قومی و بین الاقوامی ایشوز

ایک برس بعد۔ میں نے کیا دیکھا

سانحہ آرمی پبلک سکول پشاور کے افسوس ناک واقعے کے تقریباً ایک سال بعد ہلال ٹیم جرأت و بہادری کے ان استعاروں سے ملنے گئی۔ ہم نے اے پی ایس میں بچ جانے والے طلبأ اور اساتذہ کے ساتھ ایک دن گزارا جنہوں نے اپنے ساتھیوں اور بچوں کو ا س سانحے میں کھو دیا۔ میں اس بات کی شاہد ہوں کہ ان کے حوصلے پہلے سے بھی بلند تھے جو اس بات کے عکاس تھے کہ چاہے کچھ بھی ہو جائے ٗپاکستانی قوم کو شکست نہیں دی جاسکتی۔ بچوں کے دمکتے چہرے‘ ان کی روشن آنکھیں ببانگِ دہل اس امر کی عکاسی کر رہی تھیں کہ انہیں پڑھنا ہے اور آگے بڑھنا ہے۔ یہ تو وہ بچے ہیں جو دہشت گردی کے واقعے کے چند روز بعد ہی اپنے اساتذہ کے ہمراہ اپنے سکول پہنچ گئے تھے۔

ایک تعلیمی ادارے کو اس طرح نشانہ بنانا اس بات کا ثبوت ہے کہ دشمن ہمارے دل سے علم کا شوق نکالنا چاہتا ہے مگر اس سفاکیت کے باوجود بھی تمام اساتذہ اور طلباء کاایک نئی اُمنگ اور ولولے کے ساتھ سکول آنا اور تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھنا اس امرکا اعلان کرتا ہے کہ وہ دشمن کو منہ توڑ جواب دیں گے۔

آج ایک برس گزرنے بعد تمام شہداء کے ورثا‘ ساتھی اور اساتذہ سینہ تانے اُسی مقام پر اُن شرپسندوں کو پیغام دینے کھڑے تھے کہ شہیدوں کا مشن ابھی ختم نہیں ہوا۔ دورانِ گفتگو پرنسپل مسز نغمہ حبیب نے بتایا کہ باوجود اس کے کہ اس حملے کی اعصاب شکن خبر نے پوری قوم کو شدید دُکھ سے دوچار کر دیا تھا مگر آج ایک سال گزرنے کے بعد اساتذہ اور طلباء اپنی پڑھائی اور معمول کی سرگرمیوں کی جانب پہلے سے بھی زیادہ جوش اور ولولے کے ساتھ لوٹ آئے ہیں۔ پلے گراؤنڈ‘ لائبریری اورکلاسوں میں ملنے والے تمام بچوں کے چہرے اس امر کی غمازی کررہے تھے کہ اُن کے حوصلے پہلے سے کہیں زیادہ بلند ہیں۔ موت کے بازار سے زندہ لوٹ آنے کے بعد خوف و ہراس اُن کے لئے بے معنی ہو چکے ہیں۔

تمام طلباء اپنے شہید بھائیوں اور دوستوں کے مشن کو پورا کرنے کے لئے کوشاں ہیں۔ حمزہ رحمن کا کہنا تھا کہ ہم اس یقین کے ساتھ اپنی جنگ قلم اور تعلیم کے ساتھ لڑ رہے ہیں کہ کامیابی ہمارا مقدر بنے گی۔ جبکہ محمدارسلان جو کہ جماعت نہم کے سٹوڈنٹ ہیں اس عزم کے ساتھ دوبارہ اسی سکول میں واپس آئے ہیں کہ دشمنوں کو اُن کے مذموم ارادوں میں کامیاب نہ ہونے دیں گے۔

سکول کے اساتذہ اور طلباء نے اپنے عمل سے اس امر کا اعلان کیا کہ پاکستان میں شدت پسندی اور انتہا پسندی کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔ وہ جس انداز سے اپنی کلاسوں میں تعلیم حاصل کرنے میں مگن تھے وہ دہشت گردوں کے لئے ایک واضح پیغام ہے کہ صرف یہ بچے ہی نہیں اس قوم کا ہر بیٹا اور بیٹی علم کی روشنی سے بہرہ مند ہو گا۔ یہ پاکستان کا مستقبل ہیں جو بفضل تعالیٰ بہت روشن اور تابناک ہے۔

اے پی ایس پشاور 16 دسمبر2014 ’میں نے کیا دیکھا‘

کاظم خٹک

(اُستاد )

میں اس دن کینٹین میں چائے پی رہا تھا کہ اچانک میں نے بچوں کی چیخیں اور گولیوں کی آواز سنی۔ میں نے اپنی آنکھوں سے دہشت گردوں کو دیوار پھلانگتے دیکھا اور خود کو ایک درخت کے پیچھے چھپا لیا۔ اسی دوران دہشت گرد آڈیٹوریم کی سیڑھیوں پر اوپر ہال کی طرف بڑھنے لگے اور بڑھتے بڑھتے گولیوں سے معصوم طلباء و اساتذہ کو نشانہ بناتے رہے۔ کچھ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے اﷲ کو پیارے ہو گئے اور کچھ زخموں کی وجہ سے چیختے چلاتے رہے۔ آرمی کے جوانوں نے ان دہشت گردوں کو تاک تاک کر جہنم واصل کیا۔ پھر ہم شہداء اور زخمیوں کو سی ایم ایچ ہسپتال پہنچاتے رہے۔ اسی رات کو میں سوچ رہا تھا کہ اﷲ نے مجھے ایک نئی زندگی دی ہے۔ اس کا آغاز کیسے کروں۔ چند دنوں بعد سکول پہنچا تو کیا دیکھتا ہوں کہ طلباء اسی شوق سے پڑھائی کے لئے آ رہے ہیں۔ ان معصوم طلباء کا یہ حوصلہ دیکھ کر دل باغ باغ ہوا اور دل ہی دل میں سوچنے لگا کہ ان نوجوانوں کا یہ پیغام دہشت گردوں کے منہ پر ایک طمانچہ ہی ہو گا۔

 

محمد شاہد

(اُستاد )

مجھے وہ دن آج بھی یاد ہے کہ جب دہشت گردوں نے میری نظروں کے سامنے سکول کے عقبی حصے سے پھلانگ کر سکول احاطے میں اندھا دھند گولیوں کی بوچھاڑ شروع کردی۔ دہشت گرد سکول میں موجود نہتے اساتذہ اور مستقبل کے معماروں(طلباء) کو اندھی گولیوں کا نشانہ بناتے رہے۔ ان معصوم اور بے گناہ جانوں کا قصور یہ تھا کہ مستقبل میں قوم کے بہترین جانباز بنیں گے۔ میں اپنی آنکھوں سے ان ننھی کلیوں کو خون میں لت پت دیکھتا رہا۔ لیکن اگلے دن جب میں سکول فرائض نبھانے کے لئے آیا تو میں نے طلباء کی آنکھوں میں خوف کے بجائے ایک جوش اور ولولہ دیکھا۔ میں نے یہ محسوس کیا کہ ان غازیوں نے دہشت گردوں کو ایک پیغام یہ بھی دیا کہ ہم تم جیسے ڈرپوک اور بے ضمیر دہشت گردوں سے ڈرنے والے نہیں۔ ان جوانوں نے دہشت گردوں کو یہ بھی پیغام دیا کہ ہم میں بھی حُب الوطنی کا جذبہ بدرجہ اتم موجود رہے گا۔

 

آنریری کیپٹن (ریٹائرڈ) علی خان خٹک

سپرنٹنڈنٹ آرمی پبلک سکول پشاور

میرا بیٹا واصف علی خٹک 16دسمبر 2014کو آرمی پبلک سکول میں دہشت گردوں کے حملے میں شہید ہو گیا تھا۔ میرے چار بیٹے اور ایک بیٹی ہے۔ شہید واصف سب سے چھوٹا بیٹا تھا۔ واصف علی سے مجھے بہت پیار تھا۔ میں نے اس کو سخت الفاظ میں نہ کبھی ڈانٹا اور نہ ہی کبھی مارا تھا۔ وہ تعلیمی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ غیرنصابی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا تھا۔

 

ہم والدین 16دسمبر کی صبح کو کبھی نہیں بھولیں گے جب واصف علی سکول کے لئے روانہ ہوا تو ہم دونوں خلاف معمول گیٹ تک اس کے پیچھے آئے۔ میں دوسرے شہید بچوں کے والدین کو حوصلہ دینا چاہتا ہوں کہ ہمارے بچوں نے قربانی دے کر ملک و قوم کے نام کو روشن کیا ہے۔ لہٰذا ہمیں آنسو بہانے کی بجائے حوصلے اور ہمت سے کام لے کر ملک و قوم کے مستقبل کو محفوظ بنانا ہو گا اور دوسرے بچوں کی حوصلہ افزائی کرنی ہو گی۔ تاکہ ان کے والدین بے خوف ہو کر بچوں کو تعلیم دلوائیں۔

یہ تحریر 29مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP