متفرقات

بجیا ۔۔۔ جس کی لَو نے جلائے چراغ کئی

سفید ساڑھی میں ملبوس وہ چھوٹی سی، نازک سی بجیا، بچوں،بڑوں اور اپنے سے بھی بڑوں کی بجیا۔ ایوانوں میں براجمان سیاست دانوں اور بے یارو مدد گار انسانوں کی بجیا۔ بقول پروفیسر سحر انصاری وہ تو جگت بجیا تھیں۔


یہ2004 کی بات ہے جب میں کراچی یونیورسٹی میں میڈیا سٹڈیز کی طالبہ تھی ، بجیا کی فین ہوگئی۔ سچ تو یہ ہے شاید کراچی یونیورسٹی سے اتنا نہیں سیکھا جتنا بجیا جیسی چلتی پھرتی یونیورسٹی سے دس سال میں سیکھ لیا۔کراچی کے وسط میں واقع بہار مسلم سوسائٹی میں کارنر کا سبزے سے گھرا وہ گھر ،جہاں میں نے فاطمہ ثریا بجیا کے ساتھ زندگی کو سیکھا۔ لکھنا سیکھا، لوگوں کو معاف کرنا اور سب کے لئے دل کھول کر جینا سیکھا۔کوئی جو پوچھ لے کہ بجیا کیسی ہیں ؟ جواب ملے ’’بس بھیا! ناک بند ہے باقی بڑھاپا اپنے جوبن پر ہے‘‘ بجیا گھر سے جو پہلا قدم باہر نکالتی تھیں وہ کسی اور کے لئے ہوتا، آدھی رات کو بجیا کے گھر کی خاموشی میں جو فون بجتا تو کسی ضرورت مند نے بجیا کو یاد کیا ہوتا، کسی نے عرضی ڈال دی اب سفید ساڑھی والی اس فرشتہ صفت سے ’’نہیں‘‘ کبھی نہیں کہا گیا، چاہے جو حالات ہوئے، بجیا نکل کھڑی ہوئیں۔یہ دسمبر2010 کی بات ہے، رات کے دس بجے بجیا اپنے کمرے میں ہیٹر کے آگے بیٹھی اخبارات کے تراشے سنبھال رہی تھیں۔ میں کامن روم میں ٹی وی کے آگے سکون سے صوفے پہ دراز تھی۔ گھر کی گھنٹی بجی، بائیس سال سے بجیا کے گھر میں براجمان شیف عبدالوہاب نے مجھے اطلاع دی ’’عفت باجی، بجیا کو بولو کوئی صاب آیا، کہتا ہے نوکری کا ماملہ اے‘‘، میں نے گھڑی دیکھی لاحول پڑھا اور بجیا کو بتانے گئی، بجیا بہت انہماک سے اخبارات تراش رہی تھیں، مخل ہونا مناسب نہ سمجھا، میں نے مرکزی دروازے پر جاکر گھر آنے والے صاحب کو ٹپ دی کہ بجیا مصروف ہیں کل علی الصبح آجائیں ملاقات بھی ہوجائے گی کام بھی۔۔۔بحث جاری تھی کہ پیچھے سے بجیا آگئیں ’’آجاؤ بیٹا اندر آجاؤ‘‘

 

موصوف کوئی سرکاری ملازم تھے، شوکاز ملا ہوا تھا نوکری کے لالے پڑے تو بجیا کے گھر راتوں رات آن دھمکے، بجیا ان صاحب بہادر کو نہیں جانتی تھیں، مدعا سنا، اونی شال کندھے پہ ڈالی اور آواز لگائی "عبدالوہاب بی بی کے لئے الماری سے شال نکال لاؤ اور گاڑی نکالو، گورنر ہاؤس جانا ہے۔ اب یہ بی بی بیچاری منہ تکے، ارے بجیا! رات کے ساڑھے دس ہونے کو آئے ہیں۔۔۔ لاکھ عبدالوہاب منمنایا، اس بی بی نے بھی سمجھایا، اگلے چند منٹوں میں ہم گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد کے سرکاری گھر۔۔۔کام کیسے نہ بنتا۔


وہ سب کی بجیا تھیں، مگر میری تو ماں تھیں، وقت کی درویش، اللہ کی ولی، حددرجہ سادہ اور بلا کی درد مند۔بجیا کا دستر خوان طویل تھا، مہمان آتے جاتے، کھانا لگتا جاتا ،عبدالوہاب جس نے ہر سرد و گرم میں بجیا اور ان کی والدہ کا ساتھ نبھایا، روٹیاں توے سے اتارتا جاتا اور دسترخوان پر نئے مہمان براجمان ہوتے جاتے، یقین جانئے بجیا کے ڈرائینگ روم میں بڑے ٹھسے سے بیٹھے نجانے کتنے ہی نامی نامیوں کی اکثریت اپنے ہی کسی کام کی خاطر آئے ہوتے تھے۔مگر کیا مجال جو کبھی بجیا کے ماتھے پر شکن دیکھی۔


بجیا کے کارنامے میں اپنی کتاب بجیا کی سوانح عمری میں رقم کرچکی ،بس اک کسک باقی ہے جو شاید کتاب کا حصہ نہ بن سکی۔ بجیا نے جس ہمت و بہادری سے زندگی گزاری، ہم اس کا عشر عشیر بھی نہیں سہہ سکتے۔وہ تناور اور مضبوط خاتون جس نے 1960 میں جنگ اخبار میں کہانیاں لکھ کر پروفیشنل زندگی کا آغاز کیا، جب 2014 میں انہیں فالج کا اٹیک ہوا،وہ اس سے قبل تک اپنی ضعیفی میں بھی اپنے کپڑے خود دھولیتیں، واش روم تیزاب سے دھویا اور کمرے کی صفائی کرڈالی، میں جب رمضان میں بھوک سے نڈھال پڑی ہوتی تو کچن سے آوازیں آتیں، میں بجیا کو منع کرنے جاتی تو کہتیں ’’ارے بس بن گیا افطار تمھارے بہانے میں بھی چکھ لوں گی‘‘
بجیا کی تقسیمِ پاکستان کے فوری بعد شادی ہوئی اور ان کی دو بیٹیاں پیدائش کے بعد فوت ہوگئیں، بجیا انہیں بھی یاد کرتی تھیں اور کہتی تھیں ’’دیکھو اللہ نے مجھے کتنے سارے بیٹے بیٹیاں عطا کردیئے‘‘ وہ دوسروں کے لئے جی رہی تھیں ،ان کا جانا ہم سب کا اجتماعی خسارہ ہے۔


عفت حسن رضوی نجی نیوز چینل میں رپورٹر ہیں، برصغیر کی عظیم ڈرامہ نویس فاطمہ ثریا بجیا کی سوانح نگار اور انٹرنیشنل سینٹر فار جرنلسٹس امریکہ کی فیلو ہیں۔

[email protected]

یہ تحریر 182مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP