اداریہ

اپنے حصے کا دیا  !

بانی ٔ پاکستان قائدِاعظم محمدعلی جناح نے قوم سے اپنے ایک خطاب میں کہا:''پاکستان کی سرزمین میں زبردست خزانے چھپے ہوئے ہیں، مگر اس کو ایک ایسا ملک بنانے کے لئے جو ایک مسلمان قوم کے رہنے کے قابل ہو، ہمیں اپنی قوت اور اپنی محنت کے زبردست ذخیرے کا ایک ایک ذرہ صرف کرنا پڑے گا اور مجھے اُمید ہے کہ تمام لوگ اس کی تعمیر میں دل و جان سے حصہ ڈالیں گے۔'' ماہِ دسمبر جو ولادتِ قائد کا مہینہ ہے ہمیں قائد کے اِن زَرِّیں اصولوں کی یاد دلاتا ہے جن کی بناء پر انہوں نے مسلمانوں کے لئے ایک الگ ، خود مختار اور آزاد ریاست کی داغ بیل ڈالی۔ تاریخ گواہ ہے کہ کس طرح قائداعظم نے برصغیر کے مسلمانوں، جو ایک ہجوم کی مانند تھے، کو اپنی بصیرت اور لیڈرشپ کی طاقت کی بناء پر ایک پرچم تلے جمع کیااور چند سالوں کی محنت ِ شاقہ کی بنیاد پر پاکستان کی صورت میں ایک الگ مملکت کا حصول یقینی بنایا۔ برصغیر کے مسلمانوں کو اگر قائداعظم جیسی بے لوث اور دیانت دار قیادت میسر نہ ہوتی اور مسلمان اپنی صفوں میں اتحاد برقرارنہ رکھ پاتے تو یقیناً وہ اپنی منزل کے حصول میں کامیاب نہ ہوتے۔
 وقت گواہ ہے کہ جب جب قومی یکجہتی میں دراڑیں پڑیں قوم کو گہرے زخموں کا سامنا کرنا پڑا۔ 1971 میں سانحہ ٔ مشرقی پاکستان اس کی ایک مثال ہے۔ دشمن کو کسی قوم کی صفوں میں بداعتمادی اور عدمِ یکجہتی کی بھنک پڑے تو وہ فائدہ اٹھانے سے کبھی پیچھے نہیں رہتا۔دنیا میں وہی قومیں اپنا وقار اور جلال برقرار رکھ سکتی ہیں جو اپنے دفاع سے غافل نہیں رہتیں اور نہ ہی اپنی صفوں میں دراڑیں پڑنے دیتی ہیں۔ کوئی قوم اندر سے جتنی مضبوط ہوتی ہے بیرونی سطح پر وہ اس سے بھی زیادہ مضبوط دکھائی دیتی ہے۔ لہٰذا اپنی صفوں میں اتحاد، یگانگت، اعتماد اور اولوالعزمی جیسے اوصاف پیدا کرکے ہی ہم خودکو توانا رکھ سکتے ہیںـ قوم کے اندر  اگر تفرقہ آجائے  تو پھر ایسی قوم دنیا میں عزت و وقار  کے ساتھ ساتھ خدانخواستہ اپنا وجود بھی کھو بیٹھتی ہے۔ قائداعظم نے 1938میں اپنے ایک خطاب میں فرمایا تھا کہ '' اگرمسلمانوں کو اپنے عزائم اورمقاصد میں ناکامی ہوگی تو مسلمانوں ہی کی دغابازی کے باعث ہوگی۔ جیسا کہ گزشتہ زمانے میں ہوچکا ہے۔ میں دغابازوں کا ذکرکرنا پسند نہیں کرتا۔ لیکن ہر انصاف پسند اور سچے مسلمان سے میری درخواست ہے کہ اپنی جماعت کی فلاح و بہبود کی غرض سے متحد و متفق رہیں۔'' 
قائد کے اس فرمان سے یہ بالکل عیاں ہو جاتا ہے کہ کسی بھی جماعت یا قوم کے لئے متحد و یک جان رہنا کس قدر اہمیت کا حامل ہے۔ بلاشبہ پاکستان کا مستقبل پاکستانی قوم کے اتحاد و یکجہتی سے مشروط ہے۔ قوم کو متحد رہتے ہوئے وطن کو مضبوط رکھنا ہے اور اس کے لئے اپنے اپنے حصے کا دِیا جلاتے رہنا ہے۔ روشنی کا سفر کبھی ختم نہیں ہونا چاہئے۔ قوم کو جہاں خود کوروشن رکھنا ہے وہاں بین الاقوامی سطح پر بھی اپنے کردار اور اقدار کی روشنی اس طرح پھیلانی ہے کہ جو وطنِ عزیز پاکستان کے لئے عزت و افتخار کا باعث بنے۔۔۔۔  پاکستان ہمیشہ سلامت رہے۔ ||
 

یہ تحریر 26مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP