ہمارے غازی وشہداء

اے وطن تیرے ماہ و نجم آگئے

سکواڈرن لیڈرحارث بن خالد(تمغہ ء بسالت) کے والد محمد خالد اکبر نے بتایا کہ وہ وہمی ہرگز نہیں لیکن جو حقیقت انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھی وہ بیان کر رہے ہیں۔ 6جنوری 2020ء کو میری نواسی سارہ فاروق کی تیرھویں سالگرہ تھی جو میری اکلوتی لاڈلی بیٹی صدف اکبر کی بیٹی ہے۔ میری یہ بیٹی قطر کے ہسپتال میں ڈاکٹر ہے۔ میں اور میری بیگم اپنے داماد کی فیملی سے ملنے کے لئے پاکستان سے قطر آئے ہوئے تھے میں نواسی کی سالگرہ کے لئے مارکیٹ سے تازہ گلابوں کی گیارہ ٹہنیاں خرید کر لایا۔ بیگم نے گلابی رنگ کے گلابوں کا ایک خوبصورت گلدستہ بنا کر سالگرہ کے موقع پر پیش کر دیا۔ خاندان کے تمام افراد نے اس گلدستہ کوبہت پسندکیا۔ گلاب کے پھولوں کا گلابی گلابی سا رنگ اور تازہ ہرے ہرے نکھرے ہوئے پتے انتہائی نفیس، خوشنما اور دیدہ زیب نظر آرہے تھے۔ پھولوں کی قدرتی خوشبو کے ساتھ ساتھ چاہت و محبت کی مہک بھی ہر کسی کے مشامِ جاں کو مسحورکر رہی تھی۔ گلاب کے پھولوں کی نکہت و یکتائی اتنی دل پذیر تھی کہ ہرکوئی دستِ قدرت کی صنّاعی پر والہانہ انداز میں سبحان اللہ اور  ماشاء اللہ  کے نعرے بلند کررہا تھا۔ سالگرہ کا خاص تحفہ سمجھ کر گلدستے کو سنبھال کر رکھ دیا گیا مگر اگلے روز جب میں نے صبح کے وقت گلدستے کو دیکھا تو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ آدھے سے زیادہ گلاب کے پھول اور پتے بری طرح مرجھا چکے ہیں ۔ میں یہ دیکھ کر چونک اُٹھا دعا مانگی کہ خدا خیر کرے۔



کچھ ہی دیر میں مجھے ائیروائس مارشل عبد المعید خان، ستارہ امتیاز( ملٹری) ائیر آفیسر کمانڈنگ نادرن ائیر کمانڈ کا فون آ گیا کہ آپ کا بیٹا سکواڈرن لیڈر حارث اور سٹوڈنٹ پائلٹ فلائنگ آفیسر عباد الرّحمن تربیتی پرواز کے دوران(ڈبل کاک پٹ ورژن) F-7طیارہ گرنے کی وجہ سے شہید ہو گئے ہیں۔ طیارے میں اچانک ٹیکنیکل خرابی پیدا ہوئی اور وہ زمین بوس ہو گیا اور اس طرح دونوں ہوا باز انسٹرکٹر پائلٹ اور سٹوڈنٹ پائلٹ شہادت کے درجے پر فائز ہوئے۔انہوں نے انتہائی دکھ بھرے لہجے میں کہا کہ تمام پاک فضائیہ کے افراد اس غم میںآپ کے ساتھ برابر کے شریک ہیں۔ خالد اکبر صاحب نے بڑے تحمل سے جواب دیاکہ میں اور میرے گھر والے خدا کی مشیت میں راضی بارضا ہیں۔ مجھے پہلے ہی اُس نے ذہنی طور پر اپنی شہادت کے لئے تیار کیا ہوا تھا۔ بے اختیار خالد اکبر صاحب کی زبان پر سورئہ اعراف کی 26آیت کے الفاظ جاری ہوئے جس کا ترجمعہ کچھ ایسے ہے ''خدایا ہم پر صبر کی بارش فرما اور ہمیں مسلمان ہی دنیا سے اٹھانا۔''ائیروائس مارشل عبد المعید خان نے میرے اسلام آباد واپس پہنچنے کے پروگرام کے بارے میں پوچھا اور آگاہ کیا کہ پاک فضائیہ کا ایک دستہ اسلام آباد انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر آپ کا منتظر ہوگا۔
ہم رات پچھلے پہر قطر سے روانہ ہوئے اور اگلے روز دو بجے آدھی رات گزرنے کے بعد اسلام آباد انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر پہنچ گئے۔ اس دوران شہید بیٹے کی مکمل زندگی کے اہم مراحل میرے ذہن کے پردے پر نمودار ہوتے رہے۔حارث شہید جب یکم اپریل 2000میں آٹھویں جماعت میں داخلے کے لئے منتخب ہو کر پی اے ایف کالج لوئر ٹوپہ پہنچا تو اُسے وہی ''اورنگزیب ہائوس'' ملا جہاں کبھی آج سے تقریباً 35سال پہلے اس کے والد محمد خالد اکبر کو آٹھویں جماعت میں داخلہ ملا تھا جس کا تذکرہ بعد میں کیا جائے گا۔ جب اپریل 2005 میں حارث کی ایف ایس سی تک کی تعلیم اور ساتھ ہی پاک فضائیہ کی پیشہ ورانہ تربیت ایک خاص حد تک مکمل ہو گئی تو آپ پاک فضائیہ کی جی ڈی پی برانچ میں بھرتی ہونے کے لئے انٹر سرورسز سلیکشن بورڈ کے سامنے پیش ہوئے۔ چار پانچ دن کے سلیکشن پروسیس کے بعد بتایا گیا کہ آپ پاک فضائیہ کی گرائونڈ برانچ ائیر ڈیفنس کے لئے منتخب کئے جاتے ہیں مگر جی ڈی پی برانچ کے لئے اَن فٹ ہیں۔ حارث یہ خبر سن کر بہت مایوس ہوا۔ آپ نے والدین سے دعا کرنے کی درخواست کی۔ ماں باپ نے دعا بھی کی مگر ساتھ یہ کہہ کر حوصلہ بھی بڑھایا کہ ائیر ڈیفنس برانچ بھی بہت اہم ہے کیونکہ پائلٹ اور کنٹرولر دونوں مل کر دشمن کا شکار کرتے ہیں اور وطن کے خلاف دشمن کی جارحیت کو روکنے کے لئے دن رات جاگ کر اپنے پیشہ ورانہ فرائض انجام دیتے ہوئے کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ بعض اوقات والدین کی دعائیں بچوں کے لئے معجزانہ کردار ادا کرتی ہیں اور یہی کچھ حارث کے ساتھ بھی ہوا کہ پہلی مرتبہ اُس وقت پاک فضائیہ کے چیف آف دی ائیر سٹاف ائیر چیف مارشل تنویر محمود احمد نشان ِ امتیاز (ملٹری) نے حکم دیا کہ'' آئی ایس ایس بی'' امیدوارں کی افسرانہ خصوصیات ہونے نہ ہونے کا فیصلہ تو کر سکتا ہے مگر کون ہوا باز بننے کی صلاحیت رکھتا ہے یا نہیں اس امر کا فیصلہ پاک فضائیہ خود کرے گی اور اِس مقصد کے حصول کے لئے، جدید عصری تقاضوں کے تحت کمیپوٹر کے ذریعے (ایف اے ٹی) فلائنگ ایپٹی چویڈ ٹیسٹ( Flying Apptitude Test) متعارف کروایا گیا جسے حارث نے اچھے گریڈ کے ساتھ پاس کر لیا اس طرح یہ مسترد امیدوار منتخب ہو کر جی ڈی پی، برانچ کا حصہ بن گیا۔
11اپریل 2006کوحارث نے جی ڈی پی کورس نمبر122میں پاکستان ائیرفورس اکیڈمی رسالپور میں شمولیت اختیار کی۔ حارث نے نہایت محنت لگن اور تیزی کے ساتھ بے شمار کامیابیاں سمیٹنا شروع کر دیں۔ آپ نے  Preliminary Flying Training (پی ایف ٹی) سپر مشاک ائیر کرافٹ پر مکمل کرنے کے بعد اور دو سال کی کٹھن کیڈٹ شپ کاٹنے کے بعد بحیثیت پائلٹ آفیسر 19اپریل 2008 کو پاکستان ائیر فورس میں کمیشن حاصل کر لیا۔ پھر آپ نے ایڈوانس جیٹ ٹریننگ سکول رسالپور ہی سے قراقرم K-8پر بیسک فلائنگ ٹریننگ(BFT)مکمل کی اور فلائنگ آفیسر بن گئے۔اپریل 2009میں آپ کویونیورسٹی آف پشاور کی طرف سے بیچلر آف سائنس کی ڈگری گریڈ اے کے ساتھ دے دی گئی اور اس موقع پر ائیر چیف مارشل تنویر محمود نے آپ کے سینے پر جی ڈی پی کا فخریہ بیج سجایا اور یقینا اس لمحے جب حارث کو مسترد ہو کر دوبارہ منتخب ہونے کا واقعہ یاد آیا ہو گا تو آپ کا سینہ اور کشادہ ہو گیا ہو گا۔ آپ نے K-8پر ہی فائٹر کنورژن (Conversion) کورس مکمل کیا اور جنوری 2010 کو رسالپور سے آپ کی پوسٹنگ پی ایف بیس میانوالی ہو گئی جسے اب پی ایف بیس عالم کے نام سے جانا جاتا ہے۔ آپ کی پوسٹنگ سکوارڈرن نمبر18میں ہوئی جہاں آپ نے F-7 جہاز پر آپریشنل ٹریننگ مکمل کی جس کے بعد آپکوستمبر2010میں پی اے ایف بیس سمنگلی(کوئٹہ)سکواڈرن نمبر23میں پوسٹ کر دیا گیا۔ اور اس طرح آپ نے F-7PG جہاز اڑانے کا قیمتی تجربہ حاصل کیا۔آپکی صلاحیتوں اور قابلیت کو دیکھتے ہوئے آپ کو فلائنگ انسٹرکٹر سکول رسالپور پوسٹ کر دیا گیا۔ جس کے بعد آپ ایک لائق فائٹر استاد کی حیثیت سے جسے انسٹرکٹر پائلٹ (آئی پی)کہا جاتا ہے  فلائٹ کیڈٹس کو پلمنری فلائٹ ٹریننگ (پی ایف ٹی )عملی طور پر سکھاتے رہے اور ایک مرتبہ پھر آپ کو پی اے ایف بیس عالم(میانوالی)پر تعینات کر دیا گیا مگر اب آپ سٹوڈنٹ نہیں بلکہ انسٹرکٹر پائلٹ کی ذمہ داریاں نبھا رہے تھے۔اسی دوران آپ نے جونئیر سٹاف کورس بڈا بیر پشاور سے مکمل کیا۔ آپ کو پیرا کورس، سی سروائول اور کوالٹی ایشورنس کورسز کرنے کے بھی مواقع ملے۔ حارث بن خالد کو اعزاز حاصل ہے کہ انہوں نے F-7جہاز کے ذریعے سے میراج، JF-17،F-16جیسے بہتر جہازوں کا زبردست طریقے سے مقابلہ کیا۔ وہ بڑے اعتماد سے کہا کرتا تھا کہ بہتر جہاز میں بیٹھ کر اسے کمتر یا برابری کے جہاز سے لڑوانے کا فن تو سب ہی جانتے ہیں مگر ایک اچھے فائٹر پائلٹ کی خوبیوں اور صلاحیتوں کااظہار تو اُس وقت صحیح طور پر ہوتا ہے جب وہ کم تر جہاز کو اڑا کر بہتر جہازوں پر حاوی ہو جائے۔
بحیثیت فائٹر پائلٹ اُن کے پاس تمام اعزازات تھے کیونکہ وہ 2جہازوں سے لے کر 10جہازوں کے لیڈر بن کر لڑانے کا عملی طور پر کامیاب مظاہرہ کر چکے تھے۔ اُنہیں یہ اعزاز بھی حاصل تھا کہ وہ رات کے وقت بھی پرواز کر سکیں۔ کچھ ہوابازوں کو صرف چاندنی راتوں میں جہاز اڑانے کی اجازت ہوتی ہے مگر سکوارڈرن لیڈر حارث تاریک ترین راتوں میں بھی F-7جہاز اڑنے کی قابلیت رکھتا تھا۔ ڈبل کاک پٹس والے جہازوں میں پچھلی سیٹ پر بیٹھ کر جہاز کو اڑانااور ساتھ ساتھ سٹوڈنٹس کو سکھانا ایک بہت ہی مشکل کام ہے مگر حارث کو اس میں بھی مکمل مہارت حاصل تھی۔پی اے ایف بیس عالم پر اس نے درجنوں ہوابازوں کی اس طرح تربیت کی کہ وہ اب F-16،میراج، JF-17 اورF7 جہاز بہترین پیشہ ورانہ انداز میں اڑا رہے ہیں۔
بیس کمانڈر یا کسی بھی پاک فضائیہ کے سینیئر ائیرآفیسرز کو آپریشنل ڈیوٹی کے لئے جب کبھی ایک جگہ سے دوسرے مقام پر فوری سفر کرنا ہوتا تو حارث مشاک جہاز میں خوش مزاجی کے ساتھ یہ فریضہ سر انجام دیتے۔ اُسے دن رات پیشہ ورانہ امور انجام دینے میں ذہنی سکون حاصل ہوتا تھا۔ان تمام کامیابیوں کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ خدا اپنے مخلص شہداء کو مختصر سے وقت میں زیادہ سے زیادہ امور انجام دینے کی خوبیوں سے نواز دیتا ہے۔حارث بن خالد شہید 19جولائی 2011 کو فلائٹ لیفٹیننٹ اور 19اکتوبر 2015 کو سکواڈرن لیڈر کے عہدے پر ترقی پا گئے لیکن دونوں خوشیاں انتہائی سادہ اور پروقار طریقے سے اسلامی انداز میں منائی گئیں۔ کیونکہ حارث شروع ہی سے نماز روزے کے پابند تھے اور فلائٹ لیفٹیننٹ بننے کے بعد شرعی طور پر داڑھی بھی رکھ لی۔ اُن کا چہرہ وجاہت و دبدبے سے بھرپور نظر آتا تھا۔
 28اگست 2015 کو آپ کی شادی ، پھوپھو کی بیٹی فاطمہ جاوید سے ہوئی اُس وقت حارث کی پوسٹنگ رسالپور اکیڈمی میں تھی مگر ولیمے کا اہتمام''نیس کام میس''، اسلام آباد میں کیا گیا تھا۔ تمام کورس میٹس جو شادی میں شرکت کے لئے آئے ہوئے تھے کہ کوئی موقع ملے تو حارث کے ساتھ مل کر گانے گائیں اور ڈانس کریں مگر حارث نے سب کو صاف طور پر بتا دیا کہ والد صاحب کی طرف سے قطعاً غیر شرعی رسومات پر سخت پابندی ہے، اس لئے نکاح اور ولیمے کے موقع پر بھی نعت کی ایک مختصر محفل رکھی گئی جس میں مولانا نے اسلامی شادی کے طریقہء کار پر درس دیا اور سادگی سے نکاح پڑھا دیا گیا کیونکہ آپ کے والدِ گرامی ایک عظیم مسلمان اور پڑھے لکھے اعلیٰ تعلیم یافتہ مخلص پاکستانی سائنسدان اور الیکٹرانکس شعبے کے ماہر سینئر انجینئر ہیں جو تیس سال پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے ادارے سے وابستہ رہے۔ آپ بھی 1965 میں پی اے ایف کالج لوئر ٹوپہ کے لئے منتخب ہوئے ، آٹھویں سے لے کر ایف ایس سی تک کی تعلیم بہترین ریکارڈز کے ساتھ مکمل کی۔ سابق پاک فضائیہ کے سربراہ ائیر چیف مارشل کلیم سعادت نشان امتیاز (ملٹری) آپ کے کورس میٹس میں سے ہیں۔ آپ کے بیٹے حارث کو بھی ''اورنگ زیب ہائوس'' اس لئے دیا گیا تھا کہ خالد اکبر نے پانچ سال اسی ہائوس میں گزارے تھے۔ آپ کو بھی جی ڈی پی فائٹر پائلٹ بننے کا شوق تھا مگر آپ کا قدایف ایس سی کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد بھی 4فٹ 8انچ سے زیادہ نہ بڑھ سکا جس کی وجہ سے آپ کو اپنے فیصلے میں قدرت کے سامنے سر تسلیم خم کرتے ہوئے تبدیلی کرنا پڑی مگر اُس وقت آپ  ذہنی پختگی کا ثبوت دیتے ہوئے پاکستان اٹامک انرجی کمیشن میں نیوکلیئر سائنسدان کی حیثیت سے شامل ہو گئے اور آپ کا یہ تعلق کئی دہائیوں پر محیط رہا۔ آپ کو 2000میں تمغہء بقاء صدارتی اعزاز برائے حسن کارکردگی سے نوازا گیا جو آپ کی ملکی دفاعی الیکٹرانکس کے شعبے میں بہترین خدمات کو سرہاتے ہوئے دیا گیا۔ اس طرح 23مارچ 2018 میں بھی دوبارہ آپ کو الیکٹرانکس میں ایسا آلہ ایجاد کرنے پر کہ جس سے وطن کا دفاعی شعبہ مستحکم ہوا، کے اعتراف میں آپ کو ستارئہ امتیاز سے نوازا گیا۔ یعنی سکواڈرن لیڈر حارث بن خالد شہید ایک غازی کا بیٹا ہے جسے 23مارچ 2020 کو بحیثیت انسٹرکٹر فائٹر پائلٹ بہترین پیشہ ورانہ خدمات سرانجام دینے پر تمغہء بصالت سے نوازا گیا۔ آپ نے جی ڈی پی برانچ کے بے شمار افسران کو پاک فضائیہ کے قابل فائٹر پائلٹس بنانے میں انتہائی موثر کردار ادا کیا۔ حارث کے بڑے بھائی قدیر احمد اوہا یو اسٹیٹ یونیورسٹی امریکہ میں سینئر انجینئر ہیں اور 2018 میں'' لوملے ریسرچ ایوارڈ'' حاصل کرچکے ہیں اور ایک ہی بہن ہے جو سب سے بڑی ہیں اور قطر میں ڈاکٹر ہیں ۔ اُن کا نام صدف اکبر ہے اور مضمون کے شروع میں ہی ان کا تذکرہ کر چکے ہیں۔ حارث والدین کی سب سے چھوٹی اولاد ہونے کے باوجود سب سے بڑا کام کر گیا۔ اُس کی شہادت پر پورے خاندان کو فخر ہے۔
سکواڈرن لیڈر عمیرجن کاتعلق ،جی ڈی پی کورس نمبر115سے ہے اور حارث کے تایا زاد بھائی ہیں، نے بتایا کہ حارث نے اپنی زندگی میں کبھی کسی کادل نہیں توڑا۔ کیونکہ ہمارے دونوں خاندانوں کے اکثر لوگ کراچی میں رہتے ہیں اس لئے جب بھی اُن میں سے کوئی صوبہ پنجاب کی طرف آتا تو حارث اُس کے لئے تفریحی مقامات پر قیام وطعام کا بہترین بندوبست کرتے لہٰذآج بھی وہ سب افراد ''حارث'' کے بہترین حُسنِ سلوک کو اچھے الفاظ میں یاد کرتے ہیں۔ حارث انتہائی مشفق، خلیق، ملنسار، شریں لہجہ اور سب سے پیار محبت کرنے والے انسان تھے۔ گو کہ وہ میرا تایا زاد بھائی تھے لیکن وہ مجھے ہمیشہ حقیقی بھائیوں کی طرح عزیزِ جاں رہے۔ ہم دونوں میں ذہنی ہم آہنگی بھی مثالی تھی، جب وہ میرے تین سال بعد پاک فضائیہ کے جی ڈی پی کورس نمبر122میں شامل ہوا تو میرادل خوشی سے باغ باغ ہو گیا، کیونکہ اب ہم ایک اور ایک دو نہیں بلکہ گیارہ تھے۔ دل میں تمنا پیدا ہوئی کہ کیا ہی اچھا ہو کہ اگر ہم کبھی پاک فضائیہ کے کسی بیس (Base)پر اکھٹے پوسٹ ہو جائیں اور پھر مل کر آگے پیچھے اکھٹے اڑان بھریں۔ ہمارے خاندان والے، دوست احباب ہمیں دیکھ کر بہت خوش ہوتے، رشک کرتے اور دعائوں سے نوازتے۔
لہٰذا جب میں پاک فضائیہ کے مسرور بیس سے سرگودھا ''مصحف'' بیس پہنچا تو وہاں حارث پہلے ہی میرے استقبال کے لئے موجود تھا۔ مجھے دعوت دی کہ میرے پاس بڑا رہائشی کمرہ ہے جس میں ہم دونوں آسانی کے ساتھ اکھٹے قیام کر سکتے ہیں۔ جسے میں نے اللہ کی نعمت سمجھتے ہوئے مسکراتے ہوئے شکریہ کے ساتھ فوراً قبول کر لیا۔ اِس طرح ہم ورکنگ آورز (Working hours)کے علاوہ بھی رات گئے تک کمبیٹ کمانڈر کورس کے مشنز (Missions)کی بھرپور انداز میں تیاری کرتے رہے۔ حارث کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ اُس نے اپنے کورس میں سب سے پہلے کمبیٹ کمانڈر کورس عمدہ طریقے سے مکمل کیا اور اپنے کورس میں سب سے پہلے فلائننگ کیٹگری بی (B)حاصل کی۔ جو بہت کم خوش نصیب پیشہ وارانہ پائلٹس کو نصیب ہوتی ہے۔عمیر نے بتایا کہ حارث کی شبِ شہادت اور پھر اُس کے چند روز بعد دوبارہ مجھے خواب میں ایک نورانی چہرے والے بزرگ نے اطلاع دی کہ حارث کی ملاقات حضرت محمدۖ سے ہو چکی ہے۔
 خالد اکبر صاحب اور حارث کے ایک پرانے مشترکہ ڈرائیور کبیر صاحب نے بتایا کہ شہادت سے تقریباً تین ماہ پہلے میں نے حارث صاحب کو فون کیا اور کہا کہ تم مجھے بالکل بیٹوں کی طرح عزیز ہو لہٰذا ضروری ہے کہ کبھی کبھی تم خود ہی مجھے فون کر لیا کرو، تمہاری آواز سن کر خوشی محسوس ہوتی ہے۔ حارث صاحب نے ایک اچھا انسان ہونے کا ثبوت دیا اور میری بات کا بالکل برا نہیں منایا۔ بلکہ معذرت کرتے ہوئے کہا کہ مصروفیت کی وجہ سے فون نہیں کر سکا لیکن آئندہ مستقل رابطے میں رہوں گا۔ اور ایک ماہ بعد فون کر کے میری اور میری فیملی کی خیریت دریافت کی۔ اسی طرح ایک اور ڈرائیور محمد خان صاحب جن کی عمر 59 سال ہے نے آگاہ کیا کہ حارث ہمارا بہت خوش اخلاق اور خوش مزاج افسر تھا۔ 2012میں مجھ سے کہنے لگے کہ آپ ایک پرانی کار خریدنے میں میری مدد کریں۔ میں نے کہا کہ حارث صاحب ہم پرانی گاڑی ہر گز نہیں خریدیں گے کیونکہ وہ بار بار خراب ہوتی رہتی ہے جس سے پیسے بھی خرچ ہوتے رہتے ہیں وقت بھی ضائع ہوتا ہے ۔ آپ اپنی تنخواہ اور فلائنگ الائونس سے ہر ماہ کچھ رقم جمع کرنی شروع کریں۔ جب مناسب رقم جمع ہو جائے گی تو ہم نئی گاڑی خریدیں گے۔ انہوں نے میرے مشورے سے اتفاق کیا اور اس طریقے سے 2014 میں حارث صاحب نے نئی ہنڈا سٹی 1300ccخریدلی۔ یعنی جب 28اگست 2015 کو حارث کی شادی ہوئی اس سے پہلے ہی اس کے پاس اپنی فیملی کے لئے نئی کار موجود تھی حارث کی خوشی اپنے عروج پر پہنچ گئی جب 20دسمبر2016 کو اللہ تعالیٰ نے اسے بیٹے سے نوازا جس کا نام محمد حاشر رکھا گیا۔
حارث کے ایک ائیر ڈیفنس برانچ کے کورس میٹ وقاص نے ماضی کے دریچوں میں جھانکتے ہوئے کہا۔ وہ مجھے پیار سے وِکی کہا کرتا تھا میری حارث سے آخری ملاقات اس کی شہادت سے تقریباً ایک ہفتہ قبل ہوئی جب میں اس سے ملنے کے لئے سکیسر سے میانوالی گیا۔ہم دونوں رات کا کھانا اس کے بیٹے حاشر کے ساتھ مل کر اکھٹے کھاتے رہے 30دسمبر کو کھانے کے بعد حارث مجھے اپنے ساتھ کار گیراج کی طرف لے گیا۔ جہاں کیڈٹ شپ والا جستی ٹرنک ابھی تک اپنے بزرگانہ حَشم کے ساتھ نظر آرہا تھا۔ کیونکہ ہر طرف اندھیرا تھااس لئے حارث نے کار سٹارٹ کر کے اُس کی لائٹس آن کر دیں۔ میں حارث کو پیار سے ''گھوڑا'' کہتا تھا اور اُس نے اپنے عمل سے گھوڑے والی برق رفتاری کو اپنی آخری سانس تک قائم رکھا۔ گاڑی کی روشنی میں جب میں نے اُس ٹرنک کو کھولا تو اُس میں ایک پرانا عید کارڈ نظر آیا۔میں نے پوچھا'' گھوڑے'' یہ کیا ہے۔ کہنے لگا ''وکی ''خود دیکھ لو۔ جب میں نے اُسے کھول کر پڑھا تو یہ وہی کارڈ تھا جو میں نے 2005 میں عید کے موقع پر بھیجا تھا۔ اپنے سچے دوست کے اس منفرد انداز نے میرے ذہن پر نہایت خوشگوار اثر مرتب کیا جو انشاء اللہ تامرگ اس شہید کے چہرے کو ہمیشہ میری نظروں کے سامنے مسکراتا رکھے گا۔ رات کافی ہو چکی تھی اور سردی بہت بڑھ چکی تھی۔ ٹرنک میں سردیوں کے گرم کپڑے ، جرسی، سوئٹر، مفلر، شلوار قمیض اور پینٹ شرٹ بہترین حالات میں نظر آرہے تھے۔ لہٰذا دونوں نے فیصلہ کیا کہ صبح کو ہم بیس سے باہر جا کر غریب مستحق افراد میں ان تمام کپڑوں کو تقسیم کر دیں گے۔ اس واقعہ کے ایک ہفتے بعد ہی مجھے اُس کی شہادت کی اطلاع مل گئی کسی بھی فائٹر پائلٹ کے لئے وردی میں شہید ہونا بہت بڑے اعزاز کی بات ہے۔ 7جنوری 2020کو صبح ساڑھے دس بجے کے قریب ایک تربیتی پرواز کے دوران F-7میں تکینکی خرابی پیدا ہوئی اور وہ زمین کی طرف گرنا شروع ہو گیا۔ پی اے ایف عالم بیس کے قریب ہی لڑکیوں کا ایک سکول ہے جو آج منگل کے دن لڑکیوں سے بھرا ہوا تھا۔ سکول کی ہیڈمسٹریس نے بتایا کہ تباہ شدہ F-7جہاز کا ملبہ گائوں (جھامرہ)''میانہ کھو'' کے دروازے کے بالکل سامنے گرا۔ اللہ نے تمام لڑکیوں کی جان کی حفاظت فرمائی۔ دونوں ہوابازوں نے جہاز سے اُس وقت ایجیکٹ کیاجب انہیں یہ یقین ہو گیا کہ اب جہاز کا ملبہ سکول پر نہیں گرے گا۔دونوں ہواباز شہید ہو گئے لیکن سکول کی تمام بچیاں بالکل محفوظ رہیں۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ ایجکشن کے بعد انتہائی زخمی حالت میں سکواڈرن لیڈر حارث نے مکمل طور پر باآواز بلند کلمہء شہادت زبان پر جاری کیا اور اپنی جان کی امانت خدا کے سپرد کر دی۔
سکواڈرن لیڈر حارث بن خالد شہید کی نمازِ جنازہ دو مرتبہ پڑھی گئی۔ 7جنوری 2020کو تقریباً مغرب کے وقت پی اے ایف بیس عالم پر جہاں بیس کمانڈر ائیر کموڈور کاظم حماد نے بڑے اچھے انتظامات کئے ہوئے تھے اور دوسری مرتبہ 8جنوری2020 کو پی اے ایف بیس نور خان پر جہاں حارث کی نماز جنازہ میں چیف آف دی ائیر سٹاف، ائیر چیف مارشل مجاہد انور خان، نشانِ امتیاز (ملٹری) ہلالِ امتیاز (ملٹری) ستارئہ امتیاز(ملٹری) اپنے بے شمار افسران و دیگر عملے کے ساتھ خود بھی شریک ہوئے۔ قطر سے حارث کے والدین تدفین میں شرکت کے لئے نور خان بیس پر پہنچ چکے تھے۔سکواڈرن لیڈر حماد نے حارث کے والدین کا اپنے مختصر سے دستے کے ساتھ استقبال کیا اور تدفین کے آخر تک ہر طرح سے اُن کی آسانی اور دلجوئی کا خیال رکھتا رہا۔ C-130 کے ذریعے حارث کا تابوت اُس کی بیگم فاطمہ جاوید اور سوا تین سال کے بیٹے محمد حاشر کے ساتھ میانوالی سے چکلالہ پہنچ چکا تھا۔ عظیم سائینسدان اور سینئر برقیاتی و الیکٹرانکس انجینئر محمد خالد اکبر کے شہید بیٹے کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے'' پاکستان اٹامک انرجی کمیشن'' ،'' نیس کام'' اور ''کے آر ایل'' کے سینکڑوں لوگ نور خان بیس پر جمع ہو چکے تھے۔ہلکی ہلکی بارش اور پھوار پڑنا شروع ہو گئی یا یہ کہا جائے کہ شہید پر رحمتِ باری کا نزول ہو رہا تھا اس لئے چیف آف دی ائیر سٹاف نے ارشاد فرمایا کہ تمام چھتریوں کو ہٹا دیا جائے۔ اس شان سے شہید کی نماز ِ جنازہ ادا ہوئی اور تدفین کا عمل اپنے انجام کو پہنچا۔ اس موقع پر جب شہید کی کیپ، فلیگ کے ساتھ رکھ کر والد ِ گرامی خالد اکبر صاحب کو پیش کی گئی تو انہوں نے کہا مجھے اپنے اس عظیم شہید بیٹے پرانتہائی فخر ہے اور مجھے ایسے محسوس ہو رہا ہے جیسے میرے بیٹے نے اپنی زندگی کا سب سے بڑا اعزاز حاصل کر لیا جس کے لئے وہ دن رات کوشش کیا کرتا تھا اور مجھے تمام اہلِ وطن کے سامنے سرخرو کر دیا۔ خالد اکبر کی آنکھوں میں خوشی اور غمی کے آنسو بیک وقت تیرنے لگے ۔ سب دوست سینے سے لگا کر اکبر صاحب کو ایک ہی جملہ کہتے تھے کہ خدا تمہیں اور تمہارے خاندان کو صبرِ جمیل کی توفیق عطا فرمائے اور بیٹے کو جنت الفردوس میں بلند مقام عطا فرمائے۔ خداوندِ ذوالجلال ہماری قوم کو خالد اکبر جیسے بلند حوصلہ باپ اور حارث بن خالد جیسے سعادت مند بیٹے مسلسل عطا فرماتا رہے، آمین
حارث کی والدہ محترمہ رشک سے بیان کرتی ہیں کہ حارث کا تعلق صرف ایک مذہبی گھرانے سے نہیں تھا بلکہ قرآن کے حفاظ خاندان سے بھی تھا اور میں چاہتی تھی کہ وہ دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ قرآن پاک بھی حفظ کرے۔ مجھے افسوس ہے کہ وہ حافظ نہیں بن سکا مگر اس امر کی دلی خوشی ہے کہ اُس نے عملی طور پر ایک اچھے مسلمان،محب ِوطن پاکستانی اور باوقار انسان کی طرح زندگی بسرکی۔ لہٰذا میں باقی ماندہ زندگی ہمیشہ اُس پر فخر کرتی رہوں گی۔
مسز حارث جو ابھی تک صدمے سے نڈھال ہیں، مگر انہیں بھی حارث کی شہادت پر ناز ہے اور شدید خواہش رکھتی ہیں کہ اپنے بیٹے حاشر کو حارث کی طرح ہوا باز بنائیں تاکہ وہ باپ کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے لڑاکا طیارہ اڑا کر وطن کی سرحدی محاذوں کا بھرپور دفاع کر سکے۔
المختصر سکواڈرن حارث بن خالد، شہید ابنِ غازی ہے۔ بیٹا ملکی ہوا بازوں کو تربیت دیتے دیتے وردی میں شہید ہوا اور باپ محمد خالد اکبر ریٹائرمنٹ کے آخری دن تک ملکی دفاع کو اپنے ''انجینئرنگ علم'' سے مسلسل مضبوط بنانے کے لئے موثر کردار ادا کرتا رہا اور آج بھی اپنے تجربے اور مشوروں سے پاکستان کو ایک ناقابل تسخیر قلعہ بنانے میں مصروف عمل ہے۔ ایسے بے شمار مخلص اور محب وطن، باپ بیٹوں کو سب اہل وطن خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔ ایسے تمام غازیان اور شہیدانِ وطن ہماری ملت کا سب سے قیمتی سرمایہء افتخار ہیں۔ ایسے منفرد لوگوں کے لئے میرے اپنے لکھے ہوئے ملّی نغمے کے یہ چار شعر پیش ہیں۔
مشعلِ جاں کا اپنی اجالا لئے
 اے وطن تیرے ماہ و نجم آ گئے
تیرے زرّوں سے سورج ابھرتے رہیں
عارضِ گل لہو سے نکھرتے رہیں
مانگ میں تیری تارے اترتے رہیں
جاں نثار اپنی عشاق کرتے رہیں
اس وطن کو کسی کی نظر نہ لگے
لے کے نذرانہء جان ہم آ گئے
مشعلِ جاں کا اپنی اجالا لئے
اے وطن تیرے ماہ و نجم آ گئے


 

یہ تحریر 246مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP