایک لمحے نے محمد علی سدپارا کی زندگی کا مفہوم بدل کے رکھ دیا۔۔۔وہ سدپارا جنہوں نے ہمیشہ اس کام کو پورٹر بن کر، نوکری سمجھ کر، ضرورت کے طور پر، کیا تھا۔۔۔اسی سدپارا نے اس لمحے ضرورت سے جنون تک کا سفر طے کیا۔۔۔انہوں نے سوچا اور خود سے پوچھا کہ میں اس عورت سے زیادہ جوان اور توانا ہوں تو پھر میں کیوں اپنے ملک کے لئے یہ نہیں کر سکتا؟۔۔۔تب سے ہمیشہ انہوں نے اپنی جیب میں سبز ہلالی پرچم رکھا اور آنکھوں میں اس پرچم کو تمام آٹھ ہزاری چوٹیوں پر لہرانے کا خواب۔۔۔اور پھر انہوں نے خود سے عہد کیا کہ آج سے وہ پاکستان کی خاطر پہاڑ سر کریں گے چوٹی پر سبز ہلالی پرچم لہرانے کے لئے بلندیوں پر جائیں گے۔۔۔اور آخری سانس تک انہوں نے یہ وعدہ نبھایا۔۔۔کہتے ہیں کہ آخری سمٹ پر جانے سے پہلے انہوں نے بیس کیمپ پر اپنے ساتھیوں سے کہا تھا کہ اس سرمائی مہم میں کے ٹو چوٹی سر کر کے پاکستانی پرچم لہرانا ہے چاہے میری جان ہی کیوں نہ چلی جائے۔۔۔یہ دیوانگی، یہ جنون، چند خوش نصیبوں کو ہی عطا ہوتا ہے۔۔۔وطن سب کا ہوتا ہے لیکن وطن کا کوئی کوئی ہی ہوتا ہے۔۔۔سبز ہلالی پرچم کو اونچا رکھنے کے لئے جان کا نذرانہ دینے والے دیوانے دو چار ہی ہوتے ہیں۔۔۔جو مقتل میں بھی اس شان سے اترتے ہیں کہ موت کو بھی خود پر فخر ہونے لگتا ہے۔۔۔
 شاہگوری میرا عشق تھا اور پھر میرے دیکھتے ہی دیکھتے اس نے مجھ سے بڑے عاشقوں کو نگل لیا۔۔۔تب پہلی بار مجھے اس سے محبت نہ رہی۔۔۔
2021 کی ابتدا ء تک کے ٹو دنیا کی واحد چوٹی تھی جو موسم سرما میں سر نہیں ہوئی تھی۔۔۔ اور پھر 2020 کے اختتام پر دنیا کے انیس ممالک سے 59 کوہ پیما اس محاذ کو سر کرنے پاکستان کی سرزمین پر اترے۔۔۔اور اسے کے ٹو سیون انٹرنیشنل ونٹر سمٹ 2020-2021کا نام دیا گیا۔۔۔اور پھر سولہ جنوری دوہزار اکیس کا تاریخ ساز دن آیا جب دس نیپالی کوہ پیمائوں نے مشہور زمانہ کوہ پیما نرمل پورجا اور منگما جی کے ساتھ کے ٹو کو موسم سرما میں پہلی بار سر کرنے کا اعزاز حاصل کیا۔۔۔نرمل پورجا کوہ پیمائی کی تاریخ کا عجوبہ ہے۔۔۔یہ دنیا کا واحد شخص ہے جس نے چھ ماہ کی قلیل مدت میں تمام آٹھ ہزاری چوٹیاں سر کی ہیں۔۔۔اور اب اس نے کے ٹو کو پہلی بار موسم سرما میں سر کرنے کا اعزاز بھی جیتا ہے۔۔۔جی ہاں جیتا ہے۔۔۔اگر آپ اس شخص کی کوہ پیمائی پر نظر ڈالیں تو آپ کو خود اندازہ ہو جائے گا کہ یہ کتنا محنتی اور کتنا باعمل انسان ہے۔۔۔اور جب کوئی اتنا محنتی، اتنا با عمل اور اتنا ذوق یقین رکھتا ہے تو پھر وہ اعزاز جیتتا ہے۔۔۔اورذرا اس شخص کے حوصلے، اس کی بہترین قوت فیصلہ، کا اندازہ کیجئے کہ جب ہر کوئی اس دوڑ میں لگا ہو کہ اس کا نام سب سے پہلے آئے وہاں یہ شخص یہ فیصلہ کرتا ہے کہ ہم باقی لوگوں کا انتظار کریں گے اور دس کے دس لوگ مل کر نیپالی قومی ترانہ گاتے ہوئے بیک وقت چوٹی پر قدم رکھیں گے اور نیپالی پرچم لہر ائیں گے اور تاریخ میں جب جب اس سمٹ کا نام آئے گا یہ لکھا جائے گا کہ کے ٹو کو موسم سرما میں پہلی بار نیپال نے سر کیا۔۔۔انفرادی نام بنانے کی خواہش کے بجائے وطن کا نام بنانا نصیب والوں کا کام ہوتا ہے اور پھر ایسے نصیب والے ایسے اعزاز جیت لیتے ہیں۔۔۔نرمل پورجا اور منگما جی کی ٹیم کی کامیابی سے باقی ٹیموں کی کامیابی کی امید بھی یقین میں بدلنے لگی لیکن دور کہیں کاتب تقدیر ہماری خام خیالی پر مسکرایا تھا۔۔۔اور پھر پانچ فروری کا وہ المناک دن طلوع ہوا جب پاکستان کے محمد علی سدپارا، آئس لینڈ کے جان سنوری اور چلی کے جان   پیبلو موہر کے ٹو کو  سر کرنے کی دوسری کوشش میں ڈیتھ زون میں لاپتہ ہو گئے۔۔۔
کے ٹو سیون انٹرنیشنل ونٹر سمٹ 2020-2021 نے پانچ عظیم کوہ پیماؤں کی جان لی۔۔۔اور ابھی نہ جانے اس وحشی پہاڑ کو کتنے عاشقوں کا سر درکار ہے۔۔۔نہ معلوم اس کی بے رحم سفید برف کو کتنے دیوانوں کے لہو کی سیرابی چاہئے۔۔۔نہ جانے اس کی سرد برف کو پگھلنے کے لئے ابھی کتنی جوانیوں کی تمازت چاہئے۔۔۔رائے اویس کے یہ چند اشعار ان تمام بہادر کوہ پیماؤں کے نام  جو عظیم پہاڑوں کو تسخیر کرتے برف کا کفن اوڑھ کے سو گئے۔۔۔
میں حیراں ہوں برف ہی اوڑھ لی ان سورمائوں نے
کہ جب وہ قدم رکھتے تھے تو برفیں ٹوٹ جاتی تھیں
مگر اک بات یاد آتی ہے مجھ کو میری ماں جی کی
کہ  بیٹا  موت کرتی  ہے  حفاظت  زندگانی  کی
تو آئی یوں، سمجھ مجھ کو، کہانی ان دلیروں کی
اگر وہ موت سے ڈرتے کہانی  عام  تھی  ان  کی
کہ جو کچھ خاص کرتے ہیں، وہی تو راج کرتے ہیں
لگا کر موت کو دل سے،  دلوں کو  جیت لیتے ہیں
عظیم اطالوی کوہ پیما میسنر نے دو دفعہ قاتل پہاڑ نانگا پربت سر کیا تھا۔۔۔اسے نانگا پربت سے اتنی محبت تھی کہ ہر سال پاکستان آتا اور نانگا پربت کے روپل بیس کیمپ پر خیمہ زن ہوتا اور نانگا پربت کا دیدار کرتا رہتا۔۔۔آج بھی وہ روپل بیس پر اک پختہ قبر میں اپنے محبوب نانگا پربت کے دامن میں محو آرام ہے۔۔۔میسنر کہتا تھا کہ کوئی کوہ پیما بہادر نہیں ہوتا۔۔۔بہادر کوہ پیما ایک مردہ کوہ پیما ہوتا ہے۔۔۔اچھا کوہ پیما وہی ہے جو پہاڑ سے مقابلہ نہ کرے بلکہ اس کے آگے سر جھکائے۔۔۔اس سے رشتہ بنائے۔۔۔اس سے محبت کرے۔۔۔اور محمد علی سدپارا بھی ایسا ہی تھا۔۔۔اچھا کوہ پیما۔۔۔سدپارا نے چار دفعہ نانگا پربت کو سر کیا۔۔۔ہر موسم میں۔۔۔بنا آکسیجن سیلنڈر کے۔۔۔علی سدپارا وہ پہلا شخص تھا جس نے موسم سرما میں نانگا پربت کو سر کیا۔۔۔وہ کہتے تھے کہ کوہ پیمائی ایسا کھیل ہے جس میں کھلاڑی کو بیک وقت دو محاذوں پر لڑنا پڑتا ہے۔۔۔ایک موسم کی شدت اور دوسرا اپنے ہی جسم سے، اپنی ہی باڈی کیمسٹری سے جنگ۔۔۔انسانی جسم کی ساخت ہی ایسی ہے کہ انسان سطح سمندر سے اکیس سو میٹر کی بلندی تک رہ سکتا ہے لیکن جیسے جیسے وہ اس  سے مزید بلندی پر جائے گا اس کے جسم میں تبدیلیاں رونما ہونا شروع ہو جائیں گی۔۔۔انسان پر قدرتی ماحول کی شدت کا اثر ہونے لگے گا جو بعض اوقات جان لیوا بھی ہو سکتا ہے۔۔۔سدپارا کہتے تھے کہ آپ پہلے چوبیس گھنٹوں کے اندر چوبیس سو میٹر سے زیادہ بلندی پر نہ جائیں۔۔۔اسی سے اندازہ کیجئے کہ محمد علی سدپارا کتنا بڑا، کتنا اچھا کوہ پیما تھا۔۔۔اسے پہاڑوں سے کتنی محبت تھی۔۔۔کتنا پکا رشتہ تھا پہاڑوں کے اس بیٹے کا ان پہاڑوں سے کہ ہمیشہ کے لئے انہی میں امر ہو گیا۔
اور پھر تاریخ نے پہلی بار دیکھا کہ اک بیٹا وحشی پہاڑ کی بے رحم موت کی وادی میں پھنسے باپ کی تلاش میں نکل پڑا۔۔۔
تجھ کو معلوم کہاں پیاس کے معنی ہمدم
تو نے دیکھی بھی ہے جلتی ہوئی حسرت کوئی؟
سانس رکتی ہے لہو نبض میں جم جاتا ہے۔۔۔
تو نے دیکھی بھی ہے مرتی ہوئی قربت کوئی
ساجد سدپارا اس دوسری ٹیم کا حصہ تھے جس نے پانچ فروری کو کے ٹو ونٹر سمٹ کرنی تھی۔۔۔اس دن اک تاریخ رقم ہونے جا رہی تھی۔۔۔کے ٹو پر موسم سرما میں پہلے پاکستانی کے قدم پہنچنے والے تھے۔۔۔تاریخ میں پہلی بار کوئی باپ بیٹا ایک ساتھ کے ٹو کی چوٹی پر کھڑے ہونے والے تھے۔۔۔محمد علی سدپارا، ان کے بیٹے ساجد سدپارا، آئس لینڈ کے جان سنوری اور چلی کے جان  پیبلو موہر کے ساتھ جب کیمپ فور سے نکلے تو تب تک سب ٹھیک تھا۔۔۔بوٹل نیک تک ساجد سدپارا ٹیم کا حصہ تھے کہ اچانک ساجد کو سانس لینے میں دشواری کا مسئلہ پیش آنے لگا۔۔۔اس وقت تک انہوں نے بنا آکسیجن سیلنڈر کے چوٹی سر کرنی تھی لیکن پھر محمد علی سدپارا نے ایک آکسیجن سیلنڈر جو ایمرجنسی حالات کے لئے باقی کے دو ممبرز کے لئے رکھا ہوا تھا وہ ساجد کو دیا کہ اسے لگا لو۔۔۔اب اسے بد نصیبی کہئے یا خوش نصیبی کہ ساجد سے وہ آکسیجن سیلنڈر جوڑتے ہوئے لیک ہو گیا۔۔۔ریگولیٹر خراب ہونے کے باعث اب ساجد کو واپس بھجوانے کے سوا کوئی راستہ نہیں تھا۔۔۔اور پھر پہاڑوں کے بیٹے محمد علی سدپارا نے وہ کیا جسے کرنے کے لئے پہاڑوں جیسا حوصلہ درکار تھا۔۔۔اس نے تنہا اپنے بچے کو واپس بھیج دیا۔۔۔اس مقام سے اکیس سالا بیٹے کو تنہا واپس بھجوانا جہاں موت قدم قدم پر گھات لگائے بیٹھی ہو پہاڑ جیسی ہمت والے کا ہی حوصلہ ہو سکتا تھا۔۔۔ساجد سدپارا نے آخری بار اپنے باپ کو اس کے دونوں ساتھیوں سمیت بوٹل نیک پر دیکھا اور واپس کیمپ فور میں لوٹ گیا۔۔۔اور ان کے چوٹی سر کر کے واپس آنے کا انتظار کرنے لگا۔۔۔لیکن یہ انتظار رفتہ رفتہ یقین سے خدشے، خدشے سے اُلجھن، اُلجھن سے اذیت اور اذیت سے کبھی نہ ختم ہونے والا درد بنتا چلا گیا۔۔۔
کے ٹو کا بیس کیمپ پانچ ہزار میٹر پر ہے۔۔۔کیمپ ون چھ ہزار میٹر پر ہے۔۔۔کیمپ ٹو چھ ہزار سات سو میٹر بلندی پر ہے۔۔۔کیمپ تھری سات ہزار چار سو میٹر پر ہے۔۔۔اور کیمپ فور آٹھ ہزار میٹر بلند ہے۔۔۔اس سے آگے موت کی وادی یعنی ڈیتھ زون شروع ہو جاتا ہے۔۔۔آٹھ ہزار دو سو گیارہ میٹر کی بلندی پر بوٹل نیک ہے جو کے ٹو کا مشکل ترین حصہ ہے۔۔۔اور کے ٹو پر ہونے والی اموات میں سے اکیانوے فیصد اموات اسی حصے میں ہوئی ہیں۔۔۔
ساجد سدپارا ساری رات کیمپ فور میں اپنی جان پر کھیل کے اپنے باپ کی واپسی کا انتظار کرتا رہا۔۔۔سدپارا ٹیم کو چھ سے آٹھ گھنٹے کے اندر اندر سمٹ مکمل کر کے ساجد تک پہنچ جانا چاہئے تھا۔۔۔لیکن وہ نہ آئے۔۔۔ساجد نے رات بھر اپنے کیمپ کو روشن رکھا تا کہ جب اس کا باپ اپنی ٹیم سمیت چوٹی سر کر کے واپس لوٹے تو برف اور اندھیرے میں راستہ نہ بھٹکے۔۔۔کیمپ کی روشنی دیکھ کر آسانی سے اس تک پہنچ جائے۔۔۔پھر بھی جب سدپارا ٹیم نہ آئی تو ساجد نے بارہا منفی ساٹھ ڈگری درجہ حرارت میں کیمپ سے باہر نکل کر دیکھا بھی کہ شاید کہیں سے کوئی روشنی کی کرن نظر آئے اور ٹارچ کی روشنی کی یہ کرن اس کے باپ کی کوئی خبر لے آئے۔۔۔لیکن تقدیر کو کچھ اور ہی منظور تھا۔۔۔بوٹل نیک پر پہنچتے ہی سدپارا ٹیم کا فون، ریڈیو اور دوسرے آلات کام کرنا چھوڑ گئے اور ساجد سے ان کا رابطہ منقطع ہو گیا۔۔۔ساجد ساری رات ان کا منتظر رہا اس دوران ساجد بیس کیمپ سے رابطے میں رہا۔۔۔ساری رات کے انتظار کے بعد بھی جب ٹیم واپس نہ آئی تو اس کا سیدھا سیدھا ایک ہی مطلب تھا کہ حادثہ ہو چکاہے ۔۔۔اور آٹھ ہزار میٹر سے زائد بلندی پر منفی پینسٹھ ڈگری درجہ حرارت میں طوفانی ہوائوں میں بنا کسی کھانے پینے اور حفاظتی سامان کے کسی حادثے سے دوچار ہونے کا بس ایک ہی مطلب ہوتا ہے۔۔۔اور ایسے میں کوئی معجزہ ہی ہو تو ہو اور کوئی صورت نہیں بچتی۔۔۔
محمد علی سدپارا نے2019 میں اپنے قریبی دوست شمشاد حسین کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر میں پہاڑ پر پھنس جاؤں۔۔۔یا پہاڑوں میں کہیں کھو جاؤں۔۔۔تو میں برف کا گھر بنا کر اس میں رہ سکتا ہوں۔۔۔اور کچھ دن کھائے پیئے بغیر بھی زندہ رہ سکتا ہوں۔۔۔
لیکن ساری رات اور اگلا سارا دن انتظار کرنے کے بعد بھی جب سدپارا ٹیم واپس نہ پہنچ پائی تو بیس کیمپ کے ٹیم لیڈر نے بمشکل تمام ساجد سدپارا کو نیچے بیس کیمپ آنے پر راضی کیا۔۔۔کہ آپ تھکے ہوئے ہیں اور اتنی بلندی پر اتنا زیادہ وقت گزارنا خطرے سے خالی نہیں۔۔۔موسم شدید خراب ہے اور شدید تھکاوٹ اور موسم کی خرابی کے سبب آپ اوپر نہیں جا سکتے اس لئے آپ نیچے آ جائیں ہم یہاں سے ریسکیو مشن بھجواتے ہیں۔۔۔اور کیا ہم اس بچے کے درد کا اندازہ کر سکتے ہیں جو اپنے باپ کے ساتھ چوٹی سر کرنے گیا تھا اور اس نے اپنے باپ کو کھو دیا تھا۔۔۔اس کا باپ وحشی پہاڑ کی بے رحم برف میں کہیں لا پتہ ہو گیا تھا۔۔۔اور وہ چوبیس گھنٹوں سے زیادہ بھوکا پیاسا جاگا ہوا تھا اور اب اپنے باپ کی گمشدگی کا غم سینے میں لئے تنہا بلندی سے نیچے بیس کیمپ کی طرف آ رہا تھا۔۔۔جس کا دماغ چیخ چیخ کر اسے انہونی کی خبر دے رہا تھا لیکن وہ پہاڑ جیسا حوصلہ دکھاتے ہوئے پُر امید تھا۔۔۔پاک فوج اور حکومت پاکستان نے کے ٹو کی برف میں لاپتہ ہو جانے والے دنیا کے ان عظیم کوہ پیماؤں کی تلاش میں تمام وسائل بروئے کار لاتے ہوئے مسلسل فضائی و زمینی سرچ آپریشن کیا۔۔۔لیکن اتنے دن بعد بھی خراب موسم کے سبب لا پتہ سدپارا ٹیم کا کوئی سراغ نہ مل سکا۔۔۔اور پھر جب واپس سکردو پہنچ کر ساجد سدپارا نے میڈیا سے بات کی تو اس چھوٹے سے بچے کا ضبط، اس کا حوصلہ کے ٹو کو بھی مات دے گیا۔۔۔ساجد سدپارا نے ایک سوال کے جواب میں میڈیا سے کہا کہ اگر کے ٹو کی تاریخ دیکھی جائے تو نوے فی صد سے زائد کوہ پیماؤں کے ساتھ حادثات تب ہوتے ہیں جب وہ نیچے کی جانب سفر شروع کرتے ہیں۔۔۔وہ سمجھتے ہیں کہ ان کے والد اور دوسرے کوہ پیماؤں کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا ہو گا۔۔۔
انتظامیہ نے18 فروری کو لاپتہ کوہ پیماؤں کے نہ ملنے کاباقاعدہ اعلان کیا۔  پہاڑوں کا یہ شہزادہ علی سدپارہ پہاڑ کی آغوش میں ابدی نیند سوگیا لیکن علی سدپارہ کا یہ خواب اب ان کا بیٹا ساجد سدپارہ ضرور پورا کرے گا۔

چلو اک اور رقصِ رائیگانی دفن کرتے ہیں
پہاڑوں میں محبت کی کہانی دفن کرتے ہیں
یہ خیمے موت کے بکھرے ہوئے ہیں برف زاروں میں
انہی میں خامشی سے زندگانی دفن کرتے ہیں 
پہاڑوں پر اترتے برف کے طوفان میں اپنی
سوادِ عشق میں لپٹی جوانی دفن کرتے ہیں
مِرے سینے پر اک تعویذ ہے تیری محبت کا 
چلے آئو کہ باہم  یہ نشانی دفن کرتے ہیں
ہمیں تو آسماں کو چوم کر واپس پلٹنا تھا
مگر اب خواہشوں کی راجدھانی دفن کرتے ہیں
دعائیں بے ثمر ہونے لگیں برفاب موسم میں
سو اب جاں سوز اشکوں کی روانی دفن کرتے ہیں
جہاں مٹھی میں لینا تھاسنہرے خواب کا جگنو
وہاں بے جان ہاتھوں کی کہانی دفن کرتے ہیں ||


مضمون نگار کی حال ہی میں کوسٹل ہائی وے 'پہ ہوا کا دروازہ' نامی کتاب شائع ہوئی ہے۔ اس سے قبل ان کی دو کتب دیوسائی اور وطن، فرض اور محبت مارکیٹ میں دستیاب ہیں۔
[email protected] 


 

یہ تحریر 191مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP