شعر و ادب

ایک شہید کی ماں کا بیٹے سے بیان

اے ارضِ وطن آج قیامت کی گھڑی ہے

شہداء کی یہ آواز اُٹھاؤں میں کہاں سے

میں کیسے کہوں لوٹ کے اب گھر نہیں آتے

اِک وادیِ تیراہ میں جسے موت ہے آئی

وہ بابا کسی کا تھا تو بیٹا بھی کسی کا

وہ قوم کا سرمایہ تھا اور اہلِ وفا تھا

نہ باپ کی نہ ماں کی نہ بچوں کی فکر ہے

کس شان سے مرتا ہے وطن کا یہ سپاہی

آنکھوں میں اندھیرا سا چلا آتا ہے بس ہے

ہونٹوں پہ تبسم ہے لب و رخسار سلامت

یہ کالے سیاہ بال چمکتے ہیں جو سر پہ

ہے تازہ سا چہرہ صبح دم شیو بنائی

آنکھیں ذرا جھپکی ہیں بڑا تھک سا گیا ہوں

اغیار کی گھاتوں میں اتر آیا تھا تاکہ

وہ قوم کا سرمایہ ہیں بڑے دن جو گنے ہیں

ہے جن پہ ناز قوم کو وہی عرش کے تارے

میں اپنی طرف سے لگا دینے جو اشارے

جب دیکھا سمجھتے نہیں‘ کہتاانہیں کیا ہوں

اٹھ کر جو کھڑا ہونا پڑا ہر اشارہ

یوں گولیاں برسی ہیں کہ وردی بھی تباہ ہے

خون بہنے لگا وادی تیراہ نظر آئے

تم زندہ رہو پھولو پھلو آبرو پاؤ

اﷲ نہ کرے لوٹ کے تم گھر نہیں جاؤ

میں نے تو نبھائی ہے تمہیں اﷲ کو ہے سونپا

ماں باپ میرے بوڑھے ہیں تم ان کو بلاؤ

اماں میرا سرگود میں لو یٰسین سناؤ

ماؤں نے دئیے بول کہ تم حق کے لئے بڑھنا

شاہین فضاؤں میں سمندر پہ کرو راج

منہاس کہ عباس‘ ثناء اﷲ بھی تم ہو

جھنڈا وطن کا آس بھی امید بھی تم ہو

شادّ اﷲ یہ نظم ایک عقیدت کا چمن ہے

قحطِ عدل میں ساری تیری قوم گھرِی ہے

سینے میں زبان رکتی ہے جاؤں میں کہاں پہ

آتے تھے صبح و شام جہاں دھول اڑاتے

گردن میں لگی گولیاں اﷲ کی دہائی

ہے جان بہ لب پاس اپنے کوئی اپنا دکھائی نہیں دیتا

اغیار نے اک دشتِ بلا میں اسے گھیرا

ہے وردی اسے پیاری رہی اس پہ نظر ہے

اے پاک وطن لاج تیری خوب نبھائی

خون بہتا ہے جوں جوں ہوئی پانی کی طلب ہے

سینے پہ سجی وردی میں PMA کے افکار سلامت

پیشانی بھی روشن ہے کہ انداز صبر کے

پھر ہر نماز اس نے تھی خوشبو بھی لگائی

اور قوم کی خاطر میں کھڑا بھی تو رہا ہوں

وہ گیارہ رہیں زندہ جو میرے سات تھے آئے

تب جا کے یہ شہبازِ وطن کویوں ملے ہیں

نیچے ابھی ہیلی کاپٹر نے نہیں تھے جو اتارے

پھر بھی وہ اترنے کو میرے پیچھے ہی سارے

تب چارہ نہ تھا باقی کہ میں اٹھ کے کھڑا ہوں

دشمن کی نگاہوں کا ہدف میں ہی تھا سارا

میں جاتا ہوں اور ملک کا مالک تو خدا ہے

کچھ کہنا تھا جن کو انہیں اب کون بتائے

شاہیں ہو‘ جانباز ہو میرا ملک سجاؤ

راہِ تکتی رہیں آنکھیں انہیں تم نظر نہ آؤ

اے میرے سپاہیو! تم سب رہو زندہ

بیٹے پہ گھڑی کیسی کٹھن ان کو بتاؤ

ابا مجھے ڈھارس دو‘ مجھے کلمہ پڑھاؤ

باپوں نے کہا حقِ پہ ہی رہو زندہ تو تم حق پہ ہی مرنا

یہ پاک زمین پیاری ہے اس کی تم ہی ہو لاج

یونس ہو رفیقی ہو تمہی حق کا عَلَم ہو

ضربِ کلیم‘ بانگِ درا پھر سے رقم ہو

شہداء وطن! اشکوں سے لبریز وطن ہے

(بریگیڈیئر حسن عباس شہیدکی والدہ محترمہ کا اپنے شہید بیٹے کو خراج تحسین)

یہ تحریر 39مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP