متفرقات

اینکر سے اینکری تک

رات گئے ہم ایک شادی سے واپس لوٹے تو ٹیلی ویژن سیٹ آن کر کے بیٹھ گئے۔ نیوز چینلز پر ہماری خاص توجہ تھی کہ دیکھیں آج کیا خبریں ہیں اور کیا تبصرے ہیں۔ حالاتِ حاضرہ کے ٹاک شوز نشرِ مکرر ہو

رہے تھے۔

 

ایک نیوز چینل پر خوبرو اینکر سنہری زلفوں‘ تیز میک اپ اور شوخ لباس کے ساتھ ایک سنجیدہ موضوع پر نہایت غیر سنجیدہ انداز سے گفتگو کررہی تھیں۔ اُن کو دیکھ کر لگتا تھا گویا پروگرام کی تیاری سارا دن بیوٹی پارلر میں ہوئی ہے۔ بار بار وہ کبھی اپنے بالوں کو جھٹکا دیتی‘ کبھی ہاتھوں سے انہیں سنوارتی‘ محسوس ہوتا تھا جیسے پروگرام ختم کرکے سیدھا اُنہیں کسی فیشن شو میں بطورِ ماڈل ریمپ پر کیٹ واک کرنے جانا ہے۔ فیشن اور میک اپ پر غیر ضروری توجہ کے باعث پروگرام میں اُن کی دلچسپی رسمی تھی۔ہمیں اس ماڈلنگ زدہ شو سے گھبراہٹ ہوئی تو فوراً ریموٹ سے چینل تبدیل کردیا اور دوسرا نیوز چینل لگا لیا۔ یہاں بھی ٹاک شو چل رہا تھا جس میں ایک خود ساختہ بقراط ٹائپ کمپیئر اپنے نظریات پروگرام کے شرکاء پر ٹھونستے نظر آئے۔ بقراط صاحب گفتگو بھی کرتے جارہے تھے۔ ساتھ ساتھ اپنے موبائل پر آنے والے پیغامات کا بھی مسلسل جائزہ لے رہے تھے۔ ظاہر ہے جس انہماک سے وہ میسجز پڑھ رہے تھے اس سے تو یہی لگتا تھا کہ وہ کوئی خاص میسجز ہوں گے ورنہ اُن کی بیگم تو بار بار میسج کرنے سے رہیں کہ واپسی پر ناشتے کے لئے ڈبل روٹی انڈے لیتے آنا۔ ماتھے پر بل ڈال کے‘ ہاتھ نچانچا کے مصنوعی ذہانت جھاڑنے والے بقراط کمپیئر سے وحشت ہوئی تو ہم نے پھر چینل تبدیل کردیا۔ اس نیوز چینل پر خاتون اینکر آستین چڑھائے مہمانوں سے سوالات کے تابڑ توڑ حملے کررہی تھیں۔ ان کا جارحانہ انداز دیکھ کر محسوس ہوا جیسے کوئی خاتونِ خانہ کھانا پکاتے پکاتے اچانک چمٹا یا بیلن اٹھا کر بچوں کو مارنے دوڑتی ہے۔ عالم یہ تھا کہ ابھی شرکائے گفتگو ایک سوال کا جواب پورا نہ دے پاتے کہ وہ دوسرا سوال داغ دیتیں۔ ایک تو غصہ اوپر سے جلدبازی‘ لگتا تھا ٹرین چھوٹنے والی ہے جس کا بدلہ ناظرین سے لیا جارہا ہے۔ اس پہلوان سٹائل نے ہمیں چینل بدلنے پر مجبور کردیا۔

 

اب جو چینل لگا اُسے دیکھ کر ہمیں اطمینان ہوا ۔ کمپیئر صاحب کوئی پڑھے لکھے معقول انسان تھے جو عینک لگا کے کچھ کاغذات دیکھتے پھر مہمانوں سے گفتگو کرتے۔ ہمیں اچھا لگا‘ ہم نے آواز بڑھا دی‘ ابھی پانچ منٹ نہ گزرے تھے کہ لگا کسی بہت بڑی مصیبت کا شکار ہوگئے ہوں۔ سوٹ بوٹ والے کمپیئر اچانک ایسے بولنے لگے جیسے میت پر عورتیں بین ڈالتی ہوں۔

 

آج کا نیوز ا ینکر کوئی معمولی آدمی نہیں بلکہ ہر فن مولا ہے۔ وہ بیک وقت ماہر معاشیات‘ ما ہرِاقتصادیات‘ ماحولیات‘ کیمیات‘ ادویات‘ طبعیات‘ سیاسیات‘ حیوانیات‘ نباتات‘ شہریات‘ سماجیات‘ معدنیات‘ جواہرات‘ فلکیات‘ باغات‘ زراعت سمیت آبادی‘ قانون‘ طب‘ تعلیم‘ پارلیمان‘ نجوم‘ عملیات‘ تعویذ گنڈے اور جادو ٹونا جیسے اہم معاملات کا بھی افلاطون ہے۔

 

ہمارا دل گھبرا گیا‘ ہمیں ماضی کے کرنٹ افیئرز کے کمپیئر یاد آنے لگے۔ عبیداﷲ بیگ‘ لئیق احمد‘ قریش پور اور ایسے ہی باوقار‘ سلجھے ہوئے لوگ کسی زمانے میں حالاتِ حاضرہ کے پروگرام کیا کرتے تھے۔ نہ سفارش‘ نہ پرچی‘ نہ بدتمیزی نہ بد تہذیبی‘ نہ شرکائے گفتگو پر تیرو نشتر کی بارش‘ نہ ریٹنگ کا چکر ‘ نہ کسی کی کردارکشی‘ نہ کسی پر تہمت۔ بہت اچھا وقت تھا وہ۔کمپیئر صاحبان کی شخصیت نہایت مدبر‘ گفتگو میں قرینہ‘ اعتدال‘ مہذب انداز‘ شائستگی‘ سوالات میں روانی اور موضوع پر بھرپور گرفت کے علاوہ لباس بھی معقول ہوتا تھا۔ آج کے زمانے کے برعکس اُس دور میں حالاتِ حاضرہ کے کمپیئر کا جینز کی پینٹ کے ساتھ ٹی شرٹ پہن کر موالی انداز سے عامیانہ پن کا مظاہرہ کرنے کا کوئی تصور موجود نہ تھا۔

 

وقت کے ساتھ سب کچھ تبدیل ہوگیا‘ عالم‘ اساتذہ‘ پڑھے لکھے شرفا ناپید ہوتے چلے گئے اور معیار کا پیمانہ بدل گیا۔ کچھ برس قبل ہمیں ایک نجی چینل نے حالاتِ حاضرہ کا پروگرام یعنی پچاس منٹ کا لائیو ٹاک شو کرنے کی پیشکش کی جو ہم نے بخوشی قبول کرلی۔ہم نے بڑے خلوصِ نیت سے پروگرام ہوسٹ کیا‘ موضوع کا انتخاب‘ مہمانوں کو مدعو کرنا بھی ہماری ذمہ داری تھی۔ ہمیں انتظامیہ کی جانب سے کہا گیا کہ آپ کے شو کے مہمان بہت اچھے ہوتے ہیں‘ بس کوشش کیجئے یہ آپس میں لڑپڑیں‘ ایسا فساد کرائیں کہ شرکا گفتگو کے بجائے باہم دست و گریباں ہو جائیں‘ نیز موضوعات بھی متنازع قسم کے ہونے چاہئیں۔ یہ سب ریٹنگ کے لئے ضروری ہے۔

 

ہمیں حیرانی ہوئی کیونکہ سارا دن تو مذکورہ چینل پر ناچ گانا چلتا رہتا تھا جس سے ان کو بہتر ریٹنگ مل جاتی تھی‘ اب کرنٹ افیئرز کے شو میں جانے ان کو مسالے اور تڑکے لگانے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ کچھ عرصے کے بعد پھر ہمیں کہا گیا کہ شو کے مہمان بدزبانی یا تُو تکار نہیں کرتے جس سے ماحول ٹھنڈا رہتا ہے‘ ایسے کیجئے کہ میز کرسیاں نہیں تو کم از کم گلاس یا چائے کا مگ ضرور ٹوٹ جائے۔

 

ہم نے کہا کہ شو کے مہمان ایک دوسرے کو نہیں البتہ سٹوڈیو میں دوڑتے چوہوں کو ضرور مارسکتے ہیں۔ ہمیں احساس ہوگیا کہ جو چینل اپنے سٹوڈیو میں دھما چوکڑی مچا کر مقبولیت حاصل کرنے کا خواہاں ہو‘ وہاں معیار کی توقع عبث ہے۔ چنانچہ ہم نے وہ پروگرام اور چینل چھوڑ دیا۔ اگرچہ ہم نے برسوں ٹیلی وژن ڈراموں میں اداکاری کی ہے لیکن حالاتِ حاضرہ کے پروگراموں میں ڈراما کرنے کے ہم قائل نہیں ‘مگر کیا کریں کہ زمانہ ایسا آگیا ہے کہ لوگ ٹاک شوز کو تفریحی پروگرام سمجھ کر انجوائے کرتے ہیں۔ آج کل چونکہ سارا ڈرامہ ‘ موسیقی اور انٹرٹینمنٹ سیاسی ٹاک شوز میں زیادہ ہوتا ہے‘ لہٰذا عوام بھی نیوز چینلز زیادہ شوق سے دیکھتے ہیں۔ کیا ڈرامے کے فنکار اداکاری کے جوہر دکھاتے ہوں گے جو ہمارے سیاسی فنکار ٹاک شوز میں پرفارم کرتے ہیں۔ عمدہ کردار نگاری‘ بہترین مکالموں کی ادائیگی‘ جذباتی ایکٹنگ‘ یعنی شاندار کارکردگی‘ اوپر سے اینکر کا مولا جٹ سٹائل‘ یہ سب مل کر ٹاک شو کو فلمی بنادیتے ہیں۔

 

ذرا غور کریں تو معلوم ہوگا کیا گلیمر ہے‘ کیا ناز و انداز ہے‘ نئے نئے گیٹ اپ‘ نئی نئی کہانیاں‘ کبھی پرانی کہانی کومعمولی سے ردو بدل سے نیاکرنا‘ ایکشن‘ فائٹ سمیت سبھی مصالحے کرنٹ افیئرز کے ٹاک شوز میں موجود ہیں۔ سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ چونکہ اس سارے ڈرامے میں ہیرو کا کردار اینکر خود ادا کرتا ہے لہٰذا شو کی کامیابی کا کریڈٹ تو لیتا ہی ہے‘ ساتھ ہی آسمان سے باتیں کرتا معاوضہ بھی طلب کرتا ہے۔کچھ کو تو چینل سے تنخواہ اور مراعات کے علاوہ بہی خواہوں کے بھاری لفافے اور غیر ملکی دوروں کے نذرانے بھی ملتے ہیں۔اسی سبب آج کا ٹی وی اینکر کوئی معمولی آدمی نہیں بلکہ ہر فن مولا ہے۔ وہ بیک وقت ماہر معاشیات‘ ماہرِاقتصادیات‘ ماحولیات‘ کیمیات‘ ادویات‘ طبعیات‘ سیاسیات‘ حیوانیات‘ نباتات‘ شہریات‘ سماجیات‘ معدنیات‘ جواہرات‘ فلکیات‘ باغات‘ زراعت سمیت آبادی‘ قانون‘ طب‘ تعلیم‘ پارلیمان‘ نجوم‘ عملیات‘ تعویذ گنڈے اور جادو ٹونا جیسے اہم معاملات کا بھی افلاطون ہے۔ ہم تمام اینکرز کی ذہانت و قابلیت اور قسمت کو سلام کرتے ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ اﷲ سب کو یہ نیک توفیق دے کیونکہ یہ حضرات اب اپنا ذاتی جہاز اور جزیرہ خریدنے کی بھی استطاعت رکھتے ہیں۔

مصنفہ ‘ مشہور ادا کارہ‘ کمپیئر اوردو کتابوں کی مصنفخالق ہیں۔

[email protected]

یہ تحریر 46مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP