متفرقات

بلند حوصلے روشن راہیں

میرے لئے یہ بات قابل فخر ہے کہ چیف آف آرمی سٹاف جناب جنرل راحیل شریف نے جی ایچ کیو میں نہ صرف ہمیں اپنے دفتر میں مدعو کیا بلکہ بے پناہ عزت افزائی کی۔ ایک سپاہی کے لئے اپنے آرمی چیف سے ملنا اور شاباش لینا ایک بہت یادگار لمحہ ہوتا ہے۔ اپنے چیف سے مل کر مجھے ایسے لگا جیسے انہیں میری قربانی کا نہ صرف احساس ہے بلکہ فخر اور مان بھی ہے۔ وہ بہت پیار سے گلے لگا کر ملے اور میری پیٹھ بھی تھپتھپائی۔

زندہ قومیں اُن بیٹوں کو یاد رکھتی ہیں جو اپنی قوم کی خاطر اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے وطن کے باسیوں کو پُر امن زندگی گزارنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ مؤرّخ خود کبھی تاریخ کا حصہ نہیں ہوتے‘ تاریخ انہیں یاد رکھتی ہے جو تاریخ رقم کر جاتے ہیں۔ پاکستان کی تاریخ بھی ایسے کئی جوانمردوں کی داستانوں سے بھری پڑی ہے۔ جنہوں نے جان کا نذرانہ دے کر شہادت کا درجہ پایا‘ گہرے زخم کھائے یا غازی بن کر لوٹے۔ افواج پاکستان کے ہزاروں ایسے فرزند ہیں جنہوں نے دیدہ و نادیدہ دشمنوں سے لڑتے ہوئے اپنے جسم کا کوئی حصہ اپنے وطن پر قربان کر دیالیکن ملکی سالمیت پر آنچ نہیں آنے دی۔ یہ وہ بلند حوصلے والے سپاہی ہیں جن کو پوری قوم تحسین کی نظر سے دیکھتی ہے۔ انہی سپاہیوں نے اہل وطن کو مستحکم پاکستان کی روشن راہیں دکھائی ہیں اور دشمن پر یہ واضح کر دیا ہے کہ جب تک ایسے غازیان وطن موجود ہیں ان کے مذموم مقاصد کبھی پورے نہیں ہو سکتے۔

دہشت گردی کے عفریت نے آج پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔ پاکستان اس جنگ میں صف اول میں شامل ہے۔ اب تک ہزاروں افراد دہشت گردی کی نذر ہو چکے ہیں۔ اس لئے پاک افواج اور قوم نے ہر قیمت پر ان سے نجات حاصل کرنے کا عزم کر رکھا ہے۔ آپریشن ضرب عضب اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ ظاہر ہے جب جنگ ہوتی ہے تو اس میں سپاہی شہید بھی ہوتے ہیں اور زخمی بھی۔ بعض شدید زخمی جو جسمانی طور پر معذور ہو جاتے ہیں‘ ان زخمی افراد کو زندگی کی دوڑ میں شامل کرنے کے لئے ان کا بھرپور علاج کیا جاتا ہے۔ ایسے ہی بہت سے سپاہی آرمڈ فورسز انسٹی ٹیوٹ آف ری ہیبلی ٹیشن اینڈ میڈیسن (اے ایف آئی آر ایم) میں داخل ہیں جن میں سے ہلال کی ٹیم نے بات چیت کی ہے اور ان کے عزم و حوصلے نے متاثر کیا ہے۔ یہ ادارہ زخمیوں کے علاج معالجہ کے ساتھ ساتھ مختلف ہنر بھی سکھاتا ہے۔ سپاہی سجاد حسین بھی انہی سپوتوں میں سے ایک ہے۔ جن کو AFIRM میں علاج کے لئے لایا گیا ہے۔ سپاہی سجاد حسین سے جو گفتگو ہوئی وہ نذر قارئین ہے۔ ہلال: آپ کس طرح زخمی ہوئے۔ سپاہی سجاد حسین: ہم پنوں عاقل میں اپنی یونٹ میں فرائض انجام دے رہے تھے کہ وزیرستان میں ہمیں ایک مشن کے لئے بلایا گیا۔ سپیشل آپریشن بہت حساس مرحلہ تھا مجھے اس بات کی خوشی بھی ہے کہ میرے افسران نے مجھ پر اعتماد کیا اور اس مشن کے قابل سمجھا۔ اس سے پہلے بھی میں چند آپریشنز میں حصہ لے چکا تھا اور ہم ہمیشہ کامران لوٹے تھے۔ افسران پراعتماد تھے اور میرے ساتھیوں کے حوصلے بھی ہمیشہ کی طرح بلند تھے۔ جامع منصوبہ بندی کے بعد ہم نے علی الصبح آپریشن کرنے کا فیصلہ کیا۔ دہشت گرد جو اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لئے کوئی بھی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے تھے ہم ان پر بلائے ناگہانی بن کر ٹوٹ پڑے۔ ان کے پاس راہ فرار اختیار کرنے کے سوا چارہ نہ تھا۔ کیونکہ ہمارا حملہ شدید تھا۔ انہیں سنبھلنے کا موقع ہی نہ ملا۔ صبح 7.00 بجے وہ علاقہ پاک فوج کے قبضے میں تھا۔ دہشت گردوں کے فرار کے بعد علاقہ کلیئر کرنا ایک اہم مرحلہ ہوتا ہے جس کا مقصد وہاں ممکنہ خطرات سے نبردآزما ہونا ہے۔ علاقے کو اپنے قبضے میں لینے کے بعد علاقے کو کلیئر کرنے کا کام شروع ہوا۔ اس دوران دن کے10 بجکر29منٹ پر ایک(IED)بلاسٹ ہوگئی۔ زور دھماکہ ہوا اور ہمارے دو جوان جام شہادت نوش کر گئے۔ اس آئی ڈی کے کچھ ٹکڑے مجھے بھی لگے جس سے میں شدید زخمی ہو گیا۔ اس واقعے میں میری آدھی ٹانگ ضائع ہوئی۔ ہلال: آپ کو AFIRM کب اور کیسے لایا گیا۔ سپاہی سجاد حسین: اس حادثے کے کچھ دیر بعد مجھے کوہاٹ سی ایم ایچ لایا گیا جہاں میرا علاج شروع کیا گیا ۔ زخم اتنا بڑا تھا کہ آدھی ٹانگ کاٹنے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ پھر ڈاکٹروں نے مصنوعی اعضا کے لئے مجھے AFIRM راولپنڈی میں منتقل کر دیا۔ ہلال: کیا آپ کا علاج تسلی بخش ہو رہا ہے؟ سپاہی سجاد حسین: جی ہاں۔ میںیہاں اپنے علاج سے پوری طرح مطمئن ہوں۔ جب میں یہاں آیا تو مجھے اس بات پر یقین تھا کہ یہ ادارہ مجھے پھر سے چلنے کے قابل بنا دے گا۔ یہ میرے اعتماد پر پورا اترا۔ علاج معالجے کے دوران کوئی مشکل پیش نہیں آئی۔ ڈاکٹروں کا رویہ ہمدردانہ اور مشفقانہ تھا۔ میری صحت تیزی سے بحال ہوئی۔ ابتدا میں تو معذوری پر مجھے بہت رنج ہوا مگر یہاں ڈاکٹروں کی لگن اور مریضوں کی بحالی صحت کے اقدامات نے میرے حوصلے بھی بلند کر دیئے۔ ہلال: اس واقعے کے بعد آپ کیا محسوس کرتے ہیں؟ سپاہی سجاد حسین: میرے حوصلے پہلے بھی بلند تھے اور آج بھی بلند ہیں جسم کے ایک عضو کی قربانی کے بعد میرا حوصلہ اور بھی مستحکم ہوا ہے ۔ اس قربانی نے مجھے وہ لطف و سکون بخشا کہ اگر دفاع وطن کی خاطر مجھے سو بار بھی قربانی دینی پڑی تو میں اس سے گریز نہیں کروں گا۔ ہلال: علاج مکمل ہونے کے بعد کیا ارادے ہیں۔ سپاہی سجاد حسینAFIRM نے نہ صرف میری جسمانی معذوری کو دور کیا بلکہ مجھے یہاں کمپیوٹر کی تربیت بھی فراہم کی ہے۔ اب گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے میں چیک اپ کے لئے آرہا ہوں۔ اے ایف آر آئی ایم نے مجھے اس قابل بنا دیا ہے کہ میں خود چل پھر سکوں۔ میری خواہش ہے کہ میں مکمل بحالی صحت کے بعد اپنی یونٹ میں کمپیوٹر آپریٹر کے طور پر خدمات انجام دوں۔ ہلال: اپنے گھر اور بچوں کے بارے میں کچھ بتائیں؟ سپاہی سجاد حسین: میرا تعلق راولپنڈی کی تحصیل کہوٹہ سے ہے۔ اﷲ نے مجھے ایک بیٹی اور ایک بیٹے سے نوازا ہے۔ فوج سے رشتہ پرانا ہے۔ بشمول بڑے بھائی کے خاندان کے اکثر و بیشتر افراد فوج سے وابستہ ہیں۔ پاک فوج دنیا کی عظیم فوج ہے مجھے فخر ہے کہ میں اس کا ایک حصہ ہوں مجھے میرے کارنامے پر تمغہ بسالت سے بھی نوازا گیا ہے۔ ہلال: کوئی خاص واقعہ جوAFIRM میں علاج کے دوران کے دوران پیش آیا ہو اور آپ اس کو ہلال کے قارئین سے شیئر کرنا چاہیں؟ سپاہی سجاد حسین: میرے لئے یہ بات قابل فخر ہے کہ چیف آف آرمی سٹاف جناب جنرل راحیل شریف نے جی ایچ کیو میں نہ صرف ہمیں اپنے دفتر میں مدعو کیا بلکہ بے پناہ عزت افزائی کی۔ ایک سپاہی کے لئے اپنے آرمی چیف سے ملنا اور شاباش لینا ایک بہت یادگار لمحہ ہوتا ہے۔ اپنے چیف سے مل کر مجھے ایسے لگا جیسے انہیں میری قربانی کا نہ صرف احساس ہے بلکہ فخر اور مان بھی ہے۔ وہ بہت پیار سے گلے لگا کر ملے اور میری پیٹھ بھی تھپتھپائی۔ اس کے علاوہ پاک فوج کی طرف سے زخمی فوجیوں کے لئے جن متعدد مراعات کا اعلان کیا گیا ہے ان سے میرا حوصلہ بڑھا ہے اور مجھے معذوری کا دکھ بھی بھول گیا ہے۔ ہلال: اس دفعہ آپ نے یومِ دفاع کیسے منائیں گے؟ سپاہی سجاد حسین: اب کی بار میں یومِ دفاع اور فخر سے مناؤں گا کہ میرا لہو بھی اسی مقدس دھرتی کے کام آیا ہے۔ میں بھی غازیانِ وطن میں شامل ہوں۔ یومِ دفاع اس عہدکی تجدید ہے کہ یہ ملک ہم نے بڑی قربانیوں کے بعد حاصل کیا ہے۔ اس کی خود مختاری و سلامتی کو برقرار رکھنے کے لئے ہمیں کسی بڑی سے بڑی قربانی سے بھی دریغ نہیں کرنا چاہئے۔

یہ تحریر 23مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP