متفرقات

باوردی صحافی

پاکستان آرمی میں یوں تو سینکڑوں صاحبِ قرطاس و قلم ہیں‘ مگر میرا مقصود صرف ان باوردی اہلِ قلم سے ہے جو صحافت کی دنیا میں کسی نہ کسی طور نمایاں رہے ‘ بہت سے ایسے نام بھی ہیں جن پر پوری پوری کتابیں لکھی جاچکی ہیں۔ میں نے البتہ انتہائی اختصار سے کام لیتے ہوئے چند سطور میں ان کا احاطہ کرنے کی کوشش کی ہے بعضوں کے معاملے میں مزید قطع و برید سے کام لینا پڑا مثلاً لیفٹیننٹ کرنل اشفاق حسین کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔21 اکتوبر1972 میں فوج میں کمیشن لینے سے قبل وہ پنجاب یونیورسٹی سے صحافت میں ایم اے کر چکے تھے‘ائر کموڈور انعام الحق کی صحافت سے وابستگی یوں رہی کہ وہ فضائیہ کے میگزین پرواز کے ادارتی بورڈ میں رہے۔ جبکہ صوبیدار سخی محمد جومرزا سختی کے نام سے معروف تھے ایم اے انگریزی اور ایم اے اردو کے علاوہ لندن یونیورسٹی سے صحافت میں ڈپلوما کیا تھا‘ فلائیٹ لیفٹیننٹ غالب احمد جو پاکستان کے کئی اداروں کے سربراہ رہے۔ وہ 1980-82تک لاہور کے ماہنامہ ادب لطیف کے ایڈیٹر رہے۔ اسی طرح لیفٹیننٹ کرنل غلام جیلابی خان پاکستان آرمی کے جرنل کے اردو ایڈیشن کے ایڈیٹر رہے۔ جبکہ میجر محمد جمیل ڈار اردو صحافت میں ابو ذر غفاری کے نام سے شہرت رکھتے تھے۔

لیفٹیننٹ کرنل محمدایوب خان جو کئی کتابوں کے مصنف ہیں وہ اردو ماہنامہ ’’محقق‘‘ کے ایڈیٹر و پبلشر رہے‘ اسی طرح لیفٹیننٹ کرنل مختار احمدگیلانی‘ راولپنڈی کے ڈیفنس ڈائجسٹ کے ایڈیٹر و پبلشر رہے ہیں۔ الغرض بہت سے ایسے نام مزید لئے جاسکتے ہیں سردست چند چیدہ چیدہ ان مشاہیر قلم کا تذکرہ ملاحظہ فرمائیں جنہوں نے فوجی محاذ کے علاوہ قلمی محاذ پر بھی قلم کی حرمت کا مان ودھایا ہے تاریخ ان باوردی صحافیوں پر فخر کرتی ہے۔ ناموں کی تربیت میں حروف تہجی کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔

(میجر ابن الحسن (محمدابن الحسن سید

ممتاز صحافی ‘ ماہر اقتصادیات‘ شاعر‘ ادیب‘ کالم نگار‘ کارکن تحریکِ پاکستان علی گڑھ یونیورسٹی سے1947 میں بی اے ایل ایل بی کیا‘ ستمبر1947 کو پاکستان ہجرت کی۔ 1949 میں فوج میں کمیشن لیا۔ پہلی یونٹ سیکنڈ پٹھان جو بعد میں 15 ایف ایف کہلائی‘ 1953 میں میجر کر رینک پر ترقی پائی۔1963ء میں ریٹائر منٹ لے لی‘ سندھ آبزرور اور دی ڈیلی گزٹ سے وابستہ رہے‘ اردو اور انگریزی کے بے مثال لکھاری‘ تجزیہ نگار‘1970- 82 تک پاکستان اکنامسٹ کے بانی ایڈیٹر رہے۔ ہفت روزہ تکبیر‘ زندگی اور نوائے وقت کے مستقل مضمون نگار اور تبصرہ کار رہے ہیں۔ گورنر کے مشیر1988‘ نثری اور شعری کتب ! مضامین1989 میں شمع اور دریچہ شعری مجموعہ جوئے تشنہ1974 شعری مجموعہ آبگینہ1982 (کالم) جملۂ معترضہ (کہانیاں) روزنِ در IN SEARCH OF AN ASLAMIC MODEL ستارۂ امتیاز(1991) ولدیت: ظہور الحسن لکھنوی ولادت: 15 جولائی1927 موضع پورینی ضلع بھاگل پور (بھارت) وفات: 18 فروری14 فروری 1994 کراچی (تدفین : قبرستان ڈیفنس کراچی (گزری قبرستان

میجر مولانا چراغ حسن حسرتؔ

مولانا چراغ حسن حسرت اردو صحافت میں کالم نگاری کے بانیوں میں سے ایک معتبر حوالہ‘ شاعر‘ ادیب‘ افسانہ نگار کہانی‘ کار‘ مزاح نگار‘ خاکہ نگار‘مترجم‘ مولانا چراغ حسن حسرت نے فوج میں صحافت کو باقاعدہ ایک ادارے کی شکل دی‘ بے شمار فوجی صحافیوں کی تربیت دی‘ ’’ہلال‘‘ آج بھی اپنے بانی کی روایت کو قائم رکھے ہوئے ہے‘ چراغ ہسن حسرت کا تکیہ کلام تھا ’’مولانا‘‘ وہ کسی کو مولانا کہہ کرمخاطب کیا کرتے تھے اسی مناسبت سے مولانا ان کے نام کا بھی حصہ بن گیا۔ میجر حسرت نے فارسی اور عربی کی تعلیم گھر پر حاصل کی پھر بی اے کے بعد شملہ بھارت میں فارسی استاد مقرر ہوئے۔ اس کے بعد کلکتہ چلے گئے جہاں مولانا ابوالکلام آزاد سے نیاز حاصل رہے۔ کلکتہ میں رسالہ عصرِ جدید کے ایڈیٹر ہوئے یہیں سے کالم نویسی کی ابتدا ہوئی ’’کوچہ گرد‘‘ کے قلمی نام سے لکھا پھر نئی دنیا میں سندباد حجازی‘ کے نام سے کالم لکھے کچھ عرصہ لاہور میں زمیندار سے وابستہ رہے‘ دوسری جنگِ عظیم میں برطانوی فوج میں چلے گئے فوج کے سرکاری ترجمان فوجی اخبار کے مدیر کے طور دہلی چلے گئے‘ برطانوی فوج نے بعد میں کوالالمپور سے روزنامہ ’’جوان‘‘ کا اجراء کیا تو اس کے مدیر مقرر ہوئے‘ کرنل مسعود اور میجر سید ضمیر جعفری کا شمار آپ کے ہونہار شاگردوں میں ہوتا ہے روزنامہ ’’جوان‘‘ ہی سے آپ دونوں نے قلم کی مشقت کا آغاز کیا تھا۔ مولانا چراغ حسن حسرت کے بعض اشعار زبانِ زدِ عام ہوئے مثلاً : رات کی بات کا مذکور ہی کیا چھوڑیئے رات گئی بات گئی

غیروں سے کہا تم نے غیر وں سے سنا تم نے

کچھ ہم سے کہا ہوتا کچھ ہم سے سنا ہوتا

مولانا حسرت کی خدمات کا مختصر جائزہ کچھ یوں ہے۔ بانی ماہنامہ آفتاب کلکتہ(اجراء1926) بانی فکاہی ہفت روزہ شیرازہ لاہور(اجراء1936) مدیر روزنامہ امروز لاہور(1948- 51) نثری کتب۔ بغاوتِ عرب اور کرنل لارنس (1930) سرگزشتِ اسلام (1937) مردم دیدہ(1939) مطائباتِ فکاہی مضامین(1939) اقبال نامہ (شیرازہّ اقبال نمبر کی آخری شکل) دو ڈاکٹر (ڈاکٹر عالم و ڈاکٹر ستیہ پال)1940 جدید جغرافیہ پنجاب 1940 کشمیر1948 ‘ قائدِاعظم 1949ء کیلے کا چھلکا اور دیگر مضامین 1949زرنیخ کے خطوط1951 پربت کی بیٹی1952ء مضامینِ حسرت 1956 حرف وحکایت (1955-45) منتخب کالم مرتبہ سید ضمیر جعفری(1956) شعری مجموعہ مرتبہ ڈاکٹر طیب منیر ’’باتیں حُسنِ یار کی‘‘ ولدیت۔ بدرالدین بدر‘ ولادت1904 ء بمبار ضلع پونچھ (کشمیر) وفات26 جون1955 لاہور تدفین میانی صاحب لاہور۔

(کرنل زیڈ اے سلہری (ضیا ء الدین احمد

ممتاز صحافی‘ اردو انگریزی مصنف کارکن تحریکِ پاکستان گولڈ میڈلسٹ(1989) وہ نیشنل پریس ٹرسٹ کے چیئرمین رہے‘ قائدِاعظم اکیڈمی کے بورڈ آف گورنر کے چیئرمین بھی رہے۔ کرنل ضیاء الدین احمد المعروف زیڈ اے سلہری ستمبر1965ء کی جنگ کے دنوں میں براہِ راست کرنل بھرتی ہو کر فوج کے شعبہء تعلقاتِ عامہ (ISPR) کا ڈائریکٹر ہوئے‘1965 کی جنگ کے دنوں میں عوام اور فوج میں رابطے کی کمی کو پورا کرنے کے لئے نگاہِ انتخاب زیڈاے سلہری پر پڑی تھی جو اُن دنوں عوام میں بطورِ صحافی دانشور بہت مقبول تھے ! زیڈ اے سلہری کو ان دنوں میجر سید ضمیر جعفری کی معاونت بھی آئی ایس پی آر میں حاصل تھی‘ آپ دونوں نے ملک کے دانشوروں ‘ صحافیوں اور کالم نگاروں کو ایک بھرپور پروگرام کے تحت دفاعی معاملات میں براہِ راست شریک کیا ملکی اور غیر ملکی صحافیوں کو الگے مورچوں تک لے گئے اور1965ء کی جنگ کے جنگی مناظر براہِ راست دکھائے‘ اس جنگ کے نتائج خواہ کچھ بھی رہے مگر میڈیا کے محاذ پر اور نفسیاتی جنگ میں فتح مند پاکستان ہی ٹھہرا تھا‘ 1965 کی جنگ میں آئی ایس پی آر کا کردار بہت جاندار اور موثر تھا۔ کرنل زیڈ اے سلہری نے کئی یادگار کتابیں لکھی ہیں‘ آپ چیف ایڈیٹر روزنامہ پاکستان ٹائمز لاہور بھی رہے اور بانی مدیر ٹائمز آف کراچی اور ایوننگ ٹائمز لاہور بھی رہے‘ سینئر ایڈیٹر روزنامہ ’’دانیوز‘‘ لاہور(1992) سابق رکن وفاقی مجلسِ شوریٰ کتب میں: Road To PEACE AND PAKISTAN(1944) MY LEADER(1945) WITHER PAKISTAN (1962) PAKISTAN LAST YEARS(1965) POLITICIANS AND AYUB(1988) (1988)’’مسئلہ افغانستان‘‘ (جنگ میں لکھے گئے کالم کا مجموعہ) ولادت‘ 6 جون 1913 سیالکوٹ (ظفروال) وفات‘ 21اپریل 1999 ء لاہور (تدفین میانی صاحب لاہور (امانتاً تدفین

بریگیڈیر صولت رضا

بریگیڈیر صولت رضافوج میں جانے سے پہلے روزنامہ نوائے وقت لاہور میں سب ایڈیٹر تھے‘ محمود شام‘ رفعت آپا‘ عطاء الحق قاسمی‘ عبدالقادر حسن‘ اور سید انور قدوائی آپ کے اس دور کے ساتھی اخبار نویسوں میں شامل تھے‘ بریگیڈیر صولت رضا 6 اکتوبر1952 میں سید رفاقت حسین کے ہاں پیدا ہوئے‘ ڈی پی نیشنل سکول کراچی ماڈل ہائی سکول لائن سے بی اے اور پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے صحافت کیا۔ پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول اور سکول آف آرٹلری کے مراحل سے گزر کر 23 فیلڈ رجمنٹ آرٹلری سے 1972- 72 میں سیکنڈلیفٹیننٹ ہوئے انٹر سروسز پبلک ریلیشنز(ISPR) اکتوبر1973 سے جولائی2003 سے جولائی2003 ء تک رہے اور لفٹین سے بریگیڈیر تک پہنچے ! نیشنل یونیورسٹی آف لینگویجز (نمل) میں ماس کمیونیکیشن ڈیپارٹمنٹ کے بانی چیئرمین اگست 2003 سے ستمبر2011 تک رہے۔ 5 سال تک غیر فوجی کالم کے عنوان سے روزنامہ خبریں میں کالم بھی لکھے۔ اور روز نامچے پر مشتمل کتاب ہے۔ ’’نمکیات‘‘ جبکہ ان کی طبع شدہ کتاب ہے ’’کاکولیات‘‘ جو لاہور سے1975 میں شائع ہوا۔ بریگیڈیر صولت رضا آج کل اسلام آباد میں ’’سچ‘‘ ٹی وی سے وابستہ ہیں۔

میجر سید ضمیر جعفری

نامور اردو شاعر ادیب مزاح نگار‘ خاکہ نگار‘ سفر نامہ نگار‘ مترجم اور صحافی سید ضمیر جعفری نے اسلامیہ کالج لاہور سے بی اے کرنے کے بعد ضلع جہلم میں کچھ عرصہ گرداور رہے ڈپٹی کمشنر جہلم کے پی اے بھی رہے‘ پھر شملہ بھارت میں محکمہ ملٹری اکاؤنٹس میں کلرک بھرتی ہوئے۔1945میں وائسرائے کمیشن ملا اور نائب صوبیدار ہو کر سنگا پور چلے گئے جہاں میجر چراغ حسن حسرت کی ادارت میں چھپنے والے اخبار ’’جوان‘‘ سے وابستہ ہوگئے‘ 1946 میں کنگ کمیشن ملا اور اپنے گاؤں چک عبدالخالق کے پہلے لفٹین ہوگئے‘ سید ضمیر جعفری کی زندگی پر میری کتاب ’’مزاح نگاروں کا کمانڈر انچیف سید ضمیری جعفری‘‘ طباعت کے مراحل میں ہے‘ میجر سید ضمیر جعفری کی داستان حیات بھرپور اور بہت طویل ہے لہٰذا اختیار سے کام لیتے ہوئے ان چند سطور پر ہی اکتفا کروں گا کہ سید ضمیر جعفری ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل پاکستان نیشنل سنٹرز بھی رہے اور ایڈیشنل چیف کمشنر برائے افغان مہاجرین بھی رہے۔ اسلام آباد کے ترقیاتی ادارے سی ڈی اے میں ڈائریکٹر تعلقات عامہ بھی رہے اکادمی ادبیات آف پاکستان کے سہ ماہی مجلے ادبیات‘ کے بانی ایڈیٹر رہے‘ روز نامہ غالب لاہور اور باد شمالی راولپنڈی کے چیف ایڈیٹربھی رہے‘ امروز‘ نوائے وقت‘ جنگ اور ماہنامہ افتخار ایشیاء میں کالم بھی لکھتے رہے پچاس سے زیادہ کتابوں کے مصنف جو درج ذیل ہیں۔

کارزار ‘ نظمیں1941‘ لہو ترنگ ملی شاعری‘ 1956 ‘ مافی الضمیر طنز و مزاح1970‘ زبورِ وطن ملی نظمیں1972‘ ارمغانِ ضمیر حمدو نعت و منقبت1974‘ میرے پیار کی زمین ملی نظمیں1957‘ مسدسِ بے حالی1979 ء ‘ آگ اک تارہ‘ کھلیان 1980ء ضمیریات1987ء ‘ قریہ جان سنجیدہ کلام1988ء ‘ ضمیر ظرافت1988ء ‘ نعت نذرانے 1993 ء ‘ نشاطِ تماشا‘ مزاحیہ کلیات(1993)‘ بھنور اور بادبان(1993)‘ بن بانسری(1995)‘ من مندری (1996)‘ خوش کشید(1997)‘ سرگوشیاں مزاح (199‘ ضمیر زاویئے2007‘ جزیروں کے گیت‘ ملایا اور جاوا کے لوگ(منظوم تراجم1956)‘ ولائتی زعفران (انگریزی نظمیں)1977‘ من میلہ کلام میں محمدبخش1980‘ من کے بار کلام پیر محمدشاہ1985‘ وہ پھول جن کے نام نہیں آسٹریلوی شاعری1994 ‘ گورخند انگریزی کتبوں کے منظوم تراجم1995‘ نظر غبارے (کالم) اڑتے ہوئے خاکے‘ کتابی چہرے1982ء حفیظ نامچہ1984‘ میٹھا پانی1990ء سفرنامہ‘ خسر نامہ‘ سورج میرے پیچھے‘ کنگرو کے دیس میں‘ ڈائریاں‘ ضمیر حاضر ضمیر غائب‘ بھید بھرا شہر‘ عالمی جنگ کی دھند میں‘ نشان منزل‘ سوزِ وطن ‘ پہچان کا لمحہ‘ جدائی کا موسم‘ مسافر شہرِ نو‘ شاہی حج‘ سفرلکیر‘ اعزازتمغۂ قائدِاعظم1967 صدراتی تمغۂ حسنِ کارکردگی1985 ولدیت سید حیدر شاہ ولادت یکم جنوری1914 چک عبدالخالق ضلع جہلم‘ وفات 12 مئی 1999 نیویارک امریکہ ‘ تدفین درپہلو سید محمدشاہ بخاری کھیارا شریف مندرہ راولپنڈی۔

بریگیڈیرظفر اقبال چوہدری

بریگیڈیر ظفر اقبال چوہدری فوج سے ریٹائرمنٹ کے بعد نوائے وقت میں قومی اور سیاسی کالم لکھتے رہے ہیں۔1991ء میں بہترین کالم نگار کا ایوارڈ حمید نظامی میموریل ایوارڈ ملا۔ حصولِ پاکستان کی جدوجہد میں شاندار خدمات کے صلے میں حکومت نے1991ء میں ہی گولڈ میڈل عطا کیا۔ بریگیڈیر چوہدری23 مارچ1925ء کو مراد پور ضلع سیالکوٹ میں پیدا ہوئے 1940 سے1947 تک زمانہ طالب علمی میں تحریک پاکستان میں سرگرم حصہ لیا‘ 1945 میں پنجاب مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کے آرگنائزنگ سیکرٹری اور1946 میں پرائمری مسلم لیگ مراد پور گوہدپور کے جنرل سیکرٹری بنے! قیامِ پاکستان کے بعد حکومت نے آپ کو ڈسٹرکٹ پبلک ریلیشنز آفیسر مقرر کیا‘1949 میں آپ فوج میں چلے گئے 1950 میں کمیشن ملا۔ 196-70 تک مشرقی پاکستان میں توپ خانہ کی فیلڈ رجمنٹ کی کمان کی۔ کمانڈنٹ ملٹری انٹیلی جنس سکول رہے۔ 1972 میں بریگیڈیر کے عہدے پر ترقی پائی۔ آرٹلری بریگیڈکی کمان کی۔ بھارت سے پاکستانی جنگی قیدیوں کی واپسی اور فوج میں دوبارہ بحالی کے جملہ انتظامات کے لئے بریگیڈیر چوہدری کو 1973 میں GHQ میں ڈائریکٹر ری پیٹری ایش‘ لگایا گیا۔ 1976 میں کراچی میں کمانڈر کور آرٹلری مقرر ہوئے! جہاں1978 اپنی ریٹائرمنٹ تک رہے۔ بریگیدیر ظفر اقبال چوہدری حکومت سندھ میں چیئرمین اینٹی کریشن اور اس کے بعد اے ڈی اے(اوورسیز) میں ریذیڈنٹ ڈائریکٹر کے عہدوں پر بھی رہے۔ مجلسِ کارکناںِ تحریکِ پاکستان کے نائب صدربھی رہے۔ ہمدرد مجلسِ شوریٰ قائدِاعظم فورم کی مجلس عاملہ اور کونسل نیشنل افیئرز کے رکن بھی رہے۔ بریگیڈیر ظفر اقبال چوہدری کی یادوں پر مشتمل کتاب ’’یادوں کی دھنک‘‘ جولائی2000 میں چھپی تھی جس نے قلم و قرطاس کی دنیا میں کافی شہرت سمیٹی تھی۔

کرنل غلام سرور

کرنل غلام سرور بنیادی طور سے گداز ہنس مکھ اور صاحبِ احترام شخصیت تھے۔ وہ دوسروں کو اس قدر احترام دیا کرتے تھے کہ کبھی کبھی خود کو محترم سمجھ لینے کو دل کر آتا تھا‘ جن دنوں میں روزنامہ مرکز کا ایڈیٹر تھا تو وہ میرے پاس کالم لکھا کرتے تھے‘ اکثر تشریف لاتے ‘ میں انہیں باہر تک وداع کرنے کی کوشش کیا کرتا تو وہ مجھے بہت سختی سے یہ کہہ کر بٹھا دیا کرتے تھے کہ ایڈیٹر نہ تو کسی کے آنے پر اٹھا کرتا ہے اور نہ کسی کے آنے پر اٹھا کرتا ہے اور نہ ہی باہر تک چھوڑنے جایاکرتا ہے‘ میں جب کبھی ان سے کہتا کہ آپ تو کرنیلی کے وردی مٖن مجھے اپنی ڈیفنس لائبریری سے لالکرتی بازار تک چھوڑنے آجایا کرتے تھے تو اس کے جواب میں وہ مسکراکر کہا کرتے کہ میں ایڈیٹر بھی تو نہیں تھانا۔ کاش میں ایڈیٹر نہ ہوتا کرنل سرور کو کسی روز تو باہر چھوڑنے جاسکتا‘ کرنل غلام سرور بلا کے صابر اور درگزر کرنے والے انسان تھے وہ ایک سکہ بند استاد تھے انہوں نے سول میں گورنمنٹ کالجوں میں پڑھایا اور فوج میں ایک زمانہ ان کی شاگردی میں پڑھا بڑھا‘ صوبہ سرحد کے روز نامہ صبح‘ نوائے وقت اور ڈان میں باقاعدگی سے ان کے کالم اور تجزیئے چھپاکرتے تھے دفاعی تجزیہ نگار‘ ادیب‘ سفر نامہ نگار‘ مترجم اور ممتاز دانشور کرنل غلام سرور 31 دسمبر1928 کو ضلع جہلم کے موضع سوہاوہ کے علاقے سرگ ڈھن میں پیدا ہوئے انگریزی اور علومِ اسلامی میں ایم اے ڈگری لی۔ پاک فوج کے محکمہ ایجوکیشن سے وابستہ تھے‘ حکومتِ پاکستان نے انہیں ان کی اعلیٰ پیشہ ورانہ اور دانشورانہ خدمات کے صلے میں 1982 میں صدارتی ایوارڈ‘ ستارۂ امتیاز ملٹری دیا۔ کرنل غلام سرور کی تصانیف میں آئینۂ ایام کراچی1981‘ مسافرِ حرم راولپنڈی1983 اور پطرس ایک مطالعہ راولپنڈی1985 میں شائع ہوئیں‘ متفرق تجزیوں اور تبصروں کی تعداد ہزارون میں ہے۔ متعدد قومی اور بین الاقوامی مذاکروں میں پڑھے جانے والے مقالات ان کے علاوہ ہے۔21 دسمبر2009 کو قلم کا شاہسوار کرنل غلام سرور اپنی تمام تر مسکراہٹوں سمیت منوں مٹی تلے چلے گئے ان کی تدفین ہارلے سٹریٹ قبرستان صدر راولپنڈی میں ہوئی۔

یہ تحریر 61مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP