متفرقات

ایک اہم قومی ترجیح

دلکش اور حسین سرزمین پاکستان، ایک گلدستہ ہے، تمام صوبے اور اس میں بسنے والے لوگ اس گلدستے کے وہ انمول پھول ہیں جو اس پاک سرزمین کو معطر کئے ہوئے ہیں۔ وہی اس کی سا  لمیت اور بقاء کے ضامن بھی ہیں۔ یقینا ہماری قومی سلامتی تبھی ممکن ہے جب ہم بیرونی اور اندرونی دونوں محاذوں پر محفوظ ہوں۔ بیرونی محاذ پر دشمن کو پے در پے ناکامی کا سامنا ہونے پر اُس نے ہمیشہ ہمیں اندرونی سطح پر نقصان پہنچانے کی سعی کی ہے اور وہ پاکستان کو اندر سے کمزور کرکے اپنے گھنائونے عزائم میں کامیاب ہونا چاہتا ہے۔ دشمن نے پاکستان کے عزم کو قبائلی علاقہ جات میں ناکام بنانا چاہا جس میں وہ کامیاب نہ ہوسکا اور اب وہ صوبہ بلوچستان میں کوئی نہ کوئی مسئلہ کھڑا کرکے پاکستان کے اندر بے چینی پیدا کرنے کے درپے رہتا ہے جس میں اُسے الحمدﷲ اب تک منہ کی کھانا پڑی ہے اور وہ مستقبل میں بھی کبھی اس میں کامیاب نہیں ہوپائے گا۔
صدشکرصوبہ بلوچستان میں اب حالات ماضی کی نسبت بہت بہتر ہیں۔ امنِ عامہ کی صورت حال بھی قابلِ اطمینان ہے۔ حالات بہتری کی جانب گامزن ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں  جس طرح سے ملک کے مختلف صوبے اور علاقے ترقی کی شاہراہ پر گامزن رہے ہیں کچھ عرصہ قبل تک صوبہ بلوچستان اس فہرست میں دکھائی نہیں دیتا تھا۔ لیکن پاکستان کی مختلف وفاقی، صوبہ بلوچستان کی حکومتوں اور عسکری قیادت نے گزشتہ چند برسوں کے دوران جس طرح سے صوبے میں شاہرات کی تعمیر، تعلیمی اداروں کا قیام اور ہسپتال بنائے ہیں اس سے بلوچستان کے عوام کو بہترین ریلیف ملا ہے اور اُن کے مسائل میں کمی واقع ہوئی ہے۔
 افواجِ پاکستان نے صوبہ بلوچستان کی نئی نسل کو تعلیم و تربیت کی روشنی سے بہرور کرنے کے لئے متعدد کیڈٹ کالج قائم کئے ہیں۔ جن سے فارغ التحصیل ہو کربلوچی نوجوان افواجِ پاکستان میں کمیشن حاصل کرکے آفیسرز بن رہے ہیں۔ ملٹری کالج سوئی کے کیڈٹس تو پاکستان ملٹری اکیڈمی سے ''سورڈ آف آنر'' بھی حاصل کرچکے ہیں۔ اسی طرح صوبہ بلوچستان کے نوجوان پاک فوج میں بطور سولجر بھی بھرتی ہو رہے ہیں اور دفاعِ وطن کا فریضہ سرانجام دے رہے ہیں۔پاک فوج نے چمالانگ ایجوکیشن سکیم کے ذریعے مختلف تعلیمی منصوبے بھی شروع کررکھے ہیں اور بلوچستان میں مختلف ٹیکنیکل کالجز کو  بحال (Revive) کرنے میں بھی فوج اپنا کردار ادا کررہی ہے۔ بلوچستان یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی انجینئرنگ اینڈ مینجمنٹ سائنسز (BUITEMS) جیسے ادارے ان ہی کاوشوں کی ایک کڑی ہیں۔ یوتھ موبلائزیشن کمپین کے تحت بلوچستان کے طلباء و طالبات کو ملک بھر میں قائم مختلف اداروں کے دورے بھی کروائے جاتے ہیں جن سے ان میں آگاہی اور ہم آہنگی ایسے جذبات پیدا کرتے ہیں۔
خوشحال بلوچستان پروگرام کے تحت بلوچستان میں ترقی اور خوشحالی سے متعلق متعدد منصوبے عمل میں لائے گئے ہیں۔ بلوچستان میں ایک کارڈیک سینٹر کا قیام بھی عمل میں لایا جا رہا ہے جس میں دل کے امراض کے حوالے سے ملک بھر کے کسی بھی شہر میں قائم جدید ترین ہسپتال کی سہولیات موجود ہوں گی۔ کوئٹہ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (QIMS) پہلے ہی ایک فعال ادارے کے طور پر کام کر رہا ہے۔ اب بلوچستان کے بچوں اور بچیوں کو میڈیکل کی تعلیم کے حصول کے لئے اپنے علاقوں سے دور نہیں جانا پڑتا ہے۔ گویا جدید ترین علوم بلوچستان کے بچوں کو ان کی دہلیز پر بہم پہنچائے جا رہے ہیں۔ صرف یہی نہیں صوبہ بھر میں بہترین شاہرات کی تعمیر بھی یقینی بنائی گئی ہے۔ 
بلاشبہ اس صوبہ کی ترقی اور امن ہر پاکستانی کی ترجیح ہے۔ ہم سب نے مل کر رہنا ہے کہ اسی میں ہماری بقاء ہے۔ قوم نے بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے اتحاد، ایمان اور تنظیم کے عظیم قول پر عمل پیرا ہو کر اس ملک اور سرزمین کی سا  لمیت اور تشخص کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ اتحاد اور باہمی یگانگت کے اوصاف کی حامل یہ قوم ضرور کامیاب و کامران رہے گی اور سبزہلالی پرچم بین الاقوامی سطح پر یونہی لہراتا رہے گا۔
پاکستان ہمیشہ زندہ باد ||
 

یہ تحریر 54مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP