متفرقات

بسکہ دشوار ہے

دنیا کے چند مشکل کاموں سے ایک کام کسی رسالے یا میگزین کا ایڈیٹر یعنی مدیر ہونا ہے۔ جیسے ہی آپ کسی رسالے کے ایڈیٹر مقرر ہوتے ہیں تو یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیلتی ہے۔ کبھی کبھی یہ خبر اس طرح بھی پھیلتی ہے جیسے کسی دور میں برِ صغیر میں طاعون پھیلا تھا۔ نہ اس وقت لوگوں کے پاس طاعون کا علاج تھا نہ ایڈیٹر کے پاس ان تخلیقات کو رد کرنے کا کوئی ’’اخلاقی جواز‘‘ ہوتا ہے جو کسی نے انتہائی عرق ریزی کے بعد ارسال کی ہوتی ہے۔ بعض غزلیں اور نظمیں الحمدﷲ اتنی بے وزن ہوتی ہیں کہ اُن کو پڑھ کر اور دیکھ کر مدیر کی جان نکل جاتی ہے۔ جان اس لئے نکل جاتی ہے کہ شاعر مذکورہ نے جس محبت اور اپنائیت کے ساتھ ڈیڑھ صفحے کے خط میں مدیر اور مجلے کی تعریفوں کے پُل باندھے ہوتے ہیں اور ساتھ اپنی دو عدد بے وزن غزلیں ارسال فرمائی ہوتی ہیں مدیر کے لئے ان کوکھلے عام‘ بے وزن قرار دینا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ یہ کام اُس وقت اور بھی مشکل ہو جاتا ہے جب مدیر شاعری کے معاملے میں خود بھی وزن میں نہ ہو۔ مدیر کے نہاں خانے میں شاید کہیں یہ بھی ہوتا ہے کہ اگر ان غزلوں کو غیر معیاری اور بوسیدہ قرار دے کر صاحبِ غیرمعیار کو ناراض کرلیا تو اگر وہ ڈیڑھ صفحے کے خط میں تعریفوں کے پُل باندھ سکتے ہیں تو اڑھائی صفحے میں مدیرِ مذکور اور اس کے جملے کی دھجیاں بکھیرنا اُن کے لئے کون سا مشکل ہوگا۔

بعض شعرا اور نثر نگار صاحبان مہینے کی آخری تاریخوں میں اپنی تخلیقات ارسال کرکے یہ نتیجہ اخذ کرچکے ہوتے ہیں اب مدیر کہیں بچ کر نہیں جاسکتا اور وہ ہر صورت میں ان تخلیقات کو اگلے شمارے میں شامل کرے گا وگر نہ۔۔۔ اس کا شمارہ نامکمل رہ جائے گا۔ ظاہر ہے لیٹ اور بسا اوقات غیر معیاری ہونے پر وہ تخلیقات اگلے اور اُس کے بعد آنے والے کئی ’’اگلے‘‘ شماروں میں جگہ نہیں بنا پاتیں تو بعض تخلیق نگار بپھر جاتے ہیں اور تحکمانہ انداز میں فون کالز‘ میسجز اور خطوط کا تبادلہ کرتے ہیں جب مدیر انہیں لگے لپٹے اندازمیں جگہ کی کمی‘ پالیسی یا کسی اور چیز کا بہانہ بنا کر مطمئن کرنیکی کوشش کرتا ہے تو تخلیق کار اُسے ’’سخت سست‘‘ کہتے ہوئے اُس پر دو حرف بھیج کر چپ ہو جاتا ہے۔ ہاں مدیر اُن سینئر اور کہنہ مشق تخلیق کاروں اور شعراء سے شرمندہ ضرور رہتا ہے جن کی تحاریر معیاری اورشاعری وزن پر پوری اُترنے کے باوجود صفحات کم ہونے اور بعض اوقات موضوع پُرانا ہوجانے کی بناء پر شائع نہیں ہوپاتیں۔

ہرمدیر یہ چاہتا ہے کہ اُس کے زیرِ ادارت شائع ہونے والے میگزین میں کسی نامور شخصیت اور معاشرے میں کسی نہ کسی حوالے سے شہرت حاصل کرنے والے افراد کے انٹرویوزشائع ہوں تاکہ ان کے خیالات سے قارئین مستفید ہوں اور رہنمائی حاصل کرسکیں لیکن بسا اوقات بہت سینئر شعرا اور ادیب انٹرویو کا وعدہ کرکے جب اپنی گونا گوں مصروفیت کی بناء پر عین وقت پر ’’کنی نئیں پھڑکاتے‘‘ (وقت نہیں دے پارہے ہوتے) تو مدیر کے لئے اُس اچانک صورت حال سے نمٹنا مشکل ہوجاتا ہے کیونکہ وہ اپنے سٹاف کو چند روز قبل فخریہ اندازمیں خبر دے چکا ہوتا ہے کہ اس بار ہم فلاں شخصیت کا انٹرویو کررہے ہیں۔ پھر مدیر اپنے سٹاف کے سامنے مذکورہ شخصیت کا انٹرویو نہ ہو سکنے کی ایسی ایسی وجوہات اور توضیحات پیش کررہا ہوتا ہے جو خود اُس شخصیت کے ذہن میں بھی نہیں ہوتیں۔ گویا ایڈیٹرز (مدیران) کو مختلف تجربات درپیش آتے رہتے ہیں۔ پاکستان ٹائمز کے ڈپٹی ایڈیٹر اور1990- 91 میں پنجاب یونیورسٹی شعبہ صحافت میں ہمارے اُستاد جی ایم نقاش مرحوم اس واقعہ کے راوی ہیں کہ ایک وفد پاکستان ٹائمز کے نیوز روم میں دورے کے لئے آیا تو جو صاحب وفد کاسٹاف سے تعارف کروا رہے تھے کہنے لگے یہاں ایک ایڈیٹر ہے اور باقی ’’سب ایڈیٹر‘‘ ہیں تو وفد کی حیرت کی انتہا نہ رہی کہ یہاں سب کے سب لوگ ایڈیٹر کیسے ہوسکتے ہیں۔ ایڈیٹر کے ساتھ دیگر سٹاف بھی تو ہوتاہوگا۔۔۔؟

ایڈیٹر کے لئے ایک اور مشکل بھی ہوتی ہے کہ وہ جس زبان کے میگزین کا ایڈیٹر ہو تو اُس کے بارے میں یہ قیاس کرلیا جاتا ہے کہ اُسے اُس زبان کے ہر لفظ کا مطلب آتا ہوگا اگر یہ ہوتا تو انگریز جن کی مادری زبان ہی انگریزی ہوتی ہے وہ انگریزی کی اتنی موٹی موٹی ڈکشنریاں کیوں بغل میں دبائے پھرتے۔ الغرض ایڈیٹر ’’انڈر پریشر‘‘ رہ کر کھیلنے کا عادی ہو جاتا ہے وہ نہ تو شاہد آفریدی کی طرح ’’ٹھلے‘‘ لگا سکتا ہے اور نہ ہی مصباح کی طرح ٹُک ٹُک

کرسکتا ہے۔ بقول میرتقی میر ؂

سرہانے میر کے آہستہ بولو

ابھی ٹُک روتے روتے سوگیا ہے

دوسرے لفظوں میں ایڈیٹر کی زندگی میں سکون نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی۔ وہ دن ایڈیٹر کے لئے سب سے بھاری ہوتا ہے جس دن وہ اپنی کاپی پریس میں بھجوا کر اپنے سٹاف کو چھٹی دے چکا ہوتا ہے اور پھر پریس سے فون آتا ہے کہ اس میں کوئی مضمون یا مضمون پر لگی ہوئی اہم تصویر غائب ہے یا اُس کا لنک نہیں کھل رہا۔ اس کے بعد ایڈیٹر کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ سٹاف ممبران اپنے اپنے موبائل سوئچ آف کرکے خوابِ خرگوش کے مزے لے رہے ہوں گے۔ گویا ایڈیٹر کو اپنے میگزین کے لئے مختلف ایشوز پر لکھوانے ‘ غیر معیاری تحاریر بھجوانے والوں کو یہ بتانا کہ آپ کی چیزیں غیر معیاری ہیں‘ اچھا لکھنے والوں کو یہ بتانا کہ جگہ کی کمی یا بعض اوقات پالیسی ایشو کی بنا پر آپ کی تخلیقات نہیں لگائی جا سکیں ایک کٹھن مرحلہ ہے۔ کسی سخت طبیعت تخلیق کار کو یہ بتانا کہ آپ کی تخلیق غیر معیاری ہے مصیبت کو دعوت دینے والی بات ہوتی ہے کہ تخلیق تو بچے کی طرح ہوتی ہے ہر ماں کو اپنا بچہ زیادہ پیارا لگتا ہے لہٰذا وہ لوگوں کو یہ کہنے کا حق نہیں دیتی کہ خدانخوستہ بچہ مناسب شکل کا واقع ہوا ہے۔

ہر ایڈیٹر کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگ اُس کے میگزین کے خریدار بنیں اور وہ بھی مستقل خریدار۔ اُس کے لئے میگزین میں طرح طرح کے اشتہار دیئے جاتے ہیں جو بالکل جینوئن ہوتے ہیں کہ سالانہ خریدار بننے سے خریدار کو چند سو روپوں کی بچت بھی ہوجاتی ہے لیکن اُن کے کانوں پر جوں نہیں رینگتی کیونکہ بعض قارئین تو درسی کتب بھی خرید کر پڑھنے کے عادی نہیں ہوتے۔ بلاشبہ ایڈیٹر کے لئے باعثِ فخر ہوتا ہے کہ بعض شخصیات اُن کا میگزین ضرور پڑھیں لیکن اُن کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہوتی ہے۔ لہٰذا اُنہیں اعزازی شمارہ بھیجنا بھی اعزازکی بات ہوتی ہے بہرکیف بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں جو صرف فری پرچہ منگوانے پر یقین رکھتے ہیں لیکن اُسے پڑھتے نہیں۔ جو قومیں ’’پڑھتی‘‘ ہیں پھر مستقبل اُنہی قوموں کا ہوا کرتا ہے۔ ہماری قوم تو ویسے ہی ایک عرصے سے ’’پڑھنے پڑی‘‘ (سوچ میں مبتلا) ہوئی ہے اور اپنے لئے کسی منزل کی تلاش میں ہے۔ قوم جیسے جیسے پڑھنا شروع کرے گی اس کی منزل بھی قریب سے قریب تر ہوتی چلی جائے گی۔ لیکن اس کے لئے شیشہ سموکنگ سپاٹس کی بجائے لائبریریاں آباد کرنا ہوں گی کہ لفظ بھی کسی درویش کے رقص کی طرح ہوتے ہیں جو خیالات اور امنگوں کو نئے معنوں سے روشناس کراتے ہیں۔

یہ تحریر 61مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP