متفرقات

باری

آج تیسرا دن تھا۔ سرکاری کارندے باقاعدہ ان کی گلی میں آ رہے تھے۔ اس آنے جانے نے گلی کی صورت ہی بدل کر رکھ دی تھی۔ اس چھوٹے سے قصبے کی تنگ سی گلیوں کے درمیان۔۔۔ ایک پتلی گلی کے اندردو دو تین تین مرلوں کے مکانوں کے ساتھ ساتھ یہ مکان تھا۔ گلی اتنی تنگ تھی کہ اس میں سے ایک چارپائی بھی نہیں گزر سکتی تھی۔ گلی کے بیچوں بیچ ایک نالی بہتی تھی۔ یہ نالی بنانے کا مقصد صرف یہی تھا کہ ہر گھر کی گندگی اس میں جمع ہوتی رہے۔ یہی نہیں سارا دن ننگ دھڑنگ پھرنے والے بچے اس نالی کو بوقت ضرورت بیت الخلاء کے طور پر استعمال کر لیتے تھے۔ بلکہ انہیں ایمر جنسی حاجت روائی کے لئے اسی نالی کو استعمال کرنے کی ہدایت کی گئی تھی کیونکہ ان گھروں کے اندربھی بیت الخلا بنانے کا رواج نہیں پڑا تھا۔ قریب ہی کھیت تھے جو ہر ایک کا پردہ رکھنے کو کافی تھے۔ اس گلی کے اندر تقریباً بیس پچیس گھرانے تھے جو بچوں سے بھرے ہوئے تھے۔ مرد ملازمت مزدوری کے لئے گھر سے نکل جاتے تھے اور عورتیں دور کھیتوں میں کام کرتی تھیں۔ بچوں کے لئے یہ دنیا آزاد تھی۔ کھیتوں سے گھر تک اور گلی سے گلی تک کچھ اوپر سے ننگے کچھ نیچے سے ننگے‘ سرگرم کھیل تماشا رہتے تھے۔
گلی کے باہر نکڑ پر کوڑا کرکٹ کی سیل لگی رہتی تھی۔ یعنی گھروں کا گند‘ سبزی کے چھلکے‘ ٹوٹے پھوٹے برتن‘ کپڑوں کی دھجیاں اور منوں کے حساب سے مکھیاں اس ڈھیر پر ’گنگناتی‘ رہتی تھیں۔ بدبو اور گندگی کے ڈھیروں میں پلتے بڑھتے بچوں کی قوت شامہ اس گندگی کی عادی ہو چکی تھی۔ اس گلی میں رہنے والا ہر فرد اس قسم کے آلودہ ماحول کا پروردہ تھا۔ نہ یہ ماحول ان کے لئے تکلیف دہ تھا نہ غلاظتوں اور گلیوں کے اندر سے اٹھتی ہوئی بساند ان کے لئے نامانوس تھی۔ البتہ تین دن سے جو کچھ اس گلی میں ہو رہا تھا وہ نیا بھی تھا‘ حیران کن بھی، اور تجسس آمیز بھی۔


پہلے تو پولیس کے کچھ سپاہی ڈنڈے پکڑے ہوئے آ گئے۔ اپنی جیپ دور کھڑی کی۔۔۔ اور آ کر غلام ربانی کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ پتا نہیں اندر جا کر انہوں کیا بات کی۔۔۔۔ کہ ڈھڑا دھڑ اس گلی میں صفائی ہونے لگی۔ جھاڑو لگائے جانے لگے۔ بندے سامان لے کر آ گئے۔ نالی صاف کرائی گئی۔ اس میں کئی فنائل کی بوتلیں انڈیلی گئیں۔ دیواروں پر سفید چونا پھیرا گیا۔ چار بندے روزانہ صبح آ کر اس گلی کی نالی کو صاف کرتے تھے۔ مشکوں سے دھوتے تھے۔ نالی کے کناروں پر خشک چونا بچھا کر اس کی مانگ چونے سے بھر دیتے تھے۔ یہ چونا دور تک سڑک کے آخری موڑ تک بچھایا جاتا تھا اور تو اور انہوں نے اندر جا کر غلام ربانی کے گھر کو بھی خوب صاف کیا تھا۔ ایک کمرے اور ایک برآمدے کے اس میلے کچیلے گھر کے سارے جالے اتارے تھے اور دیواروں پر سفیدی پھیر دی تھی۔ صبح کو جب پولیس کے کارندے صفائی کرنے والی ٹیم ساتھ لے کر آتے توگھر بیٹھنے والی عورتیں باقاعدہ چھتوں پر چڑھ کر ان کا نظارہ کرتی تھیں۔ ان گھروں میں کسی کسی کے پاس ٹیلی ویژن بھی تھا۔


مگر اندھیری گلی میں شہر کے لوگوں کا آ کر صفائی کرنا ٹیلی ویژن کے ہر پروگرام سے زیادہ قابل توجہ اور دلچسپ تھا۔
یہ بات کسی کی سمجھ میں نہیں آ رہی تھی کہ غلام ربانی کے گھر کی گلی کے بھاگ یکایک کیوں جاگ گئے تھے؟ وہاں تو پوری گلی کی ہمدردیاں غلام ربانی اور اس کی بیوی مائی فیضاں کے ساتھ ہو گئی تھیں۔ غلام ربانی کی دو ہی بیٹیاں تھیں بڑی بیٹی نگہت دس سال کی تھی اور دوسری بیٹی طلعت چھ سال کی تھی۔


پچھلے ہفتے کسی جاگیردار کے لونڈے نے کھیتوں میں سے گزرتے ہوئے نگہت کو اپنی ہوس کا نشانہ بنایا تھا۔ اور بے ہوشی کی حالت میں چھوڑ کر بھاگ گیا تھا۔ یہ بھی شنید تھی کہ اس کا گاؤں کے نمبردار سے کوئی ناتا بھی تھا۔ تھانے میں شنوائی نہ ہونے پر یہ لوگ سوشل میڈیا پر پہنچ گئے تھے۔ گاؤں والوں نے دھرنا بھی دیا تھا۔
اسی دن سے ان کی گلی میں سرکاری کارندوں کا آنا جانا شروع ہو گیا تھا۔۔۔ جب گلی اور محلہ اچھی طرح صاف ہو چکا تو ایک دن صبح ہی صبح ایک جیپ میں کچھ لوگ آئے وہ میز کرسیاں اور کھانے کی چیزیں لائے۔ غلام ربانی کے چھوٹے سے آنگن میں انہوں نے میز کرسیاں لگا دیں۔ میز کے اوپر اشیائے خوردنی و مشروبات سجا دیئے۔ غلام ربانی اور اس کی بیوی نے نہا دھوکر صاف ستھرے کپڑے پہنے۔ نگہت کو خاص طور پر صاف کپڑے پہنا کر ایک بستر پر لٹا دیا گیا۔ کپڑے تو طلعت کے بھی بدلے گئے۔ مگر اسے اپنے بستر پر چپ چاپ آنکھیں موند کر لیٹنے کی ہدایت کی گئی گویا کہ اس نے سونے کی ایکٹنگ کرنا تھی۔
باہر سے یوں لگ رہا تھا جیسے غلام ربانی کے گھر میں کوئی شادی رچنے والی ہے۔۔۔ لوگ آ رہے تھے۔۔۔ لوگ جا رہے تھے۔۔۔ سڑک بند کی جا رہی تھی۔۔۔ ٹریفک روکا جا رہا تھا۔۔۔


آبے لونڈے۔۔۔ جا بے لونڈے۔۔۔
بھاگ بے لڑکے۔۔۔
ایک شور تھا منظم سا۔۔۔

سارے دن کے انتظار کے بعد دوپہر کے وقت موٹروں کی ایک قطار سامنے والی سڑک پر نمودار ہوئی۔ تو سارا گاؤں چونک اٹھا۔ یہ تو بادشاہ سلامت کی سواری تھی۔ جو ان کے پسماندہ اور درماندہ گاؤں میں قدم رنجا فرما رہے

تھے۔۔۔ کیوں ۔۔۔ کیوں۔۔۔ اندازہ لگاتے دیر نہ لگی۔۔۔ وہ غلام ربانی کی اشک شوئی اور اس کی مظلوم بیٹی کو انصاف دلانے کے لئے آ رہے تھے۔
دس موٹروں کا قافلہ کسی نے کاہے کو اس گاؤں میں دیکھا تھا۔۔۔ سب سے آگے ہوٹر تھا۔ آگے پیچھے پولیس کی گاڑیاں تھیں۔ بڑے طمطراق سے بادشاہ سلامت اترے۔۔۔ چھتوں پر بیٹھی عورتوں نے سروں پر آنچل ڈال لئے اور سڑک کے کنارے مرد تالیاں بجانے لگے۔ بادشاہ سلامت کے ساتھ ان کے وزیروں مشیروں کا ایک جتھا سا اترا۔۔۔ پولیس کی راہبری میں بادشاہ سلامت اس گندی گلی کو پار کر کے غلام ربانی کے کچے گھر میں داخل ہو گئے۔ جس کی چھت اور چاردیواری کا پہلے ہی سفید کپڑوں میں ملبوس سکیورٹی والے احاطہ کر چکے تھے۔
بادشاہ سلامت کو دیکھ کر غلام ربانی اور مائی فیضاں کھڑے ہو گئے۔ غلام ربانی نے دونوں ہاتھ ماتھے پر رکھ لئے اور مائی فیضاں ان کے قدم چھو کر کر پھوں پھوں رونے لگی۔
نگہت اٹھ کر بیٹھ گئی۔۔۔ بادشاہ سلامت نے بازو سے پکڑ کر بچی کو قریب بلایا۔۔۔ سینے سے لگایا۔۔۔ سر پر ہاتھ پیرا۔
کیمرے آن ہو گئے۔۔۔ ماحول میں موسیقی گھل گئی۔


بادشاہ سلامت نے اپنے ہرکارے سے پانچ لاکھ کا چیک پکڑا اور غلام ربانی کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔
’’ان پیسوں سے اس بچی کا علاج کروائیں! اسے تعلیم دلوائیں۔۔۔ ہم آپ کو پورا پورا انصاف دلوائیں گے۔ مجرموں کو کیفرکردار تک پہنچائیں گے۔ خواہ وہ کتنے ہی اثر و رسوخ والے کیوں نہ ہوں۔ ہمارے قانون سے بچ نہیں سکتے۔۔۔ وغیرہ۔۔۔ وغیرہ۔


عبرتناک سزا دیں گے۔ ہم اپنی بچیوں کے لئے اس ملک کو محفوظ بنائیں گے۔۔۔ ہم نے سوچ لیا ہے۔۔۔ ہم۔۔۔ ہم۔۔۔
شدت جذبات سے غلام ربانی کانپتا جاتا تھا اور مائی فیضاں قدموں میں جھکتی جا رہی تھی۔ باہر میز پر کھانے کی اشیاء چنی ہوئی تھیں۔
موقع غنیمت جان کر سارے پولیس والے ان چیزوں پر ٹوٹ پڑے۔۔۔


اس سے بہتر موقع انہیں نہیں ملا تھا۔ کیونکہ اندر بڑا جذباتی سین چل رہا تھا۔ دلاسے کی شیرینی سے بھری ہوئی باتیں کر کے بادشاہ سلامت یکایک کھڑے ہو گئے۔منظر نامہ پھر بدل گیا۔۔۔
اپنا منہ پونجھتے ہوئے سب درباری یوں ان کے آگے پیچھے چلنے لگے جیسے ایمرجنسی نافذ ہونے والی ہو۔ باہرکا میدان ایک دم صاف ہو گیا۔۔۔
اس وقت غلام ربانی نے ہاتھ میں پکڑا ہوا چیک عینک لگا کر دیکھا۔ ماں نے اٹھ کر نگہت کا منہ چوم لیا اور پوچھا۔۔۔
اصلی ہے ناں۔۔۔


پگلی ہے۔۔۔ غلام ربانی بولا۔۔۔ کبھی بادشاہ بھی جھوٹا چیک دیتے ہیں۔
اب تو جلدی سے اپنا گھرٹھیک کرالے۔ بلکہ پکا کرا لے یہاں بڑے بڑے لوگ آتے ہیں جھلی ہے ابھی تو نمبردار سے زمین چھڑانی ہے اور ایک نیا کلہ بھی لینا ہے۔ اب نگہت کا رشتہ مل جائے گا۔ اس کی شادی کے لئے پیسے بچا لینا۔ پانچ لاکھ بڑی رقم ہوتی ہے۔


ہاں ہاں میں جانتا ہوں۔ مجھے مشورے نہ دے۔ بیٹی کی وجہ سے جو برادری میں بدنامی ہوئی ہے کیا اس کا داغ پانچ لاکھ سے دھل جائے گا۔ جدھر بھی خرچ کریں گے لوگ باتیں بنائیں گے۔۔۔
روپے پیسے سے سب داغ دھل جاتے ہیں مائی فیضاں اسے سمجھانے کے انداز میں بولی وہ دونوں باتیں کر رہے تھے۔ انہیں پتا بھی نہ چلا کہ چھوٹی سی بیٹی طلعت۔۔۔ جسے انہوں نے جبراً آنکھیں بند کر کے لیٹا دیا تھا اٹھ کر کھسکتے کھسکتے باپ کے پاس آ کر کھڑی ہو گئی تھی۔ کبھی وہ باپ کے ہاتھ میں پکڑے ہوئے چیک کو دیکھتی۔۔۔ کبھی ماں کے خوشی میں ڈوبے چہرے کو دیکھتی۔۔۔ اور کبھی اپنی بہن نگہت کو دیکھتی جسے باپ نے ابھی تک سینے سے لگا رکھا تھا۔


حقیقت میں اس وقت کسی کو طلعت کا خیال تک نہیں تھا نہ اس کی موجودگی کا احساس تھا۔۔۔
وہ خود ہی باپ کے گھٹنے سے لگ گئی اور اس کا گھٹنا ہلا ہلا کر بولی۔
ابا۔۔۔ ابا۔۔۔
ابا۔۔۔ میری باری کب آئے گی؟

یہ تحریر 25مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP