متفرقات

ایک عظیم بلوچی سردار آخری کی آرام گاہ

پنجاب کے ضلع اوکاڑہ کا قصبہ ستگھرہ تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔ اوکاڑہ شہر سے 18کلومیٹر دور مین اوکاڑہ فیصل آباد روڈ پر واقع یہ تاریخی قصبہ ایک عظیم بلوچی سردار میرچاکر خان رِند کی آخری آرام گاہ ہے۔ میرچاکر خان رِند کو تاریخ میں چاکر اعظم کا خطاب بھی دیا جاتا ہے۔ چاکر اعظم کی اپنے آبائی علاقے سبی سے سیکڑوں میل دُور وسطی پنجاب کے قصبہ ستگھرہ میں آمد اور تدفین تاریخ کا ایک حیران کن واقعہ ہے۔

میرچاکر خان رِند 1468عیسوی میں بلوچستان کے تاریخی شہر سبی کے نزدیک بلوچ قبیلہ رِند کے سردار کے گھر پیدا ہوئے۔ بلوچستان کی تاریخ میں سولہویں صدی کی ایک خاص اہمیت ہے۔ اس صدی میں بے شمار ایسے واقعات رونما ہوئے کہ جس نے آنے والے وقتوں میں اس خطے کی تاریخ پر گہرے اثرات مرتب کئے۔ بلوچی معاشرہ ایک قدامت پسند معاشرہ ہے جس کی بنیاد عظیم روایات، قبائل رسم و رواج اور اصول پرستی پر رکھی جاتی ہے۔ خاندانی اور قبائلی دشمنی کی بنیاد پر لڑی جانے والی طویل جنگیں کئی دہائیوں تک جاری رہتی تھیں۔ ایسے میں بلوچوں کے دو بڑے قبائل رِند اور لاشاریوں کے درمیان 30سال پر محیط ایک طویل جنگ لڑی گئی۔ جس میں دونوں قبائل کے ہزاروں افراد اپنی جانیں گنوا بیٹھے۔ بالآخر میرچاکر خان رِند اس جنگ و جدل سے تنگ آکر وسطی پنجاب کی طرف ہجرت کر گئے۔ یہ وہ دور تھا جب ہندوستان پر خاندان مغلیہ کی حکومت تھی اور خطہ پنجاب اس کا ایک اہم حصہ تھا۔ اسی اثنا میں تاریخ نے ایک اہم موڑ لیا اور ہندوستان کے نئے بادشاہ شیرشاہ سوری نے مغلوں کے خلاف جنگ میں میرچاکر خان رِند سے مدد چاہی مگر اس عظیم بلوچ سردار نے اپنے اصولوں کے عین مطابق مغلوں کے خلاف شیرشاہ سوری کی کسی بھی قسم کی مدد سے انکار کر دیا۔ مشہور ہے کہ جب مغل بادشاہ واپس دہلی کے تخت پر براجمان ہوا تو اس عظیم بلوچ سردار کو ستگھرہ کے آس پاس کا وسیع علاقہ بطور انعام پیش کیا۔


ستگھرہ کی وجہ تسمیہ بھی بہت دلچسپ ہے۔ اس کے بارے میں کئی روایات مشہور ہیں۔ ایک روایت کے مطابق جب میرچاکر خان یہاں آ کر آباد ہوا تو اس کے ہمراہ سات خاندان تھے جو سات گھروں میں آباد ہوئے۔شاید اسی لئے اس کو ستگھرہ کہا جاتا ہے۔ جہاں مسافر اپنی پیاس بجھاتے تھے۔ ایک اور روایت کے مطابق یہ خطہ سیلاب سے سات دفعہ تباہ ہو کر دوبارہ آباد ہوا۔ ستگھرہ اور گوگیرہ اس علاقے کے دو مشہور قصبے تھے اور موجودہ شہروں ساہیوال اور اوکاڑہ کا کہیں نام و نشان تک نہ تھا۔


اس عظیم بلوچی سردار کا انتقال 1565 عیسوی میں ہوا اور اسے ستگھرہ میں دفن کیا گیا۔ البتہ اس کی وفات کے فوری بعد اس کے خاندان کے بیشتر لوگ واپس بلوچستان ہجرت کر گئے اور آج اس قصبے میں کوئی بلوچی خاندان آباد نہیں۔
اس عظیم بلوچی سردار کے مزار کی حالت گزرتے زمانے کے ساتھ ناگفتہ بہ ہو چکی ہے۔ حالانکہ چند سال پہلے ہی اس کی تعمیر نو کی گئی ہے۔ عمارت کی موجودہ زبوں حالی ایک بار پھر توجہ کی متقاضی ہے۔ میرچاکرخان رِند کو بلوچی ادب میں بھی ایک خاص مقام حاصل ہے اور وہ بہت سی بلوچی رومانوی داستانوں اور شاعری کا ایک اہم کردار ہیں۔


میجر حسان جاوید کا تعلق ایجوکیشن کور سے ہے اور آج کل بطور انسٹرکٹر ملٹری کالج جہلم میں اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔

یہ تحریر 55مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP