متفرقات

اے کاش

بہاروں کا وہ موسم تھا

لبوں پر پھول کھلتے تھے

نظر سے تارے گرتے تھے

تنفس مہک دیتا تھا

ہوائیں پنکھے جھلتی تھیں

زمیں پاؤں پکڑتی تھی

تمنا چاند بن کر رات کو بستر میں آتی تھی!

بہت تھی مہرباں جو روپ کی دیوی تھی وہ ہم پر۔

ہمیں تو کوئی بھی دنیا میں ہم جیسا نہ لگتا تھا۔

نہ کوئی پھبتا تھا

۔کہ اک دن جب میں گاتی گنگناتی‘ کالج سے گھر آئی

ماں نے خوشخبری سنائی

کہ اک کپتان کا آیا ہے رشتہ واسطے تیرے۔

بھلے گھر کا بھلا لڑکا۔۔۔ بڑا لائق ہے تیرے جوڑ کے قابل

نہیں ماں۔۔۔ نہ۔۔۔ نہ۔۔۔ نہ۔۔۔ نہیں ماں۔۔۔

ابھی تو میں پڑھوں گی اور آگے۔۔۔ اور آگے پھر پڑھوں گی

کسی کپتان سے شادی۔۔۔؟

میری کنڈلی میں آتی ہی نہیں ہے

ماں! میرے خوابوں کا وارث کوئی کیپٹن ہو نہیں سکتا

یہ خاکی پوش‘ سرافروش‘ اﷲ کی مخلوق عجیب

سارا کلف وردی کا ہے۔ حالت سے بہت غریب

بھلا یہ ایک پری پیکر کے خوابوں کابوجھ اٹھائیں گے

یہ بس جنگ و جدل میں کام آئیں گے۔۔۔

وگرنہ ہر سفر میں‘ میس کا بدمزہ کھانا کھلائیں گے

میرے جگراتوں میں آ ہٹ ہے اک البیلے رانجھن کی۔۔۔

گزرتی رات کے سائے میں اکثر۔۔۔

وہ میری آنکھوں پر ٹھنڈے ہاتھ رکھتا ہے

پرکھتا ہے

بہت دن تک بہت انکار کرنے کی سزا پائی۔۔۔

دہائی

کہ جبراً۔۔۔ ماں نے ایک لکڑہارے سے بیاہ ڈالا

کہا۔۔۔ پگلی یہی تقدیر ہے۔۔۔

لکھی ہوئی ازلوں سے آتی ہے

یہی گھر کو بناتی ہے۔۔۔!!

دن صدیاں بن کر گزرے۔۔۔ پر گزر گئے جانو۔۔۔

آبلہ پائی آدرش کے اک انجانے موڑ پر لائی۔۔۔

نیشنل ڈیفنس کالج کے اندر‘ مرحلہ تربیت کاطے بھی کرنا تھا۔۔۔

نئی دنیا‘ نئے روز و شب سے گزرنا تھا۔۔۔

عمارت دیکھ کر دل سے صدا نکلی

کسی انجینئر نے کی ہے کنکریٹ میں شاعری!

کھڑکیاں‘ دروازے‘ شیشے آنچل کو پکڑنے والے

چکنے چمکتے فرش کے اوپر چم چم کرتے بوٹوں والے

کڑکڑاتی وردی میں

فوج کے سرداروں کی۔۔۔

تاجور ستاروں کی۔۔۔

آن بان اور شان دیکھیں

لمحہ لمحہ اوپرتلے‘ سلیوٹ درسلیوٹ دیکھے۔۔۔

واہ فیکٹری کے اندر باہر۔۔۔

ان کا ڈنکا واہ واہ دیکھا۔۔۔

کامرہ کی روشوں کے اوپر۔۔۔

ان کا بانکا جلوہ دیکھا۔۔۔

ٹینکوں کے بھاری بھر کم جلو میں۔۔۔

F-16 کی برق رفتاری میں۔۔۔

ان کا دست کرشمہ دیکھا۔۔۔

C-130میں اڑان بھر کے۔۔۔

شہر گوادر بھی جا دیکھا۔۔۔

ان کے سنگ سنگ شام و سحر۔۔۔

عزم آہن۔۔۔ گلر نگ دیکھا۔۔۔

ان کی عقابی آنکھوں میں۔۔۔

پاکستان کو پھلتا پھولتا ۔۔۔ بڑھتا دیکھا

اچانک۔۔۔۔۔۔

ایک ڈوبتی لالہ رنگ شام میں۔۔۔ ہم کو

چھوٹی چھوٹی مونچھوں والا‘ درمیانے قد کا‘ گندمی رنگت والا بھلا سا کیپٹن بہت یاد آیا

کاش ! تاولے ہم نہ ہوتے۔۔۔

اس کا دامن تھام لیتے۔۔۔

آج وہ بھی ادھر ادھر ان خوش پوش‘ خوش ادا‘ کرنیلوں‘ جرنیلوں میں ہوتا

اس کی چال میں وقار ہوتا۔۔۔

آداب میں افتخار ہوتا۔۔۔

عہدے کا اختیار ہوتا۔۔۔

شعبے کا سالار ہوتا۔۔۔

ایسا عالی قدر ہوتا۔۔۔

وردی میں اثر ہوتا۔۔۔

باتوں میں ہنر ہوتا۔۔۔

آنکھوں میں سحر ہوتا۔۔۔

کاندھے پہ قمر ہوتا۔۔۔

نسلوں کا فخر ہوتا۔۔۔

وہ میرا ہمسفر ہوتا۔۔۔

جب میں قومی اسمبلی میں رکن تھی تو 2006میں مجھے بھی NDC اب یونیورسٹی کے اندرچھ ہفتے کا ایک کورس مکمل کرنے کے لئے جاناپڑا تھا جو ہمارے Tenureکا حصہ تھا۔ وہ تمام عرصہ بہت ہی دوستانہ اور شاعرانہ ماحول میں گزرا۔ میرے تمام ساتھی اور اساتذہ نے فرمائش کی کہ میں NDCپر کوئی نظم لکھ کر سناؤں۔ یہ نظم میں نے ان کی فرمائش پر لکھی تھی اور جس روز ہمارا Farewell Lunch تھا جس میں صدر مملکت اور عمائدین تشریف لاتے ہیں اس میں‘ میں نے یہ نظم سب کو سنائی تھی۔ اب ہلال کے قارئین کی نذر ہے۔ بشریٰ رحمن

یہ تحریر 25مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP