متفرقات

بستی کا آخری آدمی

انتظار حسین ہمارے افسانوی ادب کا نمایاں نام ہے۔ وہ اپنے منفرداسلوب، زبان کے انوکھے برتاؤ اور اپنی کہانیوں اور ناولوں میں مخصوص ناسٹلجیا کے باعث انفرادیت رکھتے ہیں۔ وہ7دسمبر 1923 کو (بعض محققین کے نزدیک 21دسمبر کو) میرٹھ کے قصبہ ڈوبائی میں پیدا ہوئے اور 2فروری 2016 کو لاہور میں ان کی وفات ہوئی۔ انہیں فیروزپور روڈ پر واقع فردوسیہ قبرستان میں دفنایا گیا۔ ان کی وفات کے موقع پر ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔


روایت مشہور ہے کہ انتظار حسین کے والد سید منظر علی نے ان کا نام ’’محمد‘‘ رکھا لیکن وہ چونکہ چار بہنوں کے بعد پیدا ہوئے تھے لہٰذا ان کا نام بعد میں انتظار حسین رکھا گیا۔ تاہم وہ اپنے نام کے ساتھ ہمیشہ ’’محمد‘‘ لکھتے۔ پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے بعد وہ لاہور چلے آئے۔ انہوں نے زندگی کا بیشتر حصہ صحافت میں گزارا۔ روزنامہ مشرق‘ لاہور میں ان کا کالم ’’لاہور نامہ‘‘ کے نام سے برس ہا برس شائع ہوتا رہا۔ لاہور نامہ اس عہد کے لاہور میں ہونے والی علمی، ادبی اور ثقافتی معمولات کا خوب صورت اور بھرپور احاطہ کرتا ہے۔ بعد ازاں انہوں نے روزنامہ ’’ڈان‘‘ کراچی کے ’’بُکس اینڈ آتھر‘‘ میں ادبی موضوعات پر بیش بہا کالم لکھے اور اردو میں ’’بندگی نامہ‘‘ کے عنوان سے ان کا اردو کالم اُن کی وفات سے ایک ہفتہ پہلے تک شائع ہوتا رہا۔ وہ لاہور نہیں پوری اردو دنیا میں ایک فعال اور متحرک شخصیت کے طور پر اپنا کردار ادا کرتے رہے۔ لاہور میں ادیبوں‘ شاعروں اور دیگر فنون لطیفہ سے تعلق رکھنے والے اہل ذوق کا مستقل ٹھکانہ ’’پاک ٹی ہاؤس‘‘ ہوا کرتا تھا۔ پاک ٹی ہاؤس میں ان کی نشستیں ناصر کاظمی ‘ احمد مشتاق‘ زاہد ڈار‘ مظفر علی سید‘ منیر نیازی‘ شہرت بخاری‘ سجاد باقر رضوی‘ سہیل احمد خان‘ جاوید شاہین اور اعجاز بٹالوی کے ساتھ رہیں۔ بعد ازاں ان شخصیات میں سے بیشتر ان کے ناول ’’بستی‘‘ کے اہم کردار بن کر ابھریں۔ جو ما قبل ہجرت کے واقعات سے لے کر جنگ 1965 لاہور شہر اور پاک ٹی ہاؤس کا منظر نامہ لئے ہمارے سامنے آیا۔ یہ ناول ’’بستی‘‘ جو ان کی تخلیقات میں اہم حیثیت کی حامل ہے، مسعود منور نے اپنے ایک تازہ مضمون میں اس کے حوالے سے ایک دلچسپ واقعہ تحریر کیا ہے ۔ وہ لکھتے ہیں۔ ’’جب انتظار حسین کا ناول ’’بستی‘‘ چھپ کر آیا تو اور بہت سی تنقید کے علاوہ یہ اعتراض بھی ہوا کہ یہ ان معنوں میں ناول نہیں، جسے آج کا ناول نگار لکھ رہا ہے۔ ہم باتیں کرتے ہوئے گول باغ کی طرف رواں دواں تھے جب اعجازحسین بٹالوی نے کہا کہ انتظار صاحب! آپ کی بستی ناول کم اور رپورتاژ زیادہ ہے۔ تو انتظار حسین نے کہا کہ صاحب! میں بنیادی طور پر افسانہ نگار ہوں۔ ناول نگار نہیں۔ لیکن بستی بہرکیف ٹی ہاؤس میں موجود کرداروں پر مشتمل طویل کہانی ہے۔ جس میں ناول ہونے کے تمام امکانات موجود ہیں۔‘‘

انتظار حسین کی دیگر تحریروں کی مانند اس ناول میں بھی ہمیں ماضی بعید اور ماضی قریب سے جڑا ناسٹلجیا نظر آتا ہے۔ ایک خاص بات جو انتظار حسین کی کہانیوں اور ناولوں میں دکھائی دیتی ہے، وہ یہی ماضی کے بارے میں اُن کی کرید ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے اپنی آپ بیتی میں لکھا ہے۔ ’’غالب نے صحیح کہا: کریدتے ہو جو‘اب راکھ جستجو کیا ہے؟‘‘ مگر آدمی اپنی فطرت سے مجبور ہے۔ کھوئے ہوؤں کی جستجو اس کا پرانا مشغلہ ہے۔ جو بیت رہی ہے، وہ برحق ہے۔ مگر جو دن بیت گئے وہ کیا تھے۔ وہ تہذیب جو بکھر گئی اور گزر گئی، وہ کیا تھی۔۔۔؟


اس تناظر میں ہم دیکھتے ہیں کہ سہیل احمد خان نے اپنی تخلیقات کے انتخاب مجموعہ میں ایک مضمون بعنوان ’’گم شدہ پرندوں کی آوازیں‘‘ میں انتظار حسین سے ہونے والی اپنی گفتگو میں ایک جگہ لکھا ہے۔


’’مجھے ماضی اور حاضر میں اپنی تقسیم نظر نہیں آتی۔ میں تو ایک زمانے میں زندہ ہوں‘ معلوم نہیں کہ اس میں ماضی کتنا ہے اور حاضر کتنا؟‘‘
وہ بات جو انتظار حسین کو اُن کے تخلیقی تناظر میں بعض لکھنے والوں کے یہاں متضاد بیانیہ تشکیل دیتی ہے اور ان کی موت کے بعد ان پر لکھے جانے والے بعض مضامین میں جس کا برملا اظہار کیا گیا، وہ بھی یہی ناسٹلجیا کلاسک سے حددرجہ لگاؤ۔ ماضی پرستی اور روایت کی طرف بار بار رجوع کرنے کا رجحان ہے جبکہ ایام شباب میں ہی لاہور ہجرت کر آنے کے باوجود اور پھرتادم آخر یہاں رہنے کے باوجود مقامی کلچر اور تہذیب اُن کے یہاں اس طرح تشکیل نہ پا سکی اور نہ ہی اس تخلیقی تجربے کا حصہ بن پائی جو اُن کے یہاں ماقبل ہجرت چھوڑی ہوئی گلیوں‘ شہر‘ افراد‘ اشیاء‘ کلچر اور عمارتوں کی صورت میں بھی دکھائی دیتی ہے۔ شاید مقامی ثقافت کو ان کے یہاں جگہ پانے کے لئے ایک دوسری ہجرت ضروری تھی جو وہ نہیں کر پائے۔ تاہم یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس پر بات ہوتی رہے گی۔ فی الحال تو اردو ادب کو پہنچنے والے اس نقصان کا دُکھ ہے جو اُن کے دنیا سے اُٹھ جانے پر ہوا ہے۔ انتظار حسین جیسا کہانی نگار جس نے ’’آخری آدمی‘‘ اور ’’زرد کتا‘‘ جیسی شاہکار کہانیاں تخلیق کیں، جو بیک وقت فرد کی تنہائی اس کی موت اورکایا پلٹ کے حقائق بیان کرنے کے ساتھ ساتھ ’’زرد کتا‘‘ جو انسان اور اس کے نفس امارہ کی حقیقت بیان کرتی ہے اور پھر بستی جیسے ناول کے تخلیق کار جس کو پڑھ کر ذہن میں آتا ہے کہ آخر یہ بستی ہے کون سی۔۔۔؟
یہ بستی لاہور ہے جو انتظار حسین کی کہانیوں ‘ ان کے ناولوں میں لاہور کا بھیس بدل بدل کر آتی رہی ہے۔ لاہور‘ ایک تہذیبی‘ ایک ثقافتی بیانیہ بن کر ہمارے سامنے متشکل ہوا۔ جس نے بیان کیا اسے ہم سب پڑھنے‘ سننے والے انتظار حسین کے نام سے جانتے پہچانتے ہیں۔ لاہور کے گلی کوچوں کا احوال بیان کرتے کرتے بالآخر انتظار صاحب ایک تنگ و تاریک و نامعلوم منزلوں کی جانب بڑھتی چلی جانے والی گلی میں داخل ہوگئے۔ کیا وہ ’شہرِ افسوس‘ کی سمت کوچ کرگئے‘ یا وہ جس شہر سے رخصت ہوئے اسے ’شہرِ افسوس‘ کی علامت قرار دیا جائے۔ لیکن مسئلہ بیچ میں یہ آن پڑا ہے کہ انتظار صاحب جو ’’علامتوں کے زوال‘‘ کی حقیقت بیان کررہے تھے، ابھی ابھی محفل سے اٹھ کر چلے گئے ہیں۔ عجیب بات یہ ہے کہ وہ جس آخری بزم سے اٹھ کر گئے، اس میں ’داستان‘ داستا ن گو اور سننے والے بھی وہ آپ ہی تھے۔ اس میں ان کے ساتھ کوئی شریک گفتگو نہ تھا۔ سمے تودن ہی کا تھا کہ ’دن‘ اور ’داستان‘ کا انتظار صاحب کے ساتھ گہرا تعلق تھا۔


ان کی شروع کی محفلیں پاک ٹی ہاؤس میں جما کرتیں۔ 2006 میں جب لاہور کا یہ تہذیبی استعارہ‘ حقیقتاً بحران کا شکار ہوا تو انتظار صاحب اپنی ساری منڈلی کے ساتھ اٹھ کر نیرنگ آرٹ گیلری جیل روڈ پر نشستیں جمانے لگے۔ پھر مہینے میں ایک بار ایرج مبارک کے حلقہ ارباب فنون لطیفہ کے منعقدہ اجلاس میں کاسموپولِٹن کلب ضرور آتے ۔ ساتھ میں زاہد ڈار‘ اکرام اﷲ‘ مسعود اشعر اور گل نار ہوا کرتیں۔ میں نے3 فروری کو خواجگان مرکز‘ لاہور میں انتظار حسین کی نمازِ جنازہ میں ایک اداس ترین انسان کو دیکھا۔ یہ زاہد ڈار تھے۔ انتظار صاحب کے ساتھ ساٹھ برس سے اوپر کا دوستانہ تعلق۔ ناصر کاظمی‘ سہیل احمد خان اور مظفر علی سید کے ساتھ پاک ٹی ہاؤس میں پلر  سے ملحق مرکزی میز پر بیٹھنے والوں کی اس منڈلی کا ایک کردار احمد مشتاق دور امریکا میں بیٹھا ہے۔ اس موجودہ صورت حال پر اس کا کوئی بیان ابھی سامنے نہیں آیا۔ یقیناً اس صورت حال پر احمد مشتاق شعری اظہار کریں گے جو ان

کے مشہورِ زمانہ شعرکا الٹ ہی ہوگا۔
یار سب جمع ہوئے رات کی تاریکی میں
کوئی رو کر تو کوئی بال بنا کر آیا


یہ 1987- 88 کے قریب کا زمانہ ہوگا جب میں پاک ٹی ہاؤس میں اس منڈلی کے گردا گرد منڈلاتے منڈلاتے ایک روز انتظار صاحب کا پیچھا کرنے کی ٹھان کر گھر سے نکلا۔ وہ روز نامہ مشرق سے نکلے۔ ٹہلتے ٹہلتے کوپر روڈ اور پنجاب اسمبلی سے چیئرنگ کراس پہنچے‘ الفلاح بلڈنگ کے سامنے سے گزرتے ہوئے پاک ٹی ہاؤس کی جانب بڑھنے لگے۔ میں نے ان کے ساتھ ملنے کے لئے تیز قدم بڑھائے۔ سانس درست کی۔ لرزتی آواز میں پوچھا


’آپ انتظار صاحب ہیں؟
’جی! آپ ۔۔۔؟ کہئے؟‘
’ ’میں آپ کا بہت بڑا مداح ہوں۔ آپ کو پڑھتا ہوں۔‘‘
تو ان آخری دنوں میں کیا پڑھا ہے۔ آگے سمندر ہے‘ شاید پڑھ رہے ہوں گے۔۔۔؟
’جی نہیں!‘
’آخری آدمی‘ پڑھا ہوگا؟‘
’اسے پڑھنے کے بارے میں سوچ رہا ہوں!‘
’ گلی کوچے اور شہرِ افسوس میں سے کیا پڑھا ہے؟
’یہ کیا ہے؟‘
’’بستی‘‘۔۔۔؟ انہوں نے رک کر مجھے بغور دیکھتے ہوئے پوچھا۔
سب سے پہلے ’بستی‘ ہی کے بارے میں پڑھنے کا سوچا ہے
’بھئی عجیب مداح ہو تم‘ کتاب کوئی پڑھ نہیں رکھی


وہ یہ کہتے ہوئے تیز قدم چل دیے۔ میں بائیں کو مسجد شہداء سے ہوتے ہوئے صفاں والا چوک ‘ مزنگ اڈا اور اے جی آفس سے ہوتے ہوئے پاک ٹی ہاؤس چلا آیا جہاں انہوں نے ایک بار پھر مجھے بغور دیکھا، لیکن کچھ بولے نہیں۔ نہ ہی ٹی ہاؤس کے اس مرکزی میز پر جمی منڈلی کو اپنے ساتھ ہونے والی اس واردات کے بارے میں کچھ بتایا۔ میرا بھرم بھی رہ گیا۔ پھر 2005 آیا۔ میں حلقہ اربابِ ذوق کا سیکرٹری منتخب ہوا تو اور بہت سی خاص تقاریب کے ساتھ ساتھ سعادت حسن منٹو اور ناصر کاظمی کے لئے بھی تقاریب رکھیں۔ یہ دونوں ’چوپال‘ ناصر باغ میں ہوئیں۔ دو دنوں کی صدارت انتظار حسین نے کی۔ سعادت حسن منٹو کے حوالے سے تقریب میں ایک ہی مقالہ تھا آصف فرخی کا۔ گرم اتوار کی اس سہ پہر میں آصف فرخی کے ساتھ جیل روڈ پر واقع انتظار صاحب کے گھر پہنچا تو عجیب اداسی اور تنہائی کا احساس ہوا۔ انتظار صاحب کی زوجہ وفات پا چکی تھیں اور وہ اس بھرے پرے گھر میں’ اکیلے‘ رہ رہے تھے۔ انہوں نے ہمیں ’شربت بزوری‘ پلایا اور اس کے فوائد پر بھی سیر حاصل گفتگو کی۔ پھر اپنی گاڑی میں بٹھا کر ناصر باغ تک لے چلے۔ خوب تقریب برپا ہوئی اور انتظار صاحب نے خوب باتیں کیں۔ پھر میں نے جب ’کہانی گھر‘ کا پہلا شمارہ اُوپندرناتھ اشک‘ کے حوالے سے نکالا تو اس پر ایکسپریس میں خوب کالم باندھا جو میرے لئے اکسیر ثابت ہوا۔ اب جبکہ میں نے ٹک کر اور خوب جم کر انتظار حسین کا سارا کام پڑھ رکھا ہے، جی چاہتا ہے کہ ان سے ان کی کہانیوں‘ ناولوں ‘ مضامین اور تراجم پر‘ کرداروں‘ موضوعات حتیٰ کہ اسلوب اور تکنیک پر بات چیت کی جائے لیکن شرط تو یہ ہے کہ ایک بار پھر سے وہ ’مشرق‘ سے نکل کر کوپر روڈ اور پنجاب اسمبلی سے ہوتے ہوئے چیئرنگ کراس پر خراماں خراماں ذرا چل کر آئیں تو سہی


مضمون نگار شاعر‘ کہانی کار اور ناول نگار ہیں

[email protected]

یہ تحریر 46مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP