صحت

اینٹی بائیوٹکس کا غیر ضروری اور نا مناسب استعمال

 پاکستان سمیت دنیا بھر میں مختلف بیما ریوں کے لئے اینٹی بائیوٹک ادویات کے خلاف مزاحمت بڑھنے لگی ہے ۔عالمی ادارہ صحت کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال لاکھوں افراد اینٹی بائیوٹکس کے خلاف مزاحمت کی وجہ سے مر جاتے ہیں ۔ جس کی بنیادی اور اہم وجہ اینٹی بائیوٹک کا  غیر مناسب استعمال ہے۔ عالمی سطح پر اور خاص طور پرپا کستان ، بھارت، بنگلہ دیش، انڈونیشیا، تھائی لینڈ ، مراکش ، فلپائن ، ویتنام، مصر اور تیونس سمیت کم آمدنی والے ممالک میں اینٹی بائیوٹکس کے خلاف مزاحمت میں تشو یشناک حد تک اضافے کی وجہ اینٹی بائیوٹکس کے استعمال میں تیز رفتاری ، اس کا غیر ضروری استعمال اور غیر محتاط طریقے سے ہونے والا اضافہ ہے ۔ 



مریضوں پر پہلی یا دوسری کی جگہ تیسری یا چوتھی جنریشن کی ادویات کا استعمال اور علاج اب ایک معمول کی حیثیت اختیار کر چکا ہے ۔ عالمی ماہرین ادویات و صحت کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق عالمی سطح پر اینٹی بائیوٹک ادویات کے استعمال میں گزشتہ چند سالوں میں تقریباََ پینسٹھ فیصد تک اضافہ ہو ا ہے ۔ ڈاکٹر ز کے نا مکمل نسخے، زیادہ یا کم مقدار میں اینٹی بائیوٹک کا استعمال اور لامحدود دورانیہ بھی اینٹی بائیوٹکس سے مزاحمت بڑھانے کی اہم وجوہات میں شامل ہیں اور مزاحمت کے بڑھنے کی وجہ سے اینٹی بائیوٹکس اپنا اثر کھودیتی ہیں۔
اینٹی بائیوٹک کو الیگزینڈر فلمنیگ نے 1928 ء میں متعارف کروایا جو بیکٹیر یا سے ہو نے والے انفیکشنز، جو انسانی صحت کے لئے مہلک ہوتے ہیں،  کے علاج کے لئے استعمال کی جاتی ہیں اور مختلف طرح کے انفیکشنز کے علاج کے لئے مارکیٹ میں مختلف اینٹی بائیوٹکس موجود ہیں ۔ 
ہمارے جسم میں اچھے اور برے دونوں اقسام کے بیکٹیریا موجو د ہوتے ہیں۔ اچھے بیکٹیریا ہمارے جسم کو صحت مند رکھنے میں بے حد اہم کردار ادا کرتے ہیں اور اگر اینٹی بائیوٹکس کے غیر ضروری اور غیر مناسب استعمال سے ان اچھے بیکٹیریا کا خاتمہ ہو جائے تو اس عمل سے ہماری صحت بہت زیادہ متاثر ہوسکتی ہے۔ اس کے علاوہ اچھے بیکٹیریا کے خاتمے سے دوسرے نقصان دہ بیکٹیریا میں اضافہ ہوتا ہے جو انفیکشن کو مزید پھیلانے کا باعث بنتے ہیں ۔جبکہ اس کے علاوہ اینٹی بائیوٹکس کا غیر ضروری استعمال ہمارے جسم میں موجود اچھے بیکیٹریا کے توازن میں بھی بگاڑ پیدا کردیتا ہے۔
بیکٹیریا اور انسانی خلیات ساخت میں مختلف ہوتے ہیں اور یہ اینٹی بائیوٹکس بیکٹیریا کے خلیات پر اثرانداز ہو تے ہیں ۔ یہ اینٹی بائیوٹکس انسان کے خون میں داخل ہوکر جسم کے مختلف حصوں میں سفر کرتی ہیں اور پھر بیماری پیدا کرنے والے بیکیٹریا کو ہلاک کر دیتی ہیں ۔لیکن جب کسی بھی بیماری کی حالت میں اینٹی بائیوٹکس کا بہت زیادہ استعمال کرنے کی وجہ سے کچھ بیکیٹریا ان ادویات کے اثرات سے بچنے کے لئے اپنا دفا عی نظام استعمال کر تے ہوئے اپنے اندر مختلف تبدیلیاں لے آتے ہیں یا دوسرے لفظوں میں مختلف طریقے تلاش کر لیتے ہیں تو یہ عمل اینٹی بائیوٹک کی مزاحمت کہلاتا ہے اور اس مزاحمت کی حالت میں اینٹی بائیوٹکس مزید اپنا کام سر انجام نہیں کر پاتے کیونکہ بیکٹیریا اس کے عادی ہو جاتے ہیں یا دوسرے الفاظ میں بیکٹیریا مضبوط ہو جاتے ہیں اور اینٹی بائیوٹک کے اثر کو زائل کر نا شروع کر د یتے ہیں ،جس سے وہ خاص اینٹی بائیوٹک بیکٹیریا اور انفیکشنز کے خلاف موثر نہیں رہتی ہیں ۔یہ مزاحمت کچھ بیکٹیریاز میں قدرتی طور پر پہلے سے ہی موجود ہوتی ہیں جبکہ کچھ میں جینیٹک میوٹیشن کے نتیجے میں پیدا ہو جا تی ہیں۔  
جانس ہاپکنسن سکول آف میڈیسنز کی ایک تحقیق کے مطابق اینٹی بائیوٹکس کے خلاف مزاحمت بڑھنے کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ معا لجوں کی جانب سے مریض کی بیماری کی مناسب اور بر وقت تشخیص کے بغیر ہی ادویات تجویز کر دی جاتی ہیں ۔اس کے علاوہ ڈاکٹروں کی جانب سے بیماریوں سے علاج میں لاپروائی کا مظاہرہ ، پینے کے صاف پانی کی عدم دستیابی، نکاسی آب کی نامناسب سہولیات اور مختلف اقسام کی بیمار یاں جیسے کہ ملیریا،ڈینگی، دست، خسرہ ، ہیپاٹائٹس ، آنتوں، پیٹ ، سانس ، جلد اور خون کی مختلف بیماریاں اینٹی بائیوٹک ادویات میں تشویشناک حد تک اضافے کی اہم وجوہات ہیں اور جیسے جیسے مریض ان اینٹی بائیوٹک کو استعمال کرتے جاتے ہیں یہ ادویات غیر مؤثرہوتی جاتی ہیں اور پھر ڈاکٹرحضرات مریضوں کو مزید اینٹی بائیوٹک ادویات تجویز کرتے ہیں ۔
ماہرین کے مطابق دنیا ایک ایسے پوسٹ اینٹی بائیوٹک ایرا کی جانب تیزی سے گامزن ہے جس میں ایسے تمام انفیکشنز اور زخم جو بہت عرصے سے اینٹی بائیوٹک کے استعمال سے ٹھیک ہو جاتے تھے مگر اب یہ ادویات ان پر اثر انداز نہیں ہو پارہی ہیں یا اثرانداز ہونے میں بہت زیادہ ٹائم لگا رہی ہیں ۔ 
ہمیں یہ بات لازمی طور پر اپنے ذہن میں رکھنی چا ہیے کہ ہر انسانی جسم کا اپنا ایک الگ مزاج اور الگ الگ بیکٹیریل فلورہ ہوتا ہے جنہیں ہمارے جسم کے اچھے یا مفید بیکٹیریا بھی کہا جاسکتا ہے ۔ کسی انسان کا جسمانی مزاج گرم کسی کا سرد، خشک اور تر ہوتا ہے لہٰذا کسی بیماری میں ایک دوا جو ایک فرد کے لئے صحت یابی کا باعث بن رہی ہے ، لازمی نہیں ہے کہ وہی دوا اسی بیماری میں مبتلا کسی دوسرے مریض کو بھی ویسے ہی افاقہ پہنچائے ۔ اس میں سب سے اہم مرحلہ مرض کی درست اوربر وقت تشخیص ہوتی ہے ۔ جس کے بعد اس مرض کے مناسب علاج کے لئے دوائی تجویز کی جانی چاہئے ۔ اینٹی بائیوٹک کا ایک مکمل کورس ہوتا ہے اور اس کورس یا تجویز کردہ مقدار یا وقت سے زیادہ اور کم مقدار میں استعمال مرض میں مزید خرابیاں پیدا کرنے کا باعث بنتا ہے ۔ مگر کچھ افراد اپنے ڈاکٹر کی ہدایات کو نظر ا ندا ز کرکے یا پھر ڈاکٹر کی فیس کی بچت کرنے یا افورڈ نہ کر سکنے کی وجہ سے سیلف میڈ یکیشن کرتے ہوئے بغیر کسی مناسب تشخیص کے خود ہی اینٹی بائیوٹکس کا استعمال شروع کر دیتے ہیں ۔ اس کے علاوہ ڈاکٹر کی تجویز کردہ ادویات کو مقر ر کردہ وقت تک استعمال کرنے کے بعد ڈاکٹر کے پاس دوبارہ جانے کے بجائے خود ہی مزیدا ستعمال کر تے رہتے ہیں ۔ توا س صورت حال میں مریض کو افاقے کے بجائے نقصان ہی ہوتا ہے اور پھر آہستہ آہستہ مرض اس قدر بڑھ جاتا ہے کہ پھر اسکا علاج کرنا دشوار ہو جاتا ہے ۔ 
اینٹی بائیوٹکس کا استعمال صرف ان حالات میں ہی کرنا چاہئے جب ان کی واقعی میں ضرورت ہو ۔ زیادہ تر کھانسی ،زکام اور فلو وغیرہ اینٹی بائیوٹکس کے بغیر خودہی بہتر ہو جاتے ہیں اور اگر اینٹی بائیوٹک تجویز کردی جائے تو ہمیشہ اس کا کورس مکمل کرنا چاہئے کیونکہ علاج کو درمیان میں ادھورا چھوڑ دینے سے بیکٹیریا میں مزاحمت کے امکانات بڑھ جاتے ہیں اور وہ ان دوائیوں کے خلاف مزاحمت پیدا کرتے ہیں ۔
اس کے علاوہ اینٹی بائیوٹکس وائرس سے ہونے والی بیماریوں میں موثر ثابت نہیں ہوتے ہیں کیونکہ یہ صرف بیکٹیریا سے ہی ہونے والی بیماریوں کے علاج میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں ۔لہٰذا وائرل ا نفیکشنزمیں ا ینٹی بائیوٹکس کا استعمال ا ینٹی بائیوٹکس کے خلاف مزاحمت کو فروغ دیتا ہے ۔
حفظان صحت کے اصولوں پر عمل کرنا، صاف اور غیر آلودہ پانی کا استعمال، نکاسی آب کا مناسب انتظام، ٹوائلٹ کے استعمال کے بعد درست طریقے سے ہاتھوں کو دھونا ہمیں مختلف طرح کی بیماریو ں سے محفوظ رکھتا ہے جس سے ہم اینٹی بائیوٹکس کے غیر ضروری استعمال سے خود کو دور رکھ سکتے ہیں۔


 مضمون نگارمائیکرو بیالوجسٹ ہیںاورمختلف اخبارات میں کالم لکھتی ہیں ۔

[email protected]

یہ تحریر 39مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP