شعر و ادب

برھتے قدم

وطن کے دشمنوں کو ضرب، عضب کی لگائیں گے

ہمیں بس امن چاہئے، جہان کو بتائیں گے

وطن کے دشمنوں کو ضرب، عضب کی لگائیں گے

لہو چمن کو دیں گے ہم، بہار پھر سے آئے گی

یہ زندگی جو رو رہی ہے، پھر سے مسکرائے گی

روش روش محبتوں کے پھول ہم کھلائیں گے

وطن کے دشمنوں کو ضرب، عضب کی لگائیں گے

ہمارے اپنے دیس میں نئے محاذ کھل گئے

یہ کون ہیں جو آج مرنے مارنے پہ تل گئے؟

نہ پھر سے اٹھ سکیں کبھی سبق انہیں سکھائیں گے

وطن کے دشمنوں کو ضرب، عضب کی لگائیں گے

ہماری منزلیں ہمیں بلا رہی ہیں دوستو

ہمارا عزم ہے کہ منزلوں کی سمت جائیں گے

وطن کے دشمنوں کو ضرب، عضب کی لگائیں گے

ناصر بشیر

عضب کی ضرب ہے ضرب حق سر بسر

اس کے ڈر سے ہیں اب ظلمتیں در بدر

عضب کی ضرب سے ہوگا نورِ سحر

....................

سرورِ انبیاءؐ سے یہ منسوب ہے

اس کی ہر اک ادا بالیقیں خوب ہے

اس کا ہر وار ہے خوب سے خوب تر

....................

ملک دشمن عناصر پریشان ہیں

قوم کے ہاتھ ان کے گریبان ہیں

عضب کا وار ثابت ہوا کارگر

....................

دشمنوں میں تو باغی بھی کافر بھی ہیں

میر صادق بھی ہیں میر جعفر بھی ہیں

عضب کے سامنے جھک گئے اِن کے سر

....................

قوم کے عزم و ہمت کی پہچان ہے

بے بسوں کی یہ راحت کا سامان ہے

سرکشوں کے لیے موت اس کی خبر

عضب کی ضرب سے ہوگا نورِ سحر

سحرؔ فارانی

یہ تحریر 27مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP