قومی و بین الاقوامی ایشوز

باوردی صحافی

صوبیدار چوہدری فضلِ حق
صوبیدار چوہدری فضلِ حق کالم نگار‘ شاعر‘ مرثیہ گو‘ اعلیٰ بیوروکریٹ‘ اور ذمہ دار پولیس افسر تھے۔ وہ11 فروری 1924 کو کھاریاں کے نزدیکی گاؤں مرالہ گوجراں میں پیدا ہوئے۔ تین ماہ کی عمر میں والدہ فوت ہوگئیں اور دس سال کی عمر میں والد چوہدری فتح خان داغِ مفارقت دے گئے۔ خالہ نے پرورش کی۔1943 میں بی اے کرنے کے بعد انڈین آرڈننس کور میں بطورِ نائب صوبیدار بھرتی ہوئے۔ زیادہ عرصہ دہلی میں گزرا۔1948 میں سول سروس کا امتحان پاس کرکے محکمہ پولیس کے لئے منتخب ہوئے۔ انہوں نے مثنوی مولانا روم‘ اقبال اور غالب بچپن میں ہی پڑھ لئے تھے۔ مطالعہ آپ کی خاص عادت تھی۔ وفا آپ کے خمیر میں شامل تھی۔ ذوالفقار علی بھٹو سے زندگی کے آخری سانس تک دوستی نبھائی۔ 1955-56 میں جب فضلِ حق ایس ایس پی کراچی تھے اور بنگلہ نمبر65 کلفٹن میں مقیم تھے تو ان دنوں ذوالفقار علی بھٹو 70 کلفٹن میں قیامِ پذیر تھے۔ وہیں سے ان کی دوستی کا آغاز ہوا۔ چوہدری فضل حق دوبار وفاقی سیکرٹری داخلہ رہے۔ 1970 میں بلوچستان‘ 1972ء میں این ڈبلیو ایف پی‘ 1973 میں سندھ اور 1975ء میں پنجاب کے انسپکٹر جنرل آف پولیس رہے۔ 1971ء میں سیکرٹری فرنٹیئر ریجن بھی رہے۔
1978ء میں نوکری سے استعفیٰ دے دیا۔1989میں محترمہ بے نظیر بھٹو نے انہیں اپنا افسرِ بکارِ خاص مقرر کیا۔ ’’ گاہے گاہے باز خواں‘‘ ان کا کالم 1980 سے شائع ہونا شروع ہوا تھا اور آخری کالم ان کی وفات کے دو دن بعد چھپا تھا۔
چوہدری فضل حق نصف درجن سے زیادہ کتابوں کے مصنف تھے۔ ان کی زیادہ تر توجہ نعت گوئی پر مرکوز رہی۔ چار شعری مجموعے جن میں آہنگ حجاز (1970)‘ نمِ صحرا(1977) ‘ مہرِ عرب(1981)‘ سوئے حرم اور خارمژگاں کے عنوان سے ایک مجموعہ1988 میں بھی چھپا جبکہ غزلوں اور نظموں کا ایک مجموعہ سورج 1990 میں شائع ہوا۔ 1987 میں مثنوی مولا علی بھی طبع ہوئی۔ چوہدری فضل حق نے اردو‘ فارسی‘ انگریزی اور بنگالی میں بھی شاعری کی جو کالج میگزین اور بعد میں مختلف روزناموں میں شائع ہوتی رہی۔ قلم کا مجاہد‘ کڑے ڈسپلن کا پابند وہ گجراتی سپوت6 فروری 2014 کو داغِ مفارقت دے کر اسلام آباد کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوا۔
کرنل فیض احمد فیض
پاکستان کے نامور شاعر جناب فیض احمدفیض13فروری 1911کو کالاقادر ضلع سیالکوٹ میں پیدا ہوئے آپ کے والد کا نام بیرسٹر چوہدری سلطان محمد خان تھا۔ آپ دوسری جنگِ عظیم میں بطورِ کیپٹن برطانوی فوج میں شامل ہوئے۔ شعبہ تعلقاتِ عامہ میں کمیشن ملا۔ بعد میں ترقی پاکر پہلے میجر اور پھر لیفٹیننٹ کرنل ہوئے۔ ابتدائی تعلیم سیالکوٹ میں حاصل کی اور لاہور سے عربی اور انگریزی ادب میں ایم اے کیا۔ پروفیسر رہے‘ ’’ادب لطیف‘‘ کے ایڈیٹر بھی رہے‘ 1935 سے ترقی پسند تحریک سے وابستہ رہے‘ علامہ اقبال کے فارسی کلام (پیامِ مشرق سے انتخاب) کا منظوم اردو ترجمہ کیا۔ صحافی‘ استاداور ٹریڈ یونینسٹ بھی رہے۔ چیدہ چیدہ حالات درج ذیل ہیں۔ مدیر ماہنامہ ادبِ لطیف لاہور1938 ‘ مدیرِ اعلیٰ لیل و نہار‘ امروز‘ پاکستان ٹائمز1947 سے 1958 ‘ صدر ٹریڈ یونین فیڈریشن پاکستان1950ء ایڈیٹر لوٹس فلسطین ‘ سابق مشیر صدر پاکستان برائے فنون لطیفہ و ثقافت۔ شعری کتب میں نقشِ فریادی(1939)‘ دستِ صبا(1952)‘ زنداں نامہ(1963)‘ دستِ تہہ سنگ (1965)‘ سرِ وادئ سینا (1971)‘ شامِ شہرِ یاراں(1978)‘ میرے دل‘ میرے مسافر(1981)‘ نسخہ ہائے وفا (کلیات1985) نثری کتب میزان (تنقیدی مضامین۔(1960‘ صلیبیں میرے دریچے میں (خطوط۔1971)‘ متاعِ لوح و قلم (مرتبہ مرزا ظفر الحسن۔(1976‘ اقبال (مجموعہ مضامین۔ مرتبہ شیمامجید)ہماری قومی ثقافت (مرتبہ مرزا ظفر الحسن۔ 1976) ‘ مہ و سال آشنائی (یادداشتیں۔1980)‘ کیوبا(سفرنامہ) فیض احمد فیض (شخصیت اور فن مرتبہ سلمی صدیقی صابر دت۔ (2011) کلامِ فیض بخطِ فیض (امانت افتخار عارف۔2011)‘ فکرِ فیض (مرتبہ ڈاکٹرپروفیسر نثار ترابی2012)
انہوں نے جو اعزازات حاصل کئے اُن میں لینن ایوارڈ برائے امن 1962‘ صدرارتی ایوارڈ نشانِ امتیازشامل ہیں۔
20 نومبر1984ء کو لاہور میں وفات پائی اور جی بلاک ماڈل ٹاؤن لاہورکے قبرستان میں مدفون ہوئے۔
کیپٹن عطا محمدچشتی ابوالعلاء(حاجی لق لق) 
حاجی لق لق کا نام عطا محمد تھا۔14 ستمبر1894 کو پٹی مغلاں لاہور میں پیدا ہوئے‘ والد کا نام بندو علی تھا۔ فوج میں کلرک بھرتی ہوئے توعطامحمدچشتی کہلانے لگے۔ ممتاز مزاح نگار‘ صحافی اور شاعر تھے۔ پہلی جنگ عظیم کے دنوں میں گاؤں سے لاہور آئے۔ بازاروں میں فوجی بھرتی کے پوسٹر لگے دیکھے ۔ ایف اے تک پڑھے ہوئے تھے۔ فوج میں کلرک بھرتی ہوئے اور پندرہ برسوں میں ترقی کرتے کرتے اعزازی کپتان کے عہدے تک جا پہنچے‘1931ء میں ریٹائر ہوئے۔ دوسری جنگِ عظیم میں ایک بار پھر کیپٹن بھرتی ہو کر ملک ملک گھومے۔ ابولعلائے چشتی کے قلمی نام سے روزنامہ ’’زمیندار‘‘ میں سیاسی اور مزاحیہ کالم لکھتے رہے۔
وہ بانی مدیر ہفت روزہ لقلقہ لاہورتھے‘ شعری مجموعے منقارِ لق لق 1947 ء پروازِ لق لق‘ لقلقہ (ماڈرن غزلیں اور اصلاحی نظمیں) ہیں۔
نثری کتب میں اردو کی پہلی کتاب(1946) تقدیرِ کشمیر(1950) ‘ مضامین لق لق ‘ جناح اور پاکستان‘حاجی لق لق کی درانتی‘ آدم اللغات (1951) ادبِ کثیف اور حاجی لق لق کے افسانے۔ 26 ستمبر 1961 کو لاہورمیں وفات پائی اور آوہ بدھو‘ جی ٹی روڈ لاہورکے قبرستان میں سپرد خاک ہوئے۔
کرنل مجید ملک
کرنل مجید ملک1901 میں لاہور میں پیدا ہوئے۔ والد کا نام ملک دین تھا۔ آپ اردو انگریزی کے نامورادیب‘ ماہرِ قانون‘ شاعر‘ نثر نگار کہانی نویس ہیں۔ دوسری جنگِ عظیم میں فوج جوائن کی‘ زیادہ تر تعلقاتِ عامہ کے ہیڈکوارٹرز میں رہے۔ انتظامی امور کے ماہر فیض احمدفیض‘ چراغ حسن حسرت‘ سیدضمیرجعفری کو فوج میں لے جانے کا سہرہ بھی کرنل مجید ملک کے سر ہے۔ وہ مدیر‘ مسلم آؤٹ لک لاہور(1928_31) ‘ سول جج ٹونک 1938_39‘ ڈپٹی ڈائریکٹر انٹرسروسز پبلک ریلیشنز1941_1946‘ اور پرنسپل انفارمیشن آفیسر حکومتِ پاکستان رہے۔ PIO کی حیثیت سے لیاقت علی خان کے ہمراہ امریکہ کا دورہ کیا۔وہ ڈائریکٹر مرکزی اردو بورڈ لاہور1962‘ مینیجنگ ڈائریکٹر روزنامہ امروز‘ پاکستان ٹائمز لاہور بھی رہے۔26 اکتوبر1976 کو کراچی میں وفات پائی۔ فوجی قبرستان‘ عقب گورا قبرستان کراچی میں مدفون ہوئے۔
ان کی کتابوں میں جواب اور خرمنِ جان شامل ہیں۔
کرنل مسعود احمد
ممتاز صحافی‘ مزاح نگار‘ مترجم اور کالم نگار‘ کرنل مسعود احمد7 جولائی 1914 کو لوتارڑ تحصیل حافظ آباد گوجرانوالہ میں پیدا ہوئے۔ والد کا نام مولانا ابوالقاسم محمدحسین تھا‘انہوں نے1935 میں اسلامیہ کالج لاہور سے بی اے کیا ۔ 1942ء میں بمبئی گئے اور برطانوی فوج میں بطورکلرک بھرتی ہوگئے۔ اسی عرصے میں سیلون میں ایک اردو اخبار ’’لڑائی کی بات‘‘ شروع کیا گیا۔ مسعود احمد کو اس کا ایڈیٹر مقرر کردیاگیا۔ انہی کے مشورے سے اخبار کا نام ’’لڑائی کی بات ‘‘ کے بجائے ’’جنگ کی خبریں‘‘ کردیا گیا۔1943ء میں مسعود احمد کو قابلیت اور خداداد صلاحیتوں کی بنا پر براہِ راست کمیشن دے کر کیپٹن بنا دیا گیا۔ 1945 میں جب سنگاپور سے رومن اور اردو زبان میں روزنامہ ’’جوان‘‘ شروع کیا تو اس کی ادارت پھر مولانا میجر چراغ حسن حسرت کے سپرد کی گئی جہاں ان کے ساتھ سیدضمیر جعفری‘ جاوید خٹک‘ انعام اﷲ قاضی اور پھر کیپٹن مسعود احمد بھی ان سے جاملے۔
سید ضمیر جعفری اور کرنل مسعود احمد کی فوجی رفاقت ذاتی دوستی میں بدل گئی‘ دونوں نے1948ء میں ایک ساتھ فوج سے استعفیٰ دیا۔ مسعود احمدروزنامہ امروز لاہور سے بطورِ اولین نیوز ایڈیٹر وابستہ ہوگئے۔ پھر منسٹری آف کشمیر افیئرز میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر پبلک ریلیشنز رہے‘ 1949 میں میجر سید ضمیر جعفری اور کرنل مسعود احمد نے مشترکہ سرمائے سے روزنامہ بادِ شمال شروع کیا اس کے ایڈیٹر کرنل مسعوداور چیف ایڈیٹر میجر سید ضمیر جعفری تھے اس اخبار کا آخری شمارہ14 مئی1950 کو شائع ہوا تھا۔
قیامِ پاکستان کے بعد1952 میں فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ سے وابستہ ہوگئے۔1952میں ہلال روز نامہ ہوا تو آغامسعود احمد اس کے ایڈیٹر مقرر ہوئے‘ ہلال آج کل ماہنامہ کے طور پر شائع ہو رہا ہے۔
20 نومبر1965 کو لیفٹیننٹ کرنل کے عہدے پر ترقی ملی۔ 1965سے1968 ء تک آئی ایس پی آر میں ڈائریکٹرکے عہدے پر فائز رہے۔ وزنامہ جنگ میں ’’اِدھر اُدھر‘‘ کے عنوان سے بھی کالم لکھے۔ ROVING EYEعنوان سے اسلام آباد کے روزنامہ مسلم میں بھی کالم لکھے۔انکی کتابوں میں قلم اورکوڑے (کالم اورمضامین1979)‘
IIDO-PAKISTAN WAR_1965: A Flash_Back شامل ہیں۔ 20 مئی 1998 کو اسلام آباد میں وفات پائی اور مرکزی قبرستان اسلام آباد میں سپرد خاک ہوئے۔
صوبیدار مصباح الاسلام فاروقی
ممتاز صحافی‘ مترجم‘ ادیب‘ مصنف اور دانشور صوبیدار مصباح الاسلام فاروقی 18 اکتوبر1923 کو میرٹھ میں پیدا ہوئے‘ ساری عمر اسلام کی سربلندی کے لئے قلمی محاذ پر گزار دی۔ لاہور کے روزنامہ ’’تسنیم‘‘ اور قاصد کے ایڈیٹر رہے۔ تحریکِ اسلامی کے انچارج شعبۂ نشرواشاعت بھی رہے۔ 1943 میں علی گڑھ یونیورسٹی سے بی اے کیا۔ دوسری جنگِ عظیم میں برطانوی فوج میں شامل ہوگئے۔ صوبیدار کے عہدے تک ترقی پائی‘ صوبیدار فاروقی کو اردو اور انگریزی دونوں زبانوں پر عبور حاصل تھا۔ 
ان کی کتب میںJewish Conspiracy‘ فری میسن تحریک‘ پروٹوکول (تراجم) شامل ہیں۔ وہ چراغِ راہ کراچی کے مستقل لکھاری رہے۔ 14 نومبر1976ء کو لاہور میں وفات پائی اور وہیں مدفون ہوئے۔
کیپٹن منظور حسن
کیپٹن منظورحسن 1897 کو گوجرانوالہ میں پیدا ہوئے ‘ صاحبِ مطالعہ صحافی تھے۔ گوجرانولہ سے ہفت روزہ ’’العدل‘‘ نکالا جس کے عرصہ دراز تک ایڈیٹر و پبلشر رہے۔ کیپٹن منظورحسن گوجرانوالہ کے ایک پڑھے لکھے گھرانے سے تعلق رکھتے تھے‘ کرنل مسعود احمد کے بقول مولانا چراغ حسن حسرت بھی انہیں سند مانتے تھے۔
قادر الکلام شاعر‘ بے مثل نثر نگار‘ ناول نگار‘ عالمانہ تحریریں ‘ فنِ تاریخ گوئی میں یکتا‘ اُردو‘ فارسی‘ عربی اور انگریزی پر عبور رکھتے تھے۔ ایک مجموعہ کلام ’’پیامِ غربت‘‘ کے نام سے1918 میں شائع ہوا۔ ایک ناول مجرمِ عشق بھی شائع ہوا۔ایک رسالہ سلف و خلف کے نام سے1945 میں شائع کیا۔ جس میں گوجرانولہ کے راجپوت گھرانوں کا تذکرہ ہے۔ کیپٹن منظورحسن کے والد مولانا عزیزالدین عزیز‘ شاعر‘ خطاط‘ جید عالم دین ‘ فنِ تاریخ گوئی کے امام مانے جاتے تھے‘ کیپٹن منظور حسن نے ’’فن تاریخ گوئی‘‘ کے عنوان سے بھی ایک کتاب لکھی تھی جسے اردو زبان میں اس فن کی پہلی کتاب کا اعزاز حاصل رہے۔ کیپٹن منظور حسن نے1925 میں اسلامیہ کالج لاہور سے فارسی میں ایم اے کرنے کے بعد1938ء میں فوج میں ڈائریکٹ کیپٹن بھرتی ہوئے اور1952 میں ریٹائرہوئے۔ وہ کرکٹ کے بھی بہت اچھے کھلاڑی تھے۔ ان کے فرزند راجہ سلیم اختر اور پوتے وسیم حسن راجہ اور رمیز حسن راجہ کا شمار پاکستان کے نامور کرکٹرز میں ہوتا ہے۔ 
کیپٹن منظور حسن گوجرانوالہ میونسپل کمیٹی کے ایگزیکٹو آفیسر بھی رہے۔ علامہ اقبال سے خط کتابت بھی رہی۔ 25 نومبر1973کو وفات پائی اور گوجرانوالہ میں سپردِ خاک ہوئے۔
وقار انبالوی (حوالدار ناظم علی)
پاکستان کے بزرگ اخبار نویس جناب وقار انبالوی کا اصل نام ناظم علی تھا‘ فوجی حلقوں میں حوالدار ناظم علی کے نام سے جانے جاتے تھے۔ آپ22 جون 1896ء کوچنار تھل ضلع انبالہ میں پیدا ہوئے ۔ پہلی عالمگیر جنگ میں دس ریکروٹ بھرتی کرانے پر بونس کے طور انہیں براہِ راست نائیک بھرتی کرلیا گیا۔ ناگ پور میں مقیم پنجاب رجمنٹ میں ان کی پہلی تعیناتی ہوئی۔ وہیں حوالدار ہوئے‘ بعد میں ان کے کمانڈر نے ان کا تبادلہ فرنٹیئر پولیس میں کرکے کوئٹہ بھیج دیا۔بعد ازاں وہ نوکری چھوڑ کر لاہور میں روزنامہ زمیندار کے سٹاف میں شامل ہوگئے۔
دوسری جنگِ عظیم میں ایک بار پھر وقار انبالوی کو میدانِ جنگ میں اترنا پڑا۔ کئی اخبار نویسوں کو بطورِ آبزرور(Observer) مختلف ممالک میں بھیجا گیا۔ وقارانبالوی کو مصر بھیجا گیا تھا جہاں وہ مصری ریڈیو سے تقریر یں نشر کرتے رہے۔
دوسری بار ریٹائرمنٹ پر نوائے وقت سے وابستہ ہوئے۔ ’’سرے راہے‘‘ کے عنوان سے مقبول سلسلہ شروع کیا۔ قطعات بھی لکھے۔ زندگی کی آخری سانس تک چاق چوبند رہے۔
وقار انبالوی 1939 سے1946 تک روزنامہ احسان لاہور کے ایڈیٹر رہے۔ روزنامہ سفینہ لاہور کے مدیر1947 سے1949 تک جبکہ روزنامہ وفاق کے ایڈیٹر 1952 سے1956ء تک رہے۔ نوائے وقت میں قطعہ نگاری اور فکاہیہ کالم نگاری1956 سے1988 تک جاری رکھی۔ صدارتی تمغۂ امتیاز کا اعزاز1984 میں ملا۔ ان کی طبع شدہ کتب میں آہنگ رزم‘زبانِ حال‘ بیانِ حال شامل ہیں جو مختلف اخبارات میں شائع ہوتے رہے ہیں۔
26 جون1988 کو وفات پائی اور سجووال شرقیہ ضلع شیخوپورہ میں تدفین ہوئی۔
کیپٹن واحد بخش سیال چشتی صابری ربانی
کیپٹن واحد بخش ممتاز اردو‘ انگریزی ادیب‘ مترجم‘ پیرطریقت‘ خلیفہ سید محمدذوقی شاہ ہیں۔ وہ دفاعی امور تاریخ‘ مذہب اور تصوف پر متعدد کتب کے مصنف و مؤلف سہ ماہی‘ بزبانِ انگریزی The Sufi Pathکے چیف ایڈیٹر و پبلشر رہے جو 1990 سے باقاعدگی سے شائع ہو رہا ہے۔
کیپٹن واحد بخش سیال کا تعلق ریاست بہاولپور سے ہے ۔ بی اے کرنے کے بعد 1935 میں بہاولپور اسٹیٹ فورسز میں شامل ہوئے۔ دوسری جنگِ عظیم میں انڈین ملٹری اکیڈمی ڈیرہ دون سے فوجی تربیت مکمل کرکے برطانوی افواج کے ساتھ ملایا کے محاذ پر رہے۔21 اپریل1995 کو وفات پائی اور الہ آباد تحصیل لیاقت پور ضلع رحیم یار خان میں مدفون ہوئے۔
کیپٹن واحد بخش سیال نے روحانیت اور مذہب پر بے تحاشا کتب شائع کی ہیں۔ جن میں مشاہدۂ حق‘ عظمتِ اہلِ بیتِ رسول‘ روحانیتِ اسلام‘ مقامِ گنجِ شکر‘ تذکرہ حضرت خواجہ خدابخش خیرپوری‘ مسئلہ وحدت الوجود و وحدت الشہود‘ پاکستان کی عظیم الشان دفاعی قوت ہیں۔ انگریزی میں لکھی گئی کتب میں
Meet God Almighty, 
Common Wealth of Muslim Nations
اور Islamic Sufismشامل ہیں۔ 
اور اردو تراجم میں مراۃ الاسرار‘ مکتوباتِ قدسیہ‘ جوامع الکلم‘ اقتباس الانوار‘ مقابیس المجالس‘ تلقین الربانی‘ شرح کشف المحجوب اور شرح لواحِ جامی شامل ہیں۔

یہ تحریر 53مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP