قومی و بین الاقوامی ایشوز

این ایل سی کا قومی ترقی میں کردار

این ایل سی انجینئرز کا کردار قومی ترقی میں ہمیشہ اہم اور مؤثر رہا ہے۔ جدیدترین تعمیراتی وسائل سے لیس اس شعبہ کے ماہر انجینئرز اور کارکنان نے تعمیرات کے شعبہ میں نت نئی ایجادات کو نہ صرف متعارف کرایا ہے بلکہ وطنِ عزیز میں انہیں فروغ بھی دیا ہے۔ این ایل سی انجینئرز نے پاکستان کے طول و عرض میں کئی اہم منصوبے مکمل کئے ہیں جن میں سے بعض تو ریکارڈ مدت میں مکمل کئے گئے۔

این ایل سی وطن عزیز کا وہ سرمایہ ہے جو بیک وقت ملک کے طول و عرض میں مال برداری‘ اپنی اعلیٰ تعمیرات‘ خشک بندرگاہوں کا جدید خطوط پر انتظام و انصرام‘ ٹال ٹیکس کی شفاف وصولی اور افرادی قوت کو جدید تیکنیکی تربیت کی فراہمی کی خدمات انتہائی خوش اسلوبی سے انجام دے رہا ہے۔1978 میں اپنے قیام سے لے کر آج تک اس ادارے نے قومی ترقی میں وہ کارہائے نمایاں سرانجام دیئے جن پر بلاشبہ فخر کیا جاسکتا ہے۔

قدرتی آفات اور دیگر بحرانوں میں این ایل سی ہمیشہ لاجسٹکس سہولیات کی مربوط فراہمی کو یقینی بنانے‘ قومی اداروں اور مختلف فلاحی تنظیموں کو تمام تر وسائل فراہم کرنے میں اپنا کردار انتہائی خوش اسلوبی سے ادا کرتارہا ہے۔1978ء میں کراچی بندر گاہ پر کنٹینروں کا بے پناہ رش ہو‘ ارتکاز کی وجہ سے پیدا ہونے والی ہنگامی صورت حال ہو‘ 2005 کا بدترین زلزلہ ہو یا 2010 کا تباہ کن سیلاب۔ ایل این سی نے ہمیشہ قومی توقعات پر پورا اترنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔2005 کے زلزلے سے ہونے والی تباہی کے بعد آزاد جموں و کشمیر کے اضلاع مظفرآباد اور باغ میں بحالی کے کاموں میں این ایل سی نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور ان کی کامیاب تکمیل کے بعد انہیں ایم ای ایس کے حوالے کردیا گیا۔

2005میں پلاننگ ڈویژن نے ہمسایہ مسلمان ملک افغانستان میں پانچ اہم منصوبے این ایل سی کے سپرد کئے جن میں سے چار منصوبے (علامہ اقبال فیکلٹی آف آرٹس کابل یونیورسٹی ‘ لیاقت علی خان انجینئرنگ فیکلٹی مزار شریف‘ جناح ہسپتال کابل اور سرسید گریجویٹ سائنس فیکلٹی بلاک ننگر ہار) کامیاب تکمیل کے بعد افغان حکومت کے حوالے کئے جا چکے ہیں۔

این ایل سی انجینئرز کا کردار قومی ترقی میں ہمیشہ اہم اور مؤثر رہا ہے۔ جدیدترین تعمیراتی وسائل سے لیس اس شعبہ کے ماہر انجینئرز اور کارکنان نے تعمیرات کے شعبہ میں نت نئی ایجادات کو نہ صرف متعارف کرایا ہے بلکہ وطنِ عزیز میں انہیں فروغ بھی دیا ہے۔ این ایل سی انجینئرز نے پاکستان کے طول و عرض میں کئی اہم منصوبے مکمل کئے ہیں جن میں سے بعض تو ریکارڈ کی مدت میں مکمل کئے گئے۔ گزشتہ پانچ سالوں کے دوران اپنی بے مثال کارکردگی کی بنا پر این ایل سی‘ کے کاروباری حجم میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے جو مختلف اداروں کی جانب سے اس کے اعلیٰ و معیاری کام پر اعتماد کا ثبوت ہے۔ این ایل سی انجینئرز کے پاس بیک وقت ملک کے دور اُفتادہ سنگلاخ پہاڑوں اور گنجان آباد شہری علاقوں میں پیچیدہ اور مشکل تعمیراتی منصوبوں کو کامیابی سے پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے مطلوبہ صلاحیت اور استعداد موجود ہے جس کا عملی مظاہرہ مختلف مواقع پر وہ کرچکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومتی اور نجی ادارے مشکل منصوبوں کی بروقت تکمیل کے لئے این ایل سی کا انتخاب کرتے ہیں۔ اسی اعتماد کا نتیجہ ہے کہ 2005 میں پلاننگ ڈویژن نے ہمسایہ مسلمان ملک افغانستان میں پانچ اہم منصوبے این ایل سی کے سپرد کئے جن میں سے چار منصوبے ( علامہ اقبال فیکلٹی آف آرٹس کابل یونیورسٹی ‘ لیاقت علی خان انجینئرنگ فیکلٹی مزار شریف‘ جناح ہسپتال کابل اور سرسید گریجویٹ سائنس فیکلٹی بلاک ننگر ہار) کامیاب تکمیل کے بعد افغان حکومت کے حوالے کئے جا چکے ہیں۔

انتظامی لحاظ سے اس اہم ادارے کو پاکستان کے تین جغرافیائی حصوں میں تشکیل دیاگیا ہے‘ جس کا ہیڈکوارٹر راولپنڈی میں سواں کیمپ کے قریب واقع ہے۔ اسی مقام پر بالائی پنجاب اور خیبر پختون خوا کے لئے پراجیکٹ کنٹرول ورکس نارتھ کا مرکزی دفتر موجود ہے‘ جنوبی و مرکزی پنجاب کے لئے لاہور میں پراجیکٹ کنٹرول ورکس سینٹر جبکہ سندھ اور بلوچستان میں تعمیراتی منصوبوں کی انجام دہی کے لئے کراچی میں پراجیکٹ ورکس ساؤتھ کا دفتر بنایا گیا ہے۔ پراجیکٹ کنٹرول ورکس نارتھ نے ماضی قریب میں جو اہم منصوبے مکمل کئے ہیں ان میں دیر _ اہا گرام روڈ‘ تخت بھائی_ شیرگڑھ روڈ ‘ کیڈٹ کالج صوابی‘ آرمی پبلک سکول فورٹ روڈ راولپنڈی‘ مری میں جھیکا گلی کے مقام پر سڑک و حفاظتی پشتے کی تعمیر‘ پیرودھائی فلائی اوور اور انڈر پاس‘ مریڑچوک کی توسیع و ریلوے پل کی تعمیر اور دیگر منصوبے شامل ہیں۔ این ایل سی انجینئرز کے اس ذیلی ادارے نے راولپنڈی میں جو منصوبے ریکارڈ مدت میں مکمل کئے ہیں ان میں شہر کی مصروف ترین شاہراہ مری روڈ پر سسکتھ روڈ فلائی اوور کی صرف 100 دن میں تعمیر اور چاندنی چوک فلائی اوور کی صرف 127 دن میں تعمیر شامل ہے۔ لاہور میں قائم پرا جیکٹ ورکس سنیٹر اپنی شاندار کارکردگی کی بنا پر اپنی مثال آپ ہے جس نے تعمیرات کے شعبے میں نئے رجحانات کو فروغ دیا۔ حالیہ برسوں میں اس ادارے نے معیاری رفتارسے نہ صرف صوبائی دارالحکومت لاہور بلکہ پنجاب کے دیگر شہروں میں بھی متعدد اہم منصوبے مکمل کئے ہیں۔ لاہور میں نہر والی روڈ کی توسیع‘ کلمہ چوک اور مسلم ٹاؤن فلائی اوورز کی تعمیر‘ لاہور رنگ روڈ پر کئی اہم انٹر چینچ اور سڑکوں کی تعمیر‘ ملتان روڈ کی کشادگی یہ ایسے منصوبے ہیں جنہیں اوسطاً چھ ماہ سے بھی کم عرصے میں مکمل کیا گیا۔ پراجیکٹس کنٹرول ورکس سینٹر نے میٹرو بس لاہور کے پیکیج ایک‘ پیکیج چار اور پیکیج سات کی مقررہ مدت میں معیاری تعمیر کو بھی یقینی بنایا۔ گوجرانوالہ میں جی ٹی روڈ فلائی اوور کی تعمیر ہو‘ فیصل آباد کا انڈر پاس‘ صنعتی زون کے ترقیاتی کام ہوں یا پنجاب کے کالجوں میں سہولیات کی فراہمی‘ این ایل سی انجینئرز نے ہر موقع پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ معیاری تعمیرات کی اس دوڑ میں پراجیکٹس کنٹرول ساؤتھ بھی کسی سے پیچھے نہیں ہے۔ انجینئرز کے اس ذیلی ادارے نے انتہائی نامساعد حالات کے باوجود سندھ اور بلوچستان کے دور افتادہ علاقوں میں اہم قومی منصوبے کامیابی کے ساتھ پایۂ تکمیل تک پہنچائے ہیں جن میں کشمور چھاؤنی‘ پی پی ایل ہسپتال‘ سبی۔ رکھنی روڈ اور دیگر اہم منصوبے شامل ہیں۔ کراچی میں ڈی ایچ اے سٹی‘ ڈی ایچ اے فیز 8 اور پورٹ قاسم اتھارٹی کے ترقیاتی کام کی بروقت تکمیل کا سہرا بھی پراجیکٹس کنٹرول ورکس ساؤتھ کے سر جاتا ہے۔

معیاری تعمیرات کی اس دوڑ میں پراجیکٹس کنٹرول ساؤتھ بھی کسی سے پیچھے نہیں ہے۔ انجینئرز کے اس ذیلی ادارے نے انتہائی نامساعد حالات کے باوجود سندھ اور بلوچستان کے دور افتادہ علاقوں میں اہم قومی منصوبے کامیابی کے ساتھ پایۂ تکمیل تک پہنچائے ہیں جن میں کشمور چھاؤنی‘ پی پی ایل ہسپتال‘ سبی۔ رکھنی روڈ اور دیگر اہم منصوبے شامل ہیں۔ کراچی میں ڈی ایچ اے سٹی‘ ڈی ایچ اے فیز 8 اور پورٹ قاسم اتھارٹی کے ترقیاتی کام کی بروقت تکمیل کا سہرا بھی پراجیکٹس کنٹرول ورکس ساؤتھ کے سر جاتا ہے۔

قومی خدمت کے جذبے سے سرشار این ایل سی انجینئرز کا نصب العین کم وقت اور مقررہ لاگت میں بین الاقوامی معیار کے مطابق منصوبوں کی تعمیر ہے تاکہ وطنِ عزیز کا شمار دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی صف میں ہوسکے۔ اپنے نصب العین کو عملی جامہ پہنانے کے لئے این ایل سی انجینئرز ہمہ وقت کوشاں ہے۔

یہ تحریر 36مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP