قومی و بین الاقوامی ایشوز

بابا میں آپ کا اذان تُریالی ہوں

میجر سہیل کے چار بیٹے اور ایک بیٹی ہے۔ حسان سیکنڈ ایئر میں اذان نائنتھ میں‘ امن حیان میکینکل انجینئر اور ودان تیسری کلاس میں پڑھتا ہے۔اس موتیوں کی لڑی سے ایک

موتی اذان تریالی ٹوٹ گیا اور ٹوٹ کر ہیرے کی ایسی کان میں جا گرا کہ جہاں ہر طرف کرنیں ہی کرنیں اور رنگ بکھرے ہوئے ہیں۔ کتنا خوش قسمت ہے اذان کہ ظلمت کدے کے اندھیروں سے نکل کر وہ ایسی پُرنور بستی میں جا بسا ہے جہاں کسی تاریکی کا شائبہ تک نہ ہو گا۔ اذان 28 دسمبر 1998 کو لاہور میں پیدا ہوا۔کھیلتا،چہکتا اور مہکتا ہوا اذان لاڈ کرواتا اور شرارتیں کرتا ہوا بڑا ہو گیا۔ اُس کی گہری آنکھوں سے شرارت چھلکتی تو ماں کہتی ’’میری جان دیکھ کے کہیں چوٹ نہ لگ جائے‘‘۔ ’’ارے ارے سنبھل کے میری جان خون نکل رہا ہے‘‘۔ ہر وقت گھر میں ماں کی آوازیں گونجتی رہتیں مگر اذان نے شرارتوں کا پنڈورا باکس کبھی بھی بند نہ کیا تھا۔ اُس کی پسندیدہ شرارت تھی فریزر میں رکھی ہوئی بہن اور بھائیوں کی چاکلیٹ اور پیپسی اُٹھا کے بھاگ جانا۔ مگر عادت میں اچھا تھاکہ غلطی جس کی بھی ہوتی اذان ہی ہمیشہ گلے میں پیار سے بازو ڈال کر معافی مانگتا۔ پھر بولتے بولتے ماں کی سسکیاں بڑھ گئیں، میر ی ہمت جواب دے گئی ، اتنے میں حسان، اذان کی وردی میں تصویر اُٹھا لایا۔ ملک کا سپاہی تو نہ تھا پھر شہید کیسے ہو گیا؟ ہر طرف ایک ہی سوال تھا، پچھلے سال سکول میں ایک ڈرامہ ہوا تھا جس میں اذان نے ایک فوجی افسر کا کردار اداکرتے ہوئے سکول کے بچوں کو یرغمال بنانے والوں کو مارا تھا، اُسے کیا پتہ تھا کہ اگلے سال وہ دہشت گردوں کے ساتھ لڑتے لڑتے اُن شہیدوں کی طرح اللہ کے حضور سُرخرو ہو گا۔ اذان جب دہشت گردوں کے خلاف کردار ادا کر کے گھر آیا تو اُس کا دل بہت آزردہ تھا۔

 

ماں کہتی ہے موت کا وقت تو مقرر ہے میرا بیٹا اپنی زندگی کی سانسیں پوری کر چکا تھا۔ وہ وقت پوری دنیا کی ماؤں کی گود میں سوئے بچے پر بھی آجائے تو ٹل نہیں سکتا۔ میرے اذان کو شہادت کا رُتبہ ملا مگر دہشت گردوں کو یہ ضرور کہوں گی کہ آؤ کبھی ماؤں سے مقابلہ کر کے دیکھو ! اور بہادر ہو تو سامنے سے للکار کے آؤ،بزدلوں کی طرح پیچھے سے چُھپ کے وار کیوں کرتے ہو؟

 

اذان شرارتی، تیز اور ذہین تھا وہ اپنی ذرا سی تکلیف ، چوٹ یا زخم کو فوراً فیس بُک پہ لگا دیتااور اُس پہ آنے والے تاثرات سے بہت لطف اندوز ہوتا اور سب کو پڑھ پڑھ کے سناتا۔ سکول کے ہر بچے کے ساتھ اُس کی دوستی تھی۔ اب سب اُسی کو تلاش کرتے ہیں،جہاں اذان تریالی ہوتا گپ شپ لگاتا اور ہنس ہنس کے پیٹ پکڑلیتا سب کہتے ’’بس یہی اذان تریالی ہے‘‘ اب تو دوستوں کی سماعت میں صرف گونج رہ گئی ہے۔ اُس کا کہنا تھا کہ کسی کو ہنسانا عبادت ہے، اس لئے میں اگر چھوٹی سی بات میں مزاح پیدا کر کے بڑھا چڑھا کے بیان کرتا ہوں تو عبادت کرتا ہوں۔ اذان تریالی ماں کا لاڈلا دوست تھا۔ ماں کو پیار سے ’’مورجان‘‘ کہتا اور وہ سو بھی رہی ہوتیں تو ایک دم بیڈ ہلا کے شور مچا دیتا۔ مورجان زلزلہ آگیا مورجان ڈر کے اُٹھتیں تو اُن سے لپٹ جاتا، کہتا ’’معاف کر دے ناں مورجان آپ کو اُٹھانا تھا باہر جانا ہے تیار ہو جاؤ‘‘ ایسے میں ماں اُسے ڈانٹتی: یہ کیا بات ہوئی مجھے نہیں پسند آتی تمھاری یہ ڈرانے والی شرارتیں تو اذان مورجان کے گلے میں بازو ڈال دیتا ’’مجھے تو آپ بہت پسند ہو‘‘ میں آپ کو پسند نہیں ہوں کیا۔۔۔۔؟ وہ لاڈ کرتا تو اُس کے پھول جیسے گال کو چوم لیتی۔

 

میرے گالوں کے ڈمپل پہ پیار مہکتا ہے

تو نے جہاں چوما وہاں اب درد دہکتا ہے

 

بتاتے بتاتے مور جان کا دل کانپ گیا آنسو موتی کی لڑیوں کی طرح گالوں پہ رواں تھے، اور میری انگلیوں کی پوریں رومال کا کام کررہی تھیں۔۔۔میرا اذان ڈرائیونگ کا بہت شوقین تھا۔ اُسے سٹیرنگ چھوڑنا قطعاً پسند نہ تھا۔ معصوم بچوں کی معصوم عادتیں ہوتی ہیں، کیا پتہ تھا ماں کو کہ وہ تو اُسی زندگی کی سٹیرنگ کو پکڑ کر اپنی گاڑی میں اپنے پیارے دوست بٹھا کر سیدھا جنت کے دروازے پہ بریک لگانے والا ہے۔ دل نہیں مانتا کہ شرارتی نٹ کھٹ اذان جو بہن بھائیوں پہ اپنی کوئی چیز پھینکتا اور چوہاچوہا کہہ کر چلاتا، اُن کو ڈراتا اور اُن کے ڈرنے پہ بھاگ کر اپنے بابا کے پیچھے چُھپ جاتا، وہ جو اپنی ہر بات سب سے شیئر کرتا تھا ،اپنا اختیار کسی کو نہیں دیتا تھا،ایک سانس ایک پل کو آنکھیں کھولنے اور لمحہ بھر کے لیے مور جان سے لاڈ کرنے کا اختیار بھی نہیں رکھ سکا۔

 

نجانے بے اختیاروہ ہو گیا کہ آج اُس کے گھر والے۔ اذان یہ مت کرو۔۔۔اذان وہ مت کرو کہنے والی مور جان آج کہتی ہے کاش اُس دن میں کہہ دیتی کہ اذان آج گھر میں رہ کر ساری شرارتیں کرو مگر سکول مت جاؤ، وہ جب سبز سویٹر پہن کر نکلا تو بہت پیار سے ماں کو کہنے لگا ’’مور جان‘‘ آج بہت مزے کا پراٹھا بناؤ مجھے بہت بھوک لگی ہے۔ ’’اللہ آپ کو اس اجر دے گا‘‘ کیا پتہ تھا ماں کو کہ وہ آج اُس کے ہاتھ کا بنا کھانا آخری مرتبہ کھا رہا ہے۔ وہ پراٹھا جو اس دن بنا اُس کے بعد کبھی اتنا لذیذ پراٹھا مور جان نہیں بنا سکیں کہ اُن کے ہاتھوں میں بسی اُن کی ممتا کی لذت تو اذان اپنے ساتھ لے گیا۔ اذان تُریالی ہر فن مولا، ایک اچھا لکھاری، بہترین مقرر اور کمپیئرتھا، وہ اساتذہ کرام کا تو نہایت ہی ہر دلعزیر چہیتا سٹوڈنٹ تھا۔یہ سب کچھ دیکھتے ہوئے سہیل، صاحب جو اذان تُریالی کے والد تھے، نے ایک دن اپنے بیٹے سے کہا کہ بیٹااتنا تیز ی سے مت بھاگو، کہیں نظر ہی نہ لگ جائے اور پھر واقعی ایسا ہوا کہ باپ کے منہ سے نکلی ہوئی بات سچ ثابت ہوئی اور اذان تریالی کی زندگی کا چاند اماوس رات کی نذر ہو گیا۔ اُس نے شہادت سے چند دن پہلے ہی لکھا اپلائیڈ فار ڈیتھ چند دن پہلے ہی وہ ٹرافی جیت کے لایا اور والد کو کہنے لگا ’’میرے پیارے ابا! آپ نے ستائیس سال میں اتنے انعام نہیں جیتے جتنے میں نے چھوٹی سی عمر میں جیت لئے‘‘

کسی کی بھی بیماری پہ پریشان ہوتا اور اُس کی مکمل خدمت کرتا اُس کا خواب تھا مشہور ہونے کا اور اللہ نے اُس کا خواب مکمل کر دیا۔ گولیوں سے چھلنی بدن پہ تمغۂ شجاعت سجائے وہ مسکراتا ہوا چودھویں کا چاند لگ رہا تھا۔وہ جو اپنے والد کو کہتا تھا کہ آپ ڈرائیونگ نہ کیا کریں آپ بوڑھے ہو گئے ہیں مگر اُسے قسمت نے بوڑھا ہونے کا موقع ہی نہیں دیا۔ اس حادثے کے وقت اذان آڈیٹوریم میں تھا کہ اچانک دروازوں میں کھڑ کھڑاہٹ ہوئی او ر وہ زوردار آواز کے ساتھ ٹوٹ کے گرے اور اس سے پہلے کہ کسی کو سوچنے کا موقع ملتا فائرنگ شروع ہو گئی، ایک شور برپا ہوا اور اُستاد کی آواز گونجی لیٹ جاؤ، سانس روک لو، مگر معصوم بچے تھے کچھ تو لیٹ گئے، کُچھ گولیوں کا نشانہ بن کر چلتی سانسوں والے جسموں پر زندگی بن کے گرے اور کچھ گھبراہٹ میں باہر کو بھاگے۔اُنہی میں اذان تریالی بھی شہید ہو چکا تھا۔ بہت سے بچے شہیدوں کے اوپر سے ہوتے ہوئے اُس وقت باہر نکلے جب دہشت گرد اپنی کارروائی ختم کر کے وہاں سے باہر نکل گئے تھے۔ ہما جو اذان تریالی کی والدہ تھیں، وہ ٹی وی پر سارا معاملہ دیکھ کے جو نمبر یاد آرہے تھے، وہاں فون کرتی رہیں۔اتنے میں سہیل صاحب اذان کے والد نے بتایا کہ حسان اور اذان نہیں مل رہے، ماں اپنا دل تھام کے جہاں بیٹھی تھی، وہیں بیٹھی رہی۔حسان کا سیکنڈ ایئر کا پرچہ تھا جب بچے اس ہنگامہ آرائی میں بھاگے، دہشت گردوں نے اُن پر فائر کھول دیا مگر حسان اور اُس کے بہت سارے ساتھی میزوں اورکرسیوں کے نیچے چُھپ گئے۔ دہشت گرد سمجھے اب وہاں کوئی نہیں ہے، جو تھے وہ بھاگتے ہوئے مارے گئے تھے۔ اسی غلط فہمی میں حسان اپنے چند دوستوں کے ساتھ بچ گیا۔ زندگی بھی کیا انوکھا کھیل کھیلتی ہے، حسان نے والد کو فون کر دیا کہ میں محفوظ ہوں، اذان کو دیکھیں وہ کہاں ہے اور پھر تھوڑی دیر کے بعد حسان کو ایس ایس جی والوں نے باہر نکال لیا۔ ہما کو پتہ چلا کہ اذان نہیں مل رہا تو اذان کے متعلق سوچ کر ہما کے درد کا دریا کناروں سے باہر چھلکنے لگا۔۔۔کیا اذان واقعی زندہ نہیں رہا؟ ذہن بار بار سوال کر رہا تھا۔ حسان اور میجر سہیل (والد) اذان کو تلاش کرتے رہے ۔ پھر اُن کو کہا گیا کہ اب آپ سی، ایم، ایچ چلے جائیں یاآپ لیڈی ریڈنگ ہاسپیٹل چلے جائیں۔ میجر سہیل سی،ایم، ایچ کی او پی ڈی میں چلے گئے وہاں پر شہداء کے مبارک جسم قطاروں میں پڑے تھے۔ زندگی کا مشکل ترین لمحہ تلوار بن کر سر پر کھڑا تھا۔ دوسری قطا رمیں 82 نمبر پر ایک مہکتا ہوا جسم اپنی خوشبو سے بتا رہا تھا کہ ’’بابا میں آپ کا اذان تریالی ہوں‘‘ میجر سہیل نے گہرا سانس لیا۔ کس بات کا یقین کرتے، کس کا نہ کرتے۔

اُس کی خوشبو بتا رہی تھی

وہ میرا بدن ہے

اُس کے چہرے پہ عکس تھا

میری اُمیدوں کا

میں پکارتی ہوں وہ آتا نہیں

میں ڈھونڈتی ہوں وہ مل پاتا نہیں

مور جان کہنے ہی آجاؤ

پھر مجھے ڈرانے ہی آجاؤ

جو چاہو اُدھم مچا لینا

سینے میں اٹکی ہے جان میری

تو بن گیا ہے اب پہچان میری

 

حسان کہتا ہے کہ میں نے بھائی کو بہت تلاش کیا۔ کاش وہ مجھے ایک بار نظر آجاتا تو شایدمیں اُس کی موت اپنے اوپر لے لیتا مگر مقدر میں نہیں تھا۔اذان سب کے خواب میں آتا ہے مگر بات نہیں کرتا، اُس کی خوشبو اُس کے گھر میں جیسے منجمد ہو گئی ہے۔ کئی مرتبہ گھر والے ایکدم اچانک سے پیچھے مڑ کے دیکھتے ہیں کہ شاید اذان آیا ہے، مگر وہ نہیں ہوتا بس وہم ہوتا ہے۔ دونوں بھائی اکٹھے سکول جاتے تھے، اتنے ماہ ہوگئے، حسان سارے راستے بھائی کی کمی شدت سے محسوس کرتا ہے۔ ہما نے کہا کہ ہم سب گھر والے جب بیٹھتے ہیں تو اذان کو تو یاد کرتے ہی ہیں مگر اُس سکول میں شہید ہونے والے سارے بچے ہمارا دُکھ ہیں۔ ہمارا جذبہ اُن سب کے لئے ایسا ہے کہ جیسے وہ سب میرے اذان ہیں۔۔۔عمرے پہ ماں کے دل سے ایک ایسی ممتا بھر دُعا نکلتی رہی کہ جو پوری ہونے کے گمان میں بھی نہ تھی۔۔۔۔’’اے میرے رب جب میں واپس گھر لوٹوں تو میرے اذان سمیت سب ماؤں کے بچے لوٹ چکے ہوں‘‘ جاننے کے باوجود کہ اس دُعا کی قبولیت ممکن نہیں ممتا کے مایوس نہ ہونے کی بہت بڑی مثال ہے۔

 

ماں کہتی ہے موت کا وقت تو مقرر ہے میرا بیٹا اپنی زندگی کی سانسیں پوری کر چکا تھا۔ وہ وقت پوری دنیا کی ماؤں کی گود میں سوئے بچے پر بھی آجائے تو ٹل نہیں سکتا۔ میرے اذان کو شہادت کا رُتبہ ملا مگر دہشت گردوں کو یہ ضرور کہوں گی کہ آؤ کبھی ماؤں سے مقابلہ کر کے دیکھو ! اور بہادر ہو تو سامنے سے للکار کے آؤ،بزدلوں کی طرح پیچھے سے چُھپ کے وار کیوں کرتے ہو؟

[email protected]

یہ تحریر 45مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP