متفرقات

ایک بلوچ فراری کا غیرت مند مجاہد بیٹا


ممتاز صحافی ملک فداء الرحمن کے حالیہ دورہ بلوچستان کے دوران مشاہدات اور تجربات پر مبنی ایک تحریر

میں نے پورے بلوچستان میں سڑکوں ڈیموں،محکمہ صحت اور پھر سب سے بڑھ کر محکمہ تعلیم کے نظام کو قریب سے دیکھنے اور سمجھنے پر زیادہ توجہ دی۔ میں تعلیمی نظام میں فرنٹیئر کور بلوچستان (ایف سی) کے سکولوں کا دورہ ضرور کرتا ہوں کیونکہ تعلیم اور صحت ایف سی کا کام نہیں تھا لیکن انہوں نے بلوچستان کے عوام کے لئے سکیورٹی فراہم کرنے کے علاوہ تعلیم اور صحت میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔ جگہ جگہ خوبصورت ڈسپنسریاں قائم کیں جہاں سے تمام سویلین اور ان کے بیوی بچوں کو مفت دوائی دی جاتی ہے۔ ہر وقت ایم بی بی ایس ڈاکٹر موجود ہوتا ہے۔ ان ڈسپنسریوں میں مکمل چیک اپ اور صفائی کا پورا انتظام موجود ہے۔ اس کے علاوہ ایف سی نے ہائیر سیکنڈری سکول بھی قائم کیے ہیں۔ میں نے ایف سی سکول سوئی کا دورہ کیا ۔ یہ سکول مڈل تک ہے۔ اس کے پرنسپل سعید احمد صاحب اور وائس پرنسپل عائشہ رانا ہیں۔ سکول کی صفائی اور نظم و ضبط بلاشبہ لاہوراور اسلام آباد کے کسی بھی معیاری سکول سے کم نہیں تھا۔ سوئی اور ڈیرہ بگٹی کے علاقے میں چونکہ حالات بہت ہی خراب تھے فراری جگہ جگہ وارداتیں کرتے اور ڈاکے مارتے پھر رہے تھے اور ان کو کوئی پوچھنے والا نہیں تھا۔ پھر اس علاقے کو جان بوجھ کر تعلیم سے بھی دور رکھا گیا تھا۔ مجھے بہت سے لوگوں نے بتایا ہے کہ ایف سی بلاتفریق بلوچستان میں ہر بچے کو تعلیم دے رہی ہے۔ ایف سی ان لوگوں کے بچوں کو بھی پڑھا رہی ہے جن کے والدین دن رات ایف سی کے افسروں اور جوانوں پر راکٹ اور گولیاں برسا رہے ہیں۔ یہ ایسی بات تھی کہ جس پر یقین کرنا ذرا مشکل تھا۔ میں نے ایف سی سکول کے پرنسپل سے پوچھا کہ آپ کے سکول میں فراریوں کے بھی بچے ہیں تو انہوں نے بتایا کہ کافی زیادہ ہیں۔ بہر حال وہ تقریباً 20بچوں کو لے کر آ گئے جو سکول کے خوبصورت یونیفارم میں تھے جو ان کوسکول کی طرف سے مفت مہیا کئے گئے تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ فیس نام کی کوئی چیز نہیں۔ ان کو کتابوں سمیت ہر چیز مفت مہیا کی گئی تھی۔ سکول کے بچوں سے گفتگو کا آغاز ہوا تو جس سے پوچھوں کہ آپ کا باپ کیا کرتا ہے وہی کہتا کہ میرا باپ مزدوری کرتا ہے۔ کیا مزدوری کرتا ہے اس کا انہیں بھی علم نہیں تھا۔ ان بچوں سے جب مستقبل کا پوچھا جائے تو زیادہ تر کا ایک ہی جواب تھا کہ میں تعلیم سے فارغ ہو کر استاد بنوں گا اور اپنے علاقے کے بچوں کو اعلیٰ تعلیم کے لئے تیار کروں گا۔ مجھے ان کا یہ جذبہ اچھا لگا اور ان کے دلوں میں پیدا ہونے والے اس جذبے کو دیکھ کر مجھے وہ بچے بہت پیارے لگنے لگے اور ان کے اساتذہ کو بھی داد دینی پڑی جنہوں نے بچوں کو تعلیم کی اہمیت سے آگاہ کیا اور ان کی ذہنی صلاحیت کو اجاگر کیا ۔ لیکن اسی دوران مجھے ایک تیسری کلاس کے بچے محمد ارشد ولد رند علی کا جواب سن کر بہت حیرانی ہوئی جب میں نے محمدارشد سے پوچھا کہ تم تعلیم سے فارغ ہو کر کیا بنو گے تو اس نے فوراً کہا میں ایف سی بنوں گا۔ اس نے یہ نہیں کہا کہ میں ایف سی میں افسر بنوں گا۔

 

 صرف اتنا کہا کہ میں ایف سی بنوں گا۔ مجھے یہ معلوم تھا کہ یہ ایک فراری کا بیٹا ہے اس کے باوجود میں نے پوچھا کہ ایف سی کو تو دہشت گردوں سے لڑنا پڑتا ہے۔ ارشد نے دو ٹوک جواب دیا میں بھی لڑوں گا۔ میرا اگلا سوال یہ تھا کہ اگر دوسری طرف سے دہشت گردوں کے ساتھ مل کر تمھارا دوسرا بھائی آ کر ایف سی کے ساتھ لڑنے لگا تو پھر کیا کرو گے۔ اس کا جواب پھر ذرا شدت میں تھا کہ میں اس کو مار دوں گا۔ میں نے پھر سوال کیا کہ اگر دوسری طرف تمھارا باپ شدت پسندوں کے ساتھ مل کر ایف سی پر حملہ کرے تو پھر تمھارا کیا ردعمل ہوگا۔ اس کا پھر وہی جواب تھا کہ میں اس کو بھی گولی مار دوں گا۔ اس کے ساتھ ساتھ اس بچے کے چہرے پر سرخی کچھ زیادہ ہی دکھائی دینے لگی۔ میں نے کہا کہ آپ کو بھائی اورباپ کی طرف گولی چلاتے ہوئے کچھ خیال نہیں آ ئے گا تو ا س نے کہا پاکستان میرا ملک ہے میری ماں ہے۔ بلوچستان میری ماں ہے، یہاں کی مٹی میری ماں ہے۔ جو بھی میرے ملک میری ماں کی شہرت کو نقصان پہنچائے گامیں اسے گولی مار دوں گا۔ان تمام باتوں کے دوران اس بچے کی آنکھیں، چہرے کی سرخی اور غصے سے کاپنتے ہوئے ہونٹ جن جذبات کا اظہار کر رہے تھے ان کو شاید میں ساری زندگی نہ بھلا سکوں۔ میں نے پوچھا کہ یہ بچہ کس ٹیچر کے پاس پڑھتا ہے تو پتہ چلا کہ اس کی ٹیچر سکول کی وائس پرنسپل محترمہ عائشہ رانا ہیں۔ جنہوں نے اس قدر مہارت اور محنت سے ایسے بچوں کی تربیت کی ہے۔ میں نے عائشہ رانا کی کلاس میں جا کر بچوں کی اس شاندار طریقے سے کوچنگ کرنے پر اُنہیں مبارک دی۔ پرنسپل سعید احمدبھی اس موقع پر ہمارے ساتھ تھے۔ میں نے ان کی بھی حوصلہ افزائی کی اور گزارش کی کہ مجھے محمد ارشد کی تصویر چاہئے۔ میں اس کے جذبات سے 20کروڑ عوام کو بھی آگاہ کرنا چاہتا ہوں جو بلوچستان میں آنے والی نئی تبدیلی سے ابھی تک آگاہ نہیں۔ محمد ارشد کا والد رند علی پٹ فیڈر نہر کی آر ڈی 238پر وارداتیں کرتا تھا اور اس نے عوام اور سرکاری املاک کو بہت نقصان پہنچایا۔ اب جب اس نے دیکھا کہ میرے بچوں کی اس طرح تربیت کی جار ہی ہے کہ میرا خاندان اور میرے علاقے کا آنے والا مستقبل بہت روشن ہوگا تو وہ رضاکارانہ طور پر ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل ہو گیا ہے۔ اس کے باقی بچے بھی پڑھ رہے ہیں۔ بلوچستان میں میں نے یہ عجیب نظام دیکھا کہ جس فورس کا کام امن و امان بحال رکھنا ہے وہ امن و امان کے ساتھ تعلیم کا بیڑا بھی اٹھائے ہوئے ہے اور جن کا کام تعلیم دینا تھا وہ تعلیم کے محکمے میں بھرتی تو ہوئے ہیں لیکن کچھ گھر بیٹھے ہوئے ہیں اورکچھ بیرون ملک بیٹھے ہوئے ہیں اور صرف تنخواہ لے رہے ہیں۔ بلوچستان کے ناگفتہ بہ تعلیمی نظام کو ایف سی نے بہت مضبوط سہارا دیا ہے اور آنے والا ہر دن بہتری کی طرف جا رہا ہے۔ محمد ارشد کے والد کا نام رند علی قبیلہ بگٹی اور قوم بجلانی ہے۔ اس کے مطابق ہمارے گھر میں ہر وقت ایف سی کی تعریفیں ہوتی رہتی ہیں اس لئے میرے دل میں خواہش پیدا ہوتی ہے کہ میں بھی بڑ اہو کر ایف سی کی طرح ملک و قوم کی خدمت کروں گا۔

یہ تحریر 104مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP