ای یو ڈس انفو لیب رپورٹ

ای یو ڈس انفو لیب رپورٹ سے اقتباسات

9 دسمبر 2020 کو یورپین  یونین ڈس انفارمیشن لیب کی ایک رپورٹ منظر عام پر آئی جس کا عنوان تھا:
Indian Chronicles Subsequent Investigation: Deep Dive into a 15 Year Operation Targeting the EU and UN To Serve Indian Interests

/https://www.disinfo.eu/publications/indian-chronicles-deep-dive-into-a-15-year-operation-targeting-the-eu-and-un-to-serve-indian-interests

انڈیا کی پاکستان دشمنی سب پرعیاں ہے اس لئے یہ رپورٹ پاکستان کے لئے بہت اہمیت کی حامل ہے۔ اس رپورٹ میں بھی یہ بات واضح ہوتی ہے کہ انڈیا نے پاکستان کی دشمنی میں کس طرح دنیا کے بڑے اداروں، اقوامِ متحدہ اور یورپی یونین کی پارلیمنٹ میں محاذ تیار کئے اور پاکستان کو دنیامیں بدنام کرنے کے لئے سازشیں کیں۔ EU ڈس انفو لیب نے انڈیا کی اس تمام پروپیگنڈامہم کو   ' انڈین کرونیکلز' کا نام دیا۔  اس رپورٹ کے چند اقتباسات درجِ ذیل ہیں :

انڈین کرونیکل آپریشن کے مقاصد
مجموعی طور پور پر ہماری تحقیقات کے مطابق سری واستوا گروپ کے ذریعے چلنے والا انفارمیشن آپریشن 2005 میں شروع ہوا اور ابھی تک جاری ہے۔
اس آپریشن کامقصد ایشیا میں موجوداُن ممالک کو بدنام کرنا ہے جو ہندوستان کے ساتھ تنازعات  میں ملوث  ہیں ان میں پاکستان بالخصوص  اور ایک حد تک چین شامل ہیں۔ اس کے طویل المدتی مقاصد ہیں:
 ▪     اندرونی طور پر بھارت کی حمایت اور پاکستان مخالف اور (چین مخالف) جذبات کو تقویت دینا۔
 ▪      بین الاقوامی سطح پر طاقت کو مستحکم کرنا اور ہندوستان کے ان مفروضوں کو مؤثر انداز میں پروموٹ کرنا جن سے متعلقہ (مخالف) ممالک کی ساکھ کو نقصان پہنچایا جاسکے۔ یورپی یونین اور اقوامِ متحدہ جیسے بین الاقوامی اداروں کی مزید حمایت حاصل کرنا ۔
 (ای یو ڈس انفو لیب رپورٹ9دسمبر2020 صفحہ نمبر88)
 
انڈین انفارمیشن آپریشن(Info  Ops) کے طریقے
▪    اقلیت اور انسانی حقوق کی این جی اوزکی معاونت کرنا جیسے کہ بلوچوں کے حقوق سے متعلق تنظیمیں۔
▪     یورپی پارلیمنٹ کے ممبران کو ان اقلیتی گروہوں کی ادارہ جاتی حمایت کے لئے استعمال کرنا اور انہیں ہندوستانی مفاد کے حصول اور پاکستان (اور چین) کے خلاف استعمال کرنا۔
▪    جنیوا اور اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں ایک فعال موجودگی کودرج ذیل طریقوں سے یقینی بنانا۔
      -    اقلیتی حقوق کی حمایت میں پروگرام (سائیڈ ایونٹس) اور مظاہروں کا انعقاد۔
     -   اقوامِ متحدہ کی منظور شدہ این جی اوز (جومتروک ہو چکی تھیں) کا نام استعمال کرکے، اور مختلف غیر فعال این جی اوزکے سپیکنگ سلاٹس (Speaking Slots) کا استعمال کرکے مجوزہ اقلیتوں کے لئے یواین میں آواز اٹھانا۔
▪    برسیلز، جنیوا اور دنیا بھر میں جعلی میڈیا کی تشکیل یا موجود مبہم میڈیا نیٹ ورکس  جو تقریباً 95 ممالک میں موجودہیں،کا استعمال کیا گیا تاکہ وہ ممالک  جن کے انڈیا کے ساتھ تنازعات ہیں (بالخصوص پاکستان) ان کے بارے میں آن لائن منفی اطلاعات کی بھرمارکی جاسکے۔

(ای یو ڈس انفو لیب رپورٹ 9دسمبر 2020صفحہ88)
 
بلوچستان اور گلگت بلتستان نشانے پر
مجموعی طور پر اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل ہندوستان کے حق میں کی گئی سیکڑوں مداخلت(interventions)جن کا تعلق ان مشکوک NGOs سے تھا بڑی تعداد میں تنظیموں (بشمول، تھنک ٹینک، سیاسی جماعتیں۔۔۔)نے ان مشتبہ تنظیموں کوپلیٹ فارم مہیا کیا۔ جن میں بلوچ وائس ایسوسی ایشن، یورپی فائونڈیشن برائے جنوبی ایشین سٹڈیز(EFSAS) ، ورلڈ سندھی کانگریس، متحدہ کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی، (یوکے پی این پی) جموں کشمیر پیس اینڈ ڈیویلپمنٹ انسٹی ٹیوٹ، بلوچ پیپلز کانگریس، ورلڈ بلوچ ویمن فورم، گلگت بلتستان سٹڈیز، بلوچ ہیومن رائٹس کونسل(بی ایچ آر سی) پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) بلوچ طلباء تنظیم، بلوچ پیپلز کانگریس، بلوچ ری پبلیکن پارٹی، بلوچ وائس فائونڈیشن، جموں کشمیر نیشنل عوامی پارٹی شامل ہیں۔
اپنی تفتیش جاری رکھتے ہوئے ہمارے پاس یہ ثبوت موجود ہے کہ بلوچستان ہائوس اور سائوتھ ایشیاء ڈیموکریٹک فورم کے ڈومین نام Srivastava گروپ نے ہی رجسٹرڈ کرائے تھے۔ یہ دونوں تنظیمیں جنیوا میں منعقدہ سائیڈ ایونٹس (فنکشز وغیرہ) میں کافی سرگرم ہیں جو جنیوا میں فری بلوچستان کے پوسٹروں کی نمائش کے لئے بلوچستان ہائوس کافی مشہورہے جو ایک بڑے تنازعے کی وجہ بھی بنا۔
(ای یو ڈس انفو لیب رپورٹ9دسمبر2020 صفحہ نمبر26)
 
جھوٹی اور غیر فعال این جی اوز کو زندہ کرکے پروپیگنڈہ مہم میں استعمال کرنا

World Environment and Resources Council-WERC
انڈین کرانیکلز نے اس یورپی این جی او کو بھی نیا جنم دے کر اس کا غلط استعمال کیا۔ اسے WERC کے مرکزی موضوع سے متعلق خاص ایجنڈے کو پروان چڑھانے کے لئے بھی استعمال کیا گیا۔ 2018 میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں WERC کی جانب سے اظہار خیال کرتے ہوئے، ورلڈ سندھی کانگریس نے پاکستان میں ڈیم کی تعمیر کی مخالفت کی۔ اسے ANI نے ایک مضمون کے ساتھ ساتھ ایک ٹویٹر پیغام کے ذریعے بھی کورکیا۔

(ای یو ڈس انفو لیب رپورٹ9دسمبر2020 صفحہ نمبر19)


United Schools International-USI
ہم واضح طور پر اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ اقوام متحدہ میں یونائیٹڈ سکولز انٹرنیشنل کی سرگرمیوں کا انعقاد سری واستوا گروپ نے کروایا۔ یہ بات اس لئے خاص دلچسپ ہے کیونکہ USI میں کی گئی تقاریرمیں اکثر پاکستان کو ہدف تنقید بنایا جاتا۔ اس کے ساتھ ساتھ USIایک اورتھنک ٹینکEFSAS  (یورپین فائونڈیشن فار سائوتھ ایشین سٹڈیز) نامی  سمیت دیگر تنظیموں کو ایک باقاعدہ پلیٹ فارم بھی فراہم کرتا۔

(ای یو ڈس انفو لیب رپورٹ9دسمبر2020 صفحہ نمبر20)

Centre for Environment Management Studies-CEMS
یہ بات بھی دلچسپ ہے کہ ANI اور مقامی میڈیا کے دوسرے جعلی نیٹ ورک جو ANI کے مضامین کو پھیلا رہے ہیں، وہ سنٹر فار انوائرمینٹ اینڈ مین جمنٹ سٹڈیز کو "برطانیہ بیسڈ انسانی حقوق گروپ" کے طور پر پیش کرتے ہیں، جس کا سربراہ امجد ایوب مرزا ہے جس کا تعارف "POK (پاکستان کے زیرقبضہ کشمیر) کے سرگرم رکن" کے طورپر کرایا گیا ہے۔ امجد ایوب مرزا خود کو این جی او کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور "جموں کشمیر پیس اینڈ ڈویلپمنٹ انسٹی ٹیوٹ" کے کنسلٹنٹ کے طور پر پیش کرتا ہے۔ ANI نیوز ایجنسی کے کئی مضامین میں بھی اس کا نمایاں طور پر ذکر کیا گیا ہے۔ 
اصل این جی او کا مرکزی خیال/موضوع ماحولیات تھا جسے انڈین کرانیکلز نے پاکستان کو نقصان پہنچانے کے لئے ہائی جیک کرلیا۔ یہاں ایک ٹھوس مثال پیش کی جارہی ہے" سی پیک کے تحت ہمارے دریائوں کو ہائیڈروپاور منصوبوں کے لئے موڑا جا رہا ہے اور یہ منصوبے پانی کی کمی کا باعث ہونے کے ساتھ ساتھ ہمارے علاقے کے ماحولیاتی نظام کو ہمیشہ کے لئے تباہ کردیں گے۔ گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے سیکڑوں نوجوان قومی وسائل کی لوٹ مار کے خلاف احتجاج کرنے پر 70-90 سال کی قید کاٹ رہے ہیں۔"

(ای یو ڈس انفو لیب رپورٹ9دسمبر2020 صفحہ نمبر21)

Canners International Permanent Committee -CIPC
UNHRC میں اس تنظیم کی نمائندگی جنیوا میں موجود طلبا کی ذریعے ہوتی اور ان کا زیادہ تر موقف انڈیا کے حمایت میں اور پاکستان کی مخالفت پر مبنی ہوتا۔ CIPC نے "ہیومن رائٹس ڈیفنڈرز کے موضوع پر بھی ضمنی ایونٹس کا انعقاد کیا۔اصلی این جی او کے مرکزی خیال/موضوع  canned foods تھا۔ جسے انڈین کرانیکلز نے انسانی حقوق کونسل میں پاکستان کو نقصان پہنچانے کے لئے یکسر بدل کر رکھ دیا۔

 (ای یو ڈس انفو لیب رپورٹ9دسمبر2020 صفحہ نمبر22)
 
اقوام متحدہ کے ساتھ تسلیم شدہ(Accredited )  این جی اوز جن کو سری واستوا گروپ نے استعمال کیا۔
(مجموعی طور پر کم از کم دس تسلیم شدہ ایسی این جی اوز ہیں جن کو ہم سری واستواگروپ سے براہِ راست منسوب کرسکتے ہیں)
1۔    غیر منسلک سٹڈیز کا بین الاقوامی ادارہ (آئی این ایس)(شفاف روابط)
2۔    کمیشن برائے امن و امان کا مطالعہ(سی ایس او پی)(مخفی روابط)
3۔    انڈین کونسل آف ایجوکیشن آئی سی ای (شفاف روابط)
4۔    بین الاقوامی کلب برائے امن ریسرچ (آئی سی پی آر) (مخفی روابط)
5۔    عالمی ماحولیات اور وسائل کونسل (ڈبلیو ای آر سی) (مخفی روابط)
6۔    یونائیٹڈ سکول انٹرنیشنل یو ایس آئی (مخفی روابط)
7۔        افریقہ میں جمہوریت کی بین الاقوامی تنظیم (آئی اے ڈی اے) (مخفی روابط)
8۔    افریقی یونین برائے سائنس اور ٹیکنالوجیPAUFST(مخفی روابط)
9۔    کینئرز(Canners) بین الاقوامی مستقل کمیٹی سی آئی پی سی(مخفی روابط)    
10۔    سینٹر برائے ماحولیاتی اور انتظامی علوم سی ای ایم ایس (مخفی روابط)
(ای یو ڈس انفو لیب رپورٹ9دسمبر2020 صفحہ نمبر24)
 
سری واستوا (Srivastava) نیٹ ورک اور دیگر تسلیم شدہ این جی اوز کے مابین مطابقت اور روابط۔
افریقی علاقائی زرعی کریڈٹ ایسوسی ایشن (یا افریقی دیہی اور زرعی کریڈٹ ایسوسی ایشن)بھی ایسا ہی ایک دلچسپ معاملہ دکھائی دیتا ہے اور یہ بھی انہی این جی اوز کے ماحول سے منسلک نظر آتی ہے۔ بار بار پاکستان کو کمزور اور بدنام کرنے کے لئے انہی سٹوڈنٹ پول کا استعمال، ایسے معلوم ہوتا ہے جیسے حقیقی  AFRACA افریقہ میں سرگرم ہے۔ جنیوا میں غیر سرکاری تنظیم کے مبینہ نمائندوں کی تقریریں مکمل طورپر اپنے اصل مشن سے منقطع نظر آتی ہیں جو'' حکومت اور مالیاتی اداروں کے درمیان دیہی  اور زرعی کریڈٹ بینکنگ کے شعبوں میں تعاون کوترویج دینا تھا۔'' دلچسپ بات یہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیں پاکستان میں اقلیتیںAFRACA  کے پلیٹ فارم سے  بولتی ہیں۔ خاص طور پر (مہران بلوچ)  مہران مری جو بلوچستان ہائوس کے صدر کی حیثیت سے خدمات بھی انجام دے چکے ہیں۔ یہ تنظیم  Ankit Srivastava کی تخلیق کردہ ہے۔
(ای یو ڈس انفو لیب رپورٹ9دسمبر2020 صفحہ نمبر24)

International Club for Peace Research - ICPR
انٹرنیشنل کلب فار پیس ریسرچ (ICPR)کا   2012 تک
 (United Nations Economic and Social Council (ECOSOC کے ساتھ مشاورتی تعاون تھا اور اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے ساتھ جنیوا اور نیویارک میں منعقد ہونے والی ضمنی میٹنگز اور مظاہروں میں پاکستان میں انسانی حقوق کے حوالے سے باقاعدگی سے آواز اٹھاتی رہی۔ UNHRC میں اس کی نمائندگی جنیوا بیسڈ طلبا یا پھر پاکستانی اقلیتوں کے ذریعے کی جاتی، اور ان کا زیادہ تر بیانیہ انڈیا کی حمایت جبکہ پاکستان کی مخالفت میں ہوتا۔

(ای یو ڈس انفو لیب رپورٹ9دسمبر2020 صفحہ نمبر18)

 Pan African Union for Science and Technology - PAUFST 
تنظیم کی ویب سائیٹ ڈومین  20 (pafust.com) جنوری 2016 کو اسی روز رجسٹرہوئی جب اس طرح کی دوسری این جی اوز کی ڈومین ناموں کا اندراج ہوا اور اسے بھی سری واستوا کی ملکیتی دوسری ویب سائیٹس کے ساتھ اسی IP ایڈریس پر چلایا گیا۔ پروفیسر ایڈورڈ ایس آئینسو Prof. Edward S. Ayensu کانام استعمال کرکے اس کی ویب سائٹ ڈومین کو رجسٹرڈ کیاگیا۔ حالانکہ پروفیسر موصوف کا اس ادارے سے اُن دنوں کوئی تعلق نہیں تھا۔ لہٰذا اس تنظیم کے معدوم ہونے کے بعد انڈین کرانیکلز نے اسے دوبارہ جنم دیا۔

(ای یو ڈس انفو لیب رپورٹ9دسمبر2020 صفحہ نمبر22)
 
اقوامِ متحدہ سے منسلک این جی اوز کے علاوہ سری واستوا گروپ سے منسلک این جی اوز  SADF- South-Asia Democratic Forum
SADF نے لابنگ پروگراموں میں بھی حصہ لیا۔  ہمیں دوسرے ایسے کئی زیرِ انتظام  پروگراموں میں ایس اے ڈی ایف کی شرکت کے آثار ملے ہیں جن کا تعلق گروپ سری واستوا سے ہے جیسا کہ بلوچستان ہائوس ۔ SADF نے ایسی تقریب کے انعقاد میں بھی حصہ لیا جو یورپی یونین کی معاشی اور سماجی کمیٹی کے سابق  صدرہنری مالوس (Henri Malosse) کی طرف سے منعقد کی گئی جو انڈین کرانیکلز میں ایک اہم شخصیت سمجھی جاتی ہے۔ اس تقریب میں ایک پینلسٹ (Panellist) کوبھی شامل کیاگیا جس کا تعلق WESTT سے تھا۔ اس کو مدی شرما (بانیWESTT) نے نیو دہلی ٹائمزکے یورپی یونین رپورٹر کے طور پر رپورٹ کیا۔ یاد رہے کہ  WESTT سری واستوا میڈیا گروپ کےNew Delhi Times اخبار کی آؤٹ لٹ ہے۔ اُس کے مضمون کا عنوان تھا '' یورپی یونین کی ٹیکسٹائل انڈسٹری کو پاکستان نے مکمل طور پر تباہ کردیا۔'' 
(ای یو ڈس انفو لیب رپورٹ9دسمبر2020 صفحہ نمبر28)
 
جعلی ای یو کرا نیکل اور ممبر یورپی پارلیمنٹ کا کشمیر اور مالدیب کا دورہ

ایس اے ڈی ایف بھی ایک ایسی تنظیم تھی جو مختلف ٹرپس(trips) آرگنائزیشن کرنے کے لئے معاونت کرتی رہی۔ جس میں مالدیپ کے متنازعہ غیر سرکاری دورے بھی شامل ہیں۔ یہ وہی تنظیم ہے جس نے جنیوا کے سفر کے لئےMEP Thierry Marianis ممبر یورپی پارلیمنٹ کو رقم بھی دی تاکہ جموں کشمیر کے بارے میں پریس کانفرنس میں شرکت کرسکے۔ اس پریس کانفرنس کو سری واستوا گروپس، 4 نیوز ایجنسی اور ٹائمزآف جنیوا (Times of Geneva)نے کور کیا۔
مدی شرما (Madi Sharma) جو کہ(Women's Economic and Social Think Tank)  WESTT کی بانی ہیں اور ہماری تحقیقات میں بار بار سامنے آتی رہی ہیں۔ وہ مالدیپ کے متنازعہ دورے کا حصہ تھیں جس میں MEPs (ممبر یورپین پارلیمنٹ) بھی شامل تھے اس کی تنظیم ان ٹرپس کا انعقاد کرتی تھی۔
WESTT ایک ایسی تنظیم تھی جس نے سری واستواگروپ کی تنظیم IINS (International Institute of Non-  Aligned Studies) 
کے ساتھ باہم مل کر MEPs کے اکتوبر 2019 میں جموں اور کشمیر کے دورے کے لئے بھی معاونت کی تھی۔ جسے بڑے پیمانے پر پریس نے کور کیا۔ مدی شرما ،  سری واستوا گروپ کے اخبار' نیو دہلی ٹائمز 'کے لئے یورپی یونین کی باضابطہ نامہ نگار ہیں۔ممبر یورپین پارلیمنٹ MEPsکے کشمیر کے دورے کے بعد اخبار  'India Today'نے تحقیقات کا انکشاف کیاکہ WESTT نے جس این جی او کانام اپنی ویب سائٹ پر مشتہر کیا تھا اُس کاUK میں کوئی وجود ہی نہیں تھا۔ 

(ای یو ڈس انفو لیب رپورٹ9دسمبر2020 صفحہ نمبر28)

 

ہم نے کم سے کم دس واقعات گنوائے جیسے جنیوا میں اقوامِ متحدہ UN  بروکن چیئر (Broken Chair) کے سامنے مظاہرے ، نیویارک میں یواین کے باہر مظاہرے، کیپیٹل ہل واشنگٹن، ڈی سی میں 'اوٹاوا(Ottawa)  میں پاکستان ایمبیسی  کے سامنے تقاریب کا انعقاد، برسلز Brussels اور Strassbourgمیں یورپین پارلیمنٹ کی میزبانی میں کانفرنسز کا انعقادبھی بلوچستان ہائوس منعقد کرتا ہے۔ جنہیں MEPs کی معاونت حاصل ہوتی ہے جو انڈین تواریخ (Chronicles) سے منسلک ہیں۔ جیسے کہMEP Czarnecki اور MEP Martuciello اور سابقہMEP Paolo Casaca ( جو اب SADF تھنک ٹینک کا سربراہ ہے) ان تقاریب میں عام طور پر پاکستان کی خارجہ پالیسی پر اور چین کی خارجہ پالیسی پر تنقیدکی جاتی ہے یاپھر دونوں پر تنقید ہوتی ہے۔

 

(ای یو ڈس انفو لیب رپورٹ9دسمبر2020 صفحہ نمبر27)
 
بین الاقوامی کونسل برائے بین المذاہب تعاون (آئی سی آئی آر سی) The International Council for Inter- Religious Cooperation- ICIRC
(مذموم مقاصد حاصل کرنے کے لئے مذہب کا استعمال)
 آئی سی آئی آر سی(ICIRC) کو بیلجیم میں 2009 میں  پرمیلا (Pramila) اور انکیت سری واستوا نےSquare de Meeus 37 میں قائم کیا تھا۔جوکہ  EP Today اور برسلز میں سری واستوا گروپس کاموجودہ پتہ برسلز میں ہے آئی سی آئی آر سی جو کہ انٹرنیشنل امام آرگنائزیشن کی بنیادی تنظیم ہے جس کو بھی انکیت سری واستوا نے 2011 میں قائم کیا جو آج بھی فعال ہے۔ جو اپنی شناخت مسلمانوں کے لئے ایک ایسے پلیٹ فارم کے طور پر کررہی ہے جو قرآن کی تبلیع میں شامل ہے۔
(ای یو ڈس انفو لیب رپورٹ9دسمبر2020 صفحہ نمبر29)
پاکستانی اقلیتوں کے لئے یورپین تنظیم (EOPM)
EOPM کو ہماری پہلی تفتیش میں بیان کیا گیا ہے۔ یہ تنظیم سری واستوا گروپ کے ذریعے تشکیل دی گئی تھی اور بنیادی طور پر پاکستانی اقلیتوں کے بارے میں مظاہروں اور پروگراموں کے انعقاد کی انچارج تھی۔ جس نے سری واستوا کے زیر انتظام ایک اور تنظیم کے ساتھ باہم بہت قریب رہ کر کام کیا۔ جسے پاکستانی خواتین کی انسانی حقوق کی تنظیم (Pakistani Woman Human Rights Organization)کہا جاتا ہے۔
(ای یو ڈس انفو لیب رپورٹ9دسمبر2020 صفحہ نمبر29)
 
غلط وڈیو فوٹیج کے ذریعے گمراہ کرنا
ای یو کرونیکل EU Chronicleکی طرف سے ٹویٹ کی گئی ویڈیوز میں پائے جانے والی کچھ فوٹیج جنیوا کی تنظیم 4 New Agency کی ویڈیوز سے کچھ ملتی جلتی ہیں۔ جنہیں ہم اپنی گزشتہ تحقیقات کے دوران سری واستو گروپ سے جو ڑ چکے ہیں۔
(ای یو ڈس انفو لیب رپورٹ9دسمبر2020 صفحہ نمبر40)
 
ANI کے ذریعے جعلی سٹوریز کو میڈیا میں پھیلانا
کچھ ہندوستانی میڈیا آئوٹ لٹس جو ANI نیوز ایجنسی کے مواد کو دوبارہ استعمال کرتے ہیں، وہ جعلی یورپی یونین میڈیاEU Chronicle  سے حقیقت میں باقاعدہ ایمپلی فائربن جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر  (Business BW World) ایک میگزین تھا اور پہلےABP گروپ کی ملکیت تھا۔ اس نے ANI کے کم ازکم 8  مضامین دوبارہ شائع کئے اسی طرح ڈیمانڈ پر موجود ویڈیو سروسZEE5 جس کے فیس بک پر 2.1 ملین فالورز ہیں۔ ANI کی جانب سے اس کی اہم ویب سائیٹس پر 9 نیوز رپورٹس شائع کی گئی ہیں جن کو ای یو پہلے شائع کر چکا تھا۔
(ای یو ڈس انفو لیب رپورٹ9دسمبر2020 صفحہ نمبر46)
 
 یقینی طورپر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہم نے بھی EUکے بعض گزشتہ اداریئے اور کالم دیکھے جو انڈین ذرائع ابلاغ کے پلیٹ فارم سے از سرِنو شائع کئے جارہے تھے۔
18 ستمبر کوBusiness Standard (جس کے دو ملین فالورز ٹویٹر پر موجود ہیں) نے ایک ANI رپورٹ شائع کی جس کی بنیاد EU Chronicle کا ایک آرٹیکل تھا، جس کا عنوان تھا کہ MEPs نے یورپی یونین پر زور دیا ہے کہ وہ چائنہ میں ہونے والے انسانی حقوق کی پامالیوں پر سخت ایکشن لے۔
 The Times of India( جس کے 13.201m فالورز ٹویٹر پر موجود ہیں) نے 14 اکتوبر کو ایکANI شائع شدہ ممبر یونین پارلیمنٹ Fluvio Martusciello کے آرٹیکل کو شائع کیا جو اس سے بھی پہلے ای یو کرانیکل نےOp-edکے طور پر چھاپا تھا اور جس کا عنوان  ''پاکستان کشمیر کے موجودہ بحران کا ذمہ دار ہے۔''تھا۔
 (ای یو ڈس انفو لیب رپورٹ9دسمبر2020 صفحہ نمبر47)
 
انکت سری واستوا آپریشن کا مرکزی کردار
اس آپریشن کے شروع سے ہی Mr Ankit کا شمار مرکزی کرداروں میں کیا جاتا ہے۔یہ سری واستو گروپ کا وائس چیئر مین ہے اور نیو دہلی ٹائمز کا مدیراعلیٰ ہے۔ نیو دہلی ٹائمز ہندوستان کے اندر ایک نمایاں حیثیت کا اخبار ہونے کا دعویدار ہے۔
 مجموعی طور پر ہمیں400سے زائدDomain name   ملے ( یہ تمام انڈین کرانیکل سے منسلک نہیں ہیں) جوسری واستو کے ذاتیemail  سے خریدے گئے یا ان اداروں کے email سے جو ان کی کمپنی سے منسلک ہیں ۔
اسی طرح ان کی بزنس پروفائل کے مطابق یہ ان بہت سی آرگنائزیشن میں بطورCEO کام کرتے ہیں جو Srivastava گروپ سے منسلک ہیں۔
مزید یہ کہMr Ankit سیاسی و بین الاقوامی منظر نامے پر خاصے متحرک ہیں جیسا کہ انہوں نے 1999 میں جنیوا کے اندر ہونے والی اقوامِ متحدہ کی میٹنگ میں شرکت کی اورSrivastava تھنک ٹینک جیسے IlNS اور انڈین کونسل آف ایجوکیشن کی نمائندگی کی ۔
Mr Ankit نے AN Consultکی بنیاد رکھی جو کہ ایک مشاورتی ادارہ ہے اور مبینہ طور پر جنیوا اور برسلز میں کافی متحرک ہے ۔ یہی کمپنی Public affairs  اورSpecial operation میں وسیع تجربہ رکھنے کی دعوے دار ہے۔
 Mr Ankit (ICIRC) انٹرنیشنل کونسل برائے بین المذاہب تعاون کے بانیوں میں سے ہیں جس کا تذکرہ EP Todayمطبوعہ نقول میں بھی ہے۔ EP Today کا ایک ایڈریس ہے جہاں پر کوئی شخص اپنی سبسکریپشن بھیج سکتا ہے یاد رہے کہ یہ میگزین جعلی ہے اور اس سری واستوا  گروپ کا تعلق متعدد ڈومین کے ساتھ ہے۔
(ای یو ڈس انفو لیب رپورٹ9دسمبر2020 صفحہ نمبر74)
 
بہت سی تنظیموں اور ویب سائٹس کے ذریعے اپنی مصنوعی ساکھ کو قائم کرنااور اصل شناخت کو چھپانا
انڈین کرانیکل آپریشن  کے ایک خاصے  بڑے حصے کی بنیاد اس بات پر ہے کہ وہ مختلف آرگنائزیشن (جو باہم منسلک ہیں) کے پروپیگنڈے کے ذریعے ایک مصنوعی  فضا قائم کریں اور ایک دوسرے کی دی گئی معلومات اور خبروں کی تصدیق کریں۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ ان میں سے بہت سی آرگنائزیشن صرف نام کی حد تک ہی انٹر نیٹ پر موجود ہیں۔ یہ آرگنائزیشن اپنے باہمی روابط کو خفیہ رکھتی ہیں اور اس سے متعلق کسی بھی خبر کو منکشف نہیں ہونے دیتیں۔ یہ تنظیمیں اپنے وجود کی بقاء کے لئے قانونی جواز تلاش کرتی ہیں اور اس مقصد کے لئے ایک مصنوعی فضا تشکیل کرتی ہیں اور یہ صرف  اسی صورت میں ممکن ہے کہ ان کا نیٹ ورک اتنا بڑا ہو کہ دنیا کی نظروں میں دھول جھونک سکے۔
(ای یو ڈس انفو لیب رپورٹ9دسمبر2020 صفحہ نمبر72)
 
 "لوئس شون سے "لوئس سوہن" تک: ایک چونکا دینے والا انکشاف

csopus.com ڈومین جس نام سے رجسٹرڈ ہوئی وہ لوئس شون ہے۔ اس نام کے حوالے سے پہلے تو ہمیں کوئی آن لائن ٹریسز نہ مل سکے۔ تاہم ہم نے اپنے نیٹ ورک میں لوگوں کے ناموں کے ہجے بار بار تبدیل ہونے کا رجحان دیکھا۔ (جیسا کہ اس رپورٹ میں مزید مثالیں دی گئی ہیں۔)

"لوئس شون" سے مراد "لوئس سوہن" یا "لوئس بی سوہن" ، سابق چیئرمین کمیشن ٹو سٹڈی آرگنائزیشن آف پیس(CSOP) ہے۔ لوئس سوہن کو "امریکہ میں بین الاقوامی انسانی حقوق کا بابا" خیال کرتے ہوئے ہم نے اس رپورٹ کا انتساب اس کے نام کیا ہے۔

یاد رہے کہ "لوئس شون" عرف لوئس سوہن کا نام 2007 میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کے ایک سیشن میں CSOP کے نمائندے کے طور پر شرکت کے لئے درج کیا گیا تھا لیکن وہ اس میں شریک نہ ہوسکے کیونکہ 2006 میں ان کا انتقال ہوچکا تھا۔ اسی طرح، "ڈاکٹر لوئس بی شون کا نام جولائی 2011 میں واشنگٹن ڈی سی میں انسٹی ٹیوٹ برائے گلگت  بلتستان سٹڈیزکے زیر اہتمام ہونے والی ایک تقریب "یورپین پارلیمنٹ میں فرینڈز آف گلگت بلتستان کے چیئرپرسن Jrgen Creutzmann کے ساتھ ایک شام" کے شرکا کی فہرست میں بھی درج تھا۔

 

(ای یو ڈس انفو لیب رپورٹ9دسمبر2020 صفحہ نمبر15)
 
سپیلنگز میں معمولی ردو بدل کے ذریعے شناخت کا دھوکہ دینا
ہم نہیں سمجھتے کہ یہ باقاعدہ طور پر کام کرنے والے کی ایک باقاعدہ غلطی ہے بلکہ یہ کنفیوژن پیدا کرنے اور اصل ایجنٹوں کا سراغ ختم کرنے کے لئے استعمال ہوتے تھے، یہ ہمیںLouis Shon کے نام کے ساتھ شروع میں دکھائی گئی۔جس کا اصل نام Louis Sohn تھااس کو  رپورٹ کے متوازی رکھ کر دیکھنا ہوگا کہ کیسے اصل نام تبدیل کرکے دھوکہ دیاگیا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ICPRکی ڈومین "J.MFouatie" کے نام سے رجسٹر ہوئی، جو انٹرنیشنل کلب فار پیس ریسرچ (ICPR)کے اصل سابق نمائندے (J. MFouatie) کا حوالہ دیتی ہے۔ ان کی LinkedIn پر موجود معلومات کے مطابق 1998-99 J. MFouatie  تک ICPR سے منسلک رہے اور 2000 سے اقوام متحدہ کے ساتھ کام کرتے چلے آرہے ہیں۔ اپنے نام کی ڈومین درج کرواتے ہوئے ان سے ہجوں میں اتنی بڑی غلطی کا احتمال تک نہیں ہوسکتا لہٰذا ہم سمجھتے ہیں کہ انڈین کرانیکلز نے کسی دوسرے کی شناخت کو ایک مرتبہ پھر ہائی جیک کرلیا۔
یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ICPR کے آرکائیو کے مطابق اس ویب سائیٹ کو 2004 میں بنایا گیا، جو کہ غلط ہے۔ اس کے "About Us" سیکشن میں فروغ امن اور مدرٹریسا کا حوالہ دیا گیا، یہاں افریقہ میں امن اور انسانی حقوق سے متعلق ماضی کی تقریبات اور میٹنگز کی ایک فہرست موجود ہے تاہم اس کے "news" ، "pictures"اور "demonstrations" سیکشنز صرف اور صرف پاکستان میں انسانی حقوق سے متعلق ہیں۔ دو پریس ریلیزوں میں اس تنظیم کے جو ای میل ایڈریس استعمال ہوئے ہیں قوی امکان ہے کہ وہ میڈیا کے دو جعلی ناموں John Mathew اور James Harper سے منسوب ہیں اور انہیں انکت سری واستوا نے اپنے مقصد کے لئے استعمال کیا ہے۔
(ای یو ڈس انفو لیب رپورٹ9دسمبر2020 صفحہ نمبر19-18)
 
سری واستوا گروپ سے جڑے آئی پی ایڈریس


 

مدی شرما۔ ایک مشکوک کردار
EP Today  کی رپورٹ کے ذریعے انڈین کرونیکلز میں مدی شرما کے کردار کا بھرپور ذکر آچکا ہے اعادہ کے طور پر، مس شرماMEPs کو بلانے، نجی ملاقاتیں کروانے اور ان کو سرکای رنگ دینے میں کلیدی کردار اداکرتی رہی ہے۔ ان ملاقاتوں میں بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی کے ساتھ(IINSکے اشتراک سے) ہونے والی ملاقات کے علاوہ مالدیپ کا دورہ بھی شامل ہے۔ مس شرما EP Today کی باقاعدہ لکھاری رہ چکی ہے۔ اور اس کاNGO WESTT کا عملہ بھی جھوٹے  EP میڈیا آئوٹ لیٹس کے لئے مضامین لکھتا رہا ہے۔  وہ نیو دہلی ٹائمز کی یورپین یونین نمائندہ کے طور پر بھی کچھ مضامین میں متعارف ہوتی رہی ہے جو کہ بھارت کاایک مشکوک میگزین ہے اور سری واستوا گروپ کی ملکیت ہے۔
 
 
 
 

 
(ای یو ڈس انفو لیب رپورٹ9دسمبر2020 صفحہ نمبر77)
 
جعلی صحافی، جعلی ای میل ایڈریس
انفارمیشن آپریشن(Info Ops)کی ایک خاصیت ویب سائٹ کے ڈومین کے لئے بہت سارے افراد اور ای میل ایڈریس کا استعمال کرکے اپنی شناخت کو چھپانا ہے۔ مثال کے طور پر  [email protected]  کو COPUS کی ڈومین کا اجراء کرانے کے لئے مندرجہ ذیل بہت سارے افراد کا ای میل ایڈریس اور نام استعمال کیا۔
▪     لوئیس شان    (Louis Shaon)
▪     راول میکزی    (Raul Mckenzae)
▪     راہول ملہوترا (Rahoul Malhotra)
▪     مارٹن رٹوکز    (Martin Rutowicz)
▪     ریاض ملک    (Riyaz Malik)
▪     ریاض خان    (Riyaz Khan)
▪     رحیم جعفر    (Rahim Jaffer)
▪     احمدالیاسی    (Ahmed Alyasi )
▪     مسعودہ جلال    (Massouda Jalal )
ایک اور مثال ماریہ رٹوکز کی ہے جس کا اصل نام مارٹن ہو سکتا ہے اس کا تعلق 
▪  [email protected]        
▪ [email protected]        
▪ [email protected]
وغیرہ سے تھا)
اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کس طرح اور کتنی بار انڈین کرونیکلز نے نام، ای میلز اور آرگنائزیشنز بدل بدل کے لوگوں کو بے وقوف بنایاہے۔ ہماری تحقیقات کی روشنی میں اس کے کچھ کردار جیسے کہ چارلس فورسپس ریکاڈو کیرویو اور رائول میکنزی ہیں ،کا کہیں کوئی وجود نہیں ہے اور یہ صرف جھوٹے کردار تھے۔ اس کے علاوہ ان فرضی کرداروں میںلوئس شان، ماریوسلوا، رائول میکنزی، راہول ملہوترا وغیرہ شامل ہیں تحقیقات کے دوران ہمیں ایک اور فرضی کردار بھی پتہ چلا جو خود کو UK میں موجود انوسٹی گیٹو جرنلسٹ کہلواتا اور جیمز ڈگلس کرکٹن کے نام سے موسوم ہوتا۔ ہمیں اس کی حقیقت  اور موجودگی کا بھی کوئی سراغ نہیں ملا۔ ماسوائے ان op-ed  کے جو جنوبی ایشیا کے مسائل کی کوریج کرتے ہوئے دکھائی دیئے۔ اس کے کئے گئے دعوئوں میں سے ایک پاکستان کے بارے میں تھا جسے بھارتی اور پاکستانی میڈیا نے کور بھی کیا۔ حالانکہ اس کے وجود کی کوئی بھی مصدقہ گواہی میسر نہیں آئی جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کس طرح انڈین کرونیکلز میں اطلاعات کو توڑ مروڑ کر پیش کیاگیا ۔
(ای یو ڈس انفو لیب رپورٹ9دسمبر2020 صفحہ نمبر78- 77)
 
بین الاقوامی اداروں میں لابنگ کرنے  کے لئے فعال کردار  
ان جھوٹی، فرضی اور ذیلی آرگنائزیشن کے متوازی، انڈین کرونیکلز نے ان تنظیموں کی فہرست تیار کرنے میں اہم کردار ادا کیا جو بین الاقوامی اداروں میں باقاعدہ مالی طور پراثرانداز ہوسکتی تھیں۔ان میںWESTT,SADFجیسے تھنک ٹینک اور کچھ این جی اوز جو پاکستانی اقلیتوں اور خواتین سے متعلق تھیں جن کا یورپین یونین آرگنائزیشنز سے تعلق تھا، اورکچھ غیر رسمی MEPs کے گروپ تھے جن میں سائوتھ ایشیا پیس فورم، فرینڈز آف گلگت بلتستان شامل تھے۔ ان سب کواس لئے استعمال کیاگیا تاکہ EUکے منتخب اراکین تک رسائی حاصل کی جاسکے۔اس طرح انڈین کرونیکلز پالیسی وضع کرنے والے اداروں تک رسائی حاصل کرکے بھارتی مفادات کے لئے کام آتا رہا۔
(ای یو ڈس انفو لیب رپورٹ9دسمبر2020 صفحہ نمبر80)
 
Internsطلباء کے ذریعے اپنی شناخت چھپانا 
زیرِ تربیت طلباء کابے تحاشا استعمال بھی کیا گیا جو بظاہر فرضی آرگنائزیشنز کی نمائندگی کرتے دکھائی دیتے تھے ۔ یہ تنظیمیں ظاہری طور پر UN اور برسلزمیں کام کررہی تھیں۔ ان کا طریقہ ہائے واردات بھی طشت ازبام ہوا ہے۔ مثلاً ہمیں پتہ چلا کہ بیشترزیرِ تربیت طلباء انڈین کرونیکلز کی طرف سے تعینات کئے تھے، وہ جنیوا میں موجود یونیورسٹیوں میں پڑھ رہے تھے۔ برسلز  میں بھی اسی طرح کی جھوٹی آرگنائزیشن تھیں جوبین الاقوامی ہیومن رائٹس میں کینٹ یونیورسٹی سے وابستہ تھیں۔  ہمارا خیال یہ ہے کہEUکرونیکلز کے ساتھ منسلک کرداروںنے طلباء کواقوامِ متحدہ میں کور کے طور پر بولنے کے لئے استعمال کیا تاکہ ان کے پیچھے بھارتی سراغ لگانا ممکن نہ ہو سکے۔ یہ طلباء انفارمیشن کو مزید اور بھرپورطریقے سے توڑ موڑ کرنے کے لئے استعمال ہوئے۔
(ای یو ڈس انفو لیب رپورٹ9دسمبر2020 صفحہ نمبر81)
 
دو مختلف اداروں (UN) اور (EU) کے لئے پروپیگنڈا مواد کی تیاری
برسلز میں شائع شدہ مواد ممبر یورپین پارلیمنٹ سے مل اور ان کے لئے تیار کیا گیا۔ یہ مواد بطورِ پارلیمانی سوالات اور مضامین کے طور پراستعمال کیا گیا۔ اور ان کو بسا اوقات انڈین کرونیکلز کے ذریعے تیار کروا کر پوری پارلیمنٹ کے ممبران (MEPs) کے ذریعے استعمال میں لایاگیا۔ یہ مواد EU ChronicleاورEP today  کے ذریعے شائع کیاگیا اس طرح ان اداروں نے میڈیا کے اداروں کے بجائے لابنگ کرنے والے اداروں کا کردار ادا کیا۔MEPs کے ذریعے پیدا کردہ مواد میں 'پریس کانفرنس، مختلف تقریبات اور مشکوک وفود جن میں MEPsکوبھی استعمال میں لایاگیا' بھی شامل تھے۔
جنیوا میں بھیUNHRC  کے ما تحت کام کرنے والی NGOsکا مہیا کردہ مواد بھی کھنگالا گیا ہے۔ اس مواد میں سیمینار، پریس کانفرنس اور احتجاج شامل ہیں جوانڈین کرونیکلز اوریاNGOs  اور تھنک ٹینکس کا پیدا کردہ تھا۔ جس کا مقصد بین الاقوامی سطح پر بھارت کے لئے حمایت حاصل کرنا تھا اور یہ کہ دنیا کی سطح پر اور اندرونی طور پر بھارت کو ایک مضبوط ملک دکھایا جاسکے۔ اور پاکستان کے خلاف فیصلے  اور قرار دادیں لائی جاسکیں۔
اس سب کا ایک ہی مقصد تھا کہ اصل بات چھپائی جائے MEPsاورEU سے آنے والی امدادبڑھائی ، یا مسخ کی جائے ،تاکہ بھارتی نقطہ نظر کے ساتھ وہ مطابقت رکھ سکے اور برسلز میں بھی لابنگ(Lobbyig) کی جاسکے۔
 (ای یو ڈس انفو لیب رپورٹ9دسمبر2020 صفحہ نمبر82)
 
بھارتی Info- Ops کا مؤثر پن
 Ben Nimmo کے سکیل کے مطابق ہم انڈین کرونیکلز کو کیٹیگری 6 میں شامل کرتے ہیں جو سب سے بڑادرجہ ہے،  اس لئے اس کی اہمیت کے مطابق بین الاقوامی اداروں کو اس کا نوٹس لینا چاہئے کہ کیسے اتنے بڑے پیمانے پر اتنا بڑا آپریشن کیاگیا۔ 
 (ای یو ڈس انفو لیب رپورٹ9دسمبر2020 صفحہ نمبر85)
 
بھارتی ریاست خفیہ ایجنسی 'را' اور اگلایا کا گٹھ جوڑ
2016 میںVICE نے انکشاف کیا کہ نئی دہلی میں موجود اگلایا کمپنی نے کس طرحISS World کانفرنس2014 میں بروشر تقسیم کئے تھے، ان کاغذات کے مطابق انڈین کمپنی نے اپنی ہیکنگ، جاسوسی کے آلات اور انفارمیشن وار فیئر کے لئے اپنی خدمات پیش کیں۔ بروشر کے مطابق 8 سے12 ہفتوں کی اس مہم پر2500 یورو یومیہ خرچہ آئے گا جس کے عوض کمپنی نے انٹر نیٹ ،  سرچ رزلٹ کو پراگندہ کرنا ، فیس بک اور ٹویٹرجسے سوشل نیٹ ورک پر کرنٹ ایونٹس پر منفی طور پر اثراندازہونا شامل ہے۔ بھارتی کمپنی نے اس ذریعے سے معلوماتی جنگ لڑنے اور جاسو سی کے آلات استعمال کرنے کی استعداد کا دعویٰ کیا۔اور اس کو  Weaponized Information  کا نام دیاگیا جس کے تحت اگلایا نے دراندازیruse  اورSting آپریشن کا وعدہ کیا جس سے ٹارگٹ کو بدنام کیاجا سکتا تھا اوراگلایا بروشرنے ملکی سطح پر بدنام کرنے کی صلاحیت کا ذکر بھی کیا ہوا تھا۔اگلایاکا مالک انکورسری واستوا ہے جونئی دہلی میں ایک ہی ایڈریس پر رجسٹرڈ ہے ایک اور مضمون میںVICE نے بتایا کہ کس طرح اگلایا نے اپنی خدمات کوCyber Nukes کا نام دیاتھا ۔ اگر ان میں سے کچھ باتیں مبالغے پر مبنی ہیں تو لیک کی جانے والی ای میلز سے پتہ چلتا ہے کہ انکورسری واستوا بدنام زمانہ اٹالین جاسوسی اور ہیکنگ کمپنیSurveillance and Hacking Companyکے ساتھ روابط میں تھا۔ یہ بھی اس کے ساتھ رابطے میں تھی۔فوربز میں چھپنے والے ایک اور مضمون میں حکومت کی خفیہ سرگرمیوں کے بارے میں بھارتی سرکار کے ساتھ ANIکے مبہم تعلقات  پر لکھا تھاکہ تھامس برولیسٹرنے مجھے بتایا  ہے کہ اس نے بھارتی انٹیلی جنس ایجنسیز کو یہ معلومات بیچی تھیں۔
(ای یو ڈس انفو لیب رپورٹ9دسمبر2020 صفحہ نمبر86)
 
بھارتی ریاست، خفیہ ایجنسی 'را'  سری واستوا گروپ اور اے این آئی کے سازشی تانے بانے
ANI نیوز ایجنسی کا ہمارے تحقیقاتی مشن میں کلیدی کردار ہے۔ جس نے مواد اکٹھا کرنے اور Info opsکو کھنگالنے کا کام کیا۔ اس سے کئی سوال اٹھے۔ اول یہ کہ ایک بین الاقوامی نیوز ایجنسی کیوں مبہم اورفرضیoutlets کے ذریعے پہلے سے شائع شدہ مضامین چھاپ رہی ہے، (ان میںEP Today اور EU Cronicles شامل ہیں) جو کہ ان کا مواد دوبار لکھ کر بھارتی پراپیگنڈے کے لئے سپورٹ حاصل کررہی ہے۔ دوم یہ کہ ANI کیوں منعقد ہونے والے مظاہروں کی باقاعدگی سے کوریج کرتی ہے جو یورپین شہروں میں وہ NGOs منعقد کراتی ہیں، جن کا کوئی وجود ہی نہیں۔ ان تمام سوالوں کا کوئی ایک بھی جواب ہم واضح طور پر نہیں دے سکیں گے۔ ابھی تک یہ بات بہت ضروری نظر آتی ہے کہ یہ بات کھل کر بتا دی جائے کہ ANIنیوز ایجنسی سالوں تک بھارتی سرکار کے ساتھ رابطے میں تھی۔ انڈین میگزین The Caravanکی طرف سے ایک طویل تحقیق یہ ثابت کرتی ہے کہ ANI کی بانی پرکاش فیملی کس طرح اَنا راماموہن (سابقہPIO) کی فیملی میں شادی ، ان دونوں کی قربت کا باعث بنی۔ رائو راماموہن چار بھارتی وزیرِاعظم کا پی آئی او رہا۔ The Caravan کے ایک مضمون کے مطابق رائو نے چار سال 'را 'کے ساتھ بھی کام کیا اور اس وجہ سے ANI نے کئی عشروں پر محیط بھارتی سرکار کے ساتھ گہرے مراسم پید اکئے۔
(ای یو ڈس انفو لیب رپورٹ9دسمبر2020 صفحہ نمبر87)
 
انڈین کرونیکل ، سازشی کرداروں اور خفیہ اداروں کا بین الاقوامی  احتساب ضروری
ہم انڈین کرانیکلز کے تسلسل کو دیکھ کر چونک گئے ہیں اور ہماری پہلی رپورٹ کی اشاعت اور وسیع پریس کوریج کے باوجود اس نے اپنے 15سالہ طویل آپریشن کو آگے بڑھایا اور حال ہی میں ایک یورپی یونین کرانیکل بھی لانچ کیا جو کہ یورپی یونین کی ایک جعلی برانچ ہے۔
یہ سب کچھ سامنے آنے کے بعد فیصلہ سازوں کے لئے ضروری ہو جاتا ہے کہ وہ ایک ایسا فریم ورک سامنے لے کر آئیں جس سے بین الاقوامی اداروں کا منفی استعمال کرنے والے عناصر پر پابندیاں عائد کی جاسکیں۔
یہ ممکن ہے کہ ان بین الاقوامی اداروں کے انڈین کرانیکلز سے متاثر ہونے سے متعلق آواز اٹھائے جانے کی عدم موجودگی نے اس آپریشن کو موقع فراہم کیا کہ  یہ دوبارہ تقویت پکڑے اور جو کچھ کیا جا رہا تھا اُسی ڈگر پر چلتا رہے۔ ہمارا یہ بھی ماننا ہے کہ بدنیت عناصر کی جانب سے سرچ انجن کا ایک ہی مواد کے لئے سیکڑوں بار غلط استعمال کرنے کے امکان کو بھی چیلنج کیا جانا چاہئے۔
(ای یو ڈس انفو لیب رپورٹ9دسمبر2020 صفحہ نمبر88)
 

یہ تحریر 396مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP