متفرقات

ایک قابلِ تحسین عمل

27نومبر2013کو جب جنرل راحیل شریف کا نام پاکستان کے پندرھویں آرمی چیف کے طورپر سامنے آیا تو ان کے اولین تعارف میں سے ایک 1971کی جنگ کے ہیرو میجر شبیرشریف شہید (نشان حیدر) کا بھائی ہونے کا تھا۔ تبھی پتا چلا کہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف 1965 کی جنگ کے ہیرو میجر راجا عزیز بھٹی شہید (نشان حیدر) کے قریبی عزیز بھی ہیں۔

 

وزیراعظم نوازشریف کو نئے آرمی چیف کی تعیناتی کے لئے جو تین نام بھیجے گئے ان میں سینیارٹی کے اعتبار سے جنرل راحیل شریف تیسرے نمبر پر تھے۔ جنرل راحیل کے شہداء کے باوقار خاندان سے تعلق رکھنے کے اولین تعارف سے عوام کو جنرل راحیل شریف کی ذات میں ملک سے محبت اور قربانی کے جذبے کی عملی تصویر نظر آئی لیکن کیا کیجئے کہ پاکستان کے سیاسی اور عمومی تاریخی منظر نامے کے تناظر میں اس معاشرے میں دودھ کا جلا چاچھ بھی پھونک پھونک کر پیتا ہے۔ سابقہ ادوار کے تجربے میں پاکستان میں نئے آرمی چیف کے حوالے سے بہت سے سوالات لوگوں کے ذہنوں میں موجود تھے اور چونکہ جمہوری نظام نے جمہوری طریقے سے ایک سے دوسری منتخب حکومت کو منتقل ہونے میں ابھی پہلا قدم ہی اٹھایا تھا، اس کے علاوہ داخلی اور خارجی سطح پر پاکستان کی سلامتی کو درپیش عمیق چیلنجزاور خطرات سے نمٹنے کے لئے نئے آرمی چیف کے کردار اور سول حکومت سے تعلقات انتہائی اہمیت کے حامل تھے۔

 

یہ وہ تمام پس منظر تھا جس میں جنرل راحیل شریف نے 29نومبر 2013 کو بطور آرمی چیف عہدہ سنبھالا۔ جن اولین چیلنجز پر آرمی چیف نے فوری کام شروع کیا وہ عوام اور فوج کے درمیان گزشتہ ادوار کی خلیج کو بتدریج کم کرتے ہوئے مکمل ختم کرنا تھا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ اور ملک میں امن قائم کرنا بھی ان اولین کاموں میں سے ایک تھا۔

 

جنرل راحیل شریف نے آہستہ آہستہ مگر مؤثر انداز میں امور سرانجام دینے شروع کئے۔ فوج کا عوام سے رابطہ بڑھانا شروع کیا۔ اس امر میں فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کا ذکر نہ ہو تو بات ادھوری رہ جائے گی۔ آئی آیس پی آر کے ذریعے

 

جس مؤثر ترین انداز میں فوج کے عوامی رابطے بحال اور فعال کئے گئے وہ قابل تعریف اور دیگر اداروں کے لئے قابل تقلید ہیں۔ سول حکومت سے تعلقات کی بہتری اور مضبوطی کی طرف فوج نے محتاط اور مؤثر قدم بڑھانے شروع کئے۔ باوجود اس کے کہ تحفظات اور خدشات دونوں جانب موجود تھے، منتخب جمہوری حکومت نے بھی فوج کی بدلتی مثبت سوچ اور رویے کا بھرپور جواب دیا۔

 

رفاقتوں کے نئے سفر میں کہیں کہیں چھوٹے چھوٹے گڑھے نظر آئے لیکن یکساں منزل کے حصول کی خاطر سفر چلتا رہا۔ آرمی چیف کو عہدہ سنبھالے ابھی دس ماہ ہی گزرے تھے کہ ناگزیر وجوہات کی بنا پر ملک ایک بڑے بحران کا شکار ہو گیا۔ اگرچہ اس بحران کی نوعیت مکمل طور پر سیاسی تھی لیکن پاکستان میں دروازے کے کواڑ ہلکی سی ہوا سے بھی بجیں تو گویا کسی طوفان کا خطرہ محسوس ہوتا ہے، کے مصداق سبھی کو دروازے راولپنڈی کی طرف کھلتے محسوس ہوئے۔ آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے کمال دانائی اور بصیرت سے کام لیتے ہوئے نہ صرف فوج کو اس احتجاج کے سیاسی بحران سے دُور رکھا بلکہ محفوظ بھی رکھا اور صرف اپنے ادارے کو ہی نہیں اس بحران کے خاتمے اور دیگر اداروں کے تحفظ میں بھی اہم کردار ادا کیا۔

 

دہشت گردی کے خاتمے اور ملک میں امن کے قیام کے لئے جدید دنیا کی تاریخ کے منفرد ترین اور مشکل ترین آپریشن ضرب عضب کو شروع کرنا آرمی چیف کے ان کارناموں میں سے ایک ہے جس نے اُنہیں نہ صرف پاکستان کی پسندیدہ ترین شخصیت بلکہ دنیا کا بہترین سپہ سالار بنا دیا۔ دہشت گردی کا خاتمہ ہونا شروع ہوا تو عالمی سطح پر پاکستان کے مثبت تاثر کا آغاز ہوا۔

 

فوج اور حکومت کے تعلقات میں مزید بہتری آنے لگی۔ اگرچہ کچھ ’’خیرخواہوں‘‘ کو کبھی بھی خیر کی اُمید نہ رہی مگر پاکستان اور اس کا جمہوری نظام اور اداروں کے باہمی تعلقات اور مضبوطی کسی بھی قسم کے شر سے دور ہونے لگی۔

 

آرمی پبلک سکول کا اندوہناک سانحہ پیش آیا تو آرمی چیف نے حکومت کے ساتھ مل کر نئے آپریشن خیبر 1اور 2 کا آغاز کیا اور ایک سال سے بھی کم عرصے میں نہ صرف اس سانحے کے اکثر ذمہ داروں کو انجام تک پہنچایا بلکہ خیبر ایجنسی کو شرپسندوں سے مکمل صاف بھی کر دیا۔ باتوں اور افواہوں کا سلسلہ ساتھ ساتھ چلتا رہا۔ باتیں بنانے والے باتیں بناتے رہے او رکام کرنے والے کام کرتے رہے۔ نہ صرف حکومت اور فوج کے درمیان باہمی ہم آہنگی بہتر ہو گئی بلکہ فوج اور عوام تو گویا یک جان دو قالب ہو گئے۔ عوام نے تو جیسے جنرل راحیل شریف کو اپنا نجات دہندہ تصور کرنا شروع کر دیا۔ ایسے ہی میں کچھ دوستوں نے ’’حق دوستی‘‘ کی انجام دہی میں کچھ ’’آگے ہی‘‘ بڑھ کر فرمائش کرنی شروع کر دی کہ سابقہ اد وار کی طرح جنرل راحیل شریف کو بھی ایکسٹینشن ملنی چاہئے یا لے لینی چاہئے۔ مجھ سمیت بہت سے لوگوں خاص طور پر صحافیوں کو اس عجیب و غریب فرمائش یا مطالبے سے تشویش ہوئی کہ جس جنرل راحیل شریف کو ہم نے دو سال کے عرصے میں دیکھا، جانا اور پرکھا۔ وہ طبیعت کا اصول پسند ہے۔ گومگو کی کیفیت میں یہ بھی دیکھ لیا کہ اعلیٰ عدالت میں یہ فرمائش باقاعدہ قانونی مطالبے کی صورت میں ڈھال دی گئی لیکن اس سے پہلے کہ یہ قانونی نظریہ ضرورت بن جائے، جنرل راحیل شریف نے ایک بار پھر اعلیٰ ظرفی کا ثبوت دیا اور سب سے مضبوط ثبوت کہ ان کی تربیت جس باوقار اور اصولوں پر شہید ہو جانے والے خاندان سے ہے، اس کے سامنے کوئی بھی عہدہ ہیچ ہے۔ یہ خاندان اعزازات یا عہدوں میں زندہ رہنے والا نہیں بلکہ عوام کے دلوں میں، ان کی محبت میں تاقیامت زندہ رہنے والا ہے۔

 

آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے یہ اعلان کر کے ،کہ وہ نہ تو مدت کی توسیع پر یقین رکھتے ہیں اور نہ ہی اپنی مدت میں توسیع قبول کریں گے، سب کو حیران کر دیا۔ نہ صرف فوج کے وقار میں مزید اضافہ کیا بلکہ اپنے ناقدین کو بھی گرویدہ بنا لیا۔ عوام تو پہلے ہی جنرل راحیل شریف سے بے انتہا پیار کرتے ہیں۔ اس اعلان نے عوام کے ذہنوں میں ایک نئی سوچ کو جنم دیا۔ اگر فوج جیسا طاقتور اور ذمہ دار ادارہ‘ جو کہ ملکی سلامتی کی چومکھی جنگ لڑ رہا ہے، اگر وہ دوران جنگ اپنے سپہ سالار کی تبدیلی سے متاثر نہیں ہوتا تو پھر ملک پر حکمران لوگ گزشتہ 60سالوں سے اپنے اندر تبدیلی کیوں نہ لا پائے؟ کیوں ہر سیاسی جماعت ایک ہی نام سے منظوم ہے اور اسی ایک نام کو جمہوریت اور ملک کی سلامتی کا ضامن سمجھا جاتا ہے۔ عوام نے یہ سوال اٹھانا شروع کر دیا ہے کہ اور اس سوال میں آنے والے دنوں میں مجھے مزید شدت نظر آ رہی ہے۔ جنرل راحیل شریف نے فوج کا‘ اداروں کا‘ ملک کا کلچر تو تبدیل کیا ہے لیکن سب سے بڑی تبدیلی ان کے سب سے بڑے فیصلے اور اعلان سے سامنے آئی ہے۔ مدت ملازمت میں توسیع ٹھکرانے کے فیصلے نے عوام کے ذہنوں میں ہلچل مچا دی ہے اور سوچ کی تبدیلی معاشرے کی تبدیلی کا پہلا قدم ہے۔ جنرل راحیل شریف صاحب! آپ نہ تو سیاسی رہنما ہیں نہ ہی سماجی۔ لیکن عوام کے ذہن میں یہ تبدیلی کا آغاز کرنے پر آنے والی کئی نسلیں تاقیامت آپ سے پیار کرتی رہیں گی اور کہتی رہیں گی ۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’شکریہ راحیل شریف!‘‘


مضمون نگار ایک معروف صحافی اور اینکر پرسن ہیں۔ ان دنوں ایک نجی چینل کے ساتھ وابستہ ہیں۔

[email protected]

یہ تحریر 42مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP