متفرقات

اپنی اپنی اخلاقیات

امریکہ جیسا ملک ہو،نیویارک جیسا شہر ہو،ہوٹل کا کمرہ ہو، تنہائی ہو ۔۔۔آپ ٹی وی آن کریں اور ڈھونڈنے پر بھی آپ کو کسی چینل پر آدھی رات تک کوئی ایسا پروگرام نہ ملے جسے ’’فحش‘‘ کہا جا سکے تو یقیناوہ لوگ اس بات پر یقین نہیں کریں گے جنہیں چوہا سیدن شاہ کی سرحد سے باہر قدم رکھنے کا موقع نہیں ملا۔ایسا نہیں ہے کہ امریکہ اور یورپ کے ٹی وی چینلز پر کسی ملا عمر نے اپنی مرضی کی شریعت نافذ کر رکھی ہے،بات صرف اتنی ہے کہ ان آزاد خیال ممالک میں بھی ’’بالغوں‘‘ والے چینلز یونہی عام گھریلو کیبل نیٹ ورک پر نہیں چلائے جاتے بلکہ ان کی ممبر شپ پیسے دے کر حاصل کی جاتی ہے اور یوں وہrestrictedہوتے ہیں ۔ان چینلز کے علاوہ عام روٹین میں جو پروگرام وہاں نشر کئے جاتے ہیں ان میں بھی فحاشی

(ان ممالک کے موجودہ اخلاقی معیار کو مد نظر رکھتے ہوئے )

نظر نہیں آتی ،ہاں اگر کوئی مرد مجاہد ڈھونڈ لے تو اس کو سات سلام ہیں ،میں توکوشش کے باوجود نہیں ڈھونڈ سکاتھا۔

فحاشی کی بحث جتنی پرانی ہے اتنی ہی دلچسپ ہے۔ کوئی کہتا ہے کہ فحاشی کی تعریف نہیں کی جا سکتی لہذا اس سے متعلق کوئی ضابطہ اخلاق بنانا ہی بے معنی بات ہے، بعضوں کے نزدیک عورت کا وجود ہی سرے سے فحش ہے، کچھ آزاد خیال دوست شخصی آزادی کو جواز بناتے ہوئے یہ دلیل دیتے ہیں کہ میں اپنے گھر کے کمرے میں بیٹھ کر جو مرضی دیکھوں کسی کو کیا تکلیف ہے ، ادھرانتہا پسنددلیل نہیں دیتے بلکہ کوڑوں سے کام چلاتے ہیں۔دانشوروں کے نزدیک جسے فحاشی سمجھا جاتا ہے وہ دراصل دیکھنے والے کی آنکھ میں ہوتی ہے کیونکہ اصل فحاشی تو غربت ہے جبکہ مجھ ایسے غریبوں کا مسئلہ فقط بچوں کی معصومیت کو محفوظ رکھنا ہے، میری بلا سے لبرل اور انتہا پسند بھلے قیامت تک فحاشی کے مسئلے پر جھگڑتے رہیں۔

فحاشی کی کوئی تعریف ممکن نہیں والی بات بظاہر خوش کُن لگتی ہے لیکن حقیقت میں خاصی مضحکہ خیز ہے۔مثلاً ایک سیدھی سادھی تعریف تو یہ ہو سکتی ہے کہ کوئی بھی ایسا کام جو معاشرے کے مروجہ اخلاقی معیار کو زک پہنچاتا ہو،فحش ہے۔یقیناًاس تعریف میں جھول ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ فحاشی کی نشاندہی نہیں کی جا سکتی۔ اگر یہ بات نا ممکن ہو تی تو دنیا میں کسی سنسنر بورڈ کا کوئی وجود نہ ہوتا۔جن مغربی ممالک کی مثال دیتے ہوئے ہم ہلکان ہو جاتے ہیں وہاں بھی سنسر بورڈز نہ صرف موجود ہیں بلکہ ان بورڈزنے فلموں کے سرٹیفکیٹس کی درجہ بندی کر رکھی ہے۔مثال کے طور پر ’’Universal‘‘ کا مطلب ہے کہ یہ فلم ہر عمر کے لوگ دیکھ سکتے ہیں ،’’PG‘‘ سے مراد Parental Guidanceہے یعنی تمام عمر کے لوگ دیکھ تو سکتے ہیں لیکن کچھ سین نو عمر بچوں کے لئے نا مناسب ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح 12,15اور 18کا مطلب ہے کہ یہ فلمیں 12,15یا 18سال سے کم عمر لوگوں کے لئے موزوں نہیں۔سنسر بورڈز کی یہ درجہ بندیاں اس قدر درست ہوتی ہیں کہ آپ آنکھیں بند کر کے ان پر یقین کر سکتے ہیں۔اگر مغربی اقدار کا ’’بے غیرت‘‘ معاشرہ ’’فحاشی‘‘ کی تعریف پر متفق ہو کر اس کی درجہ بندیاں کر سکتا ہے تو ہم جو مشرقی اقدار کا ڈھول گلے میں ڈال کر پیٹتے رہتے ہیں ،یہ نیک کام کیوں نہیں کر سکے ؟

جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اخلاقی اقدار کی بھی کوئی متفقہ تعریف نہیں کی جا سکتی کیونکہ ملا کی اخلاقیات اور ہیں مسٹر کی اور‘ مگر ان کی خدمت میں عرض ہے کہ دنیا میں کہیں بھی exceptionsکو لے کر اصول وضع نہیں کئے جاتے۔ اگر ایک کمیٹی میں ملا عمر اور عتیقہ اوڈھو کو اکٹھا کر دیا جائے تو وہ دونوں قیامت تک کسی تعریف پر متفق نہیں ہو سکتے۔ دنیا بھر میں یہ کام معتدل مزاج کے حامل اَن پڑھے لکھے لوگوں کے ذمے لگایا جاتا ہے جو معاشرے کی اخلاقی قدروں پر گہری نظر رکھے ہوتے ہیں اور جنہیں یہ ادراک ہوتا ہے کہ معاشرے میں کون سا کام عمومی طور بداخلاقی یا فحاشی کے زمرے میں سمجھا جائے گا۔ویسے بھی یہ کوئی راکٹ سائنس نہیں ہے ،ایک عام آدمی بھی فوراً بتا سکتا ہے کہ کسی عورت کی کون سی ادا یا مرد کی کون سی حرکت فحاشی کہلائی جائے گی،یہ سنسر ہر کسی کے اندر قدرتی طور پر فٹ ہوتا ہے۔ چنانچہ یہ کہنا کہ فحاشی کی تعریف ممکن نہیں یا اخلاقیات کا کوئی پیمانہ مقرر نہیں کیا جا سکتا دراصل آفاقی اصولوں کی نفی کرنے کے مترادف ہے۔اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے کوئی آدمی کسی شخص کو تھپڑ مارے اور پھر کہے کہ مجھے کاغذ پر لکھ کر بتاؤ کہ تمہیں کتنا درد ہوا ہے کیونکہ جس زور کا تھپڑ تمہیں لگا ہے مجھے اس سے اتنا درد نہیں ہوتا جتنا تمہیں ہوا ہے وغیرہ وغیرہ۔

ایک دلیل یہ بھی ہے کہ فحاشی دراصل دیکھنے والے کی آنکھ میں ہوتی ہے ،کوئی بھی عمل بذات خود فحش نہیں ہوتا۔جو بزرجمہر یہ دلیل دیتے ہیں ان سے التماس ہے کہ اپنے گھروں میں بھی اس منطق کا اطلاق کر کے دیکھیں، خاصا افاقہ ہوگا۔ایک اور پسندیدہ دلیل منٹو کے افسانوں کی بھی دی جاتی ہے ،کہا یہ جاتا ہے کہ منٹو کے بعض افسانوں پر فحاشی کے الزام میں مقدمہ چلا مگر ہوا کیا، آج منٹو کو اردو کا بہت بڑا افسانہ نگار مانا جاتا ہے۔ بالکل درست بات ہے مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ ’’دھواں‘‘ اور ’’کھول دو‘‘ کودسویں کے نصاب میں شامل کر دیا جائے۔ دسویں جماعت کے لئے ’’ٹوبہ ٹیک سنگھ‘‘ یا ’’نیا قانون‘‘ جیسے افسانے ہی مناسب قرار پائیں گے بالکل اسی طرح جیسے اُردو کے کلاسیکل شعرا کی بے شمار غزلیں نا بالغ افراد کے لئے نہیں ہیں۔یہ دلیل دینا کہ مثنوی مولانا روم میں فلاں جگہ فلاں بات لکھی ہے یا مغربی ممالک کے ساحلوں پر لباس کے نام پر چیتھڑے ہوتے ہیں اور کوئی نظر اٹھا کر نہیں دیکھتا ،غیر متعلق دلیلیں ہیں۔ کیونکہ مغربی ساحلی لباس ان کی اقدار کے مطابق ہے اور مثنوی مولانا روم میں اگر کہیں کچھ لکھا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستانی ٹی وی چینلز کو نیم برہنہ رقص دکھانے کا لائسنس مل گیا ہے۔

اب رہ گئی بات کہ کیا فحاشی پاکستان میں غربت ،بے روزگاری ،ملاوٹ اوربے ایمانی سے بڑا مسئلہ ہے ؟ مغرب میں تو کوئی ملاوٹ یا چور بازاری نہیں جبکہ وہ لبرل ازم کی حدوں کو چھو رہے ہیں۔ بہت خوبصورت بات ہے مگر غیر متعلق ہے۔مغرب نے اپنے نظام حکومت میں درستگی لا کر مسائل پر قابو پایا ہے نہ کہ فحاشی پھیلا کے! ہم اپنے ملک میں جن مسائل کا رونا روتے ہیں وہ یقیناًاس ملک کا سب سے بڑا مسئلہ ہیں، پوسٹرز اور بینرزپر نظر آنے والی نام نہاد فحاشی ان کے آگے کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ مگر میرا مسئلہ وہ فحاشی ہے جس نے ہمارے بچوں سے ہماری معصومیت چھین لی ہے۔بطور والدین ہمیں اس بات کی پرواہ نہیں رہی کہ ہمارا بچہ یا بچی ٹی وی پر کیا دیکھ رہے ہیں اور تو اور ایسے والدین بھی ہیں جو سنیما گھروں میں اپنے نو عمر بچوں کو ساتھ لے جا کر وہ بھارتی فلمیں دیکھتے ہیں جنہیں بھارتی سنسر بورڈ نے 18 کا سرٹیفکیٹ جاری کیا ہوتا ہے۔ہم عجیب ہی لوگ ہیں۔فرانس میں حجاب پر پابندی لگ جائے تو ہمیں اعتراض ہے اور اگر ہمارے ہاں کوئی مغربی عورت سکرٹ پہن کر گھومے تو ہم اس کی اجازت بھی نہیں دیتے کہ ہماری اقدار کو نقصان پہنچتا ہے۔ بھئی اگر ہمیں حجرہ شاہ مقیم سے پیرس جانے کا اتنا ہی شوق ہے تو پھر اپنی روایات کو کسی حجرے میں بند کر کے پیرس جاؤ ورنہ یہیں کسی حجرے میں بیٹھ کر اللہ اللہ کرو، آخرت سنور جائے گی۔

[email protected]

یہ تحریر 76مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP