قومی و بین الاقوامی ایشوز

بحرہند میں امن کا فروغ

سمندر کے ذریعے بڑی تعداد میں نقل و حمل نہ صرف کم خرچ ہے بلکہ فضائی نقل و حمل سے تقریباً 163گنا سستی بھی ہے۔ 90 فیصد بین البراعظمی سامان کی تجارت سمندر کے ذریعے ہوتی ہے جو کہ تقریباً 15ملین کنٹینرز کے ذریعے ممکن ہوتی ہے اور یہ کنٹینرز سا لانہ 200ملین سے زائد مرتبہ بحری سفر کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ دنیا کے 38ہزار سے زائد تجارتی جہاز سمندری راستوں کے ذریعے 4500سے زائدبین الاقوامی بندرگاہوں کے درمیان ایک عالمگیر رابطے کا باعث بنتے ہیں۔ 
68.56ملین مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا بحرہند دنیامیں تیسرا بڑا بحر ہے جو زمین کی سطح کے تقریباً 20فی صد حصے کو ڈھانپے ہوئے ہے۔47ممالک کے ساحلوں اور کئی جزیروں کا مسکن بحر ہند جغرافیائی خدوخال کی وجہ سے بہت اہم ہے۔

بحر ہندمیں سالانہ تقریباً ایک لاکھ جہاز ایک وسیع علاقے کا سفر کرتے ہیں اور یہ بحر دنیا میں‘ وزن کے اعتبار سے‘ سامان کی بڑی مقدار میں نقل و حرکت کا بحر مانا جاتا ہے۔ یہ بحر دنیا کے طویل سفر کرنے والے مال بردار جہازوں کی نقل و حمل کے لئے ایک اہم آبی گزر گاہ ہے۔ دنیا کی تقریباً نصف بحری آمدو رفت اور پیٹرولیم مصنوعات کی80 فیصد سے زائد نقل و حمل اسی بحر کے ذریعے ہوتی ہے۔ دنیا کے تیل کا 65فیصد حصہ اور گیس کے 35فیصد ذخائر بحر ہند کے ساحلی ممالک میں واقع ہیں۔ کئی ممالک کی تجارتی آمدو رفت اسی بحرکے ذریعے ہوتی ہے۔ امریکہ ، فرانس اور جاپان، خلیج سے توانائی کے بڑے درآمد کنندگان ہیں ۔ مشرق سے مغرب کابحری تجارتی راستہ جو عین شمالی بحرِ ہند سے گزرتا ہے، دنیا کا اہم ترین تجارتی راستہ ہے اور ہزاروں جہاز ہر وقت اس پر رواں رہتے ہیں ۔ 
اکیسویں صدی اپنے ساتھ ترقی اور خوشحالی کے بے مثال مواقع لائی ہے لیکن یہ مواقع سیاسی اور معاشی بد نظمی اور عدم استحکام جیسے خطرات سے دوچار ہیں ۔ دنیا کی قومی معیشتوں کے حوالے سے ان میں سے 80کی دہائی میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے ، توانائی اور صنعتی خام مال کی طلب میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ۔نتیجہ یہ کہ اس صورت حال نے بین الاقوامی تجارت کو بہت تیزی کے ساتھ بحری تجارتی راستوں کی جانب منتقل کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ دہشت گردی، بحری قزاقی، سمندری وسائل کے استحصال،معاشی نظام میں بگاڑ اورعالمی سطح پر درجہ حرارت میں اضافے کے پس منظر میں عالمی سکیورٹی، اقتصادیات اور ماحول کو لاحق مختلف النوع خطرات میں اضافہ دیکھا جاسکتا ہے،جس کے لئے مشترکہ اورزیرک سوچ کی ضرورت ہے۔ بحری تجارت میں ہر ملک شامل ہے اور اس کی حفاظت تمام شراکت داروں کی مربوط حکمت عملی کے ذریعے ہی یقینی بنائی جا سکتی ہے۔


سا ل2007سے پاک بحریہ کی جانب سے منعقد ہ امن مشقیں اور انٹرنیشنل میری ٹائم کانفرنس مغربی بحرہند میں میری ٹائم سکیورٹی کو بہتر بنانے کی جانب ایک غیر معمولی قد م ہے۔ ’’امن‘‘ اردو زبان کا لفظ ہے جس کے معنی انگریزی میں 
’’Peace‘‘ 
کے ہیں۔اس مشق کا سلوگن ’’ امن کے لئے متحد
، Together for Peace‘‘
ہے جو اس مشق کی بنیاد بنا۔2007 سے منعقدہ ہرمشق میں عالمی بحری افواج اور مندوبین کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔مشق امن 2007میں عالمی بحری افواج کے14 جہازوں، اسپیشل آپریشنز فورسز/دھماکہ خیز مواد کو ناکارہ بنانے والی 2ٹیموں اور 21ممالک کے مندوبین نے شرکت کی۔ سال 2009میں منعقدہ دوسری امن مشق میں14جہازوں، 2 ایئرکرافٹ، اسپیشل آپریشنز فورسزکی9ٹیموں اور 27ممالک کے مندوبین نے شرکت کی۔ مارچ2011میں منعقد ہونے والی تیسری امن مشق میں 11 جہازوں، 3 ایئرکرافٹ، اسپیشل آپریشنز فورسز/دھماکہ خیز مواد کو ناکارہ بنانے والی اور میرینز کی 3 ٹیموں اور 28ممالک کے43مندوبین نے شرکت کی۔ امن مشقوں کے سلسلے کی چوتھی مشق امن 2013میں 12جہازوں ،2ایئر کرافٹ، اسپیشل آپریشنز فورسز/دھماکہ خیز مواد کو ناکارہ بنانے والی6ٹیموں اور29ممالک کے 36 مندوبین نے شرکت کی۔
امن مشقوں کے انعقادکامقصد معلومات کے تبادلے اور باہمی دلچسپی کے اُمور بشمول میری ٹائم سکیورٹی کے مسائل ،دہشت گردی کے خاتمے اور انسانیت کی مدد جیسے آپریشنزپر یکساں سوچ کوفروغ دینا ہے۔ مشترکہ آپریشنز کرنے کی صلاحیتوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ فضا،سمندر اور زیر سمندر خطرات سے نبردآزمائی کے لئے مشترکہ مہارتوں کے فروغ اور مختلف مشقوں کے ذریعے سپیشل آپریشنز فورسز کی مہارتوں میں اضافے کا حصول بھی ان مشقوں کے انعقاد کے مقاصد میں شامل ہے۔


امن مشقوں کا انعقاد پاکستان نیوی کا ایک غیر معمولی اقدام ہے۔ کثیر مقاصد کے حصول کی حامل یہ مشقیں خطے میں امن و استحکام کے قیام کے ساتھ ساتھ علاقائی اور عالمی بحری افواج کے ساتھ پاک بحریہ کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کا ایک بہترین ذریعہ بھی ہیں ۔ امن مشقوں کے انعقاد سے نہ صرف علاقائی قوت کے طور پرپاک بحریہ کے قد کاٹھ میں اضافہ ہوا ہے بلکہ اتحادی ممالک کا پاک بحریہ پر اعتماد بھی بڑھا ہے۔مشق امن 2017کا انعقاد اس اعتمادمیں مزید اضافے کا باعث ہوگا ۔مشق امن 2017 میں 35ممالک سے زائد جہاز، ایئرکرافٹ، ہیلی کاپٹرز، سپیشل آپریشنز فورسز/دھماکہ خیز مواد کو نا کا رہ بنانے والی ٹیمیں، میرینز پر مشتمل ٹیمیں اور مندوبین شرکت کریں گے۔ مشق امن 2017 میں اتنی بڑی تعداد میں ممالک کی شرکت پاکستان کی جانب سے خطے میں امن اور استحکام کے لئے کی جانے والی کوششوں پر عالمی برادری کے اعتماد و یقین اور مستقبل میں پاکستان اور پاک بحریہ کے ساتھ مل کر کام کرنے کے عزم کا مظہر ہے۔


[email protected] 

یہ تحریر 117مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP