قومی و بین الاقوامی ایشوز

ایک سپاہی کی یاد

کبھی کبھی حیرت کے ساتھ میں سوچتا ہوں: کیا ہمارے لکھنے والوں نے پاک فوج کے باطن میں جھانکنے کی کبھی زحمت کی ہے؟ کیسا کیسا گوہرِ تابدار ہیروں کی اس کان میں تھا اور اب بھی ہے۔ افسوس کہ ہیروں کے سودائی کم ہیں، پتھروں کے سوداگر بہت۔ فاروق گیلانی کے لہجے میں وہ سرشاری تھی، جو ایک دریافت سے جنم لیتی ہے۔۔۔ حیرت اور اشتیاق۔ انہوں نے ایک سبکدوش فوجی افسر کے بارے میں بتایا، جو اور ہی طرح سے سوچتا اور فضا کو یقین سے بھر دیتاتھا، یقین اور امید سے۔ حیات کے نئے آفاق وہ اپنے سامع پر کھولتا اور پرواز کا حوصلہ تخلیق کر دیتا۔

’’ہم وزارتِ زراعت والے جنگل اگاتے ہیں‘‘ انہوں نے کہا ’’اور ادائیگی مشروط ہے۔ خاردار تار لگی ہو اور اسّی فیصد پودے زندہ سلامت ہوں‘‘ بریگیڈئیر صاحب سے انہوں نے پوچھا: کتنے فیصد؟ جواب ملا: سوفیصد۔ حیرت سے انہوں نے سوال کیا کہ یہ کس طرح ممکن ہے ؟ طویل قامت اور وجیہہ آدمی نے سگریٹ سلگایا اور جواب دیا: اس لئے کہ 120فیصد گاڑے گئے ’’اور خاردار تار؟‘‘ ’’جی نہیں‘جواب ملا۔‘‘ ’’تار نہیں لگائی‘‘ پھر ان کے مستقبل کا کیا ہوگا؟ ’’گاؤں کے سب لوگوں کو بریگیڈئیر صاحب نے ایک دن جمع کیا اور یہ بتایا کہ زندگی میں پودوں کی اہمیت کیا ہے۔ کس طرح موسم کو وہ سازگار بناتے ہیں۔ جھڑ جانے والی ٹہنیوں اور پتوں کو ایندھن کے طور پہ برتا جا سکتاہے۔ پرندوں کی وہ افزائش کرتے ہیں اور وغیرہ وغیرہ۔‘‘گاؤں کے سب لوگ مل کر کر جنگل کی حفاظت کرتے ہیں‘ انہوں نے بتایا: کسی کی مجال نہیں کہ خرابی کرے۔

’’اس آدمی کا نام بریگیڈئیر سلطان ہے‘‘ میں نے انہیں بتایا۔حیرت زدہ، انہو ں نے مجھ سے پوچھا کہ میں یہ بات کیسے جانتا ہوں؟ ہم اس وقت ٹیلی فون پہ بات کر رہے تھے‘‘ اس لئے کہ صرف بریگیڈئیر سلطان ہی ایسا کر سکتے ہیں۔ پھر اس نادرِ روزگار کے بارے میں کچھ باتیں ان کی خدمت میں عرض کیں۔ مرحوم گیلانی کی عمر اس وقت پچاس سال رہی ہوگی۔ ایک ذمہ دار اور لائق افسر کے طور پر، جو بہت سے اہم مناصب نبھاچکا تھا، مرعوبیت کی عمر سے وہ گزر آئے تھے۔ ایک دوسرے کو تیس برسوں سے ہم جانتے تھے۔ا نہیں معلوم تھا کہ میں مبالغے کامرتکب نہیں۔ اس کے باوجود انہیں اعتبار نہ آرہا تھا۔ ’’ایسا آدمی؟‘‘انہوں نے کہا ’’دنیا میں کیا ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں ؟‘‘ہاں 249’’میں نے ان سے کہا‘‘شام کو جب اسلام آباد کلب میں ہم ملیں گے تو کچھ اور تفصیلات بھی بیان کروں گا۔

جی ٹی روڈ کے راستے لاہور سے اسلام آباد آتے ہوئے، گاڑی جب ترکی(Tarakki) کی پہاڑیوں کے پاس پہنچتی ہے تو میں اس آدمی کو یاد کرتا ہوں۔ ہمیشہ ہر باراشتیاق اور محبت سے اس گاؤں کی نشان دہی کرنے والے بورڈ پر ایک نگاہ ڈالنے کی کوشش کرتا ہوں، جہاں کبھی محمد سلطان نام کے اس بچّے نے جنم لیا تھا، پاکستانی فوج کی تاریخ کا ایک قابلِ فخر باب جسے رقم کرنا تھا۔ ’ڈومیلی‘اس گاؤں کانام ہے۔ وہاں، جہاں دو برساتی ندیاں گلے ملتی ہیں اور پھر یکجا ہو کر بہتی ہیں۔ دو میل، دونوں کی ملاقات کا مرکز۔ برسوں بعد، جب ایک تقریب میں جنرل محمد ضیاء الحق سے بریگیڈئیر سلطان کی ملاقات ہوئی تو انہوں نے کہا ’’کیا ساری دنیا سے آپ ناراض ہیں؟ میں نے آپ کو مدعو کیا اور آپ تشریف نہ لائے‘‘ ہمیشہ کی دھیمی اور ٹھہری ہوئی آواز میں ان کا جواب یہ تھا ’’سر! ائیر پورٹ پولیس سٹیشن کا تھانیدار بھی بلائے تومیں ضرور جاؤں، مگر شرفا ایک دوسرے کو بلائیں تو قرینہ ملحوظ رکھتے ہیں‘‘ قرینے پر جنرل نے سوچا۔ سرِ شام ایبٹ آباد سے راولپنڈی پہنچ کر اس نے فون کیا ’’میں ضیاء الحق بول رہا ہوں کیا بیگم صاحبہ کے ہمراہ آپ میرے گھر

تشریف لانے کی زحمت گوارا فرمائیں گے؟‘‘

کھانے کی میز پر ایک گہری اداسی کے عالم میں حکمران نے سوال کیا ’’تلافی کی کوئی صورت؟ کوئی سی ملازمت، کوئی منصب؟ میرے دل پہ بوجھ بہت ہے۔ نفی میں بریگیڈئیر نے سرہلایا’’کچھ بھی نہیں‘‘ اس نے کہا’’جنگ لڑنے کے سوا میں کوئی دوسرا کام جانتا ہی نہیں۔‘‘ جنرل محمد ضیاء الحق کو وہ ایام یاد آئے، جب انہیں ساتھ لے کر وہ قاہرہ پہنچے تھے۔ 1973ء کی عرب اسرائیل جنگ کے چند ماہ بعد۔ مصری جنرلوں نے قابلِ فخر انداز میں صیہونی سپاہ کے مقابل اپنی شاندار حکمتِ عملی کی تفصیل ایک اجلاس میں بتائی تھی۔ بریفنگ جب تمام ہو چکی تو کمال انکسار سے پاکستانی بریگیڈئیر نے یہ کہا: اگر اجازت دی جائے تو میں عرض کروں کہ قدرے مختلف حکمتِ عملی بھی ممکن تھی۔ سننے والوں کے منہ کھلے کے کھلے رہ گئے۔ خیال آرائی اور شاعری نہیں، ملٹری سائنس کے ا صولوں کی رو سے ایک مکمل نقشہ ء جنگ۔ انہوں نے درخواست کی کہ مصری فوج کی رہنمائی کے لئے ان کی خدمات کچھ دن کے لئے مستعار دے دی جائیں۔ بریگیڈئیر نے انکار کر دیا۔ وہ اپنے مزاج اور اپنی ہی ترجیحات کا آدمی تھا۔ جنرل یہ بات جانتا تھا، بہت سے دوسرے لوگ بھی۔

1965ء میں، جب وہ کشمیر کے محاذ پر تھا، چیف آف آرمی سٹاف دورے پر تشریف لائے۔ مذاقاً جیسا کہ ان کا انداز تھا، انہوں نے کہا : کیا باقی سب مورچے بھی تمہارے مورچے ایسے پختہ اور پائیدار ہیں؟ کپتان کا جواب یہ تھا: اگر ایک بھی مورچہ ا س سے کمتر ہو تو میں پاک فوج کی وردی پہننے کا حق دار نہیں۔ نگاہ اٹھا کر انہوں نے اسے دیکھا اور تیور دیکھتے رہ گئے۔ پھر انہیں کچھ واقعات سنائے گئے، اس جواں سال افسر کے بارے میں۔ ان میں سے ایک یہ تھا: سرحد سے 150کلومیٹر پرے، ایک چھاپہ مار کارروائی کے لئے اسے

بھیجا گیا۔ ایک تاریک شب میں، چند سپاہیوں کے ہمراہ اس نے دشمن کی رجمنٹ پر حملہ کیا اور سینکڑوں کو ہلاک کر ڈالا۔ اس سے بھی زیادہ یہ کہ پھر اپنے ساتھیوں کے ہمراہ وہ وطن لوٹ آیا۔ اس کے کسی رفیق کو خراش تک نہ آئی تھی۔ زیادہ حیرت انگیز واقعہ بیان نہ ہو سکا۔ ایک گھنے اورگہرے جنگل میں، جہاں کارروائی سے کئی دن قبل، وہ چھپے تھے، ایک عورت نے انہیں دیکھ لیا تھا۔ ساتھیوں کا مشورہ یہ تھا کہ اسے قتل کر دیا جائے۔ کپتان نے انہیں حرکت کا حکم دیا اور ان کی رائے مسترد کر دی۔ ’’کسی بے گناہ پہ ہاتھ نہیں اٹھایا جاتا، چہ جائیکہ کہ مار ڈالا جائے‘‘نوجوان افسر نے کہا ’’یہ اللہ کا حکم ہے ۔ میں اس سپاہی کو نہیں مانتا، جس کی کوئی اخلاقیات نہ ہو‘‘ ۔۔۔آخری وقت تک، جب یہ اخبار نویس ان سے ملا، وہ یہ جملہ دہراتے رہے ’’ہم قاتل اور جلاد نہیں‘‘، وہ کہا کرتے ’’ہم سپاہی ہیں، زندگی کی حفاظت کے لئے میدانِ جنگ میں اترتے ہیں۔‘‘

1971ء میں، جب مشرقی پاکستان میں وہ جمال پور کے محاذ پر پہنچے تو انہوں نے پہلے سے گرفتار بنگالیوں کو رہا کرنے کا حکم دیا۔ پھر بڑے بوڑھوں کو بلایا۔ دیر تک ان سے گپ لگاتے رہے۔ ان کے خدشات دورکئے۔ مطالبات سنے اور ایک پیمان ان سے باندھا: کسی بے گناہ پہ آنچ نہ آئے گی۔ اس محبت کا صلہ یہ تھا کہ جنگ کا زمانہ آیاتو ہزاروں بنگالی جوانوں نے 80کلومیٹر تک، خندقوں کی آٹھ قطاریں، بھارتی فوج کی راہ میں کھود ڈالیں۔ ایک ڈویژن بھارتی فوجی ایک انچ دھرتی بھی چھین نہ سکی۔ جنگ کے بعد کئی حیران کن واقعات پیش آئے، بھارتی جنرلوں نے اس کے ساتھ تصاویر بنوائیں۔ ان کی شجاعت کے قصے دشمن کی سپاہ میں گونج ر ہے تھے۔ ہتھیار ڈالنے کی تنبیہ کرنے والے بھارتی افسر کو انہوں نے ایک گولی ارسال کی تھی، کاغذ میں لپٹی ہوئی۔دشمن کی فوج کے سامنے کھڑے ہو کر وہ سگریٹ پیا کرتے ’’آپ کو کبھی خوف محسوس نہ ہوا ؟‘‘سترہ برس کے بعدمیں نے ان سے پوچھا ’’کیوں نہیں ، کبھی کبھی ، کچھ کچھ لیکن اس خوف پہ قابو پانا پڑتا ہے ۔ اسی کا نام سپاہ گری ہے۔‘‘ اسّی کلومیٹر پر پھیلی ان کی خندقوں کے بارے میں امریکی اخبار کرسچین سائنس مانیٹر نے لکھا تھا \"The greatest defence ever built in the human history\" جب ان کی رجمنٹ کے افسر ان سے ملنے آتے اور کوئی ذکر کرتا تو احساسِ تشکر کے ساتھ بریگیڈئیر سلطان سر جھکالیتے۔ تکبر کا شائبہ تک اس شخص میں نہیں تھا، 1965ء میں جسے ستارہء جرأت ملا اور 1971ء میں بعض نے پہلی بار ایک زندہ افسر کے لئے نشانِ حیدر کی تجویز پیش کی۔ وہ تو دوسری بار ستارۂ جرأت کے آرزومند بھی نہ تھے۔ انکار کیا لیکن مسترد ہو گیا۔ زخم ان کے دل پہ بہت گہرا تھا۔ انہوں نے لکھا تھا: میں نے اپنی جنگ دھات کے ا س ٹکڑے کی خاطر نہ لڑی تھی، جو میری موت کے بعد دیوار پہ لٹکایا جائے گا۔ برسبیلِ تذکرہ، بریگیڈئیر کو اعلیٰ ادب سے بہت انس تھا۔ بہترین کتابیں پڑھا کرتے اور لکھتے تو موتی پرودیا کرتے۔ ان کی بعض تحریریں ہلال میں چھپی تھیں۔ میں پڑھتا تو حیران ہوا کرتا کہ اس آخری معرکتہ الآرا کتاب کے لئے، جو وہ لکھنا چاہتے ہیں، میری مدد کی انہیں کیا ضرورت ہے ؟ اس پر اتنا اصرار انہیں کیوں ہے ؟ وہ ملٹری کالج جہلم کے اساطیری پرنسپل بریگیڈئیر رفیق کے شاگرد تھے اور اس پر فخر کیاکرتے۔ ایک دن جب میں نے انہیں بتایا کہ وہ میرے رشتے کے چچا تھے تو کھل اٹھے اور ایک را ز کی بات بتائی۔ اس کالج نے انہیں پون صدی کی تاریخ کا سب سے بہادر فرزند قرار دیا تھا۔ یہ بات کہتے ہوئے ،وہ شرماگئے۔ لس بیلہ میں، جہاں وہ تعینات تھے، 1977ء کے الیکشن میں کچھ بے قاعدگی سی ہوئی۔ اس پر جی ایچ کیو کے نام ایک خط انہوں نے لکھا۔ اس پر حیرت کا اظہار ہوا کہ ایک فوجی افسر کا اس معاملے سے کیا تعلق۔ ان کا جواب یہ تھا کہ اگر انتظامی ذمہ داریاں ان کے سپرد ہیں تو ظاہر ہے کہ خرابی سے مطلع کرنا ان کی ذمہ داری ہے ۔

1977ء کا مارشل لا نافذ ہوا تو اہم ترین شخصیات کے علاوہ،پہلے دن ہی دور دراز کے اس فوجی افسر سے بھی رابطہ کیا گیا۔ وہ مگر ناخوش تھے اور رنج کے عالم میں انہوں نے استعفیٰ دے ڈالا۔ جنرل محمد ضیاء الحق کے ساتھ ان کی ملاقات کا پس منظر یہی تھا۔ وہ ہمیشہ ایک سپاہی کی زندگی جینے کے آرزومند تھے۔ اس کے علاوہ ہر چیز ان کے لئے ثانوی تھی۔ کبھی کبھی حیرت کے ساتھ میں سوچتا ہوں: کیا ہمارے لکھنے والوں نے پاک فوج کے باطن میں جھانکنے کی کبھی زحمت کی ہے ؟ کیسا کیسا گوہرِ تابدار ہیروں کی اس کان میں تھا اور اب بھی ہے۔ افسوس کہ ہیروں کے سودائی کم ہیں، پتھروں کے سوداگر بہت۔

اہل علم سے

یہ دورِ ابتلاء ہے ، غم نہیں امّید پھیلاؤ

نکالو نا امیدی سے مری اِس قوم کو مل کر

کہ یہ بے حوصلہ نظمیں

فسانے کم نگاہی کے

غموں کے گیت مت لکھّو

نہ کوئی راگ وہ چھیڑو کہ جس سے مُردنی پھیلے

اگر یہ کام ہوجائے

محبت عام ہوجائے

محبت پر ہو قائم زندگانی کا ہر اک محور

وطن میں حوصلہ مندی ہمارے لفظ سے اٹّھے

چلو اک کام کرتے ہیں

ترانے دل سے لکھتے ہیں

محبت عام کرتے ہیں

امیدوں کی بِنأ رکھ کر

فسانوں کی عمارت ہم سبھی تعمیر کرتے ہیں

مصور کے سہانے خواب کو تعبیر کرتے ہیں

میجر عاطفؔ مرزا

یہ تحریر 67مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP