متفرقات

ایمان وحکمت میں توازن 

کرونا وائرس کے بارے میں اتنا کچھ لکھا جا چکا ہے کہ اب کچھ لکھنے کے لیے بچا ہی نہیں ۔اِس وبا نے ہم سب کوبیک وقت ننھا منا سا وائرولوجسٹ اور فلسفی بنا دیا ہے ۔ دنیا میں کہاں کس دوائی پر تحقیق ہو رہی ہے ، ویکسین کی تیاری کس مرحلے میں ہے ، اِس بیماری کی کیا علامات ہیں ،بچنے کی کیا تدبیر ہے ۔۔۔یہ سب باتیں آج ایک دودھ پیتا بچہ بھی بتا سکتا ہے۔اور جس بچے نے اپنا فیڈر چھوڑ کر یو ٹیوب چینل بنا لیا ہو وہ آپ کو بتاسکتا ہے کہ ہم پر اللہ کا کوئی خاص کرم ہے جس کی وجہ سے ہمارے ملک میں وبا کا زور کم ہے، کفار کے ممالک میں ہلاکتیں زیادہ ہیں ،جلد ہی امریکہ کی سودی معیشت تباہ ہوجائے گی، طاغوت کو شکست ہوگی،یورپ کے کلیساؤں میں پھر سے اذانیں گونجیں گی اور مغرب کو زوال آجائے گاجس کے بعد ہمیں یورپ جانے کے لیے 'شنجن' ویزے کی ضرور ت نہیں رہے گی ۔خدا کرے یہ تمام باتیں درست ثابت ہوں ، مجھے بس ایک ہی بات کی پریشانی ہے کہ جب ہم سے دنیا کی امامت کا کام لینے کا وقت آئے گا تو اُس لمحے ہم یہ تاج کس مرد مومن کے سر پر رکھیں گے؟ ٹھہریے ،میں اپنی بات کی وضاحت کئے دیتا ہوں ۔
رمضان المبارک کا بابرکت مہینہ شروع ہو چکا ہے ، سحر اور افطار کی وہ رونقیں تو نہیں جو عام حالات میں ہوتی ہیں تاہم نماز تراویح کا اہتمام جاری ہے، اسی طرح نماز عید کا اکٹھ بھی ہوگا، اللہ نہ کرے ، میرے منہ میںخاک ، اگر یہ وائرس اِن اجتماعات میں پھیل گیا تو پھرکیا ہوگا خاکم بدہن، ہم اپنی مساجد میں امامت سے بھی جائیں گے ۔!جی ہاں،میں نے بھی وہ تمام احتیاطی تدابیر پڑھ لی ہیں جو ہمارے قابل احترام علمائے کرام نے مساجد میں نماز پڑھنے کے حوالے سے جاری کی ہیں کہ نمازی آپس میں چھ فٹ کا فاصلہ رکھیں( بعد میں وضاحت آ گئی کہ چھ فٹ نہیںحکومت سے تین فٹ فاصلہ رکھنے کی بات ہوئی تھی(Seriously, can you beat it?)  گھر سے وضو کرکے آئیں، بیمار ہیں تو گھر پر ہی ٹھہریں، پچاس سال سے زیادہ عمر کے افراد مسجد میں نہ آئیں ،وغیرہ۔ سوال یہ ہے کہ بیس کروڑ فرزاندان توحید اِس ملک میں بستے ہیں ، اِن میں سے اگر عورتیں ،بچے ،بوڑھے اور بے نمازی نکال بھی دیئے جائیں تو کم از کم اڑھائی تین کروڑ افراد ضرور رمضان میں تراویح کا اہتمام مساجد میں کریں گے ۔کرونا وائرس کا مسئلہ یہ ہے کہ یہ کسی نمازی، حاجی ، پرہیز گار ، متقی یا درویش کا لحاظ نہیں کرتا ، آپ چاہے مسجد میں ہوں یا میخانے میں ، اِس وائرس کی سائنس یہ ہے کہ اگر آپ نے سماجی فاصلہ برقرار نہ رکھا تو اِس سے متاثر ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے ۔یہاں ایک دلیل دی جاتی ہے کہ اگر باقی ملک میں تاجروں کی دکانیں کھلی ہیں، گھر پر کھانے پہنچانے کے لیے ریستوران کھلے ہیں ، سرکاری دفاتر کھلے ہیں ، ٹی وی چینلز دن رات جاگ رہے ہیں ، اینکر پرسن اپنا پروگرام کر رہے ہیں ، کاروبار مملکت چل رہا ہے تو پھر مسجد و منبر کو ہی نشانہ کیوں بنایا جا رہا ہے ۔اِس دلیل میں سقم یہ ہے کہ ایک غلط بات کو بنیاد بنا کر دوسری غلط بات کا جواز نہیں تراشا جا سکتا۔ اگر تاجر دکانیں کھولنے پر مصر ہیں تو وہ بھی فاش غلطی کے مرتکب ہو رہے ہیں،اسی طرح صحافی،  سرکاری ملازم اور ہنگامی خدمات انجام دینے والے اگر حفاظتی تدابیر کے بغیراپنا کام کر رہے ہیں تو وہ بھی خطرے سے خالی نہیں ۔ایک بات شاید ہمارے دماغ میں یہ بیٹھی ہے کہ موت کا ایک دن معین ہے ، بیماری نے اگر لگنا ہے تو کوئی نہیں روک سکتا ، چاہے جتنی بھی تدبیر کر لو قسمت میں اگر کرونا لکھا ہے تو لگ کر ہی رہے گا۔یہ تمام باتیں ہمارے دین کی روح کے منافی ہیں ، کہیں بھی اسلام میں یہ تعلیم نہیں دی گئی کہ بغیر کسی تدبیر کے خود کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دو، اِس بارے میں بہت کچھ لکھا اور کہا جا چکاہے لہٰذا مجھے کچھ اضافہ کرنے کی ضرورت نہیں ۔
دراصل جو بات مجھے سمجھ نہیں آئی وہ یہ ہے کہ ہمارا تصور مذہب دیگر دنیا کے اسلامی ممالک سے بالکل مختلف کیوں ہے ؟ مجھے جن اسلامی ممالک میں جانے کا اتفاق ہوا ہے اُن میں ترکی ، عرب امارات ، ملائشیا ، انڈونیشیااور قطر شامل ہیں،بوسنیا کو بھی اگر آپ اسلامی ملک سمجھتے ہیں تو اسے بھی اِس فہرست کا حصہ بنا لیں۔اِن تمام ممالک میں اسلام کا جو ماڈل میں نے دیکھا ہے اُس کا عشر عشیر بھی پاکستان میں نظر نہیں آتا۔ اتفاق سے مجھے رمضان المبارک میں ہی ترکی جانے کا اتفاق ہوا تھا ۔شاہراہ استقلال جو استنبول کا سب سے پر رونق مقام ہے، وہ ساری رات موسیقی کے شور میں گونجتی رہتی ہے ، سحر ی کے وقت کہیں شور تھمتا ہے ، مزید تفصیل میں یہ فدوی جانا نہیں چاہتا کہ پر جلتے ہیں ۔اسی طرح دبئی کے بارے میں کون نہیں جانتا کہ وہاں کا ماحول بالکل یورپی ممالک جیسا ہے بلکہ بعض اعتبار سے تو کئی یورپی ممالک سے بھی دو ہاتھ آگے ہے، ملائشیا میں اور انڈونیشیا میں بھی تفننِ طبع کے تمام ذرائع موجود ہیں۔ اسی انڈونیشیا میں جہاں کے ایک صوبے بندہ آچے میں شریعت نافذ ہے۔بوسنیا کی تو خیر بات ہی جانے دیں کہ وہ یور پی رنگ میں رنگا مسلم ملک ہے،اُس کی مثال تو ہمارے کسی عالم دین نے نہیں ماننی ۔ میرا مقدمہ یہ نہیں کہ پاکستان میں بھی یہ سب کچھ ہونا چاہیے ، میرا تو سادہ سوال یہ ہے کہ کیا یہ تمام ملک اسلامی نہیں ، اگر یہ اسلامی ممالک ہیں تو پھر ہمارا تصور مذہب ان سے مختلف کیوں ہے، اِن ممالک نے اگر نماز تراویح اور دیگر ہر قسم کے اجتماعات پر پابندی لگا رکھی ہے تو پھر ہمارے پاس کون سا شرعی عذر ہے کہ ہم نفلی نماز کے لیے مساجد میں اجتماعات کریں! آخری مثال سعودی عرب کی ، اگر حرم پاک کو حفاظتی تدابیر کے تحت بند کیا جا سکتا ہے تو پھر ہمارے پاس کیا جواز بچتا ہے کہ ہم اپنی مساجد کو کچھ عرصے کے لیے اجتماعات کے لیے بند نہ کریں ۔بہترین حل یہ تھا کہ صرف امام مسجد اوراہل علاقہ میں سے ایک دو لوگ اذان اور جماعت کا اہتمام کر لیتے، اِس سے دین بھی بچ جائے گا اور دنیا بھی ۔بصورت دیگر، یوم آخرت ،اِس وبا میں بے گناہ لوگو ں کے مرنے کا خون ہمارے سر ہوگا۔
 

یہ تحریر 36مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP