متفرقات

ایدھی چلے گئے

مجھے آج بھی 6سال پرانا وہ واقعہ یاد ہے جب ایک غیر ملکی ٹی وی نیوز چینل کے لئے ایدھی سینٹر اسلام آباد میں ایک رپورٹ بنانے کے لئے میں نے ایدھی سینٹر اسلام آباد میں لینڈ لائن نمبر پر کال کی۔ ایک مردانہ دھیمی سی آواز آئی ۔میں نے تعارف کروایا اور فون اٹھانے والے صاحب کا نام پوچھا ۔ جواب آیا عبدالستار ایدھی ۔ میں حیران رہ گئی۔ دنیا بھر میں مشہور شخصیت نے ریسیپشن پر خود فون اٹھایا۔ جب میں نے ریکارڈنگ کے لئے ٹائم مانگا تو انہوں نے کہا کہ میں جب چاہوں آسکتی ہوں۔

 

 میرا خیال ہے اسی روز میں اپنی ٹیم کے ساتھ ایدھی سینٹر اسلام آباد گئی۔ ریکارڈنگ کی۔ پھر ایدھی صاحب سے انٹرویو لیا ۔ آف دی ریکارڈ زندگی کے بہت سے قصے انہوں نے سنائے۔وہ انتہائی سادہ اور مطمئن شخصیت تھے۔ انہوں نے بتایا کہ کیسے اپنے مقصد کے لئے بھیک مانگ کر کروڑوں روپے جمع کئے اور ضرورت مندوں پر خرچ کئے اور ساری زندگی ملیشیا کے دو جوڑوں میں گزار دی۔ وہ میری لئے ایک یادگار دن تھا جب مجھے ایک عظیم شخصیت کے پاس بیٹھنے کا موقع ملا۔ ایدھی صاحب کی سوانح حیات جو کہ تہمینہ درانی نے دو سال ایدھی صاحب کے قریب رہ کرلکھی ہے ہر شخص کے لئے مشعلِ راہ ہے۔اس میں بچپن سے لے کر آخری عمر تک کے بہت سے واقعات ہیں جو ایدھی صاحب کے، انسانیت کے لئے، جنون کے واقعات سے بھری ہے۔

 

2013سے گردوں کے مرض میں مبتلا ایدھی صاحب نے 88برس کی عمر میں انتقال کیا۔زندگی بھر لاوارث، دکھی اور بیمار انسانیت کی خدمت کرنے والے ایدھی صاحب نے اپنی وصیت میں اپنے جسمانی اعضا بھی عطیہ کر دئیے تھے۔یہ اور بات ہے کہ آنکھوں کے علاوہ ان کے باقی اعضا اس قابل نہیں رہے تھے کہ انہیں عطیہ کیا جا سکے۔دنیا کا ایسا کوئی فلاحی عمل نہیں جو درویش صفت ایدھی صاحب نے نہ کیا ہو۔ ان میں ایک قابلِ ذکر یہ ہے کہ گلی سٹری لاشوں کوخود غسل دیا کرتے تھے۔ جب ان سے پوچھا جاتا کہ آپ کو بدبو نہیں آتی تو وہ کہتے کہ نہیں میں سوچتا ہوں کہ اس لاش کی جگہ میری اپنی لاش بھی تو ہو سکتی تھی۔ ایدھی صاحب نے ایک پروگرام میں بتایا کہ60 سال پہلے سے ہی عید کی خوشیاں منانا چھوڑ چکے تھے۔ صرف دو رکعت نماز ادا کرتے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ وہ خود کو زندہ نہیں سمجھتے تھے۔ ملیشیا کے دو ایک جیسے جوڑوں میں زندگی گزارنے والے ایدھی صاحب نے اپنی قبر 25برس پہلے سے خود تیار کر رکھی تھی۔ ایدھی صاحب 1928میں بھارت کی ریاست گجرات، میں پیدا ہوئے۔ ابھی 11سال کے ہی تھے کہ والدہ فالج کے باعث معذور ہو گئیں۔والدہ کی دیکھ بھال کا ہر کام خود کیا کرتے تھے اس وجہ سے بعد میں وہ فلاحی کاموں کی جانب راغب ہوئے۔ والدہ اور بیگم بلقیس ایدھی ان کی زندگی میں بہت اہمیت رکھتے تھے۔ والدہ نے ہمیشہ دیانت داری اور غریبوں کی مدد کا درس دیا۔ان کے ساتھ کام کرنے والوں نے تو ان کو امین کا نام بھی دے رکھا تھا۔ اپنے لئے کبھی کسی سے لڑائی نہیں کی جب بھی کی تو نا انصافی پراس سے کی جو مظلوم کو تنگ کرتا تھا۔

 

بلقیس ایدھی ایک نرس کی حیثیت سے ایدھی سینٹرآئی تھیں۔انہوں نے ایدھی صاحب کا ساتھ دینے کا اس وقت فیصلہ کیا جب اور کوئی خاتون ان سے سادگی اور قناعت کی وجہ سے شادی کرنے کو تیار نہ تھی۔ 1951 میں کراچی میں ایک ڈسپنسری سے خدمات کا آغاز کیا ۔اور اب پورے ملک میں ان کی 1800 گاڑیوں پر مشتمل دنیا کی سب سے بڑی فلاحی ایمبولینس سروس کام کر رہی ہے۔جس کی وجہ سے ایدھی فاؤنڈیشن کا نام گینیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں بھی شامل ہے جو کام حکومتوں کے کرنے کے تھے وہ ایدھی صاحب کی فاؤنڈیشن کر رہی ہے۔ ملک میں 17 کے قریب ایدھی ہومز ہیں۔ اس کے علاوہ لاوارث بچوں کی کفالت، معذوروں اور بیواؤں کے لئے سینٹرز، میٹرنٹی ہومز،بزرگوں کے لئے فلاحی مرکز اور منشیات کے عادی افراد کی بحالی کے لئے مراکز، بلڈ بینکس، ڈسپنسریاں سرِ فہرست ہیں۔ انسانیت کی خدمت کے لئے ذات پات ،مذہب، فرقہ بندی ، رنگ و نسل سے بالا تر ہو کر ایدھی صاحب نے عملی مثال قائم کی ہے۔ انسان تو انسان ایدھی صاحب نے تو جانوروں کے لئے بھی اینیمل ہاسٹلز بنائے تھے۔ایدھی صاحب کو 20سے زائد ملکی اور بین االاقوامی اعزازات ملے۔ نوبل امن ایوارڈ کے لئے ان سے زیادہ مناسب شخصیت شاید ہی کوئی اور ہو۔ انسانیت کے لئے ان کی خدمات بے شمارہیں، تاہم صرف ان کے نقشِ قدم پر چل کر ہی ان کو خراجِ تحسین پیش کیا جا سکتا ہے۔ عبدالستار ایدھی کے اہم اقوال کو نہ صرف تعلیمی نصاب میں شامل ہو نا چاہئے بلکہ سکولوں اور کالجوں کے نصاب کا ایک پورا سبق ایدھی صاحب پر مشتمل ہونا چاہئے۔ تاکہ آنے والی نسلوں میں بھی انسانیت کے لئے محبت پیدا ہو۔ جیسا کہ انہوں نے کہا۔

 

1میرا مذہب انسانیت ہے جو کہ دنیا کے ہر مذہب کی بنیاد ہے۔ 

2میں نے کوئی باقاعدہ تعلیم حاصل نہیں کی، تعلیم کا کیا فائدہ اگر ہم انسان نہ بن سکیں، میرا سکول انسانیت کی فلاح ہے۔ 

 3یاد رکھو اللہ نے موت میں برابری رکھی ہے کوئی مختلف نہیں،امیر سے غریب تک سب نے موت کا سامنا برابری سے کرنا ہے۔

4اللہ کو کھوکھلے الفاظ اور لمبی تعریفیں متاثر نہیں کرتیں، اللہ کو اپنا عقیدہ اپنے اعمال سے دکھا۔ 

 5خواہشات کے پیچھے بھاگنے سے اندرونی انتشار پیدا ہوتا ہے،جب شیطان رہنما بن جائے تو ڈاکو اور گینگسڑ تیار ہوتے ہیں۔

6شیطان انسانوں کو اپنے نفس کے خلاف لڑنے پر مجبور کرتا ہے،تاکہ وہ مہنگی اشیالے سکیں۔اسی کوشش میں انسان شیطان کی اس قوت کے سامنے ہار جاتا ہے۔ 

 7اندر کے دشمن پر صرف ذاتی انقلاب کے ذریعے قابو پایا جا سکتا ہے

 8مرنے والے صرف ایک جگہ جاتے ہیں اوپر۔ آپ ان کو جہاں بھی دفن کر دیں، انہوں نے ایک ہی راستے پر اوپر جانا ہے۔

 9مقدس کتاب گود کی بجائے آپ کی روح میں کھلنی چاہئے،دل کو کھول کرلوگوں کی حالتِ زار میں اللہ کوڈھونڈ سکو گے۔ ایسی شخصیت صدیوں بعد پیدا ہوتی ہے جو خود کو بھول کر ہر وقت انسانیت کی خدمت میں مصروف رہے۔ ان کی خدمات کا اعتراف اسی صورت میں ممکن ہے جب ان کے مشن کو نہ صرف جاری رکھا جائے بلکہ آگے بھی بڑھایا جائے۔


مضمون نگار ایک نجی چینل میں ایسوسی ایٹ پروڈیوسر ہیں اور نمل و اسلامک یونیورسٹی میں وزٹنگ لیکچرار کے طور پر بھی خدمات سرانجام دے رہی ہیں۔

[email protected]

یہ تحریر 41مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP