قومی و بین الاقوامی ایشوز

ایک تاریخی کانفرنس

سنگاپور میں منعقدہ امریکہ اور شمالی کوریا کے سربراہان کی کانفرنس کے حوالے سے ڈاکٹر رشید احمدخان کا تجزیہ

12 جون کو سنگاپور میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شمالی کوریا کے سربراہ چیئرمین کم جونگ کے درمیان ہونے والی سربراہی ملاقات پر مختلف حلقوں کی طرف سے تبصروں کا دور ابھی تک جاری ہے۔ ان حلقوں میں میڈیا، تھنک ٹینک اور دونوں ملکوں کے سرکاری ذرائع بھی شامل ہیں۔ بعض حلقوں کے نزدیک اس سربراہ کانفرنس کی محض نمائشی حیثیت تھی اور اس کے نتیجے میں امریکہ اور شمالی کوریا کے درمیان بنیادی تنازع کے حل کی طرف کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں ہوئی۔ کچھ تبصرہ نگاروں کے نزدیک اس ملاقات سے اگر کسی فریق کو فائدہ پہنچا ہے تو وہ شمالی کوریا اور چین ہیں۔ جبکہ امریکہ اور مشرقِ بعید میں اُس کے اتحادی مثلاً جاپان اور جنوبی کوریا گھاٹے میں رہے ہیں۔ کیونکہ صدرٹرمپ نے جنوبی کوریا کے ساتھ فوجی مشقوں کو منجمد کرکے شمالی کوریا کو ایک ایسی رعایت دی جس کے بدلے ٹرمپ کو کچھ نہیں ملا۔ یہ صحیح ہے کہ ملاقات کے اختتام پر جو مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا ہے اُس میں چیئرمین کم نے شمالی کوریا کے ایٹمی ہتھیاروں کے پروگرام کو مکمل طور پر ختم کرنے کا وعدہ کیا ہے لیکن یہ وعدہ وفا کرنے میں کتنا عرصہ لگے گا اور شمالی کوریا کے دُور مار میزائل اور راکٹ پروگرام کا کیا بنے گا؟ اس سلسلے میںمشترکہ اعلامیہ خاموش ہے۔ اس کے مقابلے میں صدر ٹرمپ نے جنوبی کوریا کے ساتھ ہر سال منعقد کی جانے والی اہم فوجی مشقوں کو نہ صرف معطل بلکہ اُنہیں ''اشتعال انگیز'' اور ''انتہائی سراسیمگی'' قرار دے دیا۔ امریکی صدر کے اس بیان پر جاپان اور جنوبی کوریا سخت سیخ پا ہیں۔ چونکہ یہ دونوں ممالک جو1950 کے عشرے سے امریکہ کے قریبی اتحادی چلے آرہے ہیں، سمجھتے ہیں کہ شمالی کوریا کی کمیونسٹ حکومت کی طرف سے جنوبی کوریا کے خلاف کسی بھی ممکنہ حملے کی روک تھام کے لئے نہ صرف جزیرہ نما کوریا کے ارد گرد فوجی قوت کی موجودگی اہم ہے بلکہ اس کا مظاہرہ بھی ضروری ہے۔ اس مقصد کے لئے امریکہ کی بری ، بحری اور فضائی افواج جنوبی کوریا کے ساتھ مل کر جزیرہ نماکوریا اور اس کے ارد گرد سمندروں میں وسیع پیمانے پر ہرسال مشترکہ مشقیں کرتی تھیں۔ یہ مشقیں ہر سال بلاکسی تعطل کے منعقد ہوتی تھیں اور شمالی کوریا ان مشقوں کو ایک انتہائی اشتعال انگیز اقدام سمجھتا تھا۔ یہاں تک کہ اُن کی وجہ سے سنگاپور میں ہونے والی ٹرمپ، کم سربراہی کانفرنس کی منسوخی کا بھی خطرہ پیدا ہوگیا تھا۔ ماضی میں جب بھی امریکہ اور شمالی کوریا کے درمیان باہمی تنازعات کو حل کرنے کے لئے مذاکرات ہوا کرتے تھے، تو شمالی کوریا ان مشقوں کو بند کرنے کا مطالبہ کیا کرتا تھا۔ لیکن امریکہ کی طرف سے اس مطالبے کو سختی سے رد کردیا جاتا تھا۔ اس لئے صدر ٹرمپ کی طرف سے ان فوجی مشقوں کو نہ صرف منجمند کرنے بلکہ ''اشتعال انگیز'' قرار دینے پر بڑی لے دے رہی ہے۔ امریکہ میں نہ صرف     ڈیمو کریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے اراکین کا کانگرس بلکہ خود اُن کی اپنی یعنی ری پبلکن پارٹی کے لاء میکرز صدر ٹرمپ پر سخت تنقید کررہے ہیں۔ جاپان اور جنوبی کوریااس فیصلے پر سخت ناراض ہیں اور اُن کی جانب سے صدر ٹرمپ کے اس اقدام کو امریکہ، جاپان، جنوبی کوریا کے سکیورٹی اتحاد کو ختم کرنے کے مترادف قرار دیا جارہا ہے۔

 

سنگاپور سربراہی کانفرنس پر کی جانے والی تنقید کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ 1950-53 میں لڑی جانے والی کوریا جنگ کے بعد شمالی کوریا اور جنوبی کوریا کے درمیان ابھی تک مستقل معاہدہ ٔ امن نہیں ہوا۔ بلکہ دونوں ملکوں کے درمیان امن صرف عارضی سیز فائر کی بنیاد پر قائم ہے اسی طرح تکنیکی اعتبار سے شمالی اور جنوبی کوریا ابھی تک حالتِ جنگ میں ہیں۔ مشترکہ اعلامیہ میں اس اہم مسئلے پر کچھ نہیں کہا گیا۔ مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ سربراہ کانفرنس سے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کے ایک نئے دور کا آغاز ہوگا، لیکن ان تعلقات کی نوعیت کیا ہوگی؟ کیا امریکہ اور شمالی کوریا کے درمیان سفارتی تعلقات قائم ہو جائیں گے؟ مغربی دُنیا اور امریکہ کے اتحادی ملکوں میں متفقہ رائے پائی جاتی ہے کہ اس سربراہی کانفرنس میں صدر ٹرمپ نے پایا کم اورکھویا زیادہ ہے۔ امریکہ جو کہ عسکری اور معاشی لحاظ سے اب دُنیا کا سب سے طاقتور ملک ہے، کے صدر کے ساتھ ایک چھوٹے اور مفلوک الحال ملک کے سربراہ چیئرمین کم نے سربراہی کانفرنس میں شریک ہو کر نہ صرف شمالی کوریا کی دُنیا میںتنہائی کو ختم کیا ہے بلکہ برابر ی کا درجہ حاصل کرکے اپنے ایٹمی دھماکوں کے پروگرام کی ڈی فیکٹو حیثیت کو تسلیم کروایا ہے۔

 

لیکن صدر ٹرمپ کی انتظامیہ اس رائے سے متفق نہیں۔ سیکرٹری آف سٹیٹ مائیک پامپیو نے زور دے کر کہا ہے کہ شمالی کوریا کے ایٹمی ہتھیاروں کے پروگرام کو مکمل طور پر اور جلد ختم کرنے کے لئے دونوں ملکوں کے درمیان اعلیٰ سطح پر بہت جلد مذاکرات ہوں گے اور جب تک شمالی کوریا کا ایٹمی ہتھیاروں کا پروگرام مکمل طور پر ختم نہیں ہوجاتا اور امریکہ کو باقاعدہ تصدیق کے بعد یہ باور نہیں ہوجاتا کہ اس پروگرام کو دوبارہ شروع نہیں کیا جائے گا، امریکہ کی طرف سے شمالی کوریا کے خلاف عائد شدہ اقتصادی پابندیاں جاری رہیں گی۔ صدر ٹرمپ نے عہدہ سنبھالنے کے بعد جاپان اور جنوبی کوریا کے ساتھ مل کر مشرقِ بعید میں فوجی قوت میں جو اضافہ کیا تھا، اُسے برقرار رکھا جائے گا۔ اسی طرح شمالی کوریا نے اس سربراہی کانفرنس کے بارے میں جو نقشہ کھینچا ہے امریکہ نے اُسے مسترد کردیا ہے اور واضح کیا ہے کہ امریکہ کا واحد مقصد شمالی کوریا کے ایٹمی ہتھیاروں اور دُور مار میزائل پروگرام کو مکمل اور حتمی طور پر ختم کرنا ہے، تاکہ نہ صرف جاپان اور جنوبی کوریا بلکہ امریکہ کی سلامتی کو لاحق خطرہ ہمیشہ کے لئے دُور ہوجائے۔ لیکن مبصرین کے مطابق شمالی کوریا اپنے ایٹمی ہتھیاروں اور میزائل کے پروگرام سے اتنی جلدی اور اس قدر آسانی کے ساتھ دستبردار نہیں ہوگا۔ کیونکہ یہ پروگرام بذاتِ خود کوئی مقصد نہیں بلکہ مخصوص مقاصد کے حصول کے لئے اختیار کیا گیا ہے۔ ان مخصوص مقاصد میں سب سے اہم جزیرہ نما کوریا پر دوسری جنگ ِ عظیم کے اختتام سے آج تک قائم سیاسی اور فوجی حقائق(Status quo)میں تبدیلی لانا ہے یعنی کوریا کے دونوں حصوںکو پھر سے متحد کرنا ۔ مغربی تجزیہ نگاروں کے مطابق شمالی کوریا کی موجودہ حکومت کے پیشِ نظر سب سے اہم مقصد ملک کو متحد کرنا ہے اورجب تک شمالی کوریا یہ مقصد حاصل نہیں کرلیتا اپنے ایٹمی ہتھیاروں اورمیزائل پروگرام سے دستبردار نہیں ہوگا۔ دوسری طرف مشترکہ اعلامیہ میں اگرچہ امریکہ نے شمالی کوریا کو سلامتی کی ضمانت دینے کا وعدہ کیا ہے۔ تاہم ان میںجنوبی کوریا میں مقیم تقریباً 30 ہزار امریکی فوج کا انخلاء یا جزیرہ نما کوریا کے اردگرد شمال مشرقی بحرالکاہل کے پانیوں میں موجود ایٹمی ہتھیاروں سے لیس بحری اور فضائی فوجی دستوں کی واپسی شامل نہیں۔ اب تک امریکہ کی طرف سے جو وضاحتیں پیش کی گئی ہیں، ان کے مطابق شمالی کوریا کے ساتھ مذاکرات یا سربراہی کانفرنس کے ایجنڈے میں صرف شمالی کوریا کی ڈی نیوکلیئرائزیشن Denuclearizationشامل ہے۔ اس کے بعد شمالی کوریا کے خلاف اقتصادی پابندیوں کے خاتمے اور اسے اقتصادی امداد کی فراہمی کا مرحلہ آسکتا ہے۔ جہاں تک جنوبی کوریا میں مقیم فوجی دستوں کی واپسی ،کوریا کے دونوں حصوں کا اتحاد یا بحرالکاہل میں جزیرہ نما کوریا کے اردگرد کے علاقوں میں امریکی فوجی قوت میں کمی کا سوال ہے، امریکہ اس پر کبھی راضی نہیں ہوگا۔ کیونکہ یہ اس کی عالمی حکمتِ عملی کا ایک اہم حصہ ہے۔ اگرچہ ٹرمپ انتظامیہ سنگاپور سربراہی کانفرنس کو امریکہ کی ایک بڑی کامیابی قرار دے رہی ہے اور جیسا کہ صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ اب شمالی کوریا کی طرف سے ایٹمی حملے کا خطرہ ختم ہوگیا ہے۔ بیشتر مبصرین کی رائے میں ٹرمپ کِم سربراہی کانفرنس سے امریکہ اور شمالی کوریا کے درمیان تعلقات میں کوئی ڈرامائی تبدیلی نہیں آئے گی اور نہ ہی بحرالکاہل میں فوجی قوت کی ڈپلائمنٹ(Deployment) میں کوئی بڑا فرق آئے گا۔ لیکن اس کا یہ ہر گز مطلب نہیں کہ سنگاپور میں امریکی صدر اور شمالی کوریا کے سربراہ میںملاقات غیراہم، بے نتیجہ اور لاحاصل رہی ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ اس کانفرنس کے بعد مشرقِ بعید میں کشیدگی کی فضاختم ہوئی ہے۔ امریکہ اور شمالی کوریا کے درمیان تصادم کا خطرہ ٹل گیا ہے۔ تقریباً 70 برس کے بعد علاقائی سلامتی کے ایک نئے نظام کے قیام کے لئے پہلاقدم اٹھایا گیا ہے۔ دوسری اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس سے شمالی کوریا کی آئی سو لیشن (Isolation)ختم ہوگئی ہے اب یہ ملک اپنے خطے میں زیادہ فعال سفارتی کردار ادا کرسکتا ہے اور آخری سربراہی کانفرنس کا انعقاد ہی بذاتِ خود ایک بہت بڑی پیش قدمی ہے جیسا کہThe Straits Times نے لکھا ہے''نتائج کے اعتبار سے سنگاپور کانفرنس سو فیصد تسلی بخش نہیں۔ تاہم ایک تاریخی کانفرنس ہے۔''


مضمون نگار معروف ماہر تعلیم اور کالم نویس ہیں۔ 

[email protected]

 

یہ تحریر 244مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP