قومی و بین الاقوامی ایشوز

ای نظامِ تعلیم۔ دورِ جدید کی ضرورت

ترقی یافتہ قوموں کی ترقی کا مطالعہ کیا جاے تو معلوم ہو گاکہ ان کی ترقی کی بنیاد مضبوط تعلیمی نظام پر ہے۔جاپان، جرمنی، کینیڈا، امریکہ، جنوبی کوریا اور ہالینڈ ان ممالک میں سر فہرست ہیں۔ ترقی پذیر ممالک ٹیکنالوجی کے حصول کے لئے ان ممالک کی مدد حاصل کرتے ہیں اور تعلیمی نظام کے فروغ کے لئے   بھی ان کی تقلید کرتے ہیں۔ترقی یافتہ ممالک میں جاپان ایک نہایت اہم ملک ہے جو پوری دنیا میں تعلیمی نظام کی مضبوطی اور بہتری کے لئے مالی امداد بھی دے رہا ہے۔ پاکستان کے ساتھ جو ممالک تعلیم کے شعبے میں مالی تعاون کر رہے ہیں ان میں جاپان قابل ذکر ہے۔
جاپان میں رائج ڈیجیٹل تعلیمی نظام نہایت اہمیت کا حامل ہے اور دور حاضر کی تعلیمی ضروریات کے عین مطابق ہے۔Digitalization کے ذریعے تعلیمی اداروں میں دی جانے والی تعلیم وقت کی اہم ضرورت ہے اور موجودہ وقت  میں انتہائی مؤثر ہے۔ اس طریقہ کار کے مطابق کم وقت میں زیادہ لوگوں کو مؤثر تعلیم دی جا سکتی ہے۔ تعلیم کا یکساں نظام  جاپانی نظام تعلیم کی خوبصورتی ہے۔وہاں جاپانی زبان میں تعلیم دی جاتی ہے، وہ (جاپانی)کسی دوسری زبان میں بات نہیں کرتے۔ اپنے بچوں کو سب سے زیادہ آداب اور تربیت پر زور دیتے ہیں تاکہ بچوں کو شروع سے ہی ایک دوسرے کی قدر کرنا، عزت دینا،انسانیت، احساس ذمہ داری، وقت کی پابندی وغیرہ جیسی اخلاقی اقدارسے آگاہی ہو۔
تعلیمی اداروں کے لئے نصاب ترتیب دینا قومی نشریاتی ٹی وی ، ایجوکیشنل ٹیلی ویژن کی ذمہ داری ہے۔ پروڈیوسر، ماہرین تعلیم اور اساتذہ مل کر نصاب تیار کرتے ہیں۔ ایجوکیشنل ٹی وی پروگرامز کو این ایچ کے برائے سکول یعنی جاپانی سرکاری ٹی وی برائے سکول کی ذمہ داری بنایا گیا ہے۔ NHK TVتعلیمی نصاب کے لئے کانٹینٹ (Content)پروڈیوس کرتا ہے جو کہ براڈ کاسٹ کے لئے نہیں ہوتا بلکہ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر بچوں اور عوام کی تعلیم و تربیت کے لئے ہوتا ہے۔یہ کانٹینٹ، ڈیجیٹل ڈیٹا، انٹرنیٹ کے ذریعے سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کیا جاتا ہے۔
جاپان کے نشریاتی ادارے این ایچ کے برائے سکول کے ذریعے جو تعلیمی نصاب تیار کیا جاتا ہے اس میں پروڈیوسر کا اہم اور کلیدی کردار ہوتا ہے۔پروڈیوسر ایسے دلچسپ اور معلوماتی پروگرامز اور وڈیوز تیار کرتا ہے جو  بچوں کی اخلاقی اور تعلیمی تربیت میں بے حد مؤثرثابت ہوتا ہے۔
پاکستان میں پہلی مرتبہ کووڈ19-کے دوران تعلیمی اداروں نے اپنے بچوں کوآن لائن تعلیم دینی شروع کی ، اس سے پہلے کبھی اتنے بڑے پیمانے پر ایسی صورتحال دیکھنے کو نہیں ملی تھی ۔ کہتے ہیں ضرورت ایجاد کی ماں ہے ۔ کرونا کے دوران جب لوگ گھروں میں محصور ہوکر رہ گئے ، سماجی فاصلے اختیارکرنے پر زور دیا گیا تو ان حالات میں زیادہ تر تعلیمی اداروں نے اپنے بچوں کو آن لائن تعلیم دینا شروع کی۔ جہاں آن لائن تعلیم کے حصول میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا وہاں پاکستانی قوم نے بہت کچھ سیکھا اور خصوصاً والدین اوراساتذہ نے آن لائن تعلیم میں خصوصی دلچسپی لے کر تعلیم کی ترسیل کو جاری رکھا۔
سکولوں ، کالجز ، یونیورسٹی کے اساتذہ نے طلباء کے ساتھ مل کر زوم میٹنگز ، گوگل میٹنگز ، سٹریم یارڈ اور مختلف ایپس کے ذریعے تعلیم کے تسلسل کو برقرار رکھا اور پاکستانی قوم نے مشکل حالات میں تعلیمی سرگرمیوں کو جاری رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ۔
تعلیمی اداروں خصوصا پرائمری کلاسز کے بچوں کے لئے اساتذہ نے حیران کن حد تک روزانہ کی بنیاد پر بچوں کو سکھانے کے لئے ویڈیوز بنائیں اور مختلف ایپس کے ذریعے انہیں یو ٹیوب پر اپ لوڈ کرکے بچوں کو تعلیم دی۔ جس سے بچوں کی تعلیم میں تسلسل برقرار رہا۔ کروناایک چیلنج ثابت ہوا اور پاکستانی قوم نے اس کا بھرپور مقابلہ کیا۔
حکومت پاکستان نے سنجیدگی سے تعلیم کے فروغ کے لئے ٹیلی سکول کے نام سے ایک بڑا پروجیکٹ شروع کیا جس کا افتتاح اپریل میں وزیراعظم عمران خان نے کیا اور قومی نشریاتی ادارے نے وزارت تعلیم کے تعاون سے ہنگامی بنیادوں پر صبح آٹھ سے شام چھ بجے تک طلباء کے لئے نشریات کا آغازکردیا۔ جس سے پاکستان کے دور دراز علاقوں میں جہاں انٹرنیٹ کی سہولت نہیں ہے وہاں کے طلباء بھی مستفید ہوئے۔
ٹیلی سکول کی تعلیمی نشریات کے ذریعے نرسری سے ہائرسکینڈری تک تعلیم دی جارہی ہے۔ٹیلی سکول پر مختلف تعلیمی این جی اوز کا تعلیمی مواد نشرکیاجارہا ہے۔ ان میں سبق ڈاٹ کام ، نالج پلیٹ فارم وغیرہ شامل ہیں۔
تعلیم کے حصول کے لئے مندرجہ ذیل ڈیجیٹل طریقہ کار عام طورپر رائج ہیں۔
 زوم میٹنگز:
پاکستان میں زیادہ ترآن لائن تعلیم کے لئے سکولوں ، کالجز اوریونیورسٹی میں زوم میٹنگ کا سافٹ ویئر استعمال ہورہا ہے۔ یہ بہت ہی سستا اور آسان طریقہ کار ہے جس میں موبائل اور لیپ ٹاپ کے علاوہ ، موبائل ڈیٹا یا وائی فائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک وقت میں کم از کم تیس سے چالیس طالب علم اور اساتذہ سے آسانی سے آن لائن تعلیم حاصل کرسکتے ہیں۔ براہ راست ویڈیوز دیکھی جاسکتی ہیں۔ براہ راست ایک دوسرے سے سوالات کئے جاسکتے ہیں اور بالکل کلاس روم کا ماحول گھر بیٹھے حاصل کیا جاتا ہے۔
 گوگل میٹنگ :
گوگل میٹنگ بھی زوم کی طرح کا سافٹ ویئر ہے۔ پاکستان میں مختلف یونیورسٹیز یہ طریقہ کار اپنائے ہوئے ہیں۔ اس میں مفت اور خریدکراستعمال کرنے والے دونوں طرح کے سافٹ ویئرزموجود ہیں۔
 ایمازون:
یہ بھی آن لائن تعلیم کے لئے انتہائی اہم سافٹ ویئر ہے یہ مفت اور پیڈ(Paid) بھی ہے ۔
 سٹریم یاڈ:
یہ سافٹ ویئر بھی موبائل اور لیپ ٹاپ پر بآسانی دستیاب ہے۔
گوگل کروم میں کلک کرکے آپ جوائن کرسکتے ہیں اور اس میں چھ سے  دس لوگ بآسانی براہ راست کنیکٹ ہوسکتے ہیں۔
اس میں بھی مفت اور پیڈ  سافٹ ویئر موجود ہیں۔
 فیس بک لائیو:
فیس بک لائیو پر آپ ایک وقت میں ہزاروں لوگوں کو اپنا تعلیمی پیغام پہنچا سکتے ہیں اور ان کے سوالات کا براہ راست جواب دے کر تعلیم کے فروغ میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔
ڈیجیٹل تعلیم کے لئے بے شمار موبائل ایپس موجود ہیں۔  Mr.Accent Senior App ، بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ ایپ ہے جو تعلیم کے فروغ کے لئے فری دستیاب ہے۔ یہ بنیادی طور پر اسپوکن انگلش کو بہتر کرنے کے لئے اور سیکھنے کے لئے بنائی گئی ہے۔
یہ طلباء اوردیگر تمام لوگوں کے لئے نہایت مفید ہے ۔ آپ کی مادری زبان کچھ بھی ہو یہ ایپ طلباء کی مدد کرتی ہے۔
جاپان کا تیارکردہ یوٹیوب چینل Catchat جو کہ جاپان میں موجود ٹوکیو براڈکاسٹنگ (TBS) کی نگرانی میں نوریکو واڈے نے تیار کیا ہے، بچوں کے سیکھنے کے لئے انتہائی اہم اور مفید چینل ہے۔ 
اس کے علاوہ بھی ڈیجیٹل تعلیم کے لئے بے شمار ایپس اور یوٹیوب چینل بھی موجود ہیں اور پاکستانی قوم نے ثابت کردیا ہے کہ کم وسائل اور مشکل وقت میں ڈیجیٹل تعلیم کے حصول کے لئے پاکستان قوم ہروقت تیار ہے اور اپنی تعلیم کے فروغ کے  لئے جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہے۔ 


مضمون نگار مختلف موضوعات پر لکھتے ہیں۔
 [email protected]
 

یہ تحریر 107مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP