مکتوبات

برف‘ کافی اور زندگی

ونکوور کو پورے کینیڈا میں موسم کے اعتبار سے سب سے زیادہ معتدل خیال کیا جاتا ہے مگر صاحبو ! اس بار تو اس شہرِ عزیز میں ایسی برف پڑی کہ الامان و الحفیظ۔ گزشتہ پانچ برسوں میں ایسی برف باری نہیں ہوئی جیسی امسال ہوئی ہے۔ اگرچہ نومبر میں پہاڑوں پر برف پڑ جاتی ہے مگر وادی میں دسمبر‘ جنوری میں معمولی
Frost 
آتی ہے۔ اس برس ونکوور میں زبردست برفباری ہو رہی ہے اور درجۂ حرارت نقطۂ انجماد سے بہت نیچے گر گیا ہے۔ ٹورنٹو، مانٹریال وغیرہ میں تو کئی کئی فٹ برف پڑنا معمول ہے مگر ونکوور میں ایسی برفباری غیر معمولی بات ہے۔
میں نے برف باری پہلے کئی بار دیکھی ہے، ایک مرتبہ بلوچستان کے علاقے کان مہترزئی میں برف کے طوفان میں پھنس بھی چکے ہیں مگر کینیڈا کی برفباری ذرا مختلف ہے۔


ذرا پہلے کان مہترزئی کا احوال لکھوں۔ قصہ یوں ہے کہ کئی برس پہلے میں کوئٹہ مرکز سے پی ٹی وی کا تاریخی ڈراما سیریل ’پالے شاہ‘ کرنے کوئٹہ گئی تھی۔ سردیوں کا زمانہ تھا، ویسے تو کراچی میں سردی نہیں پڑتی پر جب کوئٹہ سے سرد ہوائیں چلتی ہیں تو کراچی میں ذرا خنکی بڑھ جاتی ہے۔ ڈرامے میں میرے ساتھ جمال شاہ اور سکینہ سموں بھی تھے۔ ہماری شوٹنگ نومبر، دسمبر اور جنوری میں ہوئی۔ وہیں کوئٹہ میں ہی میں نے پہلی بار برفباری دیکھی ورنہ اس سے پہلے صرف تصاویرمیں یا فلموں میں ہی دیکھتے تھے۔ کوئٹہ کے مضافات ہنّہ اور اُڑک میں زیادہ برف پڑتی ہے۔ میرے لئے برفباری دیکھنا شاندار تجربہ تھا۔ میرے ہمراہ میری فیملی بھی کوئٹہ گئی تھی۔ شوٹنگ کے بعد ہم خوب گھوما پھراکر تے تھے۔ اُس زمانے میں کوئٹہ کے بازاروں میں روسی سامان نہایت سستے داموں ملا کرتا تھا۔ ایرانی قالین اور کمبل بھی خوب ہوتے تھے۔شاپنگ کا بہت مزہ تھا۔ باتوں باتوں میں جانے کہاں نکل گئی‘ کان مہترزئی کے بارے میں لکھنا تھا مجھے۔۔۔۔۔۔ہوا یوں کہ شوٹنگ کے لئے ہماری ٹیم کو کوئٹہ سے ژوب جانا پڑا۔ بائی روڈ آٹھ گھنٹے کا سفر ہے۔ جنوری کا مہینہ تھا، خوب ٹھنڈی پڑ رہی تھی، ہمارا قافلہ کئی گاڑیوں پر مشتمل تھا۔ ساراراستہ خوبصورت پہاڑ اور نظارے دیکھتے ہم ژوب پہنچے۔ وہاں کچھ دن قیام کیا‘ ریکارڈنگ مکمل کرکے ہم واپس کوئٹہ کے لئے روانہ ہوئے۔ ہمارے کارواں میں آٹھ یا نوگاڑیاں تھیں، دو پی ٹی وی کی وین تھیں، باقی ڈبل کیبن تھیں، ہمارے ڈرائیور نے کہا موسم سخت ہے، ہم راستے میں کہیں نہیں رکیں گے، اگر رُکے تو ڈیزل جم جائے گا۔ ہم سب روانہ ہوئے، کان مہتر زئی پہنچے تو برف کے طوفان نے آن گھیرا، گاڑی برف میں پھنس گئی، میں نے دیکھا، اطراف میں کئی گاڑیاں پھنسی ہوئی ہیں۔ ڈرائیور نے کہاکہ آپ سب دعا کریں بخیر و خوبی یہاں سے نکل جائیں۔ اﷲ نے کرم نے کیا اور ہم بحفاظت کوئٹہ پہنچ گئے۔ اس زمانے میں موبائل فون نہیں ہوتا تھا۔ ہمیں اپنے ساتھیوں کی خبر نہیں تھی۔ وہ تو اگلے دن ہمیں معلوم ہوا کہ قافلے کی گاڑیاں برف کے طوفان میں پھنس گئیں اور صرف ہماری گاڑی کوئٹہ پہنچی ہے۔ تین دن ہماری ٹیم کرب میں رہی۔ پتہ چلا کہ ڈائریکٹر نے سورج غروب ہونے کا شاٹ لینے کے لئے گاڑی رکوائی، شاٹ کیا ملتا گاڑی بند ہو گئی اور پھر سٹارٹ نہیں ہوئی۔ سردی سے حالت بری ہوئی، گاڑی کی سیٹیں نکال کر جلائیں کہ کچھ گرمی ملے موت سامنے کھڑی تھی، خدا نے کرم کیا کہ کچھ لوگ مل گئے جو انہیں مسلم باغ لے گئے، وہاں ٹھہرنے کا کوئی انتظام نہ تھا۔ تین دن کی اذیت کے بعد ٹیم کوئٹہ پہنچی۔ اس دن معلوم ہوا کہ برف کے طوفان میں پھنس جانے کے سبب کئی اموات ہوئیں۔ الحمدﷲ ہمارے ڈرامے کی ٹیم بحفاظت کوئٹہ واپس پہنچ گئی۔

اب کینیڈا کی برفباری کا حال سنئے۔یہاں بہت زیادہ برف پڑتی ہے۔ کان مہترزئی جیسی برف پڑنا یہاں عام بات ہے۔ مگر یہاں برفباری معمولاتِ زندگی متاثرنہیں کرتی۔ سخت ترین موسم میں بھی لوگ گھروں سے نکلتے ہیں۔ کام پہ جاتے ہیں، کاروبارِ زندگی رواں دواں رہتا ہے۔ میں نے مانٹریال، ٹورنٹو کی برفباری دیکھی ہے، سردی ہڈیوں میں گھُستی محسوس ہوتی ہے مگر یہاں کے لوگ اس کے عادی ہیں۔ ایک مرتبہ میں ایک شو کے سلسلے میں ایڈمنٹن گئی تھی، اتنی برف تھی کہ ہوٹل کے کمرے سے نکل کے لابی تک جانا محال تھا۔ لگتا تھا ہیٹر کام نہیں کررہا، سردی سے قلفی جم رہی تھی۔ شاید اس وقت موسم کی شدت کا احساس یوں زیادہ ہوا کہ کینیڈا وزٹ پر گئی تھی، اب چونکہ وہاں رہائش ہے، لہٰذا سردی کی عادت ہوگئی ہے۔ ان سب باتوں کے باوجود بہت کوفت ہوتی ہے جب گھر کے سامنے برف صاف کرنی پڑتی ہے، جب گاڑی پہ جمی برف ہٹا کے برفباری میں ڈرائیو کرنا پڑتا ہے، اس وقت کراچی کی سردیاں یاد آتی ہیں جب دسمبر جنوری میں بھی پنکھے اور ایئرکنڈیشنر چالو ہوتے ہیں۔


برف میں مخصوص جوتے پہنے جاتے ہیں، کانوں اور سرکو ڈھانپنا لازمی ہوتا ہے۔ بچے تو برف میں خوب انجوائے کرتے ہیں۔ میں اس موسم میں شام کو اکثر قریبی کافی شاپ میں جا کے بیٹھ جاتی ہوں۔ یہاں انواع و اقسام کی کافی اور چائے دستیاب ہیں۔
Apple Cinnamon tea, Earl grey tea, Peppermint tea, Chai tea, English breakfast tea Orange Pekoe tea, Green tea, Mint tea, Camomile tea 
اور دیگر اقسام کی چائے ہوتی ہے مگر اپنی دیسی اسٹائل کی چائے نہیں ملتی۔ کڑک چائے کا مزا توپاکستان میں ہی ہے۔ کینیڈا میں کچھ دیسی ریسٹورنٹ ہیں وہاں البتہ ہمارے
Taste 
کی چائے ملتی ہے۔ میں جس کافی شاپ میں جاتی ہوں وہ بین الاقوامی سطح پہ معروف ہے۔ یہاں بہت ساری کافی شاپس کی مشہور
Chains
ہیں۔ لوگ زیاہ تر کافی پیتے ہیں، چائے کم لوگ پیتے ہیں۔ کافی شاپ میں نوجوان ٹولیوں کی شکل میں بیٹھے گپ شپ کرتے رہتے ہیں۔ ضعیف العمر حضرات بھی یہاں آتے ہیں۔ پولیس والے، فائر بریگیڈ کا عملہ اور پیرا میڈیکس کے عملہ کو چائے کافی مفت ملتی ہے۔ میری کوشش ہوتی ہے کہ کھڑکی کے ساتھ لگی میز کرسی پر بیٹھوں، باہر نظارہ بھی ہوتا ہے اور اچھا لگتا ہے۔ سکول کالج کے سٹوڈنٹس کو دیکھ کر فیشن کا پتہ چلتا ہے کہ آج کل کیا"in" ہے۔ لڑکیوں کا حالیہ فیشن یہ ہے کہ بال رنگے جائیں، سب سے زیادہ جو کلر بالوں کے رنگنے کے لئے مقبول ہے۔ وہ فیروزی اور کاسنی ہے۔


ہمارے ملک میں سنہرے، بھورے اورکالے رنگ سے بالوں کو رنگا جاتا ہے، مغرب میں سنہرے اور سرخ بال تو عام تھے ہی مگر فیروزی اور کاسنی ذرا مختلف فیشن ہے، مگر یہاں عام ہے۔ لڑکیاں میک اپ بھی کرتی ہیں اور جیولری کی بھی دلدادہ ہیں، یہ تو خیر عالمی سٹائل ہے، دنیا کی ہر لڑکی کو زیب و زینت پسند ہے۔ مگر جو فیشن اب لڑکوں نے کینیڈا میں اپنایا ہوا ہے،وہ ہمارے یہاں سے بالکل مختلف ہے۔ نوجوان لڑکے ہاتھوں پر بریسلیٹ، گلے میں چین اور کانوں میں ٹاپس تو پہلے ہی پہنتے تھے مگر اب جدیدفیشن یہ ہے کہ ناک چھدوائی جائے۔ ناک کی لونگ لڑکوں کا محبوب زیور ہے۔ مختلف ڈیزائن اور سائز کی ناک کی بالیاں لڑکے پہنتے ہیں۔ ہمارے کلچر میں مرد کے لئے یہ گالی ہے مگر وہاں فیشن ہے۔ کانوں میں چھوٹی بالی تو میں نے پاکستان کے لڑکوں کو بھی پہنے دیکھا ہے مگر کینیڈا میں لڑکے ایک بڑی سی بالی جس کا سائز چونّی یا اٹھنی کے برابر ہوتا ہے، وہ کان کی لو میں ایسے پیوست کراتے ہیں کہ کان میں بڑا سا سوراخ ہو جاتا ہے۔ بھنوئیں، ہونٹ، ہونٹ کا اوپری حصہ، یہاں تک کہ زبان تک چھدوانے کا رواج ہے۔


یہاں جس کی مرضی جیسا فیشن کرے، جیسا چاہے لباس زیبِ تن کرے، نہ کوئی کسی پہ جملہ کستا ہے نہ ہوٹنگ کرتا ہے۔ ’لڑکیوں کو چھیڑنا‘ یہ کیا بلا ہے، کسی کو نہیں معلوم، یہاں خواتین بہت محفوظ ہیں، رات کو سنسان سڑک پہ اکیلی لڑکی آرام سے سفر کرسکتی ہے، اسے کوئی خطرہ نہیں۔ خواتین کی ایک بڑی تعداد پبلک ٹرانسپورٹ پر سفر کرتی ہے، کوئی انہیں نہیں گھورتا۔ اسکائی ٹرین رات ایک بجے تک چلتی ہے، اکثر خواتین رات کو کام سے واپس ٹرین پہ ہی آتی ہیں مگر کوئی انہیں ہراساں نہیں کرتا۔ کینیڈا میں قانون سخت ہے اور سب کے لئے یکساں ہے، اس لئے جرائم نہ ہونے کے برابر ہیں۔ عوام کی جان و مال محفوظ ہے، پینے کا صاف پانی ہر خاص و عام کو دستیاب ہے، نلوں میں جھیلوں سے صاف پانی آتا ہے جو صحت کے لئے نہایت موزوں ہے، تعلیم سب کے لئے مفت ہے، طبی سہولیات، دیگر سہولیات بھی عوام کو ملتی ہیں۔


دکانیں یہاں صبح سویرے ہی کھل جاتی ہیں، دوپہر ایک بجے کے بعد دکان کھولنے کا یہاں کوئی تصور موجود نہیں۔ ہر چیز پہ بارکوڈ یا اس کی قیمت درج ہوتی ہے اور ’’بارگیننگ‘‘ یعنی قیمت کم کرانے کا کوئی سلسلہ یہاں نہیں۔ کافی شاپس عموماً 24 گھنٹے کھلی رہتی ہیں۔ میں بھی کبھی رات گئے فرنچ ونیلا پینے جاتی ہوں۔ 
French Vanilla
کافی کی ایک مقبول قسم ہے، زیادہ تر لڑکیاں یہی پیتی ہیں۔ یہ ہاٹ چاکلیٹ اور کافی کا مرکب ہوتا ہے۔ کافی شاپ میں میں نے بعض عجیب و غریب چیزیں بھی دیکھیں، مثلاً لوگ گرین ٹی میں دودھ ڈال کے پیتے ہیں، اکثر لوگ گرم چائے یا کافی میں برف کے چند ٹکڑے یہ کہہ کے ڈال لیتے ہیں کہ گرم مشروب پینے سے منہ جل جاتا ہے کو لڈ کافی کم لوگ پیتے ہیں، گرم کافی میں ہی برف ڈالنا پسند کرتے ہیں۔


کافی شاپ میں ایک کونے پر آتشدان ہے جہاں آرام دہ صوفے پڑے ہیں۔ انتظامیہ کی جانب سے وہاں لکھا ہے کہ صوفوں پہ سونا منع ہے اور زیادہ دیر بیٹھنے سے احتراز کریں تاکہ دوسروں کو بھی وہاں بیٹھنے کا موقع ملے۔ لیکن میں نے وہاں صوفوں پہ بعض افراد کو دو دو گھنٹے سوتے دیکھا۔میں نے کاوئنٹر پر موجود لڑکی سے پوچھا کہ آپ ان حضرات کو اٹھاتی کیوں نہیں؟ وہ مسکرا کے بولی ’’ہم کسٹمر سے غیرمہذب رویہ نہیں اپنا سکتے۔‘‘ میرے دل میں کئی بار آیا کہ خود ہی جاکے کہوں کہ اٹھو، اب میں صوفے پہ بیٹھوں گی مگر پھر یہ سوچ کے خیال جھٹک دیا کہ جب باقی لوگوں کو اعتراض نہیں تو مجھے کیوں تکلیف ہو رہی ہے۔


صوفوں پر سونے والے زیادہ تر معمر افراد ہی ہوتے ہیں اور لوگ ان کی عمر کی وجہ سے احتراماً انہیں نہیں اٹھاتے۔ کافی شاپ وقت گزاری کے لئے بہترین جگہ ہے۔ لوگ گھنٹوں یہاں صَرف کرتے ہیں، لیپ ٹاپ پہ کام کرنا ہو، نوٹس بنانے ہوں، موبائل پر دوستوں سے بات کرنی ہو، احباب سے گپ شپ کرنی ہو، کافی شاپ آئیڈیل ہے۔ سب لوگ اپنا بِل خود ادا کرتے ہیں، کوئی کسی دوسرے کی کافی کا بل نہیں دیتا۔ یہاں دوستوں کا بل دینے کا رواج نہیں۔ آپ کتنے ہی گہرے دوست کیوں نہ ہوں، اپنا بل خود دیں۔ کافی شاپ میں انٹرنیٹ فری ہوتا ہے۔ ویسے یہاں مال میں، ریسٹورنٹ میں، کافی شاپ یا فاسٹ فوڈ ریستوران میں انٹرنیٹ فری ہوتا ہے۔
فری پر یاد آیا
Buy One, Get One Free
آج کل عروج پہ ہے، نیوایئر کی وجہ سے ہر جگہ سیل ہے، پھر ویلنٹائن ڈے بھی زیادہ دور نہیں۔ ویلنٹائن ڈے فروری میں آتا ہے اور اس کی سیل جنوری میں لگ جاتی ہے۔ سیل لگی ہو تو سمجھ میں نہیں آتا کیا خریدیں کیا چھوڑیں۔ ڈالر خرچ کرنا آسان ہے‘ کمانا مشکل ہے۔ دیارِ غیر میں بسنے والے جانتے ہیں کہ روزی روٹی کے لئے کیا کیا جتن کرنے پڑتے ہیں، اگرچہ پاکستان میں بھی کمانے کی فکر سب کو ہوتی ہے مگر ایک خاص ذہنی بے فکری بھی ہوتی ہے، پاکستان میں سب اپنے ہوتے ہیں۔ یہاں کینیڈا میں کوئی کسی کا نہیں۔


مصنفہ ‘ مشہور ادا کارہ‘ کمپیئر اوردو کتابوں کی مصنفہ ہیں۔
[email protected]

یہ تحریر 206مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP