قومی و بین الاقوامی ایشوز

ایف ڈبلیو او کا ادارہ ۔ تعمیر وطن کا استعارہ

فرنٹیئر ورکس آرگنائیزیشن کے قیام کا سہرا شاہراہ قراقرم جیسے عظیم الشان منصوبے کے سر ہے۔ جس کی تعمیر کی ذمہ داری حکومت پاکستان نے پاک فوج کے سپرد کی اور انجینئر انچیف برانچ نے ایک ایسا تعمیراتی ادارہ قائم کرنے کا فیصلہ کیا جس کا کام پہلے مرحلے میں اس شاہراہ کو پاک چین بارڈر پرواقع درہ خنجراب (بلندی 15,400 فٹ) سے تھاکوٹ تک( 574کلومیٹر) دریائے سندھ اور اس کے معاون دریاؤں کے کنارے پر جبکہ دوسرے مرحلے میں حویلیاں تک تعمیر کرنا تھا۔اس فیصلے کے نتیجہ میں 31اکتوبر1966ء کو جو ادارہ قائم ہوا اسے ایف ڈبلیو او کا نام دیا گیا۔12برس کی محنت شاقہ اور 700سے زیادہ قیمتی جانوں کی قربانی کے بعد 1978ء میں جب یہ منصوبہ تکمیل تک پہنچا تو FWOکا ادارہ سازوسامان اور افرادی قوت کی مہارت کے باعث قومی اثاثہ بن چکا تھا۔لہٰذا اسے برقرار رکھنے اور مزید وسعت دینے کا فیصلہ کیا گیا۔جو بعد ازاں ایک دانشمندانہ فیصلہ ثابت ہوا۔ کیونکہ آج یہی ادارہ حکومت وقت کے لئے ہر نازک وقت میں گراں قدر خدمات سرانجام دے رہا ہے۔اکتوبر 2005ء کا قیامت خیز زلزلہ ہو یا جولائی 2010ء کا تباہی پھیلانے والا سیلاب اس ادارے نے ہمیشہ پاک فوج کے ہر اول دستے کا کردار ادا کیا ہے۔اس ادارے کا ہیڈ کوارٹر راولپنڈی میں‘ جب کہ گروپ ہیڈ کوارٹرز ایبٹ آباد‘ راولپنڈی‘ڈی آئی خان‘ملتان‘کوئٹہ اور کراچی میں ہیں۔اس ادارے کی سرگرمیوں کا دائرہ کار شمال میں چترال سے جنوب میں کراچی اور گوادر تک پھیلا ہوا ہے۔ادارے کے سربراہ میجر جنرل محمد افضل ہیں جو ڈائریکٹر جنرل کہلاتے ہیں جبکہ ہر گروپ کی کمانڈ ایک بریگیڈیئر کے ہاتھ میں ہے۔

2009 میں فاٹا آپریشن کے بعد اس علاقے میں ترقیاتی سرگرمیوں کی ذمہ داری پاک فوج کو سونپی گئی تو یہی ادارہ تھا جس نے انتہائی مشکل علاقے ساؤتھ اور نارتھ وزیرستان ایجنسی میں شاہراہوں کا جال بچھا دیا اور عالمی معیار کی جن شاہراہوں کو مکمل کیا ا ن میں جنوبی وزیرستان کے محسود علاقہ میں 110کلومیٹر طویل ٹانک۔جنڈولہ۔ مکین روڈ شامل ہے۔ وزیرقبائل کے علاقہ میں 105کلومیٹر طویل ٹانک۔ گومل۔ تنائی۔ وانا روڈ شامل ہے۔ دونوں قبائل میں رابطہ کے لئے 75کلومیٹر طویل وانا۔ شکئی۔ مکین شاہراہ اور افغانستان کی سرحد پر واقع انگور اڈا سے وانا تک 50کلومیٹر طویل شاہراہ کو مکمل کر کے فاٹا سیکرٹیریٹ کے حوالے کیا۔ مزیدبرآں شمالی وزیرستان میں 82 کلومیٹر طویل بنوں۔میران شاہ اورغلام خان شاہراہ کا 40 کلومیٹر حصہ میر علی تک مکمل ہو چکاہے جبکہ بقیہ شاہراہ پر کام جاری ہے ۔یہ اہم شاہراہ سنٹرل ٹریڈ کوریڈور کا سب سے اہم حصہ ہے جو کراچی سے کابل تک تجارت میں اہم کردار ادا کرے گا۔اسی طرح 73کلومیٹر طویل میران شاہ۔ رزمک ۔مکین روڈپر بھی کام جاری ہے جو شمالی اورجنوبی وزیرستان کے درمیان فاصلوں کو کم کردے گی۔علاوہ ازیں گومل زام ڈیم کی تکمیل FWOکا ایک ایسا کارنامہ ہے جو مدت سے تشنہء تکمیل چلا آرہا تھا۔جنوبی وزیرستان میں واقع اس ڈیم کے ذریعے سیلابی پانی کو روک کر نہ صرف بجلی پیدا کی جارہی ہے بلکہ آبپاشی کے وسیع نظام کے ذریعے ضلع ٹانک اور ڈی ۔آئی ۔خان کی بنجر زمینوں کو زیر کاشت لایا جارہا ہے اور علاقے میں سبز انقلاب کی آمد آمد ہے۔

جنوری 2010 ء میں گلگت بلتستان کی تحصیل گوجال میں دریائے ہنزہ کے کنارے واقع گاؤں عطا آباد کو ایک ایسا سانحہ پیش آیا کہ پورا گاؤں ایک لینڈسلائیڈ کی نذر ہو گیا۔یہ سلائیڈ اپنے حجم میں اس قدر بڑی تھی جس نے پوری وادی میں ملبے کی ایک دیوار کھڑی کردی۔ جس سے شاہراہ قراقرم کا اڑھائی کلومیٹر کا ٹکڑا اور دریائے ہنزہ کی گزرگاہ دونوں مسدود ہو کر رہ گئے۔اس رکاوٹ کے باعث دریا کا پانی بلند ہونا شروع ہوا اورخطرہ تھا کہ لیک برسٹ کے عمل سے جب یہ بند ٹوٹے گا تو نشیب میں واقع تمام آبادیاں دریا برد ہو جائیں گی۔اس موقع پر FWO نے فوری طور پر ایک سپل وے (آبی گزرگاہ) کے ذریعے اس ملبے میں ایک وسیع شگاف پیدا کیا۔ جس سے فوری تباہی کا خدشہ جاتا رہا۔ بعد ازاں امریکہ اور چین کی کمپنیوں سے مقابلہ کے بعدپلاننگ کمیشن کی جانب سے اس ادارے کو یہ ذمہ داری سونپی گئی کہ انتہائی کم لاگت سے پانی کے جمع شدہ اس ذخیرے کی سطح کو30 میٹر تک کم کیاجائے جس سے شاہراہ قراقرم کے 23کلومیٹر میں سے 15کلومیٹر کا ٹکڑا پانی سے باہر آجائے گا اور شیشکٹ کے مقام پر زیر تعمیر پل بھی تکمیل کے بعد زیر استعمال آسکے۔ ایف ڈبلیو اونے چار قیمتی جانوں کی قربانی دیکر جس میں پراجیکٹ منیجر کرنل عارف محمود عالم شہید بھی شامل ہیں اس منصوبے کو کامیابی سے مکمل کر لیا ہے۔درحقیقت یہ کسی تجارتی تعمیراتی ادارے کے بس کی بات نہ تھی کیونکہ منافع کو نذر انداز کرتے ہوئے حد درجہ مشکل موسمی حالات میں اس منصوبہ کی تکمیل کوئی قومی ادارہ ہی کرسکتا تھا۔

حال ہی میں بلوچستان میں ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کرتے ہوئے وزیراعظم پاکستان نے اعتراف کیا ہے کہ FWO آرمی چیف کی ہدایت پر چند اہم شاہراہوں پر کام کر رہا ہے۔ جس کے پس منظر میں منافع کمانا نہیں بلکہ ملک کی خدمت کا جذبہ کارفرماہے۔ان شاہراہوں میں گوادر۔ تربت۔ ہوشاب موٹروے (M-8)، سوراب۔ پنجگور۔ ہوشاب(N-85)، قلات۔ کوئٹہ‘۔ چمن (N-25)، واگم رُد‘کھجوری(N-70) اور خضدار تا شہداد کوٹ شاہراہ کا سیکشن۔4 شامل ہیں۔ ان تمام شاہرات کی تکمیل سے نہ صرف اہل بلوچستان کی محرومیوں کا ازالہ ہو گا بلکہ پاکستان کا رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ ترقی کی دوڑ میں شامل ہو جائے گا۔ہمسایہ ملک چین کی مدد سے خنجراب تا گوادر تجارتی گزرگاہ بھی اس علاقے سے گزرے گی جو یہاں انقلابی ترقی کا باعث بنے گی۔ وقت کے ساتھ ساتھ ایف ڈبلیو او ایک کثیر الجہتی ادارہ بن چکا ہے۔اس کے قابل ذکر اور قومی سطح کے منصوبوں کی ایک طویل فہرست ہے۔جن میں کراچی تا گوادر کوسٹل ہائی وے، لیاری ایکسپریس وے، سکردوروڈ، خانپور اور گومل زام ڈیم، نیو بینظیر بھٹو انٹرنیشنل ائیر پورٹ اسلام آباد، سکھر بیراج کی تعمیر نو، شالیمار فلائی اوور لاہور‘ رحیم آباد فلائی اوور راولپنڈی، طورخم ۔جلال آباد روڈ کے علاوہ ریلوے پراجیکٹ، آپٹک فائبر، ائیر فیلڈ، نہروں، نکاسئی آب، پل، پارک، ٹنل، ہاؤسنگ سوسائیٹیز شامل ہیں۔ ملکی سطح پر خدمات کے علاوہ اب یہ ادارہ بین الاقوامی سطح پر بھی خدمات انجام دے رہا ہے۔خداوند تعالیٰ اسے مزید ترقی عطا فرمائے۔ آمین

یہ تحریر 21مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP