ہمارے غازی وشہداء

اے کہانی لکھنے والے

کہانی تھک چکی ہے اور کہانی کے سبھی کردار گریہ کر رہے ہیں

اب کہانی کہہ رہی ہے

مصلحت کے طوق اتارو۔۔۔ اور دہشت گرد مارو

صبر کی زنجیریں توڑو۔۔۔ ان کی گردن اب مروڑو

گفتگو کے قفل کھولو۔۔۔ اور حق کی بات بولو

اے کہانی لکھنے والے لکھ

ہمارے صبر کے پیمانے اب لبریز ہیں

دیکھو!ندامت ابھی نہیں کرنا

مذمت لفظ سن سن کر سماعت چیخ اٹھی ہے

مذمت کے سبھی الفاظ بوڑھے ہو چکے ہیں۔۔۔ ان کو مرنے دو

کہیں ایسا نہ ہو لفظ مذمت گالی بن جائے

یہ رسمی اور ریڈی میڈ جملے پاس رکھو۔

چودہ صدیاں بعد پھر کوفہ کی گلیاں تنگ ہیں

اور جنگ جاری ہے۔

منافق عہد میں۔۔۔ بچوں کا خوں ہم سے تقاضا کر رہا ہے

اب دلاسوں کی دکانیں بند کر کے تم

.عمل کی کربلا میں آؤ اور مختار بن جاؤ

کہانی لکھنے والے لکھ

وطن کی کربلا میں سرخ خیمے لگ چکے ہیں

آخری خطبہ سنایا جا چکا ہے

استغاثہ دینے والا دے چکا ہے

دیکھو! ابھی بھی وقت ہے

اے کہانی لکھنے والے لکھ

سڑسٹھ سال کا بوڑھا وطن

برداشت کے صحرا میں ننگے پاؤں چلنے کے لئے راضی نہیں ہے۔۔۔ تھک چکا ہے۔

اے کہانی لکھنے والے لکھ

ہماری سرخ آنکھیں تھک چکی ہیں

کہہ رہی ہیں اب ہمیں رونا نہیں اُن کو رلانا ہے

ہمیں لاشیں اٹھانے کی بجائے اب گِرانی ہیں

ہمیں انساں نُما اُن بھیڑیوں کے سر کچلنے ہیں

لسانی‘ مذہبی‘ صوبائی‘ طبقاتی تعصب ختم کرنا ہے

سڑسٹھ سال سے جاری تماشا ختم کرنا ہے

کہانی لکھنے والے لکھ

ہمیں اس عہد کی کرب و بلا میں جا کے لڑنا ہے

ہمیں اُس کربلا میں جنگ لڑنی ہے

اے قصہ گو قیادت سامنے ہے۔۔۔ ان سے کہہ

یہ پھانسی گھاٹ کے پھندوں کو ہمیشہ گرم رکھیں

قصہ گو! کاغذ پہ دہشت گرد لکھ کر اُسی کے آگے گولی اور تلوار لکھ کر کہہ

ہمارے عہد کی کرب و بلا میں سارے سورج قتل ہوں گے

اور چراغ عسکری محشر تلک زندہ رہے گا

روشنی کا کارواں چلتا رہے گا

یہ تحریر 60مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP