خصوصی ملاقات

باتیں اشفاق احمد کی

مشہور ادیب اشفاق احمد کی دسویں برسی کے موقع پر ان کی اہلیہ اور مشہور ادیبہ محترمہ بانو قدسیہ کی ہلال سے ایک خصوصی نشست

گفتگو:قاسم علی

نوجوان نسل کمپیوٹر اور انٹرنیٹ میں اس قدر مگن ہے کہ اشفاق صاحب کے افسانوں ، ڈرا موں اور دیگر تخلیقی سرمائے پر ان کی کوئی توجہ ہی نہیں یوں اشفاق احمد سے ان کا رشتہ کمزور سا ہو رہا ہے اور وہ ان کی تحریروں میں محفوظ بیش قیمت علم و دانائی کے خزانے سے استفادہ حاصل کرنے سے محروم ہے، ان خیالات کا اظہار اشفاق احمد کی اہلیہ اور لیجنڈ بانو قدسیہ نے اشفاق احمد کی دسویں برسی کے موقع پر ہونے والی ایک خصوصی نشست میں کیا۔ بانو قدسیہ کا ماننا ہے کہ نقصان نئی نسل کا ہے اشفاق صاحب تو اپنا کام کرکے دے گئے ہیں اب نوجوان ہی اس سے دور ہو رہے ہیں۔ چھیاسی سالہ بانو قدسیہ کا زیادہ تر وقت آج کل گھر میں ہی گزرتا ہے ، ان کی طبیعت قدرے ناساز رہتی ہے۔ معالج روزانہ گھر آکر ان کا معائنہ کرتا ہے اور بوقت ضرورت دوا دے دیتا ہے۔ کمزوری کے باعث بانو قدسیہ سٹیل سٹک کے سہارے چلتی ہیں۔ چند روز قبل کمرے میں چلتے ہوئے وہ توازن برقرار نہ رکھ سکیں اور لڑکھڑا کر گر پڑیں۔ اس دوران سٹک چہرے پر لگنے سے انہیں چوٹ بھی آئی لیکن اب ان کی حالت رفتہ رفتہ بہتر ہو رہی ہے۔۔۔ جمعرات کی شام ملاقاتیوں کے لئے مخصوص ہے اور وہ باقاعدگی سے ہر جمعرات کو داستان سرائے ماڈل ٹاؤن لاہور میں آنے والے قدر دانوں سے ملاقات بھی کرتی ہیں۔ ہلال میگزین کے لئے قاسم علی نے بانو قدسیہ سے خصوصی ملاقات کی اور ان کی صحت ، مصروفیات ، اشفاق احمد سمیت دیگر موضوعات پردلچسپ گفتگو کی جو درج ذیل ہے۔ ہلال: اشفاق صاحب کے انتقال کو دس برس بیت گئے ہیں ، ان کے بغیر زندگی کا یہ عرصہ کیسا گزرا ، ان کی کمی کب کب محسوس ہوتی ہے؟ بانو قدسیہ: میں نے اپنی کتاب ’’ راہ رواں‘‘ لکھی اشفاق صاحب کے ساتھ جو میں نے وقت گزارا وہ سب اس میں درج ہے۔ اشفاق احمد جیسا شوہر ہے نہ کوئی دوست۔ یہ میں آپ کو بتادوں ویسا انسان بھی نہیں ہو سکتا۔ تو مجھے ان کا جوتجربہ ہے کاش تمام عورتوں کو اپنے شوہروں کا ویساہی ہو۔ ان کی کمی تو ہرلمحے محسوس ہوتی ہے ، کوئی شادی ہو‘ بیاہ ہو‘ خاص طور پر جب بچے گھر میں آئیں یا باہر جائیں تب‘ اشفاق صاحب کی یادیں گھیر لیتی ہیں، میرا ایک پوتا آج کل آسٹریلیا سے میڈیکل کی تعلیم حاصل کر رہا ہے، اگر اشفاق صاحب زندہ ہوتے تو پوتے کو باہر جانے کی اجازت ہرگز نہ دیتے اور وہ بچہ میرے سامنے تعلیم پاتا۔ مجھے اس کا بہت افسوس ہے، ایسے واقعات ہوتے رہتے ہیں اور اشفاق صاحب کی یاد تازہ ہوجاتی ہے۔ ہلال: اشفاق احمد ہمہ جہت شخصیت کے حامل تخلیق کار تھے ،آپ کے خیال میں کس صنف میں ان کا فن پوری آب و تاب سے سامنے آیا ہے؟ بانوقدسیہ: قیام پاکستان کے بعد ملکی ادبی منظر نامے پر اُبھرنے والے تخلیق کاروں میں اشفاق احمد کا مقام سب سے نمایاں ہے بلکہ نثر کے میدان میں کوئی بھی ان کے ہم پلہ نہیں۔ ویسے تو اشفاق صاحب نے کئی میڈیمز میں اپنی تخلیقی صلاحیتیں پیش کیں لیکن ٹی وی پر ان کا فن پوری آب و تاب سے سامنے آیا کیونکہ یہاں تینوں میڈیم مل جاتے ہیں ،شکل ، گفتگواور تحریر سب کچھ مل جانے سے جو احساس پیدا ہوا اس کا اثر بیان سے بالاتر اور آج بھی باقی ہے۔ ہلال: اشفاق صاحب کے تخلیقی سرمائے سے کیا ہماری نوجوان نسل استفادہ کر رہی ہے؟ بانوقدسیہ: نہیں بالکل نہیں ، سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہماری نوجوان نسل مطالعے سے دُور ہوتی جارہی ہے اور اب صرف وہ چیزیں دیکھتی ہے جو انٹرنیٹ پر آتی ہیں۔مطالعۂ کتب سے دُوری کی بِنا پر وہ اشفاق صاحب کے کام سے رہنمائی حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو رہی۔ اب صرف میڈیا ہی اس رشتے کو دوبارہ استوار کرسکتا ہے اس کے علاوہ کوئی طریقہ نہیں ہے لیکن یہ بھی بہت مشکل کام ہے۔ ہلال: افسانہ نگاری کے فن میں اشفاق صاحب کے کنٹری بیوشن پر آپ کی کیا رائے ہے۔ بانو قدسیہ: اشفاق صاحب جیسا افسانہ نہ کسی نے لکھا اور نہ کبھی کوئی لکھ سکے گا، ان کی سیریز آج کل ٹی وی پر چل رہی ہے آپ نے وہ پڑھی ہوگی یا دیکھی ہوگی‘ میرا نہیں خیا ل کوئی بندہ ویسا لکھ سکتا چاہے جتنی مرضی شیخیاں بگھار لے۔ ہلال: یہ بتائیں کہ اشفاق احمد کی شخصیت پر روحانیت کا رنگ کیسے غالب آیا؟ بانوقدسیہ: جی ہاں میں آپ کو بتاتی ہوں یہ سلسلہ کیسے شروع ہوا، اشفاق جب گھر پر موجود ہوتے تھے تو شہاب صاحب (قدرت اللہ شہاب)انہیں بیعت سے منع کرتے رہتے تھے کیونکہ وہ لااُبالی سے آدمی تھے ان دنوں شہاب صاحب بابا نور والے کے ڈیرے پر جایا کرتے تھے ، انہی کی وساطت سے اشفاق صاحب کا وہاں آنا جانا شرو ع ہوا ، آپ کو نور والے ڈیرے کا پتہ ہی ہوگا۔ شہاب صاحب نے انہیں وہاں بھی بیعت کرنے سے منع رکھا لہٰذا اشفاق صاحب نے بیعت تو نہ کی لیکن وہاں سے سیکھا بہت کچھ۔ ’’سب سے بڑی چیز جو انہوں نے سیکھی کہ ڈیرے پر کھانا مفت دیا جاتا تھا تو انہوں نے اپنے گھر کو بھی ایک طرح سے لنگر بنا لیا۔‘‘ وہ اپنے گھر پر بھی لنگر چلاتے تھے، دوپہر کے وقت پینتیس چھتیس بندے ہوجایا کرتے تھے‘ کھانے والے اور میں ان کے لئے کھانا بنایا کرتی تھی، میں کھانا بناتے بناتے تھک جایا کرتی تھی۔ اس وقت میرے ساتھ ایک خاتون ہوتی تھی، بہت نیک اور درویش تھی۔ کبھی وہ روٹیاں بنا دیتی اور کبھی میں خود، یہ اشفاق صاحب کی درویشی تھی کہ بابا نور والے ڈیرے کی ایک روایت ہمارے گھر میں بھی شروع ہو گئی۔۔۔ ہلال: اشفاق صاحب اپنی تحریرو ں میں عورتوں کی کس طرح نمائندگی کرتے تھے اور کیا کبھی تخلیقی سطح پر انہوں نے آپ کو بھی رہنمائی دی ؟ بانوقدسیہ: سب سے بڑی بات ہے کہ اشفاق جیسا لکھنے والا بندہ ہی کوئی نہیں جو کچھ انہوں نے عورتوں کے لئے لکھا ویسا بھی کوئی نہیں کرسکا، وہ ہمیشہ سے عورتوں کو اونچے مقام پر رکھتے تھے‘ انہوں نے مجھے بھی جو کچھ بنایا آپ کے سامنے ہی ہے جہاں میں آج پہنچی ہوئی ہوں‘ وہاں کوئی اور عورت پہنچی ہی نہیں‘مجھے پاکستان کا سب سے بڑا ادبی ایوارڈ بھی ملا اور یہ اشفاق صاحب کی مہربانی ہے ‘مجھ میں ایسے کوئی خوبی نہیں ہے۔ انہوں نے مجھے یہاں تک پہنچایا‘ آج جس مقام پر بھی میں ہوں وہ سب ان کی مرہون منت ہے۔ ہلال: اشفاق صاحب نے شادی نہ کرنے کی صورت میں آپ کو کوئی دھمکی دی تھی ، کیا یہ بات ٹھیک ہے؟ بانوقدسیہ: ہاں یہ ٹھیک ہے(مسکراتے ہوئے) جب انہیں پتہ چلا کہ میری شادی کسی اور سے طے ہورہی ہے تو وہ غصے میں آگئے تھے اور مجھے کہا تھا کہ کسی اور سے
اشفاق جیسا لکھنے والا بندہ ہی کوئی نہیں جو کچھ انہوں نے عورتوں کے لئے لکھا ویسا بھی کوئی نہیں کرسکا، وہ ہمیشہ سے عورتوں کو اونچے مقام پر رکھتے تھے‘ انہوں نے مجھے بھی جو کچھ بنایا آپ کے سامنے ہی ہے جہاں میں آج پہنچی ہوئی ہوں‘ وہاں کوئی اور عورت پہنچی ہی نہیں‘مجھے پاکستان کا سب سے بڑا ادبی ایوارڈ بھی ملا اور یہ اشفاق صاحب کی مہربانی ہے ‘مجھ میں ایسے کوئی خوبی نہیں ہے۔ انہوں نے مجھے یہاں تک پہنچایا‘ آج جس مقام پر بھی میں ہوں وہ سب ان کی مرہون منت ہے۔
شادی کی تو میں اس کو زندہ نہیں چھوڑوں گا پھر کچھ عرصہ بعد میرے والدین مانے اور پھر ہماری شادی ہو گئی۔ ہلال: اشفاق صاحب اگرآج زندہ ہوتے تو پاکستان کو درپیش مسائل پر ان کا طرز عمل کیا ہوتا؟ بانوقدسیہ: اشفاق صاحب سچے پاکستانی تھے اشفاق صاحب وہ سب کچھ کرتے جس کی پاکستان کو ضرورت ہے۔ ہلال: اشفاق صاحب کے ساتھ آپ کی تمام عمر گزری ، ان کی کوئی ایسی خوشگوار یاد جو آج تک آپ کے شعور سے محو نہیں ہوسکی؟ بانوقدسیہ: بات یہ ہے کہ جب میں اشفاق صاحب کو ملی (گورنمنٹ کالج میں پہلی دفعہ) تو میں اسی وقت ان کی مداح ہوگئی تھی کیونکہ میں جمال پرست ہوں اور اشفاق صاحب بہت خوبصورت آدمی تھے۔ دوسری بات یہ کہ ان کے بات کرنے کا انداز ایسا تھا کہ انسان ضرور متاثر ہوجاتا تھا ، تیسری بات یہ کہ وہ عورتوں کی بڑی عزت کرتے تھے ، اس ضمن میں انہوں نے میری زندگی بنائی اور مجھے اس مقام تک پہنچایااشفاق صاحب زندہ باد۔ ہلال: آپ نے بہت پرسکون اور روشن پاکستان دیکھا ہے کیا موجودہ سیاسی و سماجی صورتحال سے آپ کو پریشانی ہوتی ہے ؟ بانوقدسیہ: پاکستان کی موجودہ سیاسی و سماجی صورتحال سے کسی کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، سرزمین پاکستان بہت جلد بحرانوں سے نکل آئے گی اور عزت کا مقام و مرتبہ حاصل کرلے گی کیونکہ پاکستان جس شخصیت نے بنایا اس کی نیت بالکل صاف تھی لہٰذا پاکستان کا مستقبل بھی انتہائی تابناک اورسنہرا ہے۔۔۔ ہلال: پاک فوج کے جوان آپریشن ضرب عضب میں دشمنان وطن سے برسرپیکار ہیں۔ ان کی قربانیوں کو آپ کس نظر سے دیکھتی ہیں؟ بانوقدسیہ: اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ ہماری پاک سرزمین کا دفاع محفوظ ہاتھوں میں ہے۔ وطن کی سرحدوں پر متعین ہمارے جوان’’ مبارک لوگ ‘‘ہیں انہوں نے ہمیشہ اپنی ذمہ داری پوری جانفشانی سے سر انجام دی ہے اور مجھے قوی یقین ہے کہ یہ سلسلہ ہمیشہ جاری رہے گا۔ اللہ پاک ہمارے بہادر جوانوں کی قربانیوں کو قبول فرمائے۔ اسی طرح پاک فوج سیلاب سے متاثرہ لوگوں کی بھی مدد کر رہی ہے۔ اللہ پاک جس کو توفیق دے صرف وہی خدمت خلق کا فریضہ سرانجام دیتا ہے ، میرا خیال ہے کہ ہماری افواج اپنی ذمہ داریوں سے پوری طرح آشنا ہیں اور ہر مشکل وقت میں ہراول دستہ بن کر ریسکیو آپریشن کرتی ہے۔ اس بار بھی اللہ پاک کی توفیق سے پاک فوج امدادی کاموں میں مصروف ہے اور ہراس جگہ پہنچ کر غریب کسانوں اور دیہاتیوں کی مددکر رہی ہے جہاں کوئی اور نہیں پہنچ سکا۔ میں انہیں سلام پیش کرتی ہوں۔ نوٹ: ہلال اپنے آئندہ آنے والے کسی شمارے میں بانوقدسیہ کا تفصیلی انٹرویو شائع کرے گا۔جس میں ان سے ادب اور زندگی کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کی جائے گی۔
اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ ہماری پاک سرزمین کا دفاع محفوظ ہاتھوں میں ہے۔ وطن کی سرحدوں پر متعین ہمارے جوان’’ مبارک لوگ ‘‘ہیں انہوں نے ہمیشہ اپنی ذمہ داری پوری جانفشانی سے سر انجام دی ہے اور مجھے قوی یقین ہے کہ یہ سلسلہ ہمیشہ جاری رہے گا۔ اللہ پاک ہمارے بہادر جوانوں کی قربانیوں کو قبول فرمائے۔

یہ تحریر 65مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP