قومی و بین الاقوامی ایشوز

برِ صغیر میں دو قومی نظریہ آج بھی ایک حقیقت

جس خلیج بنگال میں اندرا گاندھی نے دو قومی نظریے کو غرق کرنے کا دعویٰ کیا تھا اس کے کنارے بنگلہ دیش میں مارچ 2021 میں جب وہ اپنی آزادی کا پچاس سالہ جشن منارہا تھا، جب ہندوستان کے تنگ نظر ہندو توا کے پرچارک، مسلمانوں کے خلاف مجسم نفرت، نریندر مودی ایک مہمان کے طور پر پہنچتے ہیں، تو خلیج بنگال جوش میں آجاتی ہے۔ اس کی ہوائوں سے سر شار بنگالی مسلمان سڑکوں پر آجاتے ہیں۔ ہندوستان میں مسلمانوں پر مسلسل مظالم ڈھانے والے، اکیسویں صدی کے روشن خیال زمانے میں انسانی وقار کو کچلنے والے نریندر مودی کے خلاف ملک بھر میں مظاہرے ہوتے ہیں۔ 'مودی واپس جائو' کے نعرے بلند ہوتے ہیں۔ خلیج بنگال کی ہر لہر اندرا گاندھی سے لے کر نریندر مودی تک آنے والے رہنمائوں کو اچھل اچھل کر کہہ رہی تھی کہ 'دو قومی نظریہ' آج بھی ایک حقیقت ہے۔ اور گزشتہ صدیاں بھی اس کی گواہی دے رہی ہیں۔ اکیسویں صدی کے پہلے عشرے میں تو اس کے مزید شواہد ہیں۔



وقت جیسے جیسے گزر رہا ہے،جنوبی ایشیا میں رُونما ہونے والے واقعات بانیٔ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے مخلصانہ افکار کی صداقت ہر لمحے ثابت کررہے ہیں۔ 1916 میں وہ اپنی بصیرت  اور تجربات کی بنا پر جس اصول سے بر صغیر کے لوگوں کے دلوں میں ولولۂِ تازہ پیدا کررہے تھے، وہ آج ایک صدی بعد اور زیادہ ٹھوس حقیقت بن کر سامنے آرہا ہے۔ قائد اعظم نے لکھنؤ میں 31دسمبر1916کو مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس سے خطاب میں کہا تھا۔ ''مسلم لیگ کا سب سے بڑا اصول یہ تھا کہ ہندی مسلمانوں کی علیحدہ قومیت کو برقرار رکھا جائے۔''
یہ سفر متحدہ ہندوستان میں مسلمانوں کی علیحدہ سیاسی جماعت کے قیام سے شروع ہوا تھا۔ پھر ہندو اکثریت کے شدت پسند، تنگ دل، محدود سوچ رکھنے والے لیڈروں کی یکے بعد دیگرے متعصبانہ کارروائیو ں کے باعث مسلمانوں کی علیحدہ سیاسی جماعت سے آگے بڑھ کر مسلمانوں کے لیے الگ وطن کے حصول پر منتج ہوا ۔ 23مارچ 1940 کو اس سلسلے کی قرارداد کی منظوری کے 7سال بعد تاریخ اور جغرافیے دونوں نے دیکھا کرۂ ارض پر ایک نئی مملکت کا وجود عمل میں آیا اور جنوبی ایشیا میں دو قومی نظریے کو سرخروئی حاصل ہوئی۔ کتنے ہی مسلمان بھی دو قومی نظریے کی مخالفت کرتے تھے اور ببانگ دہل کہتے تھے کہ مذہب کی بنیاد پر قومیں نہیں بنتی ہیں۔ لیکن جوں جوں دن گزرے، بھارت کی ہندو قیادت کی شدت پسندی کھل کر سامنے آتی رہی۔ 15اگست 1947 سے لے کر آج تک 74سالوں میں کوئی ایسا دن نہیں گزرا ہے جب بھارت کے کسی نہ کسی حصّے میں ہندو انتہا پسندوں نے کسی نہ کسی مسلمان کو اپنی سفاکی کا نشانہ نہ بنایا ہو۔ نریندر مودی کے وزیر اعظم بننے کے بعد تو مسلمانوں کے خلاف یہ انتہا پسندی اپنے عروج پرپہنچ چکی ہے۔اور مسلمانوں کے خلاف بہیمانہ کارروائیاں بڑھتی جارہی ہیں۔



بیسویں صدی کے آخری پانچ عشروں میں تو دنیا بھر میں لسانی، مذہبی، نسلی تعصبات میں کمی آئی ہے۔ اقوام متحدہ کے مختلف ذیلی اداروں، دوسری تنظیموں نے، عالمی مفکرین نے انسانوں کے درمیان فاصلوں کو دور کرنے کی منظّم کوششیں کی ہیں اور چشم فلک نے دیکھا ہے کہ انسان نے ان اختلافات کو محو کرکے زندگی کو آسان بھی کیا ہے۔ ایک دوسرے کے مذہب کے احترام میں اضافہ ہوا ہے ۔ بین المذاہب ہم آہنگی کے لیے عالمی سطح پر قائم ادارے سرخرو ہورہے ہیں۔ مختلف مذاہب کے سکالرز انسانیت کے وقار کو بلند کررہے ہیں۔ مگر ہندو ذہنیت کے سیاسی رہنمائوں اور حکمرانوں نے 'ہندو توا، ہندو انتہا پسندی میں پناہ لینے میں ہی اپنی بقا خیال کی ہے۔ ہندوستان کی جس جمہوریت کی مغرب بہت تعریف کرتا ہے، اس کے 74سال کے تسلسل کا نتیجہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی انتہا پسندی کی صورت میں برآمد ہوا ہے۔ دعوے سیکولرزم کے رہے ہیں لیکن عملی طور پر کانگریس بھی مسلمان دشمنی میں پیش پیش رہی ہے۔ کشمیر پر قبضہ بھی کانگریس کے دَور میں ہوا اور پاکستان پر جارحیت بھی 1965اور 1971 میں اسی جماعت کی حکمرانی میں ہوئی۔ ہندو رہنمائوں کو اپنے مذہب اور اپنی ذہنیت پر ہمیشہ ایک عدم تحفظ کا احساس رہا ہے۔ ہندو مذہب ترک کرکے دوسرے مذاہب بالخصوص اسلام کے دائرۂ امن میں آنے کے تو بے شُمار شواہد ہیں۔ ہندوئوں کے مسلمان ہونے کا سلسلہ اب بھی جاری ہے لیکن دوسرے مذاہب ترک کرکے ہندو مت اختیار کرنے کے شواہد نہیں ملتے ہیں۔ ایسے غیر محفوظ ہونے کے احساس نے ہندو اشرافیہ میں اور زیادہ تنگ نظری کو فروغ دیا ہے۔
1971 میں مشرقی پاکستان میں سیاسی،سماجی، معاشی اور فوجی مداخلت کے بعد دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونک کر جب بھارت نے جارحیت کی اور وہاں کے علیحدگی پسندوں کی مدد کرکے بنگلہ دیش بنوایا تو اس وقت کی وزیر اعظم  اندرا گاندھی نے اگر چہ بڑی رعونت سے کہا تھا:
' ہم نے دو قومی نظریے کو خلیج بنگال میں غرق کردیا ہے۔'
مگر اس کے ساتھ ہی اپنی ہزیمت کا احساس بھی دلایا تھا:
'آج ہم نے ایک ہزار سالہ غلامی کا بدلہ لے لیا ہے۔'
'غلامی' کی اصطلاح کے استعمال سے ان کی اصل ذہنیت کا انکشاف ہوتا ہے۔ مسلمانوں نے اپنی بادشاہت اور حاکمیت کے باوجود ہندو مذہب کے احترام اور ہندوئوں کو اقتدار میں شراکت، اپنی مذہبی عبادات کی اجازت دی۔ ان کے مندروں کو مسمار نہیں کیا لیکن ہندو تنگ نظری کی بدولت ان کے رہنمائوں میں احساس کمتری تھا۔یہ ہندوستان میں بر سر اقتدار آنے بلکہ مطلق العنانی کے باوجود دور نہیں ہوسکا۔

جس خلیج بنگال میں اندرا گاندھی نے دو قومی نظریے کو غرق کرنے کا دعویٰ کیا تھا اس کے کنارے بنگلہ دیش میں مارچ 2021 میں جب وہ اپنی آزادی کا پچاس سالہ جشن منارہا تھا، جب ہندوستان کے تنگ نظر ہندو توا کے پرچارک، مسلمانوں کے خلاف مجسم نفرت، نریندر مودی ایک مہمان کے طور پر پہنچتے ہیں، تو خلیج بنگال جوش میں آجاتی ہے۔ اس کی ہوائوں سے سر شار بنگالی مسلمان سڑکوں پر آجاتے ہیں۔ ہندوستان میں مسلمانوں پر مسلسل مظالم ڈھانے والے، اکیسویں صدی کے روشن خیال زمانے میں انسانی وقار کو کچلنے والے نریندر مودی کے خلاف ملک بھر میں مظاہرے ہوتے ہیں۔ 'مودی واپس جائو' کے نعرے بلند ہوتے ہیں۔ خلیج بنگال کی ہر لہر اندرا گاندھی سے لے کر نریندر مودی تک آنے والے رہنمائوں کو اچھل اچھل کر کہہ رہی تھی کہ 'دو قومی نظریہ' آج بھی ایک حقیقت ہے۔ اور گزشتہ صدیاں بھی اس کی گواہی دے رہی ہیں۔ اکیسویں صدی کے پہلے عشرے میں تو اس کے مزید شواہد ہیں۔
اس دورے میں نریندر مودی نے کھل کر اس جرم کا اعتراف کیا بنگلہ دیش بنوانے میں مشرقی پاکستان میں پاکستان کے خلاف نفرت پھیلانے میں بھارت کا پورا ہاتھ تھا۔ بھارت نے سیاسی طور پر، اخلاقی لحاظ سے، مالی اعتبار سے اور بھرپور فوجی مداخلت کی تھی تب بنگلہ دیش قائم ہوا تھا۔
نریندر مودی کو بنگلہ دیش میں جس تاریخی سیاسی ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا اس سے دنیا پر پھر صراحت سے واضح ہوا کہ جنوبی ایشیا میں دو قومی نظریہ ایک حقیقت ہے۔ ہندو اور مسلمان الگ الگ سماجی ،معاشرتی، سیاسی اور اخلاقی وجود رکھتے ہیں۔ ہندو اکثریت کے بل پر مسلمانوں سے ان کی اقدار، روایات اور اصول چھیننا چاہتے رہے ہیں۔ مسلمانوں نے اپنے اکثریتی علاقوں میں ہندوئوں کو اپنے شعائر۔ عبادات۔ اور رسم و رواج کی اجازت دی ہے۔ کبھی ان پر عرصۂ حیات تنگ نہیں کیا۔ کسی نہتے ہندو کو مسلمان جتھوں نے اپنا نشانہ نہیں بنایا۔ لیکن ہندو اکثریت نے یوپی، بہار، پنجاب، جھاڑ کھنڈ، چھتیس گڑھ، اڑیسہ اور دوسرے مقامات پر برسوں سے مقیم مسلمان معزز گھرانوں کو اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور کیا ہے۔
ہندو اسکالرز، صحافی، شاعر، دانشور، دعویٰ تو سیکولر ہونے کا کرتے ہیں مگر اسلام کی تضحیک اور مسلمانوں پر طنز و تشنیع کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ میں صدر جنرل پرویز مشرف کے دورے کے موقع پر ایک صحافی کی حیثیت سے دہلی گیا ہوا تھا۔ تو وہاں کے ایک ٹی وی چینل نے مذاکرات کے حوالے سے اپنے ایک ٹاک شو میں مدعو کیا۔ اپنی برتری کا احساس دلانے کے لیے انہوں نے کہا کہ پاکستان کی غلط پالیسیوں کے نتیجے میں مشرقی پاکستان الگ ہوااور بنگلہ دیش وجود میں آیا۔ آپ کیا کہتے ہیں؟ میں ان کے سوال کے پیچھے ہندو مت کی شدت پسندی محسوس کررہا تھا۔ اس وقت قدرت نے بھی میرا ساتھ دیا۔ اس بحث میں الجھنے کے بجائے میں نے ترنت جواب دیا کہ ہم تو بہت خوش ہیں کہ جنوبی ایشیا میں ایک اور مسلم مملکت وجود میں آئی۔ اینکر پرسن سناٹے میں آگیا۔ ٹرانسمیشن والوں نے بھی نہ جانے ان سے کیا کہا۔ انہوں نے بات آگے بالکل نہیں بڑھائی اور پروگرام کو وقت سے پہلے ہی ختم کردیا۔
جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کو الگ الگ مملکتوں میں رہنے کے باوجود ایک دوسرے سے رابطے میں رہنے اور ایک دوسرے کے دُکھ درد میں ساتھ دینے کی ضرورت ہے۔ وہ اپنی اپنی جگہ ان مملکتوں کے باشندے ہیں۔ ان ریاستوں سے وفاداری ان کی ذمہ داری ہے۔ لیکن اسلام ایک مذہب کے طور پر ایک سماجی بندھن کے لحاظ سے مزید تحقیق اور مزید تفسیر کا تقاضا کرتا ہے۔ پاکستان بھارت، بنگلہ دیش، سری لنکا، سب ملکوں میں بہت تدبر اور بصیرت والے سکالرز موجود ہیں، جو جدید دنیا، ٹیکنالوجی اور سائنسی ترقی کے تناظر میں اسلامی تعلیمات اور شعائر پر تحقیق کررہے ہیں۔ ان کے مقالات علم و دانش کا مرقع ہیں۔ جدید طرز فکر کے مطابق وہ اسلامی تعلیمات کی تشریح کرتے ہیں۔
بھارت میں ہندو توا نے خود ہندو انتہا پسندی کے خلاف ایک نفرت پیدا کی ہے۔ نریندر مودی کی شدت پسندی کے خلاف2019میں بھارت میں ملک گیر مظاہرے شروع ہوچکے تھے۔ مگر کووڈ 19کی وبا پھیلنے کے بعد  یہ  جاری نہیں رہ سکے۔ 
بی جے پی نے کشمیر کی آئینی حیثیت کو تبدیل کرنے کے لیے اپنی اکثریت کا سفاکانہ استعمال کرکے 5اگست 2019 کو جس غاصبانہ قانون کا نفاذ کیا، کشمیریوں نے تو اسے روز اول سے قبول نہیں کیا۔ ان کی جدو جہد آزادی میں مزید تیزی آگئی ہے۔ کوئی دن ایسا نہیں گزرا جب مقبوضہ کشمیر میں دن یا رات سکون سے گزرے ہوں۔ پاکستان پہلے دن سے اس کے خلاف احتجاج کررہا ہے اور ابھی متحدہ عرب امارات کے دورے میں پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پاکستان کا مؤقف کھل کر واضح کردیا ہے کہ پاکستان بھارت سے مذاکرات اس وقت ہی کرے گا جب بھارت 5اگست 2019 کے غیر آئینی اقدام سے دست بردار ہوجائے گا۔
مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی 7لاکھ سے زیادہ افواج کی مستقل لام بندی بھی دو قومی نظریے کی حقیقت کا بین ثبوت ہے۔ کشمیر مسلمانوں کی اکثریت رکھنے والی ریاست ہے جس پر 1947سے بھارت نے غاصبانہ قبضہ کر رکھا ہے۔ تقسیم ہند کے فارمولے کے مطابق کشمیر کا الحاق پاکستان سے ہونا چاہئے تھا مگر یہاں بھی ہندو رہنمائوں کی متعصبانہ سوچ نے جارحیت کا مظاہرہ کیا۔ آفریں کشمیر کے نسل در نسل مجاہدین پر جنہوں نے اس قبضے کو آج تک تسلیم نہیں کیا اور ہر نسل نے جدو جہد آزادی کی مشعل کو روشن رکھا ہے اور یہ شمع آزادی ایک نسل سے دوسری نسل کو منتقل ہورہی ہے۔ کونسی نسل ہے جس کے دامن میں شہادتیں نہیں ہیں۔ قربانیاں بھی نسل در نسل ورثے میں مل رہی ہیں۔
دو قومی نظریہ پورے جنوبی ایشیا میں ایک زندہ حقیقت ہے۔ اس کا ایک تاریخی پس منظر ہے۔ اس پر ہماری یونیورسٹیوں میں جدید علوم کے تناظر میں تحقیق ہونی چاہئے۔ خاص طور پر قائد اعظم کے افکار کے حوالے سے گزشتہ ایک صدی کے واقعات اور حقائق کا تجزیہ کیا جائے۔ سیاسی تبدیلیاں ان رویوں کی بنا پر ہی وجود میں آتی ہیں جو مختلف قومیں اختیار کرتی ہیں۔ قائد اعظم پہلے مسلمان ہندو یگانگت کے سفیر کہلاتے تھے۔ وہ خلوص دل سے کوشش کررہے تھے کہ دونوں کو ایک دوسرے کے قریب لایا جائے ۔ وہ ہندوستان کو متحد رکھتے ہوئے مسلمانوں کے حقوق دلانے کی بات کرتے تھے۔ 
31دسمبر 1916کو مسلم لیگ کے اجلاس سے ان کا خطاب اس کوشش کا مظہر ہے۔ ملاحظہ ہو:
'' مسلم لیگ مسلمانوں کے مفاد کی حفاظت کے لیے وجود میں آئی ہے۔ مسلمانوں نے اب تک کسی سیاسی تحریک میں عملی حصّہ نہیں لیا تھا۔ اب قدرتی طور پر اصلاحات کے پُر زور مطالبات نے مسلمانوں کو بھی بیدار کردیا۔ اپنی ضرورت کی تنظیم محسوس ہوئی کیونکہ اندیشہ تھا کہ کہیں اصلاحات مسلم قوم کے وجود ہی کو نہ محو کردیں۔ مسلم لیگ کا سب سے بڑا اصول یہ تھا کہ ہندی مسلمانوں کی علیحدہ قومیت کو برقرار رکھا جائے۔ اس اصول نے سیاسی ارتقا کے ساتھ ہماری قوم میں بڑی مقبولیت حاصل کی۔ ہندوستان کے مستقبل کے بارے میں مسلم لیگ کا یہ عموماً نقطہ نگاہ ہے کہ لیگ ملک کی عام ترقی کے لیے کانگریسی تحریکوں کی تائید کرے گی جس کی اساس حب وطن پر ہوگی۔ حقیقت یہ ہے کہ تعلیم یافتہ مسلمانوں کی اتحاد پر آمادگی میرے خیال میں اس ضرورت کا احساس دلاتی ہے کہ مسلمانوں کی علیحدہ  سیاسی جماعت کا وجود کس قدر قیمتی ہے۔ خیال رہے کہ مسلمانوں کو سیاسی میدان میں آئے ہوئے صرف بیس سال ہی ہوئے ہیں۔ میں اپنی قومی زندگی میں پکا کانگریسی رہا ہوں اور فرقہ واری سے مجھے کوئی شغف نہیں رہا، لیکن میرا خیال ہے کہ مسلمانوں پر فرقہ واریت کا الزام غلط ہے جبکہ مسلمانوں کی یہ جماعت تیزی سے ترقی کررہی ہے اور متحدہ ہندوستان کی تخلیق میں یہ ایک اہم جزو ہے۔ (مسلم لیگ کے اجلاس سے خطاب، لکھنؤ 31دسمبر 1916)''
پہلے کانگریس میں انہوں نے ہندو تعصب کا سامنا کیا۔ پھر جب مسلم لیگ نے اپنے طور پر مسلمانوں کی سیاسی جماعت بناکر جدو جہد کی تو انہیں اس کی شدت کا مزید اندازہ ہوا۔
پھر 1931 کی گول میز کانفرنس میں وہ کہتے ہیں:
'' اب ہم ایک ایسے مقام پر آپہنچے ہیں۔ جہاں اگر میں یہ نہ بتائوں کہ مسلمانوں کا موقف کیا ہے تو میں اپنے فرض سے غفلت برتوں گا۔ میں واشگاف الفاظ میں یہ بتادینا چاہتا ہوں ۔ ہندو مسلم سمجھوتہ ہندوستان میں کوئی نیا دستور نافذ کرنے سے پہلے کا ایک ضروری اور ناگزیر اقدام ہے۔ ایک بنیادی شرط ہے۔ جب تک آپ مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ کی ضمانت نہ دیں جس کی بنا پر وہ حکومت ہند کے آئندہ دستور کے تحت مکمل سلامتی اور خود اعتمادی محسوس کرنے لگیں، جب تک آپ ان کا تعاون ، خلوص اور رضا مندی حاصل نہ کریں گے، اس وقت تک جو دستور بھی آپ ہندوستان کے لیے بنائیں گے، چوبیس گھنٹے بھی نہ چل سکے گا۔(پہلی گول میز کانفرنس 1931)''
23مارچ 1940کے مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس کے خطاب میں وہ مزید وضاحت سے کہتے ہیں کہ ہندو مسلم دو مختلف تہذیبیں ہیں۔
'' اسلام اور ہندو دھرم محض مذاہب نہیں ہیں بلکہ در حقیقت وہ دو مختلف معاشرتی نظام ہیں، چنانچہ اس خواہش کو خواب و خیال میں ہی کہنا چاہئے کہ ہندو اور مسلمان مل کر ایک مشترک قومیت تخلیق کرسکیں۔
یہ لوگ آپس میں شادی بیاہ نہیں کرتے، نہ ایک دستر خوان پر کھانا کھاتے ہیں۔ میں واشگاف لفظوں میں کہتا ہوں کہ وہ دو مختلف تہذیبوں سے واسطہ رکھتے ہیں اور ان تہذیبوں کی بنیاد ایسے تصورات اور حقائق پر رکھی گئی ہے جو ایک دوسرے کی ضد ہیں بلکہ اکثر متصادم ہوتے رہتے ہیں۔ انسانی زندگی کے متعلق ہندوئوں اور مسلمانوں کے خیالات اور تصورات ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔
یہ بھی ایک واضح حقیقت ہے کہ ہندو اور مسلمان اپنی اپنی ترقی کی تمنّائوں کے لیے مختلف تاریخوں سے نسبت رکھتے ہیں ان کے تاریخی وسائل اور ماخذ مختلف ہیں۔ ان کی رزمیہ نظمیں، ان کے سربر آور وہ بزرگ اور قابل فخر تاریخی کارنامے سب مختلف اور الگ الگ ہیں۔ اکثر اوقات ایک قوم کا زعیم اور رہنما دوسری قوم کی بزرگ اور برتر ہستیوں کا دشمن ثابت ہوتا ہے۔ ایک قوم کی فتح دوسری قوم کی شکست ہوتی ہے۔ ایسی دو قوموں کو ایک ریاست اور ایک حکومت کی مشترکہ گاڑی کے دو بیل بنانے اور ان کے باہمی تعاون کے ساتھ قدم بڑھانے پر آمادہ کرنے کا نتیجہ یہ ہوگا کہ دونوں کے دلوں میں بے صبری روز بروز بڑھتی رہے گی جو انجام کار تباہی لائے گی۔ خاص کر اس صورت میں کہ ان میں سے ایک قوم تعداد کے لحاظ سے اقلیت میں ہو اور دوسری کو اکثریت حاصل ہو۔ ایسی ریاست کے آئین کا عمل خاک میں مل کر رہے گا۔(مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس سے خطاب،23مارچ 1940)''
اسی اجلاس سے خطاب میں انہوں نے الگ قوم کے لیے جداگانہ خود مختار ریاست یعنی پاکستان کو اپنی منزل قرار دیا۔ نومبر 1940میں ان کا فرمان ہے:
''پاکستان ہماری منزل مقصود ہے۔ ہم نے قطعی طور پر اور ہمیشہ کے لیے پاکستان کو اپنی منزل مقصود بنالیا ہے اس کے لیے لڑنے مرنے کو تیار ہیں۔''
قائد اعظم کی قیادت میں مسلم لیگ کی طویل جدو جہد نے بتدریج دو قومی نظریے کی بنیاد اور اصولوں کے مدارج طے کیے ہیں اور اب بھارتی تنگ نظر قیادت قائد اعظم کے افکار کی آفاقیت اور صداقت کو ثابت کررہی ہے۔ یہ تنگ نظری اور محدود محسوسات صرف بھارت کی موجودہ شدت پسند ہندو قیادت کے ہی نہیں ہیں۔ سیکولر کانگریس بھی مسلمانوں کے خلا ف ایسے ہی نظریات رکھتی تھی۔ بھارت کے پہلے وزیر اعظم جواہرلعل نہرو بھی مسلمانوں کی الگ  خود مختار حیثیت کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں تھے۔
دو قومی نظریہ ایک تاریخی حقیقت ہے۔ جسے 1947 میں جغرافیائی وجود ملا۔1971میں پھر ایک اور مسلمان ریاست قائم ہوئی۔ وہ پاکستان سے اگرچہ ناراض ہوکر وجود میں آئی لیکن ہندوئوں کے مقابلے میں وہ الگ قوم ہی رہی۔ اس کا مظاہرہ 26مارچ 2021کے مظاہروں میں ہوگیا۔ جب حفاظت اسلام کے ایک گروپ کی دعوت پر پورا بنگلہ دیش مودی کے خلاف اٹھ کھڑا ہوا۔ جیسے جیسے مزید برس گزریں گے، تاریخ دنیا پر یہ واضح کرتی رہے گی کہ جنوبی ایشیا میں دو قومی نظریہ ایک حقیقت ہے اور یہاں کے مسلمان الگ الگ مملکتوں میں ہی اپنے دینی شعائر کی حفاظت بھی کرسکتے ہیں اور اقتصادی دفاعی طور پر بھی خود مختار رہ سکتے ہیں اور جب تک کشمیر پر بھارت کا غاصبانہ قبضہ جاری رہے گا تو جغرافیہ بھی اس حقیقت کی گواہی دیتا رہے گا کہ بر صغیر میں ہندو اور مسلم دو الگ الگ قومیں ہیں۔ ||


مضمون نگارنامورصحافی' تجزیہ نگار' شاعر' ادیب اور متعدد کتب کے مصنف ہیں۔
[email protected]

یہ تحریر 212مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP